... loading ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوجوان غیر قانونی تارکینِ وطن کو تحفظ دینے کے پروگرام ‘ڈریمر کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کے بعد ملک بھر میں اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
ڈریمر پروگرام سابق امریکی صدر بارک اوباما نے متعارف کروایا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پروگرام منسوخ کرنے کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفیرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ ارائیولز یعنی ‘ڈاکا نامی پروگرام غیر آئینی ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس 6 ماہ میں اس کا صحیح حل نکال لے گی۔انھوں نے اس بات پر زور دیاکہ ‘تارکین وطن کے قوانین میں اصولی تبدیلیاں نہیں آسکتیں جب تک کہ انتظامیہ اپنی مرضی سے وفاق کے قوانین کو مسترد کریں ۔واضح رہے کہ پانچ سال قبل سابق صدر اوباما نے ڈاکا پروگرام، جسے ڈریمرز کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، کو کانگریس کی اجازت کے بغیر نافذ کر دیا تھا۔اس پروگرام کے منسوخ ہونے سے تقریباً 8 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کے اندیشہ ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق لاطینی امریکی ممالک سے ہے۔اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور نیو یارک میں ٹرمپ ٹاور کے باہر ہونے والے مظاہرے میں پولیس نے درجن بھر افراد کو حراست میں لے لیاتھا۔ڈریمر پروگرام منسوخ ہونے پر سابق صدر اوباما نے اپنے فیس بک پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ‘غلط فیصلہ ہے۔ صدر اوباما کے علاوہ تجارتی رہنماؤں ، سیاستدانوں اور بڑی کمپنیز نے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانا بنایا ہے۔
ڈریمرپروگرام منسوخ کرنے کا اعلان امریکا کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کیا اور انھوں نے کہا کہ ‘سابق صدر نے تارکین وطن کے بارے میں بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پروگرام کو نافذ کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال صدارتی انتخابی مہم کے دوران تارکین وطن کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ ’’ڈاکا ‘‘کو ختم کر دیں گے۔ اس فیصلے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں انھوں نے کہا کہ ‘میں بچوں کو ان کے والدین کے کیے کی سزا دینے کا قائل نہیں ہوں لیکن ہمیں بطور قوم یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکا مواقع کا ملک اس لیے ہے کیونکہ اس ملک میں قانون کی پاسداری ہوتی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ وہ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین کے ساتھ مل کر ‘تارکین وطن کے قوانین کو از سرِنو ترتیب دیں گے جس کی مدد سے محنتی امریکی شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔سابق صدر اوباما نے فیس بک پر لکھا کہ ‘ان نوجوانوں کو نشانا بنانا غلط ہے کیونکہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ میکسیکو کی حکومت نے بھی اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس پروگرام سے متاثر ہونے والے اپنے ان شہریوں کی سفارتی مدد کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
بی بی سی کے واشنگٹن میں نمائندے انتھونی زرچر کے مطابق کانگریس میں ’’ ڈاکا ‘‘کے حمایتی اراکین کو مشکل پیش آسکتی ہے کیونکہ وہاں زیادہ تعداد تارکین وطن کے مخالفین کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس پہلے ہی سمندری طوفان ہاروی کے بعد کی امدادی کارروائیاں ، ٹیکس نظام کی تصیح جیسے کافی سنگین مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔ڈریمر پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد پر اگلے چھ ماہ تک کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔البتہ اب اس پروگرام کے لیے نئی درخواستیں نہیں دی جا سکیں گی۔
اس فیصلے کو ایک سمجھوتے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس پروگرام کے لیے امریکی حکام میں بہت حمایت ہے۔ اسی لیے اس کے متبادل کو تیار کرنا اہم ہے۔ صدر اوباما کے متعارف کرائے گئے’’ ڈاکا ‘‘نامی اس پروگرام کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو ملک بدری سے بچایا جاتا ہے اور انھیں ‘ پڑھنے اور کام کرنے کے پرمٹ دیے جاتے ہیں ۔ تاکہ وہ مفید شہری بن سکیں اور پڑھ لکھ کر یاکوئی ہنر سیکھ کر اپنے وطن اور امریکا کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے پر ناگواری کااظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے پولیٹکو کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ا سپیکر پال رائن کو صدر کے فیصلے کے بارے میں اتوار کی صبح بتایا تھا۔ جس پر پال رائن نے کہا تھا کہ وہ’ڈریمر‘ پروگرام منسوخ نہ کریں ۔گزشتہ ہفتے بھی پال رائن نے صدر سے کہا تھا کہ وہ اس پروگرام کو ختم نہ کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کو ختم کرنے سے بہت سے نوجوان غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو جائیں گے۔یاد رہے کہ امریکا میں ریپبلکن پارٹی کی قیادت کے کچھ حصے اور کاروباری شخصیات بھی اس پروگرام کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں ۔جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں ہی اس پروگرام کو انتہائی غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس پروگرام کو فوراً ختم کر دیں گے۔ تاہم اس کے بعد سے انھوں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اس موضوع کو ’انتہائی مشکل‘ پاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں ان ’بہترین بچوں ‘ کے ساتھ رحم والا سلوک کریں گے۔کانگریس کو اس پروگرام کا متبادل تیار کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دینا اس رویے کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بہت سی امریکی کمپنیوں جیسے کہ مائیکروسافٹ اور گوگل نے اس پروگرام کو جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔
ڈاکا پروگرام سے تقریباًساڑھے 7لاکھ نوجوانوں کو امریکا میں رہنے کی عبوری اجازت دی جاتی ہے۔ اس پروگرام میں کوالیفائی کرنے کے لیے درخواست گزار کی عمر 30 سال سے کم ہونا ضروری ہے۔درخواست گزار کو ایف بی آئی کی چھان بین سے بھی گزرنا پڑتا ہے، ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا ضروری ہے اور انھیں یا تو زیرِ تعلیم ہونا چاہیے یا انھوں نے حال ہی میں تعلیم مکمل کی ہو یا پھر انھوں نے حال ہی میں باعزت طور پر فوجی سروس مکمل کی ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈریمر پروگرام ختم کرنے کے اپنے اس فیصلے کے خلاف امریکا کے مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بااثر حلقوں اور خود اپنی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے دباؤ کا کس حد تک مقابلہ کرسکیں گے، اور ان کی درخواست پر سینیٹ اس کاکیامتبادل کب پیش کرتی ہے؟
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...
فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...