وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

جمعرات 07 ستمبر 2017 7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

عقیدۂ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے ،اور اس پر صحابہ کرام کے دور سے اجماع چلا آرہا ہے ، صحابہ کے بیچ ہرمسئلے پر اختلاف ہوا ،جیسے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاداور قرآن کو جمع کرنے جیسے اہم مسائل پر بھی صحابہ ؓ کے بیچ اختلاف رہا ،مگر منکرین نبوت کے خلاف جہاد پر تمام صحابہ نے متفق ہوکر مابعد والوں کو درس دیا کہ اس مسئلے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہو سکتا ،ختم نبوت دین اسلام کی اساس وبنیاد ہے ،اور کسی بھی جگہ کی مضبوطی اسکی مضبوط بنیاد پر منحصر ہوتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام کی خاطر جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں جنکی تعداد ستائیس تک جاپہنچتی ہے اس میں تمام شہیدصحابہ ؓ کی تعداد 200سے ڈھائی سوکے اندر اندر ہے، جبکہ منکرختم نبوت جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب کے خلاف جو جنگ ہوئی ہے اس میں شہید صحابہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں سات سو جید حفاظ، قراء اور عالم صحابہ ؓ تھے ،پھران میں بھی چند ’’بدری‘‘ صحابہ ؓ جو جنگ بدر میں شریک رہے جنہیں اللہ نے فرمایا کہ آج کے بعدجوچاہے کروتمہاری بخشش کردی گئی ۔وہ بھی اس عظیم جہاد میں شہید ہوئے ،الغرض صحابہ ؓ کے دور سے اس مسئلے پر اجماع چلا آرہا ہے ۔جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ بھی آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے سے چل نکلا ،دراصل یہ ایک تکوینی عمل تھا اللہ نے جھوٹے مدعیان نبوت کو آپ ﷺ کے زمانے میں پیدا کرکے امت کو سبق دیا کہ ان کے ساتھ کوئی مذاکرات ،بحث ومباحثہ نہیں کرنا بلکہ وہ کچھ کرنا ہے جو ان کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺاور صحابہ ؓ نے کرکے دکھایا اور ایسا ہی ہوتا رہا، مرزاغلام احمد قادیانی سے قبل کوئی جھوٹی نبوت کا دعویدارزندہ نہیں رہا، اسے قتل کردیا گیا بس یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھاجسے انگریز نے مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ جہاد ختم کرنے کے لیے مکمل اپنی حفاظت میں کھڑا کیا اور اسکی مکمل حمایت کی۔
مسلمان بے بس تھے لیکن اس کے باوجود ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی اس فتنے کے آگے ایک بند باندھ دیا ،کہ کم از کم ایک ایسا کافر جو خود کو نہ صرف مسلم بلکہ اصلی اور پکا سچامسلم اور حقیقی مسلم کو پکا کافر کہتا تھا اسے مسلمانوں کی فہرست سے نکال کر اور مسلمان کہلوانے پر پابندی لگوادی ،مگراس بند باندھنے میں بھی کئی سال لگے ،مرزاقادیانی نے دعوئوں کا ایک سلسلہ یوںشروع کیا کہ انیس سو ایک 1901؁ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی ،مثیل مسیح ،پھر مسیح ،پھر ظلی نبی ،بروزی نبی، پھر مثیل ِ محمد ،پھر بالآخر معاذاللہ خود ’’محمد رسواللہ ‘‘ ہونے کا دعویٰ کردیا ،امیرِشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اس کے پیروکاروں کے خلاف ’’مجلس ِ احرار ‘‘ کے پلیٹ فارم سے ہی جدو جہد کاآغاز کردیا ،مگر مسلمان بے چارے چاہ کر بھی کیاکرسکتے تھے کہ اس فتنے کے لیے خواجہ ناظم الدین کی حکومت مکمل حمایت پر تُلی ہوئی تھی ،حکومت اگر انگریز کے حکم کو پورا کرنے پرتلی ہوئی تھی تو مسلمان بھی اپنے نبی ﷺ کی عزت وناموس پر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر مکمل آمادہ ہوچکے تھے ،امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی ولولہ انگیز تقاریرایمان افروزخطابات بھی اپنے جوبن پر تھے ان خطابات نے مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول ﷺکو از سر نو اجاگر کردیا ،۱۹۵۲ء میں ہی حضرت امیر ِ شریعت ایک موقع پر خطاب فرمارہے تھے کہ کسی نے کہہ دیا !خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ چکے ہیں ،بس پھر توبخاری اپنے مخصوص انداز میں گرج کر بولے’’ساری باتوں کو چھوڑو لاہور والو!کوئی ہے یہ کہتے ہوئی ٹوپی اپنے سر سے اتار لی ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی ولولہ انگیز انداز میں فرمایا کہ جائو!اور میری اِس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جائو اور یہ میری ٹوپی کبھی کسی کے آگے نہیں جھکی اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو! اُسے کہہ دو کہ ہم تیرے سیاسی حریف نہیں ،الیکشن میںتیرا مقابلہ نہیں کرینگے ،تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے ،ہاں ہاں جائو اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ کہہ دو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں تیرے خنزیر ہیں تو بخاری تیرے خنزیرچرانے کو تیار ہے مگر صرف شرط یہ ہے کہ تو محمد ِ عربی کی ختم ِ رسالت کی حفاظت کا قانون بنا دے ،تاکہ کوئی آقا کی توہین نہ کرسکے ‘‘بخاری کی اس تحریک کوتو خواجہ ناظم الدین اور اس کی حکومت نے یوں کچل دیا کہ شاہ جی سمیت احرار کے تمام لیڈر بشمول حضرت مولانا محمد علی جالندھری سب کو جیل بھیج دیا ،اور حکومت یہ مطالبہ ماننے کو تیار نہ ہوئی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیاجائے ،اور جنرل اعظم نے لاہور میں مارشل لاء لگادیا اور مال روڈ لاہور پر تیس ہزرار عاشقان مصطفیٰ ﷺ نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور انہیں ابدی نیند سلادیا گیا صرف اس پاداش میں کہ انہوں نے ’’ختم نبوت زندہ با‘‘ کے نعرے لگائے تھے ۔
اس تحریک ِ ختم نبوت ۱۹۵۳؁ء کو کچلنے کے لیے ملک بھر میں گرفتا ریاں عمل میں لائی گئیں کتنی گرفتاریاں ہوئیں؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ،ملک بھر کی جیلیں بھر چکی تھیں ،ریگستان اور جنگلوں میں ،خار دار تاریں لگاکر علماء اور عوام کو ان میں پابندِ سلاسل کیا گیا ، جب وہ علماء اور عوامی راہنمائوں سے بھر گئیں تو دینی مدارس اور اسکولز کالجز کے طلباء کو صرف تھکانے کے لیے لاہور کے طلباء کو اٹھاکر ملتان کے جنگلات میں ،یوں سکھر کے طلباء کو گرفتار کر کے محراب پور کے علاقوں میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ،اب صورتحال یہ تھی کہ عوام کے راہبر سب جیلوں میں ،اور عوام پر صرف ’’ ختم نبوت زندہ باد ‘‘ کہنے کے جرم میں گولی چلانے کے حکومتی حکم نے عارضی طور پر تحریک کوٹھنڈا کردیا ،تو جیل کے اندر شاہ جی ( سید عطاء اللہ بخاری ) سے کسی افسر نے سوال کیاکہ شاہ جی! اتنے لوگ مروا دیے اور مسئلہ بھی حل نہ ہوا کہ ان کے خون کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ شاہ جی نے اپنے مخصوص انداز میں گرج کر جواب دیا کہ ’’ہاں ان سب کے خون کا بدلہ قیامت میں اپنے نانا ( حضرت محمد ﷺ ) سے جنت کی صورت میں لے کر دونگا ،باقی مسئلہ حل نہیں ہوا تو اس کے لیے اس تحریک کے ذریعے میں نے مسلمانوں کے دل میں ایک ٹائم بم فِٹ کردیا ہے ،ایک دن وہ پھٹے گا اور جو بھی حکومت ہوگی وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مجبور ہو جائے گی‘‘
شاہ جی کے جیل سے آزادی کے بعد ۲۰/۲۱اپریل ۱۹۵۴؁ ء کو حضرت امیرِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کے مکان ملتان میں قائدین مجلس احرار کا اجلاس ہوا جس میں امیرِ شریعت کے علاوہ ماسٹر تاج الدین انصاری ،شیخ حسام الدین ،مولانا محمد علی جالندھری ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا حافظ سید عطاء المنعم شاہ بخاری ، مولانا تاج محمود فیصل آبادی ، مولانا مجاہد الحسینی شامل تھے ،اتفاقِ رائے سے طے پایا کہ شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج الدین انصاری آئندہ مجلس احرار کے سربراہ جبکہ امیر شریعت اور قاضی احسان ،مولانا محمد علی جالندھری ،مجلس تحفظ ختم نبوت کے سر براہ ہونگے۔ اسی اجلاس میں دفاتر تقسیم کرکے خیر سگالی کے طریقے سے آپس میں رہنے کا عہد کیا گیا ،یوں اب مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک پھر سے منظم طریقے سے شروع ہوئی ،ایک طرف قادیانیوں نے ملک کے اہم اہم عہدوں پر قبضہ کرلیا ،چناب نگر(سابق ربوہ) کو اپنی آماجگا ہ بنا کروہاں اپنی ایک طرح سے جدا حکومت قائم کرلی ،اُدھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے دوبارہ سے قادیانیوں کوغیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شروع کردیا ،یہ تحریک چلتی رہی اور اکابرین الوداع کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے ،چلتے چلتے ۱۹۷۴؁ء میں تحریک ختم نبوت کی کمان قائدِ تحریک ِ ختم نبوت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اور جامعہ بنوری ٹائون کے بانی ومہتمم حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے سنبھالی،اب کہتے ہیں کہ ’’گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے‘‘قادیانیوں کو خود شرارت سوجھی اور وہ اس طرح کہ ۲۹مئی ۱۹۷۴؁ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ بذریعہ چناب ایکسپریس(جسکا اب نام ہزارہ ایکسپریس) ملتان سے روانہ ہوئے اور ان غیرتمند نوجوانوں نے قادیانیوں کے شہر ربوہ میں گاڑی کے رکتے ہی قادیانیوں پر لعنت کے نعرے لگانا شروع کردیے،گاڑی چل نکلی ،مگر اسٹیشن ماسٹر نے پتہ لگوالیا کہ یہ طلبہ کس گاڑی میں اور کب واپس آرہے ہیں ۔معلوم ہوا کہ اِسی چناب ایکسپریس میں واپس آرہے ہیں ،واپسی پر اسٹیشن ماسٹرمرزا مشتاق احمد قادیانی نے گاڑی کو ۴۵منٹ چناب نگرمیں روکے رکھا،جہاں قادیانی درندے آنجہانی مرزا طاہر کی سر براہی میں خنجر ،ڈنڈے، کُدالیں ،کلہاڑیاں لے کر پہلے سے موجود تھے انہوں نے اِ ن نوجوانوں پر حملہ کرکے انہیں لہو لہان کرکے زندہ لاشیں بنا دیا ،اب جو گاڑی یہاں سے نکلی تو اگلا اسٹاپ فیصل آباد تھا ،اس درندگی کی خبر گاڑی چلنے سے قبل ہی پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ،فیصل آباد ریلوے اسٹیشن مسجد کے امام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم رہنما مولانا تاج محمود فیصل آبادی ،اور مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف وہاں پر ہزاروں کا مجمع لیکر پہلے ہی موجود تھے ، گاڑی چناب ایکسپریس فیصل آباد پہنچی اور اِن زندہ لاشوں کو ٹرین سے اتارا گیا ،لوگوں نے یہ درندگی اپنی آنکھوں سے دیکھی تو اپنے گھروں کو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا اور مولانا تاج محمود سے مطالبہ کیا کہ ابھی اوراسی وقت ان کے قتل کا قادیانیوں سے بدلہ لیا جائے ۔مولانا نے وہاں موجود ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اِ ن طلباء میں سے جب تک ہر ایک کا بدلہ نہیں لیں گے سکون سے نہیں بیٹھیں گے ‘‘ اس کے بعد ان حضرات نے ان زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ۲۹ مئی ۴۷؁ ء کو یہ واقعہ ہوا ،۳۱مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے لاہور ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس کے ۔ایم۔ اے صمدانی پر مشتمل ایک کمیٹی ٹریبونل کا اعلان کردیا ،اس ٹریبونل نے اسی دن کارروائی کاباقاعدہ آغاز کردیا ،۵جون ۷۴؁ ء کو ٹریبونل نے گواہوں کو طلب کیا ۔پہلا اور دوسرا گواہ ملک محمد اقبال لگیج گارڈ ،چوہدری نذیر احمدانچارج گارڈ(دونوں قادیانی تھے) کو بلوایا گیا ،اور معزز جج کے آگے انہوں نے جو واقعہ بیان کیا وہ یوں ہے ’’میں نے واقعے کے خلاف سخت احتجاج کیا کہ یہ خالص درندگی تھی ،جو کچھ طلبہ کے ساتھ ہوا وہ شرافت اور انسانیت کے خلاف تھا ،طلبہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے ‘‘ اس بیان سے صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ اس واقعے کی سنگینی کا اندازا لگایاجائے کہ کس قدر درندگی کے ساتھ طلبہ کو زدوکوب کیا گیا تھا کہ خود قادیانی گواہ مان رہے ہیں کہ درندگی تھی، تحقیقاتی ٹریبونل نے کام مکمل کرلیا ۔اس ٹریبونل نے ستر گواہوں سے اس واقعے کی گواہی حاصل کی جن میں دوقادیانی بھی شامل تھے ۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق مذکورہ رپورٹ 112 صفحات پر مشتمل تھی مگر اسے حکومت نے منظرِ عام پر لانے سے روک دیا ۔ عوام اور علماء نے مطالبہ کیا کہ جسٹس صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے ، یہیںسے تحریک ختم نبوت کا باقاعدہ آغاز ہوا ،دوبارہ سے پورے ملک میں جلسے جلوس جلائو گھیرائو پتھرائو اور ایک سول نافرمانی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ،اس وقت کے وزیر ِ اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے،اور بھٹو ایک عوامی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی رہنماء تھے ،ان سے یہ مطالبہ کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاجائے ان کے لیے اس کو ماننا بہت مشکل اس وجہ سے بھی تھا کہ 1970؁ء کے الیکشن میں قادیانیوں نے من حیث القوم پیپلز پارٹی کو ووٹ دیے تھے ،اوربھٹو مرحوم اس وقت تک قادیانیوں کااصل روپ نہ پہچانتے تھے ،بلکہ قادیانیوں کے اس قدر حامی تھے کہ 4ستمبر1974؁ء کو میجر عزیزبھٹی کے مقام شہادت پرشہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ جنرل ملک اختر کی یادگار بننی چاہیے اگریہ اب نہ ہو اتو جب بھی پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو ان کی یادگار ضرور قائم کریگی ‘‘اوریہ ملک اختر متعصب قادیانی تھا ،یہ بھی ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ قادیانیوں کو اگر غیر مسلم اقلیت قرارد ے دیا گیا تو انہیں امریکا کبھی معاف نہیں کریگا ،وہ اس وجہ سے کہ جب مرحوم بھٹو سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکا کے دورے پر گئے تو امریکی صدر نے انہیں ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہماراسیکٹ (Sects )ہے۔ ان کاآپ نے ہرلحاظ سے خیال رکھنا ہے ،دوسری مرتبہ بھی جب امریکا کے دورے پر گئے تو بھی یہی بات دہرائی گئی ۔ اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری ایّام میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ’’ یہ بات میرے پاس امانت تھی فقط ریکارڈ پر لانے کے لیے کہہ رہا ہوں ‘‘بھٹو کے دور اقتدار میں کئی ایک افسران کو جبری ریٹائرڈ کرنا پڑا اس موقع پر بھی کئی سینئر قادیانی افسران نے مسلمانوں کو ریٹائرڈ کرکے اپنے ہم مذہب افراد کو بھرتی کرلیاپاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب قادیانی تھے ،انہوں نے ایئرفورس پر مرزائیوں کو قابض کرنے کے لیے بڑی ناکام تدابیر کیں ،ایک دفعہ ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلم فضائی افسر نے مسٹر بھٹو تک رسائی حاصل کی اورانہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت سے آگاہ کیا ،ان کی یہ لرزہ خیزداستان سن کرمسٹر بھٹو بہت حیران ہوئے اور اس روز بھٹو بے حد پریشان ہوئے اور ان کے ماتھے پر معنی خیزشکن ابھر آئی اور کہا ’’اچھا یہ ہے انکا اصل روپ‘‘بس اس بات کے بعد بھٹو کے ذہن میں قادیانیت کی جو نفرت ابھری اس کا اندازا نہیں لگایا جاسکتا،اس بات کے علاوہ بھی بھٹو کوبہت سی ایسی باتیں اسی ظفر چوہدری کے حوالے سے پتہ پڑیں جن سے اس بات پر مسٹر بھٹو کو یقین کامل ہوگیا کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم بلکہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی آگ ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے پاکستان جل تو سکتا ہے مگر سرسبزو شاداب نہیں رہ سکتا۔یہ وہ دن تھا جب بھٹو نے یہ تہیہ کرلیا کہ اب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینا ہے اور یہ کام بھٹو خود اپنی حکومت میں اکیلے بھی کرسکتے تھے مگربھٹو بے انتہاذہین اور مستقل سوچ رکھنے والے انسان تھے ۔وہ یہ خوب جانتے تھے کہ اگر یہ کام اکیلے انہوں نے کرلیا تو مابعدوالی حکومتوں میں کوئی اگر قادیانی یا ان کا حامی آنکلا تو وہ یہ کہہ کر اس قانون کو ختم کرسکتا ہے کہ یہ بھٹو کا انتقام تھا اور عوام اسے نہیں چاہتی۔ اسی وجہ سے بھٹو نے یہ مسئلہ اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور13جون1974؁ء کو بھٹو نے اپنے نشری خطاب میں کہا کہ ’’میں مسلمان ہو ں اور مجھے مسلمان ہو نے پر فخر ہے کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور کلمہ کیساتھ ہی مروں گا،ختم نبوت پر میرا کامل ایمان ہے انشاء اللہ عوام کے تعاون کے ساتھ قادیانیوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرونگا ،یہ اعزازبھی مجھے ہی حاصل ہوگا اور بروزمحشر خدا کے سامنے اسی کام کے باعث سرخروہونگا ‘‘،پھر مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مفتی محمود ، مولاناعبدالحق ، مولاناشاہ احمد نورانی جو اس وقت حزبِ اختلاف کے قائدین تھے، سے ملاقات کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک بل اسمبلی میں پیش کرنے کامطالبہ کیا ۔
مفتی طاہر مکی


متعلقہ خبریں


نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بیگ بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ نئی دہلی کے علاقے اناج منڈی میں پیش آیا۔حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہو سکا ہے تاہم اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آگ فیکٹری کی ورک شاپ میں لگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ صبح 5 بجے اس وقت پیش آیا جب زیادہ تر ملازمین سو رہے تھے ، واقعہ میں 43 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ریسکیو حکام کے مطا...

نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے ، ایران نے چینی نژاد امریکی سکالر زیو وانگ جبکہ امریکا نے ایک ایرانی سائنس دان مسعود سلیمانی کو رہا کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا یہ تبادلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں شدید تنا ئوپایا جاتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وانگ کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے معاملے پر زیاہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایران میں قید دوسرے امریکیوں کی رہائی کے ب...

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

شمالی کوریا نے امریکا کے ساتھ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر مزید بات چیت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر کِم سانگ نے کہا کہ جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق امریکا سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ا نہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ طویل مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔کِم سانگ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے مستقل اور ٹھوس بات چیت کی کوشش اس کے اندرونی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور وقت بچانے کی ایک چال ہے ۔بیان میں مزید کہ...

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

ریاست اتر پردیش میں شادی کی تقریب میں ڈانس روکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی۔ لڑکی ہسپتا ل میں زیرعلاج ہے ۔ انتہا پسند بھارتی وزیراعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور زیادتی کے واقعات میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ انسانیت سوز واقعہ پیش آیا یکم دسمبر کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گائوں میں جہاں شادی کی تقریب کے دوران اسٹیج پر ایک ڈانسرکو درندوں نے گولی اس لیے مار دی کیونکہ وہ ڈانس کرتے کرتے رک گئی تھی۔ پولیس نے کہا کہ گولی مارنے والے کی...

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ہاؤس کی عدلیہ کمیٹی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے دفعات وضع اور مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی صدر کا یوکرین پراپنے ڈیموکریٹک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش پر مواخذہ کیا جارہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیلوسی نے ایک نشری بیان میں کہا کہ حقائق ناقابل تردید ہیں۔صدر نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔انھوں نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کو مو...

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

بیجنگ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہاگیا ہے کہ چین میں شہری، چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ہیں۔سروے میں شامل تقریباً 74 فیصد افراد نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی بجائے روایتی شناختی طریقوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔سروے میں شامل چھ ہزار سے زائد افراد کو بنیادی طور پر بائیو میٹرک ڈیٹا کے ہیک کیے جانے یا بصورت دیگر لیک ہونے کے خدشات تھے۔ ملک بھر کے سٹیشنوں، سکولوں او...

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہْک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے ملک میں وسط نومبر کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ایک خصوصی گفتگومیں بتایاکہ اب کہ ایران سے سچائی باہرآرہی ہے تو یہ لگ رہا ہے کہ نظام نے مظاہروں کیا آغاز کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کو ماردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا نے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش ا...

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں اکثریت یعنی 88.5 فیصد لوگ، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کی پرزور یا کسی حد تک حمایت کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2019 کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن کے سروے میں افغانستان بھر سے 18 سال اور اسے زیادہ کے 17 ہزار 812 مرد و خواتین نے حصہ لیا۔اس سروے کے نتائج میں یہ سامنے آیا کہ 64 فیصد جواب دہندگان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت ممکن تھی۔علاقائی طور پر مشرقی افغانستان میں 76.9 فیصد اور جنوب مغربی حص...

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شدت پسند گروپ داعش یرغمال بنائے گئے لوگوں کو بے دردی اور بھیانک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارنے کی وجہ سے مشہور ہے مگر عراق اور شام میں اس گروپ کی شکست کے بعد لوگوں کو ذبح کرنے یا اجتماعی طور پر قتل کرنے کے واقعات تقریبا ختم ہوگئے تھے۔عرب ٹی وی کے مطابق داعش نے ایک بارپھر قیدیوں کو ذبح کرنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کا بھیانک سلسلہ شروع کردیا ۔لیبیا میں داعش سے وابستہ گروپ نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں سرکاری ملازمین اور دیگر یرغمال بنائے گئے افراد کو بے دردی کے ساتھ موت ...

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شمال مشرقی چین میں ہیشان کاؤنٹی کی رہائشی 15 سالہ نوجوان لڑکی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے کہ وہ دکھنے میں ایک بوڑھی خاتون کی طرح نظر آتی ہے اور اس بیماری نے اس کے روز مرہ معاملات زندگی کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق 15سالہ چینی لڑکی ایک سال کی عمر سے ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا نام ہٹچنسن گلفورڈ پروگیرہ سینڈروم ہے اور یہ بیماری بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق شیاؤ فینگ نامی لڑکی کی بیماری کی وجہ سے اس کے چہرے پر جھریاں ...

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

امریکاکی ریاست منی سوٹا میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گرنے سے 3 فوجی ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیسٹ فلائٹ کے دوران حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر کا ائیر کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ مقامی وقت دوپہر دو بجے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام تین فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ملبہ کھلے میدان میں گرا اور اس کو تلاش کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔متعلقہ حکام نے حادثے کی وجہ اور ہلاک ہونے والوں کے نام نہیں بتائے تاہم واقعہ کی تحقیقات...

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

بھارت میں لیڈی ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چاروں ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے شہر حیدر آباد میں لیڈی ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی اور قتل میں ملوث چاروں ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ پولیس ملزمان کو لاش ملنے کی جگہ پر تفتیش کے لیے لے کر گئی جہاں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر چاروں ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔لیڈی ڈاکٹر کو اٹھائیس نومبر کو 4 افراد نے ویرانے میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا او...

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک