وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

جمعرات 07 ستمبر 2017 7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

عقیدۂ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے ،اور اس پر صحابہ کرام کے دور سے اجماع چلا آرہا ہے ، صحابہ کے بیچ ہرمسئلے پر اختلاف ہوا ،جیسے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاداور قرآن کو جمع کرنے جیسے اہم مسائل پر بھی صحابہ ؓ کے بیچ اختلاف رہا ،مگر منکرین نبوت کے خلاف جہاد پر تمام صحابہ نے متفق ہوکر مابعد والوں کو درس دیا کہ اس مسئلے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہو سکتا ،ختم نبوت دین اسلام کی اساس وبنیاد ہے ،اور کسی بھی جگہ کی مضبوطی اسکی مضبوط بنیاد پر منحصر ہوتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام کی خاطر جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں جنکی تعداد ستائیس تک جاپہنچتی ہے اس میں تمام شہیدصحابہ ؓ کی تعداد 200سے ڈھائی سوکے اندر اندر ہے، جبکہ منکرختم نبوت جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب کے خلاف جو جنگ ہوئی ہے اس میں شہید صحابہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں سات سو جید حفاظ، قراء اور عالم صحابہ ؓ تھے ،پھران میں بھی چند ’’بدری‘‘ صحابہ ؓ جو جنگ بدر میں شریک رہے جنہیں اللہ نے فرمایا کہ آج کے بعدجوچاہے کروتمہاری بخشش کردی گئی ۔وہ بھی اس عظیم جہاد میں شہید ہوئے ،الغرض صحابہ ؓ کے دور سے اس مسئلے پر اجماع چلا آرہا ہے ۔جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ بھی آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے سے چل نکلا ،دراصل یہ ایک تکوینی عمل تھا اللہ نے جھوٹے مدعیان نبوت کو آپ ﷺ کے زمانے میں پیدا کرکے امت کو سبق دیا کہ ان کے ساتھ کوئی مذاکرات ،بحث ومباحثہ نہیں کرنا بلکہ وہ کچھ کرنا ہے جو ان کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺاور صحابہ ؓ نے کرکے دکھایا اور ایسا ہی ہوتا رہا، مرزاغلام احمد قادیانی سے قبل کوئی جھوٹی نبوت کا دعویدارزندہ نہیں رہا، اسے قتل کردیا گیا بس یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھاجسے انگریز نے مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ جہاد ختم کرنے کے لیے مکمل اپنی حفاظت میں کھڑا کیا اور اسکی مکمل حمایت کی۔
مسلمان بے بس تھے لیکن اس کے باوجود ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی اس فتنے کے آگے ایک بند باندھ دیا ،کہ کم از کم ایک ایسا کافر جو خود کو نہ صرف مسلم بلکہ اصلی اور پکا سچامسلم اور حقیقی مسلم کو پکا کافر کہتا تھا اسے مسلمانوں کی فہرست سے نکال کر اور مسلمان کہلوانے پر پابندی لگوادی ،مگراس بند باندھنے میں بھی کئی سال لگے ،مرزاقادیانی نے دعوئوں کا ایک سلسلہ یوںشروع کیا کہ انیس سو ایک 1901؁ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی ،مثیل مسیح ،پھر مسیح ،پھر ظلی نبی ،بروزی نبی، پھر مثیل ِ محمد ،پھر بالآخر معاذاللہ خود ’’محمد رسواللہ ‘‘ ہونے کا دعویٰ کردیا ،امیرِشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اس کے پیروکاروں کے خلاف ’’مجلس ِ احرار ‘‘ کے پلیٹ فارم سے ہی جدو جہد کاآغاز کردیا ،مگر مسلمان بے چارے چاہ کر بھی کیاکرسکتے تھے کہ اس فتنے کے لیے خواجہ ناظم الدین کی حکومت مکمل حمایت پر تُلی ہوئی تھی ،حکومت اگر انگریز کے حکم کو پورا کرنے پرتلی ہوئی تھی تو مسلمان بھی اپنے نبی ﷺ کی عزت وناموس پر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر مکمل آمادہ ہوچکے تھے ،امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی ولولہ انگیز تقاریرایمان افروزخطابات بھی اپنے جوبن پر تھے ان خطابات نے مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول ﷺکو از سر نو اجاگر کردیا ،۱۹۵۲ء میں ہی حضرت امیر ِ شریعت ایک موقع پر خطاب فرمارہے تھے کہ کسی نے کہہ دیا !خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ چکے ہیں ،بس پھر توبخاری اپنے مخصوص انداز میں گرج کر بولے’’ساری باتوں کو چھوڑو لاہور والو!کوئی ہے یہ کہتے ہوئی ٹوپی اپنے سر سے اتار لی ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی ولولہ انگیز انداز میں فرمایا کہ جائو!اور میری اِس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جائو اور یہ میری ٹوپی کبھی کسی کے آگے نہیں جھکی اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو! اُسے کہہ دو کہ ہم تیرے سیاسی حریف نہیں ،الیکشن میںتیرا مقابلہ نہیں کرینگے ،تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے ،ہاں ہاں جائو اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ کہہ دو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں تیرے خنزیر ہیں تو بخاری تیرے خنزیرچرانے کو تیار ہے مگر صرف شرط یہ ہے کہ تو محمد ِ عربی کی ختم ِ رسالت کی حفاظت کا قانون بنا دے ،تاکہ کوئی آقا کی توہین نہ کرسکے ‘‘بخاری کی اس تحریک کوتو خواجہ ناظم الدین اور اس کی حکومت نے یوں کچل دیا کہ شاہ جی سمیت احرار کے تمام لیڈر بشمول حضرت مولانا محمد علی جالندھری سب کو جیل بھیج دیا ،اور حکومت یہ مطالبہ ماننے کو تیار نہ ہوئی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیاجائے ،اور جنرل اعظم نے لاہور میں مارشل لاء لگادیا اور مال روڈ لاہور پر تیس ہزرار عاشقان مصطفیٰ ﷺ نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور انہیں ابدی نیند سلادیا گیا صرف اس پاداش میں کہ انہوں نے ’’ختم نبوت زندہ با‘‘ کے نعرے لگائے تھے ۔
اس تحریک ِ ختم نبوت ۱۹۵۳؁ء کو کچلنے کے لیے ملک بھر میں گرفتا ریاں عمل میں لائی گئیں کتنی گرفتاریاں ہوئیں؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ،ملک بھر کی جیلیں بھر چکی تھیں ،ریگستان اور جنگلوں میں ،خار دار تاریں لگاکر علماء اور عوام کو ان میں پابندِ سلاسل کیا گیا ، جب وہ علماء اور عوامی راہنمائوں سے بھر گئیں تو دینی مدارس اور اسکولز کالجز کے طلباء کو صرف تھکانے کے لیے لاہور کے طلباء کو اٹھاکر ملتان کے جنگلات میں ،یوں سکھر کے طلباء کو گرفتار کر کے محراب پور کے علاقوں میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ،اب صورتحال یہ تھی کہ عوام کے راہبر سب جیلوں میں ،اور عوام پر صرف ’’ ختم نبوت زندہ باد ‘‘ کہنے کے جرم میں گولی چلانے کے حکومتی حکم نے عارضی طور پر تحریک کوٹھنڈا کردیا ،تو جیل کے اندر شاہ جی ( سید عطاء اللہ بخاری ) سے کسی افسر نے سوال کیاکہ شاہ جی! اتنے لوگ مروا دیے اور مسئلہ بھی حل نہ ہوا کہ ان کے خون کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ شاہ جی نے اپنے مخصوص انداز میں گرج کر جواب دیا کہ ’’ہاں ان سب کے خون کا بدلہ قیامت میں اپنے نانا ( حضرت محمد ﷺ ) سے جنت کی صورت میں لے کر دونگا ،باقی مسئلہ حل نہیں ہوا تو اس کے لیے اس تحریک کے ذریعے میں نے مسلمانوں کے دل میں ایک ٹائم بم فِٹ کردیا ہے ،ایک دن وہ پھٹے گا اور جو بھی حکومت ہوگی وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مجبور ہو جائے گی‘‘
شاہ جی کے جیل سے آزادی کے بعد ۲۰/۲۱اپریل ۱۹۵۴؁ ء کو حضرت امیرِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کے مکان ملتان میں قائدین مجلس احرار کا اجلاس ہوا جس میں امیرِ شریعت کے علاوہ ماسٹر تاج الدین انصاری ،شیخ حسام الدین ،مولانا محمد علی جالندھری ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا حافظ سید عطاء المنعم شاہ بخاری ، مولانا تاج محمود فیصل آبادی ، مولانا مجاہد الحسینی شامل تھے ،اتفاقِ رائے سے طے پایا کہ شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج الدین انصاری آئندہ مجلس احرار کے سربراہ جبکہ امیر شریعت اور قاضی احسان ،مولانا محمد علی جالندھری ،مجلس تحفظ ختم نبوت کے سر براہ ہونگے۔ اسی اجلاس میں دفاتر تقسیم کرکے خیر سگالی کے طریقے سے آپس میں رہنے کا عہد کیا گیا ،یوں اب مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک پھر سے منظم طریقے سے شروع ہوئی ،ایک طرف قادیانیوں نے ملک کے اہم اہم عہدوں پر قبضہ کرلیا ،چناب نگر(سابق ربوہ) کو اپنی آماجگا ہ بنا کروہاں اپنی ایک طرح سے جدا حکومت قائم کرلی ،اُدھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے دوبارہ سے قادیانیوں کوغیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شروع کردیا ،یہ تحریک چلتی رہی اور اکابرین الوداع کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے ،چلتے چلتے ۱۹۷۴؁ء میں تحریک ختم نبوت کی کمان قائدِ تحریک ِ ختم نبوت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اور جامعہ بنوری ٹائون کے بانی ومہتمم حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے سنبھالی،اب کہتے ہیں کہ ’’گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے‘‘قادیانیوں کو خود شرارت سوجھی اور وہ اس طرح کہ ۲۹مئی ۱۹۷۴؁ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ بذریعہ چناب ایکسپریس(جسکا اب نام ہزارہ ایکسپریس) ملتان سے روانہ ہوئے اور ان غیرتمند نوجوانوں نے قادیانیوں کے شہر ربوہ میں گاڑی کے رکتے ہی قادیانیوں پر لعنت کے نعرے لگانا شروع کردیے،گاڑی چل نکلی ،مگر اسٹیشن ماسٹر نے پتہ لگوالیا کہ یہ طلبہ کس گاڑی میں اور کب واپس آرہے ہیں ۔معلوم ہوا کہ اِسی چناب ایکسپریس میں واپس آرہے ہیں ،واپسی پر اسٹیشن ماسٹرمرزا مشتاق احمد قادیانی نے گاڑی کو ۴۵منٹ چناب نگرمیں روکے رکھا،جہاں قادیانی درندے آنجہانی مرزا طاہر کی سر براہی میں خنجر ،ڈنڈے، کُدالیں ،کلہاڑیاں لے کر پہلے سے موجود تھے انہوں نے اِ ن نوجوانوں پر حملہ کرکے انہیں لہو لہان کرکے زندہ لاشیں بنا دیا ،اب جو گاڑی یہاں سے نکلی تو اگلا اسٹاپ فیصل آباد تھا ،اس درندگی کی خبر گاڑی چلنے سے قبل ہی پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ،فیصل آباد ریلوے اسٹیشن مسجد کے امام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم رہنما مولانا تاج محمود فیصل آبادی ،اور مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف وہاں پر ہزاروں کا مجمع لیکر پہلے ہی موجود تھے ، گاڑی چناب ایکسپریس فیصل آباد پہنچی اور اِن زندہ لاشوں کو ٹرین سے اتارا گیا ،لوگوں نے یہ درندگی اپنی آنکھوں سے دیکھی تو اپنے گھروں کو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا اور مولانا تاج محمود سے مطالبہ کیا کہ ابھی اوراسی وقت ان کے قتل کا قادیانیوں سے بدلہ لیا جائے ۔مولانا نے وہاں موجود ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اِ ن طلباء میں سے جب تک ہر ایک کا بدلہ نہیں لیں گے سکون سے نہیں بیٹھیں گے ‘‘ اس کے بعد ان حضرات نے ان زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ۲۹ مئی ۴۷؁ ء کو یہ واقعہ ہوا ،۳۱مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے لاہور ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس کے ۔ایم۔ اے صمدانی پر مشتمل ایک کمیٹی ٹریبونل کا اعلان کردیا ،اس ٹریبونل نے اسی دن کارروائی کاباقاعدہ آغاز کردیا ،۵جون ۷۴؁ ء کو ٹریبونل نے گواہوں کو طلب کیا ۔پہلا اور دوسرا گواہ ملک محمد اقبال لگیج گارڈ ،چوہدری نذیر احمدانچارج گارڈ(دونوں قادیانی تھے) کو بلوایا گیا ،اور معزز جج کے آگے انہوں نے جو واقعہ بیان کیا وہ یوں ہے ’’میں نے واقعے کے خلاف سخت احتجاج کیا کہ یہ خالص درندگی تھی ،جو کچھ طلبہ کے ساتھ ہوا وہ شرافت اور انسانیت کے خلاف تھا ،طلبہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے ‘‘ اس بیان سے صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ اس واقعے کی سنگینی کا اندازا لگایاجائے کہ کس قدر درندگی کے ساتھ طلبہ کو زدوکوب کیا گیا تھا کہ خود قادیانی گواہ مان رہے ہیں کہ درندگی تھی، تحقیقاتی ٹریبونل نے کام مکمل کرلیا ۔اس ٹریبونل نے ستر گواہوں سے اس واقعے کی گواہی حاصل کی جن میں دوقادیانی بھی شامل تھے ۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق مذکورہ رپورٹ 112 صفحات پر مشتمل تھی مگر اسے حکومت نے منظرِ عام پر لانے سے روک دیا ۔ عوام اور علماء نے مطالبہ کیا کہ جسٹس صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے ، یہیںسے تحریک ختم نبوت کا باقاعدہ آغاز ہوا ،دوبارہ سے پورے ملک میں جلسے جلوس جلائو گھیرائو پتھرائو اور ایک سول نافرمانی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ،اس وقت کے وزیر ِ اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے،اور بھٹو ایک عوامی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی رہنماء تھے ،ان سے یہ مطالبہ کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاجائے ان کے لیے اس کو ماننا بہت مشکل اس وجہ سے بھی تھا کہ 1970؁ء کے الیکشن میں قادیانیوں نے من حیث القوم پیپلز پارٹی کو ووٹ دیے تھے ،اوربھٹو مرحوم اس وقت تک قادیانیوں کااصل روپ نہ پہچانتے تھے ،بلکہ قادیانیوں کے اس قدر حامی تھے کہ 4ستمبر1974؁ء کو میجر عزیزبھٹی کے مقام شہادت پرشہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ جنرل ملک اختر کی یادگار بننی چاہیے اگریہ اب نہ ہو اتو جب بھی پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو ان کی یادگار ضرور قائم کریگی ‘‘اوریہ ملک اختر متعصب قادیانی تھا ،یہ بھی ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ قادیانیوں کو اگر غیر مسلم اقلیت قرارد ے دیا گیا تو انہیں امریکا کبھی معاف نہیں کریگا ،وہ اس وجہ سے کہ جب مرحوم بھٹو سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکا کے دورے پر گئے تو امریکی صدر نے انہیں ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہماراسیکٹ (Sects )ہے۔ ان کاآپ نے ہرلحاظ سے خیال رکھنا ہے ،دوسری مرتبہ بھی جب امریکا کے دورے پر گئے تو بھی یہی بات دہرائی گئی ۔ اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری ایّام میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ’’ یہ بات میرے پاس امانت تھی فقط ریکارڈ پر لانے کے لیے کہہ رہا ہوں ‘‘بھٹو کے دور اقتدار میں کئی ایک افسران کو جبری ریٹائرڈ کرنا پڑا اس موقع پر بھی کئی سینئر قادیانی افسران نے مسلمانوں کو ریٹائرڈ کرکے اپنے ہم مذہب افراد کو بھرتی کرلیاپاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب قادیانی تھے ،انہوں نے ایئرفورس پر مرزائیوں کو قابض کرنے کے لیے بڑی ناکام تدابیر کیں ،ایک دفعہ ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلم فضائی افسر نے مسٹر بھٹو تک رسائی حاصل کی اورانہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت سے آگاہ کیا ،ان کی یہ لرزہ خیزداستان سن کرمسٹر بھٹو بہت حیران ہوئے اور اس روز بھٹو بے حد پریشان ہوئے اور ان کے ماتھے پر معنی خیزشکن ابھر آئی اور کہا ’’اچھا یہ ہے انکا اصل روپ‘‘بس اس بات کے بعد بھٹو کے ذہن میں قادیانیت کی جو نفرت ابھری اس کا اندازا نہیں لگایا جاسکتا،اس بات کے علاوہ بھی بھٹو کوبہت سی ایسی باتیں اسی ظفر چوہدری کے حوالے سے پتہ پڑیں جن سے اس بات پر مسٹر بھٹو کو یقین کامل ہوگیا کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم بلکہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی آگ ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے پاکستان جل تو سکتا ہے مگر سرسبزو شاداب نہیں رہ سکتا۔یہ وہ دن تھا جب بھٹو نے یہ تہیہ کرلیا کہ اب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینا ہے اور یہ کام بھٹو خود اپنی حکومت میں اکیلے بھی کرسکتے تھے مگربھٹو بے انتہاذہین اور مستقل سوچ رکھنے والے انسان تھے ۔وہ یہ خوب جانتے تھے کہ اگر یہ کام اکیلے انہوں نے کرلیا تو مابعدوالی حکومتوں میں کوئی اگر قادیانی یا ان کا حامی آنکلا تو وہ یہ کہہ کر اس قانون کو ختم کرسکتا ہے کہ یہ بھٹو کا انتقام تھا اور عوام اسے نہیں چاہتی۔ اسی وجہ سے بھٹو نے یہ مسئلہ اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور13جون1974؁ء کو بھٹو نے اپنے نشری خطاب میں کہا کہ ’’میں مسلمان ہو ں اور مجھے مسلمان ہو نے پر فخر ہے کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور کلمہ کیساتھ ہی مروں گا،ختم نبوت پر میرا کامل ایمان ہے انشاء اللہ عوام کے تعاون کے ساتھ قادیانیوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرونگا ،یہ اعزازبھی مجھے ہی حاصل ہوگا اور بروزمحشر خدا کے سامنے اسی کام کے باعث سرخروہونگا ‘‘،پھر مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مفتی محمود ، مولاناعبدالحق ، مولاناشاہ احمد نورانی جو اس وقت حزبِ اختلاف کے قائدین تھے، سے ملاقات کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک بل اسمبلی میں پیش کرنے کامطالبہ کیا ۔
مفتی طاہر مکی


متعلقہ خبریں


لائن ٓف کنٹرول، بیک چینل ڈپلومیسی کی خبریں بے بنیاد قرار وجود - جمعه 26 فروری 2021

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی امور معید یوسف نے بیک چینل ڈپلومیسی سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجیت دوول سے اس معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔اجیت دوول بھارت میں مشیر برائے قومی سلامتی امور کے منصب پہ فائز ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اجیت دوول کو مشیر بنا کر ان کا عہدہ وزیر کے مساوی کردیا تھا۔ معید یوسف نے اس ضمن میں بھارتی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیشرفت ڈی جی ایم ا...

لائن ٓف کنٹرول، بیک چینل ڈپلومیسی کی خبریں بے بنیاد قرار

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو جون تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ وجود - جمعه 26 فروری 2021

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 4 ماہ کی مہلت دیتے ہوئے جون تک گرے لسٹ میں برقراررکھنے کا فیصلہ کیا ہے اورکہا ہے کہ پاکستان نے 27 میں سے 24 نکات پر عملدرآمد کرلیا ہے جون تک تمام 27 نکات پر عملدرآمد کرے ۔ ایف اے ٹی ایف نے مزید کہا ہے کہ ٹیررفنانسنگ کے ضمن میںخامیاں پائی گئی ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)نے 4 روزہ پلانری اجلاس کی تکمیل پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان بد ستور ان کی گرے لسٹ پر موجود رہے گا۔عالمی واچ ڈاگ کے صدر نے ایف اے ٹی ایف اجلاس کے فیصلوں کا اعلان ایک نیوز...

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو جون تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

چائے کی پیشکش اب بھی برقرار ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 26 فروری 2021

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے کہا ہے کہ چائے کی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے ۔ایک انٹرویومیں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ انگلیاں اٹھانیوالوں کو حکومت اچھے سے جواب دیرہی ہے جہاں جواب کی ضرورت ہوتی ہے وہاں جواب دیتے ہیں، الزامات کاکوئی وجود ہی نہیں توان کاجواب دینے کافائدہ نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام اورمیڈیاسمجھتے ہیں اوراپنے اداروں سے محبت کرتے ہیں، چائے کی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ...

چائے کی پیشکش اب بھی برقرار ہے ، ترجمان پاک فوج

ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں غفلت برتنے پر افسران معطل وجود - جمعه 26 فروری 2021

الیکشن کمیشن نے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں غفلت برتنے پر بڑے پیمانے پر افسران کو معطل کردیا۔الیکشن کمیشن نے این اے 75ڈسکہ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے آئی جی پی اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فرائض سے غفلت برتنے پر 4 مارچ کو الیکشن کمیشن میں طلب کرلیا ہے ، اور حکم دیا ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب ذاتی طور پر پیش ہوں۔الیکشن کمیشن نے حلقے میں انتخاب کے بعد غائب ہونے وانے والے پریزائیڈنگ افسران کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ، آر او پی الیکشن ایکٹ اور قواعد کے تحت ...

ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں غفلت برتنے پر افسران معطل

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کا مشترکہ اعلامیہ جاری وجود - جمعرات 25 فروری 2021

وزیراعظم عمران خان نے 23، 24 فروری کوسری لنکا کا 2 روزہ سرکاری دورہ کیا جس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، وزیراعظم کو سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجاپکسے نے دورے کی دعوت دی تھی۔اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزرا اور سینئر سرکاری عہدیداروں پر مشتمل وفد موجود تھا، دونوں ممالک میں نئی حکومتوں کے قیام کے بعد وزیراعظم کا سری لنکا کا یہ پہلا دورہ تھا۔وزیراعظم عمران خان کا سری لنکا کے وزیراعظم اور کابینہ نے پرتپاک استقبال کیا۔اعلامیہ کے مطابق سری لنکا کے صدر گوٹبیاراجا...

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کا مشترکہ اعلامیہ جاری

سری لنکن وزیر کھیل عمران خان سے کرکٹ بیٹ کا تحفہ پاکر خوش وجود - جمعرات 25 فروری 2021

سری لنکا کے وزیر کھیل نمل راجاپکسے نے وزیر اعظم عمران خان کے دستخط شدہ بلے کا تحفہ پانے پر خوشی کااظہار کیا ۔سری لنکن وزیر نے وزیر اعظم عمران خان کے لیے اردو زبان میں ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔نمل راجاپکسے نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان کے اس دستخط شدہ تحفے کا دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں اور ان کے اس پیار اور محبت کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔انہوں نے عمران خان کیلئے نیک تمنائوں کا ا...

سری لنکن وزیر کھیل عمران خان سے کرکٹ بیٹ کا تحفہ پاکر خوش

اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کراچی کنگز کو 5 وکٹوں سے ہرادیا وجود - جمعرات 25 فروری 2021

نیشنل اسٹیدیم کراچی میں جاری ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد دفاعی چیمپئن کراچی کنگز کو5وکٹوں سیشکست دے دی۔فاتح ٹیم نے 197رنز کا بڑا ہدف 19.1اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔کراچی کنگز کے اوپنر شرجیل خان کی سنچری اور بابراعظم کی نصف سنچری رائیگاں گئیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے اوپنر ایلکس ہیلز کو 21 گیندوں پر 46 رنز اسکور کرنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی اننگز کا آغاز ز...

اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کراچی کنگز کو 5 وکٹوں سے ہرادیا

مریم نواز پھر نیب کے ریڈار پر آگئیں، جاتی امرا اراضی کیس2مارچ کو طلب وجود - جمعرات 25 فروری 2021

قومی احتساب بیورو (نیب) نے جاتی امرا اراضی کیس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو 2مارچ کو طلب کر لیا، اس سے قبل مریم نواز کو 11اگست 2020کو طلب کیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو 2مارچ کو طلب کر لیا ، مریم نواز کو جاتی امرا اراضی کیس میں 2مارچ کو 11بجے طلب کیا گیا ہے اور نیب کی 3رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے۔خیال رہے اس سے قبل مریم نواز کو 11اگست 2020کو طلب کیا گیا تھا، مریم نو...

مریم نواز پھر نیب کے ریڈار پر آگئیں، جاتی امرا اراضی کیس2مارچ کو طلب

ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں پرقدغنیں عائدکردیں وجود - جمعرات 25 فروری 2021

ایران نے اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے )کے معائنہ کاروں پر پابندیاں عاید کردی ہیں اور اب وہ اس کی حساس جوہری تنصیبات کا اچانک معائنہ نہیں کرسکیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران نے یہ اقدام یورپی یونین اور امریکا کے صدر جو بائیڈن پر دبائو ڈالنے کی غرض سے کیا تاکہ وہ اس کے خلاف عاید کردہ سخت پابندیوں کو ختم کردیں۔ایران کے سرکاری ٹی وی نے جوہری تنصیبات کے معائنے پر پابندی کی تصدیق کی اور کہا کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون کم کردیا گی...

ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں پرقدغنیں عائدکردیں

ویکسین پاسپورٹ کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے ، برطانوی وزیراعظم کا نظر ثانی کا اعلان وجود - بدھ 24 فروری 2021

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ویکسین پاسپورٹ کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے تاہم نظرثانی کرینگے ۔ بورس جانسن نے مغربی لندن کے اسکول کے دورے پر گفتگو کے دوران کہا کہ کیبنٹ آفس منسٹر مائیکل گوو نظرثانی کے معاملے کی سربراہی کرینگے ۔ پب یا تھیٹر جانے کیلئے ویکسین پاسپورٹ دکھانا نیا پن ہوگا۔انھوں نے کہا کہ 21 جون سے لاک ڈاؤن پابندیاں ختم کرنے سے متعلق انتہائی پر امید ہوں تاہم انھوں نے کہا کہ پابندیاں ختم کرنیکی گارنٹی دینا ممکن نہیں، عوام کو اب بھی محتاط رہنا ہوگا۔

ویکسین پاسپورٹ کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے ، برطانوی وزیراعظم کا نظر ثانی کا اعلان

مکیش امبانی کا بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر بنانے کا اعلان وجود - بدھ 24 فروری 2021

بھارت سے تعلق رکھنے والے ایشیا کے دوسرے بڑے امیر تاجر مکیش امبانی نے دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر گجرات میں تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس پروجیکٹ کو ابتدا میں ہی تنقید کا سامنا ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق ارب پتی تاجر مکیش امبانی نے ریاست گجرات کے شہر جام نگر میں 113 ہیکٹر یعنی 280 ایکڑ پر محیط دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں افریقی شیر ، بنگال کے شیر اور کوموڈو ڈریگن سمیت ہندوستان اور دنیا بھر سے جانوروں، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کی 100 سے...

مکیش امبانی کا بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا چڑیا گھر بنانے کا اعلان

افغانستان ، فوجیوں کے جنگی جرائم کے راز افشا کرنے سے پہلے اعلی ٰ انٹیلی جنس افسر ہلاک وجود - بدھ 24 فروری 2021

افغانستان میں اپنے فوجیوں کے جنگی جرائم کا راز افشا کرنے کا ارادہ کرنے والا اعلی ٰ انٹیلی جنس افسر مشکوک طور پر ہلاک ہوگیا ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا کے انٹیلی جنس کے اس اعلیٰ آفیسر کی لاش ایسے میں ملی ہے کہ ایک ہارڈ ڈیسک میں انہوں نے افغانستان میں آسٹریلیا کے فوجیوں کی جانب سے جنگی جرائم سے پردہ اٹھایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس ہارڈ ڈیسک میں موجود حقائق کے برملا ہونے کے بعد افغانستان میں آسٹریلیا کے فوجیوں کی جانب سے جنگی جرائم کے حوالے سے عوامی رائے عامہ کی سوچ بدل جائ...

افغانستان ، فوجیوں کے جنگی جرائم کے راز افشا کرنے سے پہلے اعلی ٰ انٹیلی جنس افسر ہلاک