وجود

... loading ...

وجود

7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

جمعرات 07 ستمبر 2017 7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

عقیدۂ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے ،اور اس پر صحابہ کرام کے دور سے اجماع چلا آرہا ہے ، صحابہ کے بیچ ہرمسئلے پر اختلاف ہوا ،جیسے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاداور قرآن کو جمع کرنے جیسے اہم مسائل پر بھی صحابہ ؓ کے بیچ اختلاف رہا ،مگر منکرین نبوت کے خلاف جہاد پر تمام صحابہ نے متفق ہوکر مابعد والوں کو درس دیا کہ اس مسئلے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہو سکتا ،ختم نبوت دین اسلام کی اساس وبنیاد ہے ،اور کسی بھی جگہ کی مضبوطی اسکی مضبوط بنیاد پر منحصر ہوتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام کی خاطر جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں جنکی تعداد ستائیس تک جاپہنچتی ہے اس میں تمام شہیدصحابہ ؓ کی تعداد 200سے ڈھائی سوکے اندر اندر ہے، جبکہ منکرختم نبوت جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب کے خلاف جو جنگ ہوئی ہے اس میں شہید صحابہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں سات سو جید حفاظ، قراء اور عالم صحابہ ؓ تھے ،پھران میں بھی چند ’’بدری‘‘ صحابہ ؓ جو جنگ بدر میں شریک رہے جنہیں اللہ نے فرمایا کہ آج کے بعدجوچاہے کروتمہاری بخشش کردی گئی ۔وہ بھی اس عظیم جہاد میں شہید ہوئے ،الغرض صحابہ ؓ کے دور سے اس مسئلے پر اجماع چلا آرہا ہے ۔جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ بھی آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے سے چل نکلا ،دراصل یہ ایک تکوینی عمل تھا اللہ نے جھوٹے مدعیان نبوت کو آپ ﷺ کے زمانے میں پیدا کرکے امت کو سبق دیا کہ ان کے ساتھ کوئی مذاکرات ،بحث ومباحثہ نہیں کرنا بلکہ وہ کچھ کرنا ہے جو ان کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺاور صحابہ ؓ نے کرکے دکھایا اور ایسا ہی ہوتا رہا، مرزاغلام احمد قادیانی سے قبل کوئی جھوٹی نبوت کا دعویدارزندہ نہیں رہا، اسے قتل کردیا گیا بس یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھاجسے انگریز نے مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ جہاد ختم کرنے کے لیے مکمل اپنی حفاظت میں کھڑا کیا اور اسکی مکمل حمایت کی۔
مسلمان بے بس تھے لیکن اس کے باوجود ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی اس فتنے کے آگے ایک بند باندھ دیا ،کہ کم از کم ایک ایسا کافر جو خود کو نہ صرف مسلم بلکہ اصلی اور پکا سچامسلم اور حقیقی مسلم کو پکا کافر کہتا تھا اسے مسلمانوں کی فہرست سے نکال کر اور مسلمان کہلوانے پر پابندی لگوادی ،مگراس بند باندھنے میں بھی کئی سال لگے ،مرزاقادیانی نے دعوئوں کا ایک سلسلہ یوںشروع کیا کہ انیس سو ایک 1901؁ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی ،مثیل مسیح ،پھر مسیح ،پھر ظلی نبی ،بروزی نبی، پھر مثیل ِ محمد ،پھر بالآخر معاذاللہ خود ’’محمد رسواللہ ‘‘ ہونے کا دعویٰ کردیا ،امیرِشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اس کے پیروکاروں کے خلاف ’’مجلس ِ احرار ‘‘ کے پلیٹ فارم سے ہی جدو جہد کاآغاز کردیا ،مگر مسلمان بے چارے چاہ کر بھی کیاکرسکتے تھے کہ اس فتنے کے لیے خواجہ ناظم الدین کی حکومت مکمل حمایت پر تُلی ہوئی تھی ،حکومت اگر انگریز کے حکم کو پورا کرنے پرتلی ہوئی تھی تو مسلمان بھی اپنے نبی ﷺ کی عزت وناموس پر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر مکمل آمادہ ہوچکے تھے ،امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی ولولہ انگیز تقاریرایمان افروزخطابات بھی اپنے جوبن پر تھے ان خطابات نے مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول ﷺکو از سر نو اجاگر کردیا ،۱۹۵۲ء میں ہی حضرت امیر ِ شریعت ایک موقع پر خطاب فرمارہے تھے کہ کسی نے کہہ دیا !خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ چکے ہیں ،بس پھر توبخاری اپنے مخصوص انداز میں گرج کر بولے’’ساری باتوں کو چھوڑو لاہور والو!کوئی ہے یہ کہتے ہوئی ٹوپی اپنے سر سے اتار لی ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی ولولہ انگیز انداز میں فرمایا کہ جائو!اور میری اِس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جائو اور یہ میری ٹوپی کبھی کسی کے آگے نہیں جھکی اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو! اُسے کہہ دو کہ ہم تیرے سیاسی حریف نہیں ،الیکشن میںتیرا مقابلہ نہیں کرینگے ،تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے ،ہاں ہاں جائو اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ کہہ دو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں تیرے خنزیر ہیں تو بخاری تیرے خنزیرچرانے کو تیار ہے مگر صرف شرط یہ ہے کہ تو محمد ِ عربی کی ختم ِ رسالت کی حفاظت کا قانون بنا دے ،تاکہ کوئی آقا کی توہین نہ کرسکے ‘‘بخاری کی اس تحریک کوتو خواجہ ناظم الدین اور اس کی حکومت نے یوں کچل دیا کہ شاہ جی سمیت احرار کے تمام لیڈر بشمول حضرت مولانا محمد علی جالندھری سب کو جیل بھیج دیا ،اور حکومت یہ مطالبہ ماننے کو تیار نہ ہوئی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیاجائے ،اور جنرل اعظم نے لاہور میں مارشل لاء لگادیا اور مال روڈ لاہور پر تیس ہزرار عاشقان مصطفیٰ ﷺ نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور انہیں ابدی نیند سلادیا گیا صرف اس پاداش میں کہ انہوں نے ’’ختم نبوت زندہ با‘‘ کے نعرے لگائے تھے ۔
اس تحریک ِ ختم نبوت ۱۹۵۳؁ء کو کچلنے کے لیے ملک بھر میں گرفتا ریاں عمل میں لائی گئیں کتنی گرفتاریاں ہوئیں؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ،ملک بھر کی جیلیں بھر چکی تھیں ،ریگستان اور جنگلوں میں ،خار دار تاریں لگاکر علماء اور عوام کو ان میں پابندِ سلاسل کیا گیا ، جب وہ علماء اور عوامی راہنمائوں سے بھر گئیں تو دینی مدارس اور اسکولز کالجز کے طلباء کو صرف تھکانے کے لیے لاہور کے طلباء کو اٹھاکر ملتان کے جنگلات میں ،یوں سکھر کے طلباء کو گرفتار کر کے محراب پور کے علاقوں میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ،اب صورتحال یہ تھی کہ عوام کے راہبر سب جیلوں میں ،اور عوام پر صرف ’’ ختم نبوت زندہ باد ‘‘ کہنے کے جرم میں گولی چلانے کے حکومتی حکم نے عارضی طور پر تحریک کوٹھنڈا کردیا ،تو جیل کے اندر شاہ جی ( سید عطاء اللہ بخاری ) سے کسی افسر نے سوال کیاکہ شاہ جی! اتنے لوگ مروا دیے اور مسئلہ بھی حل نہ ہوا کہ ان کے خون کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ شاہ جی نے اپنے مخصوص انداز میں گرج کر جواب دیا کہ ’’ہاں ان سب کے خون کا بدلہ قیامت میں اپنے نانا ( حضرت محمد ﷺ ) سے جنت کی صورت میں لے کر دونگا ،باقی مسئلہ حل نہیں ہوا تو اس کے لیے اس تحریک کے ذریعے میں نے مسلمانوں کے دل میں ایک ٹائم بم فِٹ کردیا ہے ،ایک دن وہ پھٹے گا اور جو بھی حکومت ہوگی وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مجبور ہو جائے گی‘‘
شاہ جی کے جیل سے آزادی کے بعد ۲۰/۲۱اپریل ۱۹۵۴؁ ء کو حضرت امیرِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کے مکان ملتان میں قائدین مجلس احرار کا اجلاس ہوا جس میں امیرِ شریعت کے علاوہ ماسٹر تاج الدین انصاری ،شیخ حسام الدین ،مولانا محمد علی جالندھری ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا حافظ سید عطاء المنعم شاہ بخاری ، مولانا تاج محمود فیصل آبادی ، مولانا مجاہد الحسینی شامل تھے ،اتفاقِ رائے سے طے پایا کہ شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج الدین انصاری آئندہ مجلس احرار کے سربراہ جبکہ امیر شریعت اور قاضی احسان ،مولانا محمد علی جالندھری ،مجلس تحفظ ختم نبوت کے سر براہ ہونگے۔ اسی اجلاس میں دفاتر تقسیم کرکے خیر سگالی کے طریقے سے آپس میں رہنے کا عہد کیا گیا ،یوں اب مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک پھر سے منظم طریقے سے شروع ہوئی ،ایک طرف قادیانیوں نے ملک کے اہم اہم عہدوں پر قبضہ کرلیا ،چناب نگر(سابق ربوہ) کو اپنی آماجگا ہ بنا کروہاں اپنی ایک طرح سے جدا حکومت قائم کرلی ،اُدھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے دوبارہ سے قادیانیوں کوغیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شروع کردیا ،یہ تحریک چلتی رہی اور اکابرین الوداع کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے ،چلتے چلتے ۱۹۷۴؁ء میں تحریک ختم نبوت کی کمان قائدِ تحریک ِ ختم نبوت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اور جامعہ بنوری ٹائون کے بانی ومہتمم حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے سنبھالی،اب کہتے ہیں کہ ’’گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے‘‘قادیانیوں کو خود شرارت سوجھی اور وہ اس طرح کہ ۲۹مئی ۱۹۷۴؁ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ بذریعہ چناب ایکسپریس(جسکا اب نام ہزارہ ایکسپریس) ملتان سے روانہ ہوئے اور ان غیرتمند نوجوانوں نے قادیانیوں کے شہر ربوہ میں گاڑی کے رکتے ہی قادیانیوں پر لعنت کے نعرے لگانا شروع کردیے،گاڑی چل نکلی ،مگر اسٹیشن ماسٹر نے پتہ لگوالیا کہ یہ طلبہ کس گاڑی میں اور کب واپس آرہے ہیں ۔معلوم ہوا کہ اِسی چناب ایکسپریس میں واپس آرہے ہیں ،واپسی پر اسٹیشن ماسٹرمرزا مشتاق احمد قادیانی نے گاڑی کو ۴۵منٹ چناب نگرمیں روکے رکھا،جہاں قادیانی درندے آنجہانی مرزا طاہر کی سر براہی میں خنجر ،ڈنڈے، کُدالیں ،کلہاڑیاں لے کر پہلے سے موجود تھے انہوں نے اِ ن نوجوانوں پر حملہ کرکے انہیں لہو لہان کرکے زندہ لاشیں بنا دیا ،اب جو گاڑی یہاں سے نکلی تو اگلا اسٹاپ فیصل آباد تھا ،اس درندگی کی خبر گاڑی چلنے سے قبل ہی پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ،فیصل آباد ریلوے اسٹیشن مسجد کے امام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم رہنما مولانا تاج محمود فیصل آبادی ،اور مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف وہاں پر ہزاروں کا مجمع لیکر پہلے ہی موجود تھے ، گاڑی چناب ایکسپریس فیصل آباد پہنچی اور اِن زندہ لاشوں کو ٹرین سے اتارا گیا ،لوگوں نے یہ درندگی اپنی آنکھوں سے دیکھی تو اپنے گھروں کو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا اور مولانا تاج محمود سے مطالبہ کیا کہ ابھی اوراسی وقت ان کے قتل کا قادیانیوں سے بدلہ لیا جائے ۔مولانا نے وہاں موجود ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اِ ن طلباء میں سے جب تک ہر ایک کا بدلہ نہیں لیں گے سکون سے نہیں بیٹھیں گے ‘‘ اس کے بعد ان حضرات نے ان زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ۲۹ مئی ۴۷؁ ء کو یہ واقعہ ہوا ،۳۱مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے لاہور ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس کے ۔ایم۔ اے صمدانی پر مشتمل ایک کمیٹی ٹریبونل کا اعلان کردیا ،اس ٹریبونل نے اسی دن کارروائی کاباقاعدہ آغاز کردیا ،۵جون ۷۴؁ ء کو ٹریبونل نے گواہوں کو طلب کیا ۔پہلا اور دوسرا گواہ ملک محمد اقبال لگیج گارڈ ،چوہدری نذیر احمدانچارج گارڈ(دونوں قادیانی تھے) کو بلوایا گیا ،اور معزز جج کے آگے انہوں نے جو واقعہ بیان کیا وہ یوں ہے ’’میں نے واقعے کے خلاف سخت احتجاج کیا کہ یہ خالص درندگی تھی ،جو کچھ طلبہ کے ساتھ ہوا وہ شرافت اور انسانیت کے خلاف تھا ،طلبہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے ‘‘ اس بیان سے صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ اس واقعے کی سنگینی کا اندازا لگایاجائے کہ کس قدر درندگی کے ساتھ طلبہ کو زدوکوب کیا گیا تھا کہ خود قادیانی گواہ مان رہے ہیں کہ درندگی تھی، تحقیقاتی ٹریبونل نے کام مکمل کرلیا ۔اس ٹریبونل نے ستر گواہوں سے اس واقعے کی گواہی حاصل کی جن میں دوقادیانی بھی شامل تھے ۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق مذکورہ رپورٹ 112 صفحات پر مشتمل تھی مگر اسے حکومت نے منظرِ عام پر لانے سے روک دیا ۔ عوام اور علماء نے مطالبہ کیا کہ جسٹس صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے ، یہیںسے تحریک ختم نبوت کا باقاعدہ آغاز ہوا ،دوبارہ سے پورے ملک میں جلسے جلوس جلائو گھیرائو پتھرائو اور ایک سول نافرمانی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ،اس وقت کے وزیر ِ اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے،اور بھٹو ایک عوامی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی رہنماء تھے ،ان سے یہ مطالبہ کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاجائے ان کے لیے اس کو ماننا بہت مشکل اس وجہ سے بھی تھا کہ 1970؁ء کے الیکشن میں قادیانیوں نے من حیث القوم پیپلز پارٹی کو ووٹ دیے تھے ،اوربھٹو مرحوم اس وقت تک قادیانیوں کااصل روپ نہ پہچانتے تھے ،بلکہ قادیانیوں کے اس قدر حامی تھے کہ 4ستمبر1974؁ء کو میجر عزیزبھٹی کے مقام شہادت پرشہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ جنرل ملک اختر کی یادگار بننی چاہیے اگریہ اب نہ ہو اتو جب بھی پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو ان کی یادگار ضرور قائم کریگی ‘‘اوریہ ملک اختر متعصب قادیانی تھا ،یہ بھی ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ قادیانیوں کو اگر غیر مسلم اقلیت قرارد ے دیا گیا تو انہیں امریکا کبھی معاف نہیں کریگا ،وہ اس وجہ سے کہ جب مرحوم بھٹو سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکا کے دورے پر گئے تو امریکی صدر نے انہیں ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہماراسیکٹ (Sects )ہے۔ ان کاآپ نے ہرلحاظ سے خیال رکھنا ہے ،دوسری مرتبہ بھی جب امریکا کے دورے پر گئے تو بھی یہی بات دہرائی گئی ۔ اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری ایّام میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ’’ یہ بات میرے پاس امانت تھی فقط ریکارڈ پر لانے کے لیے کہہ رہا ہوں ‘‘بھٹو کے دور اقتدار میں کئی ایک افسران کو جبری ریٹائرڈ کرنا پڑا اس موقع پر بھی کئی سینئر قادیانی افسران نے مسلمانوں کو ریٹائرڈ کرکے اپنے ہم مذہب افراد کو بھرتی کرلیاپاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب قادیانی تھے ،انہوں نے ایئرفورس پر مرزائیوں کو قابض کرنے کے لیے بڑی ناکام تدابیر کیں ،ایک دفعہ ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلم فضائی افسر نے مسٹر بھٹو تک رسائی حاصل کی اورانہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت سے آگاہ کیا ،ان کی یہ لرزہ خیزداستان سن کرمسٹر بھٹو بہت حیران ہوئے اور اس روز بھٹو بے حد پریشان ہوئے اور ان کے ماتھے پر معنی خیزشکن ابھر آئی اور کہا ’’اچھا یہ ہے انکا اصل روپ‘‘بس اس بات کے بعد بھٹو کے ذہن میں قادیانیت کی جو نفرت ابھری اس کا اندازا نہیں لگایا جاسکتا،اس بات کے علاوہ بھی بھٹو کوبہت سی ایسی باتیں اسی ظفر چوہدری کے حوالے سے پتہ پڑیں جن سے اس بات پر مسٹر بھٹو کو یقین کامل ہوگیا کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم بلکہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی آگ ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے پاکستان جل تو سکتا ہے مگر سرسبزو شاداب نہیں رہ سکتا۔یہ وہ دن تھا جب بھٹو نے یہ تہیہ کرلیا کہ اب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینا ہے اور یہ کام بھٹو خود اپنی حکومت میں اکیلے بھی کرسکتے تھے مگربھٹو بے انتہاذہین اور مستقل سوچ رکھنے والے انسان تھے ۔وہ یہ خوب جانتے تھے کہ اگر یہ کام اکیلے انہوں نے کرلیا تو مابعدوالی حکومتوں میں کوئی اگر قادیانی یا ان کا حامی آنکلا تو وہ یہ کہہ کر اس قانون کو ختم کرسکتا ہے کہ یہ بھٹو کا انتقام تھا اور عوام اسے نہیں چاہتی۔ اسی وجہ سے بھٹو نے یہ مسئلہ اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور13جون1974؁ء کو بھٹو نے اپنے نشری خطاب میں کہا کہ ’’میں مسلمان ہو ں اور مجھے مسلمان ہو نے پر فخر ہے کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور کلمہ کیساتھ ہی مروں گا،ختم نبوت پر میرا کامل ایمان ہے انشاء اللہ عوام کے تعاون کے ساتھ قادیانیوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرونگا ،یہ اعزازبھی مجھے ہی حاصل ہوگا اور بروزمحشر خدا کے سامنے اسی کام کے باعث سرخروہونگا ‘‘،پھر مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مفتی محمود ، مولاناعبدالحق ، مولاناشاہ احمد نورانی جو اس وقت حزبِ اختلاف کے قائدین تھے، سے ملاقات کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک بل اسمبلی میں پیش کرنے کامطالبہ کیا ۔
مفتی طاہر مکی


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم وجود - منگل 03 فروری 2026

آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

مضامین
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر