وجود

... loading ...

وجود

چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات!

جمعرات 14 ستمبر 2017 چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات!

پاک چین آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات لاحق ہوگئے ہیں ،صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ خود وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان رواں ماہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سیکریٹری سطح کے مذاکرات کے دوران چینی حکام کو آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو کم از کم باہمی اصولوں کی بنیاد پر دوبارہ فعال کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرے گا۔وز راتِ تجارت کی جانب سے سامنے آنے والے اس اقدام کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے عدم توازن پر قابو پانا ہے۔وفاقی وزیرِ تجارت پرویز ملک نے گزشتہ دنوں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان موجودہ ایف ٹی اے کے تحت چین سے ابتدائی پیداوار کے پروگرام کا مطالبہ کرے گا جس میں پاکستان کی برآمدات کے مفاد کے لحاظ سے 100 مصنوعات شامل ہیں۔مذاکراتی ٹیم نے وفاقی وزیر کو چین اور تھائی لینڈ کے ساتھ ہونے والے تجاتی معاہدوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی تھی۔یہ بریفنگ رواں ماہ 14 اور 15 ستمبر کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے میں ہونے والے مذاکرات کے آٹھویں دور کی تیاری کا حصہ تھی۔سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا سیکریٹری سطح کی بات چیت میں پاکستانی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ چین نے خطے میں دوطرفہ اور کثیرالملکی ایف ٹی اے پر دستخط کر رکھے ہیں جنہوں نے پاکستان کی ترجیحات کو کم کردیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے مابین ہونے والے معاہدوں نے پاکستان کے ترجیحاتی معاہدوں کی اہمیت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ چین ایف ٹی اے کے تحت 3.5 فیصد ڈیوٹی پر پاکستان سے سوت درآمد کر رہا ہے جبکہ بھارت سے بغیر کسی معاہدے کے اسی ڈیوٹی پر سوت درآمد کر رہا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے لیے چین کے ساتھ ایف ٹی اے تقریباً بے کار ہے، تاہم وزارتِ خزانہ نے اس حوالے سے کئی تجاویز تیار کی ہیں جو مذاکرات کے آئندہ دور میں پیش کی جائیں گی۔
اعدادوشمار کے مطابق چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے متجاوز کرچکاہے،پاکستان کا اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔مالی سال 16-2015 کے دوران چین کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے کا حجم 6.223 ارب ڈالر رہا اور اس کی وجہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین کو پاکستانی مصنوعات کی برآمد میں کمی اور چینی مصنوعات کی درآمد میں مسلسل اضافہ ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی چین کے ساتھ ہونے والی تجارت کا مجموعی حجم 10.029 ارب ڈالر رہا جن میں 1.903 ارب ڈالر کی برآمدات اور 8.126 ارب ڈالر کی درآمدات شامل ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع ہونے کے باوجود چین سے تجارت پاکستان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہورہی تاہم پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سب سے زیادہ چین سے ہی آرہی ہے۔اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ بھی پاکستان کے تجارتی خسارے کا حجم گزشتہ مالی سال کے دوران 4.941 ارب ڈالر رہا۔ پاکستان نے یو اے ای سے 6.021 ارب ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ محض 1.080 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں، گزشتہ برس یو اے ای کے ساتھ پاکستان کی درآمدات اور برآمدات دونوں ہی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے بیجنگ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو پاکستانی معیشت کا چین پر حد سے زیادہ انحصار نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران غیر متوقع طور پر ہونے والے تجارتی خسارے کی وجہ سے پاکستان کو خسارہ پورا کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر کو استعمال کرنا پڑا۔ 16-2015 میں پاکستان میں ترسیلات زر کی آمد کا حجم 20 ارب ڈالر رہنے کے باوجود کرنٹ اکائونٹ خسارہ 2.5 ارب ڈالر رہا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کو دورہ چین سے قبل اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جبکہ وزارتِ تجارت، پاک چین تجارتی معاہدے کو مزید فائدہ مند بنانے کے لیے دفترخارجہ سے بھی مدد لے گی۔ وزارتِ خزانہ کے ایک اور عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستان ایف ٹی اے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں دستخط نہیں کرسکتا، کیونکہ پاکستان کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر معاہدے پر دستخط ہوگئے تو پاکستان پر چین سے مزید درآمدات کا بوجھ بڑھ جائے گا۔دوسری جانب بیجنگ حکام ایف ٹی اے کے تحت پاکستانی برآمدات کے لیے ترجیحی معاہدوں کی بحالی کے لیے اسلام آباد کے مطالبات ماننا نہیں چاہتے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے ایف ٹی اے مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس معاہدے کو پاکستان کے حق میں لانے کے لیے بھر پورطریقے سے محنت کریں۔موجودہ صورتحال میں پاکستان نے چینی مصنوعات پر ڈیوٹی کو 35 فیصد سے کم کر کے صفر فیصد تک کردیا گیاہے جبکہ چین نے بھی پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی کو 40 فیصد سے کم کر کے صفر فیصد تک کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں کودونوں ملکوں کے عوام کے لیے زیادہ مفید بنانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے پر نظر ثانی کے ساتھ ہی چین کے ساتھ ہونے والے سروسز کے معاہدوں پر بھی نظر ثانی کر رہے ہیں۔وزارتِ تجارت کی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیاگیاہے کہ پاکستان ایف ٹی اے معاہدے کے پہلے مرحلے میں چین کی جانب سے دی جانے والی رعایات کو بہتر طریقے سے استعمال نہیں کرسکا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 253 ٹیرف لائن کی برآمدات کیں جن کی اوسط قیمت 5 سو امریکی ڈالر یا اس سے زائد تھی جو کہ چین کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی 7 ہزار 5 سو 50 ٹیرف لائن کی رعایات کا کْل 3.3 فیصد حصہ تھا۔چین کو برآمد کی جانے والی مصنوعات میں کاٹن، سوت اور کپڑے وغیرہ شامل تھے تاہم اس رعایتی معاہدے میں گارمنٹس کی مصنوعات کی شمولیت کے باوجود برآمدات میں اضافی مصنوعات کی قیمت موجود نہیں تھی۔
وفاقی وزیرِ تجارت پرویز ملک نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے معاہدہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جبکہ ان معاہدوں میں پاکستان کی مقامی صنعتوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ پاکستان کے چاول اور آٹو سیکٹر کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر