وجود

... loading ...

وجود

چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات!

جمعرات 14 ستمبر 2017 چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات!

پاک چین آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات لاحق ہوگئے ہیں ،صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ خود وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان رواں ماہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سیکریٹری سطح کے مذاکرات کے دوران چینی حکام کو آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو کم از کم باہمی اصولوں کی بنیاد پر دوبارہ فعال کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرے گا۔وز راتِ تجارت کی جانب سے سامنے آنے والے اس اقدام کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے عدم توازن پر قابو پانا ہے۔وفاقی وزیرِ تجارت پرویز ملک نے گزشتہ دنوں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان موجودہ ایف ٹی اے کے تحت چین سے ابتدائی پیداوار کے پروگرام کا مطالبہ کرے گا جس میں پاکستان کی برآمدات کے مفاد کے لحاظ سے 100 مصنوعات شامل ہیں۔مذاکراتی ٹیم نے وفاقی وزیر کو چین اور تھائی لینڈ کے ساتھ ہونے والے تجاتی معاہدوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی تھی۔یہ بریفنگ رواں ماہ 14 اور 15 ستمبر کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے میں ہونے والے مذاکرات کے آٹھویں دور کی تیاری کا حصہ تھی۔سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا سیکریٹری سطح کی بات چیت میں پاکستانی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ چین نے خطے میں دوطرفہ اور کثیرالملکی ایف ٹی اے پر دستخط کر رکھے ہیں جنہوں نے پاکستان کی ترجیحات کو کم کردیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے مابین ہونے والے معاہدوں نے پاکستان کے ترجیحاتی معاہدوں کی اہمیت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ چین ایف ٹی اے کے تحت 3.5 فیصد ڈیوٹی پر پاکستان سے سوت درآمد کر رہا ہے جبکہ بھارت سے بغیر کسی معاہدے کے اسی ڈیوٹی پر سوت درآمد کر رہا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے لیے چین کے ساتھ ایف ٹی اے تقریباً بے کار ہے، تاہم وزارتِ خزانہ نے اس حوالے سے کئی تجاویز تیار کی ہیں جو مذاکرات کے آئندہ دور میں پیش کی جائیں گی۔
اعدادوشمار کے مطابق چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے متجاوز کرچکاہے،پاکستان کا اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔مالی سال 16-2015 کے دوران چین کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے کا حجم 6.223 ارب ڈالر رہا اور اس کی وجہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین کو پاکستانی مصنوعات کی برآمد میں کمی اور چینی مصنوعات کی درآمد میں مسلسل اضافہ ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی چین کے ساتھ ہونے والی تجارت کا مجموعی حجم 10.029 ارب ڈالر رہا جن میں 1.903 ارب ڈالر کی برآمدات اور 8.126 ارب ڈالر کی درآمدات شامل ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع ہونے کے باوجود چین سے تجارت پاکستان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہورہی تاہم پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سب سے زیادہ چین سے ہی آرہی ہے۔اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ بھی پاکستان کے تجارتی خسارے کا حجم گزشتہ مالی سال کے دوران 4.941 ارب ڈالر رہا۔ پاکستان نے یو اے ای سے 6.021 ارب ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ محض 1.080 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں، گزشتہ برس یو اے ای کے ساتھ پاکستان کی درآمدات اور برآمدات دونوں ہی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے بیجنگ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو پاکستانی معیشت کا چین پر حد سے زیادہ انحصار نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران غیر متوقع طور پر ہونے والے تجارتی خسارے کی وجہ سے پاکستان کو خسارہ پورا کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر کو استعمال کرنا پڑا۔ 16-2015 میں پاکستان میں ترسیلات زر کی آمد کا حجم 20 ارب ڈالر رہنے کے باوجود کرنٹ اکائونٹ خسارہ 2.5 ارب ڈالر رہا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کو دورہ چین سے قبل اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جبکہ وزارتِ تجارت، پاک چین تجارتی معاہدے کو مزید فائدہ مند بنانے کے لیے دفترخارجہ سے بھی مدد لے گی۔ وزارتِ خزانہ کے ایک اور عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستان ایف ٹی اے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں دستخط نہیں کرسکتا، کیونکہ پاکستان کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر معاہدے پر دستخط ہوگئے تو پاکستان پر چین سے مزید درآمدات کا بوجھ بڑھ جائے گا۔دوسری جانب بیجنگ حکام ایف ٹی اے کے تحت پاکستانی برآمدات کے لیے ترجیحی معاہدوں کی بحالی کے لیے اسلام آباد کے مطالبات ماننا نہیں چاہتے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے ایف ٹی اے مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس معاہدے کو پاکستان کے حق میں لانے کے لیے بھر پورطریقے سے محنت کریں۔موجودہ صورتحال میں پاکستان نے چینی مصنوعات پر ڈیوٹی کو 35 فیصد سے کم کر کے صفر فیصد تک کردیا گیاہے جبکہ چین نے بھی پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی کو 40 فیصد سے کم کر کے صفر فیصد تک کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں کودونوں ملکوں کے عوام کے لیے زیادہ مفید بنانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے پر نظر ثانی کے ساتھ ہی چین کے ساتھ ہونے والے سروسز کے معاہدوں پر بھی نظر ثانی کر رہے ہیں۔وزارتِ تجارت کی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیاگیاہے کہ پاکستان ایف ٹی اے معاہدے کے پہلے مرحلے میں چین کی جانب سے دی جانے والی رعایات کو بہتر طریقے سے استعمال نہیں کرسکا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 253 ٹیرف لائن کی برآمدات کیں جن کی اوسط قیمت 5 سو امریکی ڈالر یا اس سے زائد تھی جو کہ چین کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی 7 ہزار 5 سو 50 ٹیرف لائن کی رعایات کا کْل 3.3 فیصد حصہ تھا۔چین کو برآمد کی جانے والی مصنوعات میں کاٹن، سوت اور کپڑے وغیرہ شامل تھے تاہم اس رعایتی معاہدے میں گارمنٹس کی مصنوعات کی شمولیت کے باوجود برآمدات میں اضافی مصنوعات کی قیمت موجود نہیں تھی۔
وفاقی وزیرِ تجارت پرویز ملک نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے معاہدہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جبکہ ان معاہدوں میں پاکستان کی مقامی صنعتوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ پاکستان کے چاول اور آٹو سیکٹر کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر