وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

برآمدات میں کمی تجارتی خسارہ 55 فیصد تک پہنچ گیا!

بدھ 13 ستمبر 2017 برآمدات میں کمی تجارتی خسارہ 55 فیصد تک پہنچ گیا!

رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی کے دوران برآمدات میں کمی کاسلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافے کی شرح 55فیصد تک پہنچ گئی اس طرح جولائی میں پاکستان کے تجارتی خسارے کی مالیت3.2 بلین ڈالر یعنی3 ارب 20 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔دوسری طرف پاکستان کے شماریات بیورو کاکہناہے کہ پاکستان میں درآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت میںا یک سال قبل اسی مہینے یعنی جولائی 1916 میں درآمد کی جانے والی اشیا کے مقابلے میں 3.2 بلین ڈالر یعنی3ارب 20 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوگیااس طرح جولائی کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے کی مالیت 1.14 بلین ڈالر یعنی ایک ارب14 کروڑ ڈالر رہی اس طرح تجارتی خسارے کی شرح بڑھ کر 55 فیصد تک جاپہنچی،واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی پاکستان کا تجارتی خسارہ32.5 بلین ڈالر یعنی 32 ارب50 کروڑ ریکارڈ کیاگیاتھااس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ یا تو ہماری وزارت تجارت اور خزانہ نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے موثر کوششیں نہیں کیں یا پھر ان کی یہ کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوسکیں ،دونوں صورتوں میں اس صورت حال کو پاکستان کی وزارت تجارت اور خزانہ کے حکام کی ناکامی ہی سے تعبیر کیاجائے گا۔
دوسری جانب کرنٹ اکائونٹ خسارے کی صورت حال بھی تشویشناک ہوتی جارہی ہے اور اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کو اس وقت 12.1 بلین یعنی12 ارب10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے کرنٹ اکائونٹ خسارے کاسامنا ہے جس میں کمی ہونے کے نہ صرف یہ کہ کوئی آثار نظر نہیں آتے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتاجارہاہے۔کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اس اضافے کی وجہ سے ہمارے زرمبادلے کے ذخائر میں 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوچکی ہے۔
اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ارباب اختیار اپنی تمامتر کوششوں کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے تجارتی خسارے میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس دل خوش کن حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ جولائی کے دوران ہماری برآمدات میں 10.6 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا اور اس مہینے کے دوران برآمدات کی مجموعی مالیت 1.63 بلین ڈالر یعنی ایک ارب 63 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی جو کہ سابقہ سال جولائی کی برآمدنی کے مقابلے میں 156 ملین ڈالر یعنی 15 کروڑ60 ڈالر زیادہ تھی لیکن اس صورت حال کو اس وقت تک اطمینان بخش قرار نہیں دیاجاسکتا جب تک کہ برآمدات میں اضافے کایہ رجحان مسلسل جاری نہ رکھا جاسکے اور اس میں بتدریج اضافہ نہ کیا جا سکے۔ رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی کے دوران ملک میں مجموعی طورپر 4.8 بلین ڈالر یعنی 4 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کی گئیں جو کہ گزشتہ سال جولائی کے دوران درآمد کی گئی اشیا کی مالیت کے مقابلے میں 36.7 فیصد یعنی 1.3 بلین یعنی ایک ار ب30 کروڑ ڈالر زیادہ تھی اس طرح درآمدات میں اس اضافے نے برآمدات میں اضافے کے تمام فوائد ہضم کرلیے۔
ہمارے ارباب اختیار نے رواں مالی سال کے دوران برآمدات کاہدف 23.1 بلین ڈالر یعنی 23 ارب 10 کروڑ ڈالر مقرر کیاہے جوکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13.2 فیصد زیادہ ہے ، اس طرح گزشتہ سال کی 20.5 ارب ڈالر کی برآمدی آمدنی کے مقابلے میں 23 ارب 10 کروڑ ڈالر کا برآمدی ہدف پورا کرنے کے لیے برآمدات میں مسلسل 13.2 فیصد کی شرح سے اضافہ کاسلسلہ جاری رکھنا ہوگا،جبکہ رواں مالی سال کے پہلے مہینے یعنی جولائی کے دوران برآمدات میں اضافے کامطلوبہ ہدف پورا کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی اور اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ مالی سال کی ابتدا ہی میں ہمیں ناکامی کاسامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کو کوئی مثال نہیں بنایاجاسکتا کیونکہ برآمدات میں اضافے کے لیے کئے جانے والے اقدامات کے نتائج سامنے آنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں اس لیے پہلے ماہ کی ناکامی کو مایوس کن قرار دینا قرین انصاف نہ ہوگا۔
برآمدات میں اضافے کے لیے نئے اہداف مقرر کرنے کے ساتھ ہی حکومت نے درآمدات میں کٹوتی کرنے کے لیے بھی اہداف مقرر کیے ہیں اور نئے مالی سال کے دوران درآمدات کاہدف 48.8 بلین یعنی 48 ارب 80 کروڑ مقرر کیاگیاہے لیکن درآمدات کے اس ہدف پر قائم رہنا یا درآمدات کو اس ہدف تک محدود رکھنے کے بظاہر آثار نظر نہیں آتے۔حکومت نے درآمدات اور برآمدات کے اہداف مقرر کرنے کے ساتھ ہی کرنٹ اکائونٹ خسارہ 8.9 بلین ڈالر تک محدود کرنے کے عزم کااظہار کیاہے جو کہ فی الوقت 12 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکاہے ، تاہم کرنٹ اکائونٹ خسارے کو محدود کرنے کا انحصار بھی بڑی حد تک ہماری برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی پر ہی ہوگا،اگر حکومت برآمدات میں مطلوبہ اضافہ کرنے اور درآمدات کو مقررہ ہدف تک محدود کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو کرنٹ اکائونٹ خسارے کے جن کو بوتل میں بند کرنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن اس کا انحصار درآمدی اور برآمدی پالیسیوں کی کامیابی یاناکامی پر ہی ہوگا۔ ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ جتنا بڑھتا جائے گا ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر اسی قدر دبائو بھی بڑھتا جائے گا اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی کی صورت میں زرمبادلے کے ذخائر پر سے دبائو کم ہوگا اور بیرونی قرض لیے بغیر بھی اس میں اضافہ ممکن ہوسکے گا، جبکہ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ 4 اگست کو اسٹیٹ بینک کے پاس ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 14.398 بلین ڈالر یعنی 14 ارب39 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی جو کہ 30 جون کو ختم ہونے والے سابقہ مالی سال کے مقابلے میں بھی 1.8 بلین یعنی ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کم تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران قرضوں کی ادائیگی سمیت بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مجموعی طورپر 20 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔رواں تجارتی اعدادوشمار کو اس حوالے سے اطمینان بخش قرار نہیں دیاجاسکتا بلکہ یہ اعدادوشمار پریشان کن ہیں اور ان سے ظاہرہوتاہے کہ حکومت کو اپنی بیرونی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلیے مزید قرض حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا ، جس کے لیے وزارت خزانہ نے کوششیں شروع کردی ہیں اور مختلف طرح کے بانڈز کی فروخت کے ذریعے رقم جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ کوششیں کس حد تک بار آور ہوسکیں گی یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا مدلل جواب ہماری وزارت خزانہ کے ارباب اختیار اور ماہرین معاشیات کے پاس بھی نہیں ہے۔
ہمارے تاجر اور برآمد کنندگان کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قیمت دوسری بین الاقوامی کرنسیوں کی نسبتاً زیادہ مضبوط رکھی گئی ہے جس سے بیرونی منڈیوں میں پاکستان کاتیار کردہ سامان نسبتا ً مہنگا تصورکیا جانے لگا ہے اور اس کی مانگ کم ہوگئی ہے جبکہ پاکستانی کرنسی کی مضبوط حیثیت کی وجہ سے ہماری درآمدات نسبتا ً سستی ہوگئیں جس کی وجہ سے اشیائے صرف کے تاجروں نے بڑے پیمانے پر اشیائے صرف درآمدکرکے ملکی صنعتوںکو خطرے سے دوچار کردیا۔
درآمدات وبرآمدات میں عدم توازن کے حوالے سے یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات پر کوئی موثر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ملک کا ادائیگیوں کاتوازن ڈانواڈول ہو چکا ہے، جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت پوری حکومتی مشینری ملکی معیشت کو سہارا اور سنبھالا دینے کی تدبیروں پر غور کرنے اور اس صورت حال پر موثر کنٹرول کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی وضح کرنے پر غور کرنے کے بجائے جے آئی ٹی کی گرفت سے بچنے اور نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے دیگر تمام افراد کواس سے بچانے کی تدابیر تلاش کرنے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت کے بارے میں عوامی سطح پر پیدا ہونے والا انتہائی شدید منفی تاثر دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر خزانہ جے آئی ٹی کے حوالے سے اپنی اور اپنے وزیر اعظم اور ان کے رفقا کی صفائیاں پیش کرنے کے ساتھ ملک کی مالیاتی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اورملک کو اس بڑھتے ہوئے تجارتیخسارے سے چھٹکارا دلانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں ۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزارت خزانہ میں ان کے رفقا اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں گے اور پہلی فرصت میں غیر ضروری اشیائے صرف خاص طورپر ایسی اشیا کی درآمد پر مکمل پابندی عاید کرنے کااعلان کریں گے جن کی درآمد نہ ہونے کی صورت میں عوام کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور جن کی متبادل اشیا
ملک میں وافر مقدار میں تیار ہورہی اور عام دستیاب ہیں۔


متعلقہ خبریں


شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک وجود - پیر 13 جولائی 2020

خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 جوان شہید ہوگئے جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دئیے گئے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی اور سیکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں ٹھکانے میں موجود 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں سے کی فائرنگ...

شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے وجود - پیر 13 جولائی 2020

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں پر جرمانے عائد کر دیے گئے ۔ جرمانے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق بھی کیے گئے ۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 15 بینکوں پر قوانین کی خلاف ورزی پر 1 ارب 68 کروڑ روپے کے بھاری جرمانے کیے گئے ہیں ۔ ان بینکوں پر مارچ سے جون 2020 کے دوران جرمانے کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں پر جرمانے عوام کے سامنے لانے کا سلسلہ جولائی 2019 سے شروع کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے تمام پندرہ بینکوں کے ناموں کی...

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور وجود - پیر 13 جولائی 2020

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اگر تین دن میں شہر میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحا ل بہتر نہیں ہوئی توگورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا اور پوری شاہراہ فیصل کو بھی بند کرسکتے ہیں،جماعت اسلامی نے ادارہ نورحق میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا ہے ،بجلی کی قیمتوں میں 3روپے اضافے کا کراچی دشمن فیصلہ واپس لیا جائے ،گزشتہ 15سال کی نجکاری کا فارنزک آڈٹ کیا جائے ،کے الیکٹرک کا لائسنس فوراًمنسوخ کر کے اسے قومی تحویل میں لیا جائے اور تمام اسٹی...

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار وجود - پیر 13 جولائی 2020

شہر قائد کے لیے 260 ملین گیلن پانی کا منصوبہ کے فور فیز ون تاخیر کا شکار ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے کے فور منصوبے سے متعلق وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا، خط صوبائی سیکرٹری پلاننگ نے وفاقی سیکرٹری پلاننگ کو لکھا جس میں بتایا گیا ہے کہ کے فور منصوبہ خاص وجوہات اور ڈیزائن کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے ۔خط کے متن کے مطابق منصوبہ ساز کمپنی نیسپاک مسئلے کے حل کے لیے رابطے میں ہے ، سندھ حکومت نے کمپنی کو ڈیزائن کے ازسر نو جائزہ لینے کا کہا تھا۔سندھ حکومت نے موقف اختیار کیا کہ نیسپا...

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز وجود - پیر 13 جولائی 2020

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہے کہ انتقام کو دیکھتے ہوئے بھی ہم اگر آج کے دن، دو سال پہلے واپسی کا کٹھن فیصلہ نہ کرتے تو آج ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا۔ نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے بعد 13 جولائی 2018 کو وطن واپسی کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ جب میری والدہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور ووٹ اپنی عزت کی جنگ لڑرہاتھا عین اس وقت سزاسنانے کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ آج سب پہ عیاں ہوچکے ہیں۔نہ قوم جان سکتی کہ کیسے بے گناہ نواشریف کو دباؤ...

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں وجود - پیر 13 جولائی 2020

امریکا، یوکے اور یورپی یونین کے بعد ایتھوپین ائر لائن نے بھی 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر ایتھوپین ائرلائن نے فضائی بیڑے میں شامل جہازوں کو آپریٹ کرنے والے 5 پاکستانی پائلٹس کی اسناد اور لائسنسز سے متعلق کوائف طلب کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ وضاحت ایتھوپین سفارت خانے نے وزارت خارجہ کے توسط سے بذریعہ فیکس طلب کی ہے۔ فیکس کے متن کے مطابق پاکستانی پائلٹوں کے مشتبہ لائسنسز ک...

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان وجود - پیر 13 جولائی 2020

ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے پرعملدر آمداور بین الافغان مذاکرات کاشروع ہونا بہت اہم ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ اگرکوئی پہلے جنگ کاخاتمہ اور پھرمذاکرات چاہتاہے تو یہ غیر منطقی بات ہے ۔ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ جنگ اس لیے جاری ہے کیونکہ اسکے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ غیرذمہ دارانہ بیانات اور الزامات مسئلے کوحل نہیں کرسکتے ۔ ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی اور بین الافغان مذاکرات ہی مسئلے کا منطقی حل ہیں۔

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان

برطانیاکی دوسوسالہ تاریخ میں پہلی بار میجر جنرل کا کورٹ مارشل وجود - پیر 13 جولائی 2020

برطانیا کی 200 سالہ تاریخ میں پہلی بار دھوکہ دہی کے جرم میں برطانوی فوج کے حاضرسروس میجر جنرل کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی فوج کے حاضر سروس میجر جنرل نک ویلش کو بچوں کی تعلیم پر حد سے زائد اخراجات کے جرم میں فوجی عدالت نے چارج لگا کر کورٹ مارشل کر دیا۔برطانوی قانون کے مطابق بچے کی تعلیم پر سالانہ 23ہزار پاونڈز سے زائد رقم خرچ نہیں کر سکتے جبکہ نک ویلش نے 50 ہزار پاونڈز خرچ کیے ۔واضح رہے کہ نک ویلش برطانوی افواج اور وزارت دفاع کے اہم عہدوں...

برطانیاکی دوسوسالہ تاریخ میں پہلی بار میجر جنرل کا کورٹ مارشل

کیمرہ مین کی حرم مکی کے کبوتروں کی تصاویر بناکر اس پہلوکواجاگرکرنے کی کوشش وجود - پیر 13 جولائی 2020

سعودی عرب کے ایک پیشہ ور فوٹو گرافر بدر العتیبی نے حرم مکی میں کبوتروں کی نقل وحرکت اور ان کی وجہ سے ماحول میں ہونے والی خوبصورتی کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرکے مسجد حرام کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کی منفرد کوشش کی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مکہ معظمہ کی ام القری یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم بدر العتیبی نے بتایا کہ فوٹو گرافی کا شوق چھ سال قبل پیدا ہوا۔پہلے پہل اس نے موبائل کیمرے سے اپنا شوق پورا کرنے کی کوشش کی مگر بعد میں اس نے ایک پیشہ ور فوٹو گرافر بننے کے لیے دوستوں...

کیمرہ مین کی حرم مکی کے کبوتروں کی تصاویر بناکر اس پہلوکواجاگرکرنے کی کوشش

جنوبی افریقہ کا گرجا گھر میدان جنگ بن گیا،200افرادیرغمال بنالیے وجود - پیر 13 جولائی 2020

عیسائیت کے مختلف فرقوں کے درمیان قیادت کے تنازع نے جنوبی افریقہ کے گرجا گھر کو میدان جنگ بنا دیا۔ اسلحے سے لیس 30 حملہ آوروں نے رات گئے زوربیکوم کے گرجا گھر پر دھاوا بول دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں سیکورٹی گارڈ دم توڑ گیا۔گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد پولیس نے یرغمال بنائے گئے افراد کو حملہ آوروں کے چنگل سے چھڑا لیا۔ درجنوں حملہ آوروں کو گرفتار کرکے اسلحہ تحویل میں لے لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق چرچ کے باہر گولیاں برسادیں، چرچ میں موجود 200 افراد کو یرغمال بنالیا اور فائرنگ کے نتیجے میں...

جنوبی افریقہ کا گرجا گھر میدان جنگ بن گیا،200افرادیرغمال بنالیے

تہران کی گیس فیلڈ میں پراسرار دھماکے ، عمارتیں لرز اٹھیں وجود - پیر 13 جولائی 2020

ایران کے دارالحکومت تہران میں پراسرار دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ تہران میں ایک گیس فیلڈ میں ہونے والے دھماکے میں عمارتیں لرز اٹھیں۔ اس دھماکے میں کم سے کم ایک شخص زخمی بھی ہوا۔میڈیارپورٹس کے مطابق تہران میں فائر بریگیڈ کے ترجمان جلال المالکی نے کہا کہ تہران کی بلدیہ میں فائر اینڈ سیفٹی سروسز کے پچیسواں نظام کی رہائشی عمارت میں ایک دھماکہ ہوا۔ انہوں نے نے مزید کہا کہ فائر فائٹرز فورا جائے وقوعہ پر پہنچے ۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی تھی کہ ایک پرانی عمارت کے تہ خانے میں جو ساٹ...

تہران کی گیس فیلڈ میں پراسرار دھماکے ، عمارتیں لرز اٹھیں

جاپان میں متعین امریکی میرینز میں بھی کرونا کی وبا پھیل گئی ،60فوجی متاثر وجود - پیر 13 جولائی 2020

جنوبی جاپان میں دو جزائر میں متعین امریکی میرینز میں بھی کرونا کی وبا پھیل گئی ،میڈیارپورٹس کے مطابق اوکیناوا حکام کا کہنا تھا کہ جنوبی جاپان میں دو فوجی اڈوں میں کرونا پھیلنے سے دسیوں فوجی اس کا شکار ہوئے ۔ حکام نے اس حوالے سے امریکی فوج سے تمام تر تفصیلات سامنے لانے کو کہا ۔اوکیناوا کے صوبے کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ چند درجن کیسزحال ہی میں سامنے آئے ہیں کیونکہ امریکی فوج نے اصل تعداد ظاہر نہ کرنے کو کہاہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ وبا میرین کور فوٹ...

جاپان میں متعین امریکی میرینز میں بھی کرونا کی وبا پھیل گئی ،60فوجی متاثر