وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بریگزٹ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے گلے کی ہڈی بن گیا

جمعه 15 ستمبر 2017 بریگزٹ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے گلے کی ہڈی بن گیا

برطانوی وزیر اعظم کو ان دنوں انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے اورایسا معلوم ہوتاہے کہ بریگزٹ ان کے گلی میں ہڈی بن کر اٹک گیاہے،انھوں نے برطانیا میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان اس پختہ یقین کے ساتھ کیاتھا کہ وہ اپنی سب سے بڑی حریف لیبر پارٹی کو کچل کر رکھ دیں گی اور پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی جس کی بنیاد پر انھیں ہر معاملے میں خاص طورپر بریگزٹ کے معاملے میں من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق انتخابی نتائج نے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور وہ پارلیمنٹ میں پہلے سے حاصل اکثریت سے بھی ہاتھ دھوبیٹھیں یہاں تک کہ حکومت سازی کے لیے بھی انھیں ایک چھوٹی سی پارٹی کی بیساکھی استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا،اور ان کی سب سے بڑی حریف لیبر پارٹی پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ومستحکم ہوکر سامنے آگئی۔8جون کو ہونے والے انتخابات میں بھر پور کامیابی کے بارے میں تھریسا مے اس قدر زیادہ پر امید تھیں کہ انھوںنے انتخابی مہم بھی پوری قوت سے چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے مضبوط مخالفین کے ساتھ مناظرے کرنے اور دوبدو بحث ومباحثے کرنے سے بھی گریز کیا اور اسے وقت کازیاں تصور کرکے رد کردیا۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ اب خود کنزرویٹو پارٹی کے ارکان ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی تیاریاں کررہے ہیں یوں سمجھئے کہ ہر ایک اپنی جیب سے چاقو نکالنے کے درپے ہے اور عوامی سطح پر ان سے بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے علیحدگی کاعمل روکنے اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے برطانوی عوام کی مشکلات اور مصائب میں اضافہ کرنے پر استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جارہاہے۔
قبل از وقت انتخابات کے نتائج آنے سے قبل تک تھریسا مے کے گن گانے والے کنزرویٹو پارٹی کے وزیر خزانہ چانسلر جارج اوسبرن نے بھی اچانک تھریسا مے سے آنکھیں پھیر لی ہیں اور اب وہ برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ تھریسا مے ایک زندہ لاش ہیں وہ چلتا پھرتا مردہ ہیں اور اب سوال یہ ہے کہ وہ اس حالت مرگ میں کب تک رہ سکتی ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کے ایک اور سینئر رہنما مائیکل ہیسلٹائن نے 8 جون کو کنزرویٹو کو ہونے والی شکست کو2008 کے اقتصادی بحران ،معیشت پر جمود اور عوام میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو قرار دیاہے اور اس کاذمہ تھریسا مے کی جانب سے صورت حال پر قابو پانے کے لیے بروقت اقدامات میں ناکامی اور ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیاہے۔ان کاکہناہے کہ بریگزٹ اور اقتصادی اور سیاسی توازن کے ٹوٹ جانے سے پیدا ہونے والا بحران اسی کا نتیجہ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ ہوتاہے یا نہیں سرمایہ دارانہ نظام نے معاشرے کو بری طرح جکڑ لیاہے جس کی وجہ سے معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہے اور اس کے نتیجے میں عوامی ردعمل اور بغاوت کاسامنے آنا ایک فطری عمل ہے۔
برطانیا میں انقلابی مارکسسٹ خیالات کے حامل معروف سیاستداں سلور مین نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے تھریسا مے کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے بھاری اکثریت حاصل کرلینے اور تمام دوسری قوتوں کو کچل کر رکھ دینے کے زعم میں قبل از وقت کرانے کے فیصلے کوپاگل پن قرار دیا ان کاکہناہے کہ تھریسا مے کے اس فیصلے سے ظاہرہوتاہے کہ وہ صورت حال کو سمجھنے اور اس کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکی ہیں،ان کے پاس یورپی یونین سے بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت کرنے کے لیے کوئی واضح پروگرام نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ عوام کاسامنا کرنے سے کترارہی ہیں اور کسی طرح کے بحث ومباحثے سے گریز کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور صرف ایسے ہی اجتماعات میں تقریر کرنے کھڑی ہوتی ہیں جہاں سامنے کی صف میں ان کے کٹر حامی لوگ ہی بٹھائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی چبھتاہوا سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
دوسری جانب ان کی سب سے بڑی مخالف لیبر پارٹی کو تھریسا مے کی جانب سے کرائے گئے قبل از وقت انتخابات نے زیادہ توانا کردیاہے اور لیبر پارٹی کے قائم جرمی کوربن کو جن کو پارٹی کا انتہائی کمزور سربراہ تصور کیاجارہاتھا اور عام خیال یہ تھا کہ ان کی قیادت میں پارٹی پہلے سے حاصل مقبولیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پارٹی کے طورپر ابھر کر سامنے آئی ہے 8جون کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو پہلے کے مقابلے میں 10 فیصد ووٹ زیادہ ملے جبکہ پارلیمنٹ میں ان کے ارکان کی تعداد میں 29 ارکان کااضافہ ہوگیا،اس طرح لیبر پارٹی کے اندر موجود جرمی کوربن کے مخالفین بھی خاموش ہوگئے ہیں اور جرمی کوربن کو اب اپنی پارٹی کو زیادہ مقبول بنانے اور تھریسا مے کی ناکامیوں اور غلط اور ناقص فیصلوں کو اجاگر کرکے کنزرویٹو پارٹی کے ووٹ بینک کو توڑنے کاموقع مل جائے گا۔تھریسا مے کی جانب سے اعلان کردہ قبل از وقت انتخابات کے بعد چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران جرمی کوربن کو انتہاپسند فلسطینی تنظیم حماس ،آئر لینڈ کی انقلابی فوج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کاحامی اورانتہا پسند مارکسسٹ قرار دینے کی کوشش کی جاتی رہی اور حکومت کے حامی اخبارات وجرائد میں ان کی کردا ر کشی کی باقاعدہ مہم چلائی گئی لیکن جرمی کوربن اور لیبر پارٹی کو گرانے کے حوالے تھریسا مے کے یہ تمام حربے ناکام ثابت ہوئے اور تھریسا مے کو منہ کی کھانا پڑی۔
جرمی کوربن نے اپنی انتخابی مہم میں ’’ بہت سو ں کے لیے چند ایک کے لیے نہیں‘‘ کا نعرہ اپنا یاتھا ان کے اس نعرے نے برطانوی نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیااور برطانوی نوجوانوں نے ایک جہاندیدہ بوڑھے کوربن کی مقبولیت میں اضافہ کردیا۔
کنزرویٹو پارٹی کی دیرینہ سرمایہ دارانہ سوچ اور محنت کشوں کے مفادات کے خلاف پالیسیوںنے عوام میں اس پارٹی کی مقبولیت کو شدید دھچکالگایاہے اور اگرچہ تھریسا مے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی آئر لینڈ کی سیاسی پارٹی ڈی یو پی کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن یہ بیل زیادہ دن منڈھے نہیں چڑھی رہ سکتی ،یہ صورتحال تادیر جاری نہیں رہے گی اور کنزرویٹو پارٹی کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی جس کا اندازہ حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار کی شکست سے لگایاجاسکتاہے۔اس صورتحال سے ظاہر ہوتاہے کہ آنے والے دنوں میں تھریسا مے کی حکومت کو زیادہ مشکل بلکہ سنگین صورت حال کاسامنا کرنا پڑسکتاہے اور بریگزٹ کے مسئلے سے موثر طورپر نمٹنے میں ان کی ناکامی ان کے ساتھ ان کی پارٹی کو بھی پاتال تک پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے،بریگزٹ کے بعد برطانیا میں شروع ہونے والی معاشی ابتری اور بیروزگاری میں اضافے کے خدشات نے برطانوی عوام کو ذہنی طورپر پریشان کرکے رکھ دیاہے اور یورپی یونین سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے برطانوی عوام اب بریگزٹ کا عمل روک دینے کامطالبہ کررہے ہیں اور دن بدن اس مطالبے میں شدت آتی جارہی ہے۔یہاں تک کہ اب برطانیا کے مقتدر حلقوں کی جانب سے بریگزٹ کے مسئلے پر ایک اور ریفرنڈم کرانے کامطالبہ بھی زور پکڑ رہاہے ،تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی وزیراعظم اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا راہ اختیار کرتی ہیں اور ان کے قریبی اور بااعتماد مشیر ان کو اس بحران کو حل کرنے میں کس قدر مدد فراہم کرسکتے ہیں کیونکہ اسی فیصلے میں خود تھریسا مے اور ان کی پارٹی کے مستقبل کا بڑی حد تک دارومدار ہوگا۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان