وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

برآمدات میں کمی تجارتی خسارہ 55 فیصد تک پہنچ گیا!

بدھ 13 ستمبر 2017 برآمدات میں کمی تجارتی خسارہ 55 فیصد تک پہنچ گیا!

رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی کے دوران برآمدات میں کمی کاسلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافے کی شرح 55فیصد تک پہنچ گئی اس طرح جولائی میں پاکستان کے تجارتی خسارے کی مالیت3.2 بلین ڈالر یعنی3 ارب 20 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔دوسری طرف پاکستان کے شماریات بیورو کاکہناہے کہ پاکستان میں درآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت میںا یک سال قبل اسی مہینے یعنی جولائی 1916 میں درآمد کی جانے والی اشیا کے مقابلے میں 3.2 بلین ڈالر یعنی3ارب 20 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوگیااس طرح جولائی کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے کی مالیت 1.14 بلین ڈالر یعنی ایک ارب14 کروڑ ڈالر رہی اس طرح تجارتی خسارے کی شرح بڑھ کر 55 فیصد تک جاپہنچی،واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی پاکستان کا تجارتی خسارہ32.5 بلین ڈالر یعنی 32 ارب50 کروڑ ریکارڈ کیاگیاتھااس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ یا تو ہماری وزارت تجارت اور خزانہ نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے موثر کوششیں نہیں کیں یا پھر ان کی یہ کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوسکیں ،دونوں صورتوں میں اس صورت حال کو پاکستان کی وزارت تجارت اور خزانہ کے حکام کی ناکامی ہی سے تعبیر کیاجائے گا۔
دوسری جانب کرنٹ اکائونٹ خسارے کی صورت حال بھی تشویشناک ہوتی جارہی ہے اور اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کو اس وقت 12.1 بلین یعنی12 ارب10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے کرنٹ اکائونٹ خسارے کاسامنا ہے جس میں کمی ہونے کے نہ صرف یہ کہ کوئی آثار نظر نہیں آتے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتاجارہاہے۔کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اس اضافے کی وجہ سے ہمارے زرمبادلے کے ذخائر میں 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوچکی ہے۔
اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ارباب اختیار اپنی تمامتر کوششوں کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے تجارتی خسارے میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس دل خوش کن حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ جولائی کے دوران ہماری برآمدات میں 10.6 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا اور اس مہینے کے دوران برآمدات کی مجموعی مالیت 1.63 بلین ڈالر یعنی ایک ارب 63 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی جو کہ سابقہ سال جولائی کی برآمدنی کے مقابلے میں 156 ملین ڈالر یعنی 15 کروڑ60 ڈالر زیادہ تھی لیکن اس صورت حال کو اس وقت تک اطمینان بخش قرار نہیں دیاجاسکتا جب تک کہ برآمدات میں اضافے کایہ رجحان مسلسل جاری نہ رکھا جاسکے اور اس میں بتدریج اضافہ نہ کیا جا سکے۔ رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی کے دوران ملک میں مجموعی طورپر 4.8 بلین ڈالر یعنی 4 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کی گئیں جو کہ گزشتہ سال جولائی کے دوران درآمد کی گئی اشیا کی مالیت کے مقابلے میں 36.7 فیصد یعنی 1.3 بلین یعنی ایک ار ب30 کروڑ ڈالر زیادہ تھی اس طرح درآمدات میں اس اضافے نے برآمدات میں اضافے کے تمام فوائد ہضم کرلیے۔
ہمارے ارباب اختیار نے رواں مالی سال کے دوران برآمدات کاہدف 23.1 بلین ڈالر یعنی 23 ارب 10 کروڑ ڈالر مقرر کیاہے جوکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13.2 فیصد زیادہ ہے ، اس طرح گزشتہ سال کی 20.5 ارب ڈالر کی برآمدی آمدنی کے مقابلے میں 23 ارب 10 کروڑ ڈالر کا برآمدی ہدف پورا کرنے کے لیے برآمدات میں مسلسل 13.2 فیصد کی شرح سے اضافہ کاسلسلہ جاری رکھنا ہوگا،جبکہ رواں مالی سال کے پہلے مہینے یعنی جولائی کے دوران برآمدات میں اضافے کامطلوبہ ہدف پورا کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی اور اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ مالی سال کی ابتدا ہی میں ہمیں ناکامی کاسامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کو کوئی مثال نہیں بنایاجاسکتا کیونکہ برآمدات میں اضافے کے لیے کئے جانے والے اقدامات کے نتائج سامنے آنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں اس لیے پہلے ماہ کی ناکامی کو مایوس کن قرار دینا قرین انصاف نہ ہوگا۔
برآمدات میں اضافے کے لیے نئے اہداف مقرر کرنے کے ساتھ ہی حکومت نے درآمدات میں کٹوتی کرنے کے لیے بھی اہداف مقرر کیے ہیں اور نئے مالی سال کے دوران درآمدات کاہدف 48.8 بلین یعنی 48 ارب 80 کروڑ مقرر کیاگیاہے لیکن درآمدات کے اس ہدف پر قائم رہنا یا درآمدات کو اس ہدف تک محدود رکھنے کے بظاہر آثار نظر نہیں آتے۔حکومت نے درآمدات اور برآمدات کے اہداف مقرر کرنے کے ساتھ ہی کرنٹ اکائونٹ خسارہ 8.9 بلین ڈالر تک محدود کرنے کے عزم کااظہار کیاہے جو کہ فی الوقت 12 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکاہے ، تاہم کرنٹ اکائونٹ خسارے کو محدود کرنے کا انحصار بھی بڑی حد تک ہماری برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی پر ہی ہوگا،اگر حکومت برآمدات میں مطلوبہ اضافہ کرنے اور درآمدات کو مقررہ ہدف تک محدود کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو کرنٹ اکائونٹ خسارے کے جن کو بوتل میں بند کرنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن اس کا انحصار درآمدی اور برآمدی پالیسیوں کی کامیابی یاناکامی پر ہی ہوگا۔ ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ جتنا بڑھتا جائے گا ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر اسی قدر دبائو بھی بڑھتا جائے گا اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی کی صورت میں زرمبادلے کے ذخائر پر سے دبائو کم ہوگا اور بیرونی قرض لیے بغیر بھی اس میں اضافہ ممکن ہوسکے گا، جبکہ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ 4 اگست کو اسٹیٹ بینک کے پاس ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 14.398 بلین ڈالر یعنی 14 ارب39 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی جو کہ 30 جون کو ختم ہونے والے سابقہ مالی سال کے مقابلے میں بھی 1.8 بلین یعنی ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کم تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران قرضوں کی ادائیگی سمیت بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مجموعی طورپر 20 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔رواں تجارتی اعدادوشمار کو اس حوالے سے اطمینان بخش قرار نہیں دیاجاسکتا بلکہ یہ اعدادوشمار پریشان کن ہیں اور ان سے ظاہرہوتاہے کہ حکومت کو اپنی بیرونی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلیے مزید قرض حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا ، جس کے لیے وزارت خزانہ نے کوششیں شروع کردی ہیں اور مختلف طرح کے بانڈز کی فروخت کے ذریعے رقم جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ کوششیں کس حد تک بار آور ہوسکیں گی یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا مدلل جواب ہماری وزارت خزانہ کے ارباب اختیار اور ماہرین معاشیات کے پاس بھی نہیں ہے۔
ہمارے تاجر اور برآمد کنندگان کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قیمت دوسری بین الاقوامی کرنسیوں کی نسبتاً زیادہ مضبوط رکھی گئی ہے جس سے بیرونی منڈیوں میں پاکستان کاتیار کردہ سامان نسبتا ً مہنگا تصورکیا جانے لگا ہے اور اس کی مانگ کم ہوگئی ہے جبکہ پاکستانی کرنسی کی مضبوط حیثیت کی وجہ سے ہماری درآمدات نسبتا ً سستی ہوگئیں جس کی وجہ سے اشیائے صرف کے تاجروں نے بڑے پیمانے پر اشیائے صرف درآمدکرکے ملکی صنعتوںکو خطرے سے دوچار کردیا۔
درآمدات وبرآمدات میں عدم توازن کے حوالے سے یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات پر کوئی موثر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ملک کا ادائیگیوں کاتوازن ڈانواڈول ہو چکا ہے، جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت پوری حکومتی مشینری ملکی معیشت کو سہارا اور سنبھالا دینے کی تدبیروں پر غور کرنے اور اس صورت حال پر موثر کنٹرول کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی وضح کرنے پر غور کرنے کے بجائے جے آئی ٹی کی گرفت سے بچنے اور نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے دیگر تمام افراد کواس سے بچانے کی تدابیر تلاش کرنے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت کے بارے میں عوامی سطح پر پیدا ہونے والا انتہائی شدید منفی تاثر دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر خزانہ جے آئی ٹی کے حوالے سے اپنی اور اپنے وزیر اعظم اور ان کے رفقا کی صفائیاں پیش کرنے کے ساتھ ملک کی مالیاتی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اورملک کو اس بڑھتے ہوئے تجارتیخسارے سے چھٹکارا دلانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں ۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزارت خزانہ میں ان کے رفقا اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں گے اور پہلی فرصت میں غیر ضروری اشیائے صرف خاص طورپر ایسی اشیا کی درآمد پر مکمل پابندی عاید کرنے کااعلان کریں گے جن کی درآمد نہ ہونے کی صورت میں عوام کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور جن کی متبادل اشیا
ملک میں وافر مقدار میں تیار ہورہی اور عام دستیاب ہیں۔


متعلقہ خبریں


سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت وجود - بدھ 08 اپریل 2020

سعودی عرب میں کورونا وائرس کی باعث وزارت افرادی قوت نے اعلان کیا ہے کہ نجی ادارے غیر ملکیوں کو بلا تنخواہ چھٹی پر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ ادارے ملازمین سے معاہدے ختم کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ سعودی حکومت مہلک وائرس کورونا کے باعث پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کر رہی ہے ۔وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے جاری بیان میں کہا کہ درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے نجی ادارے ملازمین کے اوقات کار اور تنخواہوں میں کمی اور انہیں بلاتنخواہ چھٹی پر بھیجنے یا ہنگامی چھٹی د...

سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد وجود - بدھ 08 اپریل 2020

دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی ، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ سے بھی زائد ہے ۔عالمی ادارہ صحت اور متعدد عالمی اداروں کی جانب سے بنائے گئے کورونا وائرس کے عالمی آن لائن میپ کے مطابق 7 اپریل کی شام تک کورونا وائرس سے 75 ہزار 973 ہلاکتیں ہوچکی ہیں ، وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار رہی۔عالمی میپ کے مطابق دنیا بھر میں بیمار ہونے والے مریضوں میں سے 7 اپریل کی شام تک تک 2 لاکھ 91 ہزار 991 افراد صحت یاب بھی ہوچکے تھے ، ج...

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے وجود - بدھ 08 اپریل 2020

جزیرہ نما یورپی ملک آئرلینڈ کے وزیر اعظم 41 سالہ لوئے ورادکر نے ملک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور وہاں پر ڈاکٹرز کی قلت کے باعث بطور ڈاکٹر ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں۔لوئے ورادکر سیاست میں متحرک ہونے سے قبل بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیتے تھے تاہم 2013 میں انہوں نے سیاست میں انٹری دی تو انہوں نے خود کو ڈاکٹری کے پیشے سے الگ کرلیا۔سیاست میں آتے ہی انہیں کامیابی ملی اور چند ہی سال میں وہ ملک کے وزیر دفاع بھی بن گئے ، اس سے قبل ہی انہوں نے آئرلینڈ کی سیاست اور حکومتی ...

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم وجود - بدھ 08 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کوورنا وائرس کوویڈ 19 کے مرض میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حالت اب بہتر ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بورس جانسن بغیر کسی آلہ کی مدد سے سانس لے رہے ہیں اور ان میں نمونیا کی تشخیص نہیں ہوئی ہے ۔ گزشتہ دنوں کورونا وائرس سے متاثر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو حالت خراب ہونے پر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا۔ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم بورس جانسن کو ڈاکٹروں کی ہدایات کے بعد ہس...

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی وجود - پیر 06 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی، امریکا میں عالمی وبا سے 9 ہزار 633 افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کے 208 ممالک اور علاقے کورونا کی زد میں آگئے ۔ امریکا بدستور دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں مسلسل پانچویں روز ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ ہو رہی ہیں، 24 گھنٹوں میں 1200 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار 633 ہوگئی۔ 3 لاکھ 36 ہزار 830 افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔نیویارک کے بعد نیو جرسی اور نیو آرلین...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این وجود - پیر 06 اپریل 2020

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپیل کی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک گھروں میں امن سے رہیں۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کو گھروں میں تشدد کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں م...

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل وجود - پیر 06 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لندن کے ایک مقامی ہسپتا ل میں منتقل کردیا گیا کیونکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے دس دن بعد بھی ان میں کورونا وائرس کی علامات مسلسل موجود تھیں اور ان کی طبیعت بدستور خراب تھی۔ٹین ڈائوننگ سٹریٹ کے ترجمان نے اس منتقلی کو احتیاطی قدم قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بورس جانسن کو ڈاکٹروں کے مشورے پر مزید ٹیسٹ کیلئے ہسپتا ل منتقل کیا گیا ۔واضح رہے کہ 55 سالہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن میں 27 مارچ کے روز کورونا وائرس کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد وہ ازخود ...

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے تناظر میں ایک حوصلہ افزا ویڈیو پیغام جاری کیا ہے اور مقامی کمیونٹی کو ایک روشن مستقبل کی نوید دی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارتِ انصاف نے ٹویٹر پر یہ ویڈیو پیغام جاری کیا ۔اس میں کہا گیاکہ لوگ ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے ملیں گے ،ایک دوسرے سے مصافحے کریں گے ،اسکول دوبارہ کھلیں گے ،نمازیں ادا کی جائیں گی، اسٹیڈیمز دوبارہ شائقین سے بھریں گے ،طیارے فضائوں میں اڑانیں بھریں گے لیکن تب تک ہمیں کرونا وائرس کے خلاف لڑائی جاری رکھ...

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان محمد العبد العالی نے بتایا ہے کہ مملکت میں کرونا کے مزید 140 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد کل متاثرہ افراد کی تعداد 2179 ہوگئی ہے ۔ ان میں 1730 کو معمولی نوعیت کی بیماری ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرونا کے حوالے سے روزانہ کی بریفنگ کے دوران وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک کرونا سے 29 افراد ہلاک اور 420 صحت یاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرونا سے متعلق افواہوں پرنہیں بلکہ مصدقہ سرکاری معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ سعودی وزارت...

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ وجود - پیر 06 اپریل 2020

ایران کے ایک سرکردہ سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک تیسرے فریق کی وجہ سے غیرمعمولی طورپر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ فلاحت پیشہ ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن بھی ہیں کا کہناتھا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو یہ دونوں ملکوں کے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ اس کا اصل سبب ایک تیسرا فریق ہے ۔حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی کرانے...

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف وجود - پیر 06 اپریل 2020

مصری وزیر برائے اوقاف نے اعلان کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وباء اسی طرح بدستورموجود رہی تو رمضان المبارک کے دوران بھی مساجد بند کردی جائیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار نے ایک بیان میں کہا کہ وباء کے خاتمے سے پہلے مساجد کھولنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ مساجد وبا کے ختم ہونے کے بعد ہی کھلیں گی۔مصری وزیر برائے اوقاف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر رمضان المبارک میں یہ وائرس موجود رہتا ہے تو ہم اپنے آپ کو محفوظ رکھنے اور خدا کے قانون کی پاسداری کے لیے مساجد...

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا وجود - پیر 06 اپریل 2020

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے دفتر کے ایک سینئر ذمہ دار کی افشا ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ذمے دار نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر میں انارکی پر شرط باندھی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ آڈیو ریکارڈنگ نارڈیک مانیٹر ویب سائٹ نے جاری کی ہے ۔ ویب سائٹ کے مطابق اردوان کے دفتر کے سربراہ حسن دوآن نے یہ شرط باندھی تھی کہ محمد مرسی کی معزولی کے تین سے پانچ سال بعد الاخوان المسلمین تنظیم کی بڑے پیمانے پر واپسی ہو گی۔ مرسی کو عوامی احتجاج کے ن...

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا