وجود

... loading ...

وجود

پاک امریکا تعلقات نازک مرحلے میں !

جمعه 08 ستمبر 2017 پاک امریکا تعلقات نازک مرحلے میں !

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی نے گزشتہ روز امریکا کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد منظور کرلی ہے۔ اس طرح یہ کہاجاسکتا ہے کہ پاک امریکا تعلقات نازک مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں ، جس کااندازا قومی اسمبلی میں سابق وزیر داخلہ کے بیان سے لگایا جاسکتاہے ، سابق وزیر داخلہ نے پاکستان کی حکومتوں پر امریکا سے پاکستان کے مفادات کاسودا کرنے اور پاکستان کے وقار کو فروخت کرنے کے الزامات عاید کیے اور کہا کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ امریکا نے اب تک پاکستان کو کتنی امداد دی ہے اور کتنی رقم ایک ہاتھ سے دینے کے بعد دوسرے ہاتھ سے واپس لے لی ہے ۔
امریکی انتظامیہ کی خطے سے متعلق نئی پالیسی پر بدھ کو قومی اسمبلی میں بحث کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ایوان میں قرارداد پیش کی، جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکا سے کسی بھی وفد کی پاکستان آمد یا پاکستانی عہدیداروں کے دورہ امریکا کی منسوخی پر غور کرے۔قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان امریکا سے تعاون ، خاص طور پر زمینی اور فضائی راہداریوں کی معطلی پر بھی غور کرے۔تاہم متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد میں ایوان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان باہمی احترام کے اصول پر امریکا سے تعمیری رابطے کا خواہاں ہے۔قرارداد میں افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن کے اس بیان کو بھی مسترد کردیاگیا جس میں اْنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئٹہ اور پشاور میں افغان طالبان کی شوریٰ موجود ہے۔قومی اسمبلی سے منظور کی گئی قرار داد میں پاکستان سے ملحق افغان صوبوں میں داعش اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان، امریکا اور اس کی اتحادی فورسز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں ۔دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی بدھ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ قیادت ہوا جس میں امریکا کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی اور اس سے متعلق پاکستان کی جوابی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔ایک ہفتے سے کم وقت میں ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس تھا۔اس سے قبل اس کمیٹی کا اجلاس 24 اگست کو ہوا تھا، جس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو قصور وار ٹھہرا کر افغانستان کو مستحکم بنانے میں مدد نہیں مل سکتی۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل مشاورتی عمل کے بعد گزشتہ ہفتے افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی انتظامیہ کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔صدر ٹرمپ نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ تنظیمیں جو امریکی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں ، پاکستان اْن کو اپنی سر زمین پر پناہ دیتا آیا ہے۔قومی اسمبلی میں بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ صرف قومی اسمبلی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو یک زبان ہو کر واضح بیان دینا چاہیے۔’’ہمیں یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ خدا نخواستہ کوئی جنگ چھڑنے لگی ہے، مگر دوسری طرف ہمیں بڑی سنجیدگی سے اس بیان کو لینا چاہیے۔‘‘چوہدری نثار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکا سمیت عالمی برداری سے تعاون چاہتا ہے۔ ’’ہم بالکل محاذ آرائی نہیں چاہتے، ہم کوئی لڑائی نہیں چاہتے۔ ہم امریکا سمیت تمام بیرونی طاقتوں سے تعاون چاہتے ہیں ۔ افغانستان میں امن امریکا سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے، مگر امریکا یا کوئی بھی دوسرا ملک پاکستان سے یک طرفہ تعاون کی توقع نہ کرے۔‘‘ سابق وزیرِ خارجہ اور حزبِ اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ایوان میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ امریکا سے الگ ہونے کی پالیسی مسئلے کا حل نہیں ۔ پاکستان کو امریکا سے رابطے میں رہنا چاہیے اور ’’دلائل کے ساتھ اْن سے بات کرنی چاہیے۔‘‘قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے تجویز دی کہ عید کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس معاملے پر تفصیلی بحث کر کے ایک موثر قرارداد منظور کی جانی چاہیے۔اْنھوں نے کہاکہ گزشتہ چار سال کی خامیوں کو دور کرتے ہوئے حکومت کو موثر سفارت کاری پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اور اس میں پاکستان سے متعلق تنبیہ کے تناظر میں یہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ اگر امریکی رویہ بدلتا ہے تو پاکستان کے لیے خاص طور پر اقتصادی شعبے میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں جبکہ پاکستان کو پہلے ہی بجٹ کے خسارے سمیت متعدد مالی مشکلات درپیش ہیں ۔بدلتی ہوئی غیر موافق صورتِ حال میں اس کے لیے ادائیگیوں کا توازن بھی پیچیدہ ہوسکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس بارے میں بھی غور کیا گیا اور وزارتِ خزانہ کے افسران نے صورتِ حال سے متعلق وزیرِ اعظم سمیت وفاقی وزرا کو آگاہ کیا۔ماہرین کے مطابق امریکی پالیسی میں تبدیلی سے پاکستان کے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی قرض دینے والے اداروں جو امریکا کے زیر اثرہیں کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں ۔ معاشی امور کے ماہر قیصر بنگالی ان خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کی اقتصادی صورتِ حال ایسی نہیں کہ وہ بیرونی امداد پر انحصار کیے بغیر چل سکے۔بدھ کو وائس آف امریکا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو اس کے لیے مزید معاشی دباؤ کا سبب ہے۔ان کاکہنا تھا”پہلے ہی پاکستان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکا عالمی بینک، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی فنڈنگ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر وہاں انھوں نے کوئی سختی کر دی اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تنزلی ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔”تاریخی طور بھی پاکستان کو امریکا سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ملنے والی معاونت اس کی اقتصادی مشکلات کو کم کرنے میں کردار ادا کرتی رہی ہے۔امریکا نے گزشتہ ماہ ہی اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں پاکستان کے لیے 5 کروڑ ڈالر کی رقم یہ کہہ کر روک دی تھی کہ اسلام آباد اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف اطمینان بخش کارروائیاں نہیں کر رہا۔
سابق مشیرِ خزانہ اور اقتصادی امور کے تجزیہ کار سلمان شاہ کے خیال میں صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ فی الحال اتنا شدید نہیں کہ جس سے تعلقات کے منقطع ہونے کا خطرہ ہو۔وائس آف امریکا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حالیہ تناؤ کو جس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ ان کے بقول غیر ضروری ہے۔”پاکستان کا ہمیشہ سے انحصار (بیرونی امداد پر) رہا ہے خاص طور پر گزشتہ 13، 14 سال سے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کئی پروگرام کر چکا ہے اور ہو سکتا ہے آگے چل کر بھی ایسا کرنا پڑے انھوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی غیر معمولی خطرہ ہو گا۔ کام تو چلتا رہے گا، جیسا میں نے کہا کہ تعلقات منقطع نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ان پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ اس پر بحث ہوگی۔ کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر آگے چلیں گے کیونکہ دونوں کے لیے ایک طرح سے ناممکن ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو توڑیں ۔”سلمان شاہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ افغانستان کے معدنی ذخائر کی بنیاد پر جنگ سے تباہ حال اس ملک کی اقتصادی حالت کو مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں اور ان کے بقول پاکستان اس شعبے میں امریکا کے ساتھ تعاون کی راہ نکال کر فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔اس نقطہ نظر سے پاکستان اور امریکا کا تعاون بہت ضروری ہے کیونکہ افغانستان کی معدنیات کی صنعت کو فروغ دینا ہے تو وہ پاکستان کی مدد سے ہی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ نہ تو وہاں اس ضمن میں بنیادی ڈھانچہ اس طرح کا ہے نہ علاقہ، لہذا میرا خیال ہے کہ بات چیت جب ہوگی تو تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں ۔”لیکن تجزیہ کار قیصر بنگالی اس بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تک افغانستان میں جنگ کی صورتحال ہے وہاں معدنیات سمیت کسی بھی صنعت کے لیے ماحول موافق نہیں ہو سکتا۔ لہذا پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس جنگ کو ختم کرانے کے لیے علاقائی ممالک سے مل کر، خصوصاً جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں ، مسئلے کا قابلِ عمل حل تلاش کرے۔


متعلقہ خبریں


کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ وجود - منگل 06 جنوری 2026

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - منگل 06 جنوری 2026

ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے وجود - منگل 06 جنوری 2026

روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی وجود - منگل 06 جنوری 2026

15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ وجود - پیر 05 جنوری 2026

پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 05 جنوری 2026

سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی وجود - پیر 05 جنوری 2026

9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی وجود - پیر 05 جنوری 2026

اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے وجود - اتوار 04 جنوری 2026

کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - اتوار 04 جنوری 2026

فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران،سائنسدانوں نے کیا، آئی ایس پی آر پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ،سائنسدانوںاور انجینئرز کو مبارکباد پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئ...

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی وجود - اتوار 04 جنوری 2026

ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہ...

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی

مضامین
قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم وجود منگل 06 جنوری 2026
قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم

مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ وجود منگل 06 جنوری 2026
مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ

اکیسویں صدی کی لڑائیاں وجود منگل 06 جنوری 2026
اکیسویں صدی کی لڑائیاں

2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال وجود پیر 05 جنوری 2026
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال

بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی وجود پیر 05 جنوری 2026
بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر