وجود

... loading ...

وجود

بریگزٹ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے گلے کی ہڈی بن گیا

جمعه 15 ستمبر 2017 بریگزٹ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے گلے کی ہڈی بن گیا

برطانوی وزیر اعظم کو ان دنوں انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے اورایسا معلوم ہوتاہے کہ بریگزٹ ان کے گلی میں ہڈی بن کر اٹک گیاہے،انھوں نے برطانیا میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان اس پختہ یقین کے ساتھ کیاتھا کہ وہ اپنی سب سے بڑی حریف لیبر پارٹی کو کچل کر رکھ دیں گی اور پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی جس کی بنیاد پر انھیں ہر معاملے میں خاص طورپر بریگزٹ کے معاملے میں من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق انتخابی نتائج نے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور وہ پارلیمنٹ میں پہلے سے حاصل اکثریت سے بھی ہاتھ دھوبیٹھیں یہاں تک کہ حکومت سازی کے لیے بھی انھیں ایک چھوٹی سی پارٹی کی بیساکھی استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا،اور ان کی سب سے بڑی حریف لیبر پارٹی پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ومستحکم ہوکر سامنے آگئی۔8جون کو ہونے والے انتخابات میں بھر پور کامیابی کے بارے میں تھریسا مے اس قدر زیادہ پر امید تھیں کہ انھوںنے انتخابی مہم بھی پوری قوت سے چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے مضبوط مخالفین کے ساتھ مناظرے کرنے اور دوبدو بحث ومباحثے کرنے سے بھی گریز کیا اور اسے وقت کازیاں تصور کرکے رد کردیا۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ اب خود کنزرویٹو پارٹی کے ارکان ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی تیاریاں کررہے ہیں یوں سمجھئے کہ ہر ایک اپنی جیب سے چاقو نکالنے کے درپے ہے اور عوامی سطح پر ان سے بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے علیحدگی کاعمل روکنے اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے برطانوی عوام کی مشکلات اور مصائب میں اضافہ کرنے پر استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جارہاہے۔
قبل از وقت انتخابات کے نتائج آنے سے قبل تک تھریسا مے کے گن گانے والے کنزرویٹو پارٹی کے وزیر خزانہ چانسلر جارج اوسبرن نے بھی اچانک تھریسا مے سے آنکھیں پھیر لی ہیں اور اب وہ برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ تھریسا مے ایک زندہ لاش ہیں وہ چلتا پھرتا مردہ ہیں اور اب سوال یہ ہے کہ وہ اس حالت مرگ میں کب تک رہ سکتی ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کے ایک اور سینئر رہنما مائیکل ہیسلٹائن نے 8 جون کو کنزرویٹو کو ہونے والی شکست کو2008 کے اقتصادی بحران ،معیشت پر جمود اور عوام میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو قرار دیاہے اور اس کاذمہ تھریسا مے کی جانب سے صورت حال پر قابو پانے کے لیے بروقت اقدامات میں ناکامی اور ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیاہے۔ان کاکہناہے کہ بریگزٹ اور اقتصادی اور سیاسی توازن کے ٹوٹ جانے سے پیدا ہونے والا بحران اسی کا نتیجہ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بریگزٹ ہوتاہے یا نہیں سرمایہ دارانہ نظام نے معاشرے کو بری طرح جکڑ لیاہے جس کی وجہ سے معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہے اور اس کے نتیجے میں عوامی ردعمل اور بغاوت کاسامنے آنا ایک فطری عمل ہے۔
برطانیا میں انقلابی مارکسسٹ خیالات کے حامل معروف سیاستداں سلور مین نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے تھریسا مے کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے بھاری اکثریت حاصل کرلینے اور تمام دوسری قوتوں کو کچل کر رکھ دینے کے زعم میں قبل از وقت کرانے کے فیصلے کوپاگل پن قرار دیا ان کاکہناہے کہ تھریسا مے کے اس فیصلے سے ظاہرہوتاہے کہ وہ صورت حال کو سمجھنے اور اس کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکی ہیں،ان کے پاس یورپی یونین سے بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت کرنے کے لیے کوئی واضح پروگرام نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ عوام کاسامنا کرنے سے کترارہی ہیں اور کسی طرح کے بحث ومباحثے سے گریز کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور صرف ایسے ہی اجتماعات میں تقریر کرنے کھڑی ہوتی ہیں جہاں سامنے کی صف میں ان کے کٹر حامی لوگ ہی بٹھائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی چبھتاہوا سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
دوسری جانب ان کی سب سے بڑی مخالف لیبر پارٹی کو تھریسا مے کی جانب سے کرائے گئے قبل از وقت انتخابات نے زیادہ توانا کردیاہے اور لیبر پارٹی کے قائم جرمی کوربن کو جن کو پارٹی کا انتہائی کمزور سربراہ تصور کیاجارہاتھا اور عام خیال یہ تھا کہ ان کی قیادت میں پارٹی پہلے سے حاصل مقبولیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پارٹی کے طورپر ابھر کر سامنے آئی ہے 8جون کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو پہلے کے مقابلے میں 10 فیصد ووٹ زیادہ ملے جبکہ پارلیمنٹ میں ان کے ارکان کی تعداد میں 29 ارکان کااضافہ ہوگیا،اس طرح لیبر پارٹی کے اندر موجود جرمی کوربن کے مخالفین بھی خاموش ہوگئے ہیں اور جرمی کوربن کو اب اپنی پارٹی کو زیادہ مقبول بنانے اور تھریسا مے کی ناکامیوں اور غلط اور ناقص فیصلوں کو اجاگر کرکے کنزرویٹو پارٹی کے ووٹ بینک کو توڑنے کاموقع مل جائے گا۔تھریسا مے کی جانب سے اعلان کردہ قبل از وقت انتخابات کے بعد چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران جرمی کوربن کو انتہاپسند فلسطینی تنظیم حماس ،آئر لینڈ کی انقلابی فوج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کاحامی اورانتہا پسند مارکسسٹ قرار دینے کی کوشش کی جاتی رہی اور حکومت کے حامی اخبارات وجرائد میں ان کی کردا ر کشی کی باقاعدہ مہم چلائی گئی لیکن جرمی کوربن اور لیبر پارٹی کو گرانے کے حوالے تھریسا مے کے یہ تمام حربے ناکام ثابت ہوئے اور تھریسا مے کو منہ کی کھانا پڑی۔
جرمی کوربن نے اپنی انتخابی مہم میں ’’ بہت سو ں کے لیے چند ایک کے لیے نہیں‘‘ کا نعرہ اپنا یاتھا ان کے اس نعرے نے برطانوی نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیااور برطانوی نوجوانوں نے ایک جہاندیدہ بوڑھے کوربن کی مقبولیت میں اضافہ کردیا۔
کنزرویٹو پارٹی کی دیرینہ سرمایہ دارانہ سوچ اور محنت کشوں کے مفادات کے خلاف پالیسیوںنے عوام میں اس پارٹی کی مقبولیت کو شدید دھچکالگایاہے اور اگرچہ تھریسا مے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی آئر لینڈ کی سیاسی پارٹی ڈی یو پی کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن یہ بیل زیادہ دن منڈھے نہیں چڑھی رہ سکتی ،یہ صورتحال تادیر جاری نہیں رہے گی اور کنزرویٹو پارٹی کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی جس کا اندازہ حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار کی شکست سے لگایاجاسکتاہے۔اس صورتحال سے ظاہر ہوتاہے کہ آنے والے دنوں میں تھریسا مے کی حکومت کو زیادہ مشکل بلکہ سنگین صورت حال کاسامنا کرنا پڑسکتاہے اور بریگزٹ کے مسئلے سے موثر طورپر نمٹنے میں ان کی ناکامی ان کے ساتھ ان کی پارٹی کو بھی پاتال تک پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے،بریگزٹ کے بعد برطانیا میں شروع ہونے والی معاشی ابتری اور بیروزگاری میں اضافے کے خدشات نے برطانوی عوام کو ذہنی طورپر پریشان کرکے رکھ دیاہے اور یورپی یونین سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے برطانوی عوام اب بریگزٹ کا عمل روک دینے کامطالبہ کررہے ہیں اور دن بدن اس مطالبے میں شدت آتی جارہی ہے۔یہاں تک کہ اب برطانیا کے مقتدر حلقوں کی جانب سے بریگزٹ کے مسئلے پر ایک اور ریفرنڈم کرانے کامطالبہ بھی زور پکڑ رہاہے ،تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی وزیراعظم اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا راہ اختیار کرتی ہیں اور ان کے قریبی اور بااعتماد مشیر ان کو اس بحران کو حل کرنے میں کس قدر مدد فراہم کرسکتے ہیں کیونکہ اسی فیصلے میں خود تھریسا مے اور ان کی پارٹی کے مستقبل کا بڑی حد تک دارومدار ہوگا۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

مضامین
مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر