وجود

... loading ...

وجود

سبزیاں اوراناج اُگانے کے لیے آلودہ پانی کااستعمال

پیر 18 ستمبر 2017 سبزیاں اوراناج اُگانے کے لیے آلودہ پانی کااستعمال

’انوائرمینٹل ریسرچ لیٹرز‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ پاکستان بڑے پیمانے پر شہروں اور صنعتوں کی نکاسی کا پانی زراعت میں استعمال کرنے والے اُن پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے۔ جن میں چین، ایران، بھارت اور میکسیکو شامل ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پوری دنیا کے کم وبیش 60 ممالک میںآلودہ پانی سے فصلوں کو سیراب کرنے کا رحجان عام ہے اور یہ رحجان گزشتہ تخمینوں کے مقابلے میں بھی 50 فیصد زیادہ ہے۔ ریسرچ لیٹرز‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی اس روایتی کیس اسٹڈی کے ساتھ ہی کیلی فورنیا یونیورسٹی برکلے کی پروفیسر این لوئیس تھیبو نے جیوگرافکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کی طرز پر پوری دنیا سے ڈیٹا جمع کیا ہے۔ اس ڈیٹابیس سے انکشاف ہوا ہے کہ براہِ راست گندے پانی سے اُگائی جانے والی فصلوں اور زراعت سے لگ بھگ 85 کروڑ افراد کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مصنفین کے مطابق زرعی مقاصد کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر آلودہ پانی کے استعمال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اول تو زراعت کے لیے صاف پانی ( بلیو واٹر) کی شدید قلت ہے اور دوم کسانوں کا اصرار ہے کہ اس سے فصل اچھی ہوتی ہے اور مہنگی مصنوعی کھادوں اور کیڑے مار ادویہ کی ضرورت بھی کم ہوجاتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نکاسی کے آلودہ پانی میں فاسفیٹ اور نائٹریٹس کی بڑی مقدارپائی جاتی ہے جو ایک حد تک فصلوںکے لیے بہتر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ انسانی فضلے سے بھرپور پانی بھی فصلوںکے لیے مفید ہوتا ہے۔کسانوں کے لیے اس کی اہمیت کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ میکسیکو میں جب فصلوں کو بھیجے جانے والے آلودہ پانی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تو کسانوںنے اس کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا۔لیکن اب ماہرین، زراعت کے لیے آلودہ پانی کے استعمال کے اس کا خطرناک اور تاریک پہلوکو اجاگر کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں شہروں اوردیہات کے گندے پانی سے فصلوں اور سبزیوں کی کا شت انسانوں کی جانوں سے کھیلنے اور انھیں مختلف بیماریوں کاشکار کرنے کے مترادف ہے ،ماہرین کااصرار ہے کہ ایسے پانی سے افزائش کی جانے والی فصلوں، سبزیوں اور پھلوں میں بیماریوں کے جراثیم، بیکٹیریا، حشرات اور ان سب سے بڑھ کر بھاری دھاتیں شامل ہوتی ہیں۔جو یہ فصلیں استعمال کرنے والوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہیں ۔
ماہرین کاکہناہے کہ’آلودہ پانی میں فصلوں کے لیے مناسب اجزاموجود ہوتے ہیں جو فصلوں کے لیے اچھے ہوتے ہیں لیکن ان میں بھاری دھاتیں بھی پائی جاتی ہیں جو نہ صرف انسان بلکہ خود زرخیز مٹی کو بھی نقصان پہنچاسکتی ہیں،‘ ان خیالات کا اظہار پروفیسر رفیع الحق نے کیا جو انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچر (آئی یوسی این) پاکستان کے مشیر اور ماہرِ ماحولیات ہیں۔
پاکستانی زراعت میں بھاری دھاتوں کی موجودگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں تک پاکستانی زراعت میں بھاری دھاتوں کی موجودگی کاتعلق ہے تو اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ2013 میں پاکستان کے دو اہم صنعتی شہروں سیالکوٹ اور وزیرآباد کی صنعتوں سے خارج ہونے والے آلودہ پانی، اس میں موجود بھاری دھاتوں اور ان کے فصلوں پر اثرات کا ایک جائزہ لیا گیا اور ساتھ ہی ٹیوب ویل کے پانی سے اس کا موازنہ بھی کیا گیا تھا۔یہ تحقیق قائدِاعظم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی حیاتیات کے ماہرین نے کی تھی۔ انہوں نے آلودہ اور ٹیوب ویل کے پانی سے اُگائی گئی فصلوں کا جائزہ لیا جن میں پیاز، بینگن، پالک، پودینہ، گاجر، مولی، ٹماٹر اور گندم وغیرہ شامل تھے۔ یہ فصلیں ایک نالے اور پلکو ندی سے اگائی جارہی تھیں۔تب ماہرین نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا تھاکہ بالخصوص پتے دار سبزیوں میں کیڈمیئم، سیسے اور کرومیم کی مقداراجازت کردہ مقررہ پیمانے سے بھی کہیں زیادہ نکلی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سبزیاں کسی طرح بھی کھانے کے قابل نہیں تھیں۔
کراچی میں آغا خان یونیورسٹی میں کمیونٹی ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر ظفر احمد فاطمی کہتے ہیں کہ اگر کیڈمیئم دھات غذا میں شامل ہوجائے تو گردے اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، یہ ہڈیوں کو کمزور کرکے بار بار فریکچر کی وجہ بنتی ہے۔ڈاکٹر ظفر فاطمی کاکہنا ہے کہ سیسہ بچوں میں دماغی نشوونما کو روکتا ہے اور خون کے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔ ایک اور دھات جست ہے جو آلودہ پانی میں موجود ہوتی ہے اور انسانوں میں امنیاتی، دماغی، تولیدی اور نشوونما سے وابستہ امراض اور مسائل پیدا کرتی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ جسم کے اندر جانے والی غذا اور مقدار کا احتیاط سے اندازہ لگایا جائے کیونکہ اسی بنا پر ان ممکنہ جسمانی مسائل کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔دوسری جانب پاکستان کونسل برائے آبی ذخائر (پی سی آر ڈبلیو آر) سے وابستہ سینئرماہر ڈاکٹر غلام مرتضی نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں آلودہ پانی کو صاف کرنے والے کئی ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے گئے ہیں لیکن وہ روبہ عمل نہیں جس میں بدانتظامی کا دخل ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کا استدلال ہے کہ سندھ میں صورتحال مزید ابتر ہے کیونکہ لوگ یہ آلودہ پانی پینے پر بھی مجبور ہیں۔ حال ہی میں کراچی کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو پینے کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی کے تجزیئے سے یہ ظاہرہواتھا کہ کراچی کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو پینے کے پانی میںسنکھیا نامی زہر کی بھاری مقدار موجود ہے جس کے استعمال سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے، تاہم اب ہائی کورٹ کے حکم پر سندھ بھر کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کا جائزہ لیا جارہا ہے جن کا سروے جلد ہی شروع ہوجائے گالیکن ٹریٹمنٹ پلانٹس کے
سروے سے ہی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے اصلاح کے لیے ایک لمبے اور طویل پراسیس سے گزرنا ہوگا اور اس کی تکمیل میں کتنا وقت لگے گا اس کاتصور کرنا بھی محال ہے۔ اس حوالے سے بس یہی کہاجاسکتاہے کہ ’’خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک‘‘ تاہم ہمیں مایوسی کے بجائے امید کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
لاہور میں واقع انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے ایک اہم مطالعے میں انکشاف کیا ہے کہ آلودہ پانی جب فصلوں میں جمع ہوتا ہے تو وہ کئی خطرناک مچھروں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ پنجاب کے بعض اضلاع میں دیکھا گیا ہے کہ آلودہ پانی اینوفلیز، ایڈیز اور کیولکس مچھروں کا گھر بن گیا تھا۔ یہ مچھر خوفناک اور جان لیوا امراض کی وجہ بن سکتے ہیں جبکہ ان کے پہلے شکار خود کسان اور وہاں رہنے
والے بچے ہوسکتے ہیں۔تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترقی پزیر ممالک نکاسی آب کی سخت پالیسیاں اپنائیں تاکہ اس رحجان میں کمی لائی جاسکے۔
تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر