وجود

... loading ...

وجود

7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

جمعرات 07 ستمبر 2017 7 ستمبر1974؁ء یوم ِ دفاع ختم نبوت کا تاریخ ساز دن ۔پس منظر، پیش منظر

عقیدۂ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے ،اور اس پر صحابہ کرام کے دور سے اجماع چلا آرہا ہے ، صحابہ کے بیچ ہرمسئلے پر اختلاف ہوا ،جیسے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاداور قرآن کو جمع کرنے جیسے اہم مسائل پر بھی صحابہ ؓ کے بیچ اختلاف رہا ،مگر منکرین نبوت کے خلاف جہاد پر تمام صحابہ نے متفق ہوکر مابعد والوں کو درس دیا کہ اس مسئلے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہو سکتا ،ختم نبوت دین اسلام کی اساس وبنیاد ہے ،اور کسی بھی جگہ کی مضبوطی اسکی مضبوط بنیاد پر منحصر ہوتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام کی خاطر جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں جنکی تعداد ستائیس تک جاپہنچتی ہے اس میں تمام شہیدصحابہ ؓ کی تعداد 200سے ڈھائی سوکے اندر اندر ہے، جبکہ منکرختم نبوت جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب کے خلاف جو جنگ ہوئی ہے اس میں شہید صحابہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں سات سو جید حفاظ، قراء اور عالم صحابہ ؓ تھے ،پھران میں بھی چند ’’بدری‘‘ صحابہ ؓ جو جنگ بدر میں شریک رہے جنہیں اللہ نے فرمایا کہ آج کے بعدجوچاہے کروتمہاری بخشش کردی گئی ۔وہ بھی اس عظیم جہاد میں شہید ہوئے ،الغرض صحابہ ؓ کے دور سے اس مسئلے پر اجماع چلا آرہا ہے ۔جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ بھی آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے سے چل نکلا ،دراصل یہ ایک تکوینی عمل تھا اللہ نے جھوٹے مدعیان نبوت کو آپ ﷺ کے زمانے میں پیدا کرکے امت کو سبق دیا کہ ان کے ساتھ کوئی مذاکرات ،بحث ومباحثہ نہیں کرنا بلکہ وہ کچھ کرنا ہے جو ان کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺاور صحابہ ؓ نے کرکے دکھایا اور ایسا ہی ہوتا رہا، مرزاغلام احمد قادیانی سے قبل کوئی جھوٹی نبوت کا دعویدارزندہ نہیں رہا، اسے قتل کردیا گیا بس یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھاجسے انگریز نے مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ جہاد ختم کرنے کے لیے مکمل اپنی حفاظت میں کھڑا کیا اور اسکی مکمل حمایت کی۔
مسلمان بے بس تھے لیکن اس کے باوجود ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی اس فتنے کے آگے ایک بند باندھ دیا ،کہ کم از کم ایک ایسا کافر جو خود کو نہ صرف مسلم بلکہ اصلی اور پکا سچامسلم اور حقیقی مسلم کو پکا کافر کہتا تھا اسے مسلمانوں کی فہرست سے نکال کر اور مسلمان کہلوانے پر پابندی لگوادی ،مگراس بند باندھنے میں بھی کئی سال لگے ،مرزاقادیانی نے دعوئوں کا ایک سلسلہ یوںشروع کیا کہ انیس سو ایک 1901؁ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی ،مثیل مسیح ،پھر مسیح ،پھر ظلی نبی ،بروزی نبی، پھر مثیل ِ محمد ،پھر بالآخر معاذاللہ خود ’’محمد رسواللہ ‘‘ ہونے کا دعویٰ کردیا ،امیرِشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اس کے پیروکاروں کے خلاف ’’مجلس ِ احرار ‘‘ کے پلیٹ فارم سے ہی جدو جہد کاآغاز کردیا ،مگر مسلمان بے چارے چاہ کر بھی کیاکرسکتے تھے کہ اس فتنے کے لیے خواجہ ناظم الدین کی حکومت مکمل حمایت پر تُلی ہوئی تھی ،حکومت اگر انگریز کے حکم کو پورا کرنے پرتلی ہوئی تھی تو مسلمان بھی اپنے نبی ﷺ کی عزت وناموس پر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر مکمل آمادہ ہوچکے تھے ،امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی ولولہ انگیز تقاریرایمان افروزخطابات بھی اپنے جوبن پر تھے ان خطابات نے مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول ﷺکو از سر نو اجاگر کردیا ،۱۹۵۲ء میں ہی حضرت امیر ِ شریعت ایک موقع پر خطاب فرمارہے تھے کہ کسی نے کہہ دیا !خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ چکے ہیں ،بس پھر توبخاری اپنے مخصوص انداز میں گرج کر بولے’’ساری باتوں کو چھوڑو لاہور والو!کوئی ہے یہ کہتے ہوئی ٹوپی اپنے سر سے اتار لی ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی ولولہ انگیز انداز میں فرمایا کہ جائو!اور میری اِس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جائو اور یہ میری ٹوپی کبھی کسی کے آگے نہیں جھکی اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو! اُسے کہہ دو کہ ہم تیرے سیاسی حریف نہیں ،الیکشن میںتیرا مقابلہ نہیں کرینگے ،تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے ،ہاں ہاں جائو اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ کہہ دو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں تیرے خنزیر ہیں تو بخاری تیرے خنزیرچرانے کو تیار ہے مگر صرف شرط یہ ہے کہ تو محمد ِ عربی کی ختم ِ رسالت کی حفاظت کا قانون بنا دے ،تاکہ کوئی آقا کی توہین نہ کرسکے ‘‘بخاری کی اس تحریک کوتو خواجہ ناظم الدین اور اس کی حکومت نے یوں کچل دیا کہ شاہ جی سمیت احرار کے تمام لیڈر بشمول حضرت مولانا محمد علی جالندھری سب کو جیل بھیج دیا ،اور حکومت یہ مطالبہ ماننے کو تیار نہ ہوئی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیاجائے ،اور جنرل اعظم نے لاہور میں مارشل لاء لگادیا اور مال روڈ لاہور پر تیس ہزرار عاشقان مصطفیٰ ﷺ نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور انہیں ابدی نیند سلادیا گیا صرف اس پاداش میں کہ انہوں نے ’’ختم نبوت زندہ با‘‘ کے نعرے لگائے تھے ۔
اس تحریک ِ ختم نبوت ۱۹۵۳؁ء کو کچلنے کے لیے ملک بھر میں گرفتا ریاں عمل میں لائی گئیں کتنی گرفتاریاں ہوئیں؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ،ملک بھر کی جیلیں بھر چکی تھیں ،ریگستان اور جنگلوں میں ،خار دار تاریں لگاکر علماء اور عوام کو ان میں پابندِ سلاسل کیا گیا ، جب وہ علماء اور عوامی راہنمائوں سے بھر گئیں تو دینی مدارس اور اسکولز کالجز کے طلباء کو صرف تھکانے کے لیے لاہور کے طلباء کو اٹھاکر ملتان کے جنگلات میں ،یوں سکھر کے طلباء کو گرفتار کر کے محراب پور کے علاقوں میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ،اب صورتحال یہ تھی کہ عوام کے راہبر سب جیلوں میں ،اور عوام پر صرف ’’ ختم نبوت زندہ باد ‘‘ کہنے کے جرم میں گولی چلانے کے حکومتی حکم نے عارضی طور پر تحریک کوٹھنڈا کردیا ،تو جیل کے اندر شاہ جی ( سید عطاء اللہ بخاری ) سے کسی افسر نے سوال کیاکہ شاہ جی! اتنے لوگ مروا دیے اور مسئلہ بھی حل نہ ہوا کہ ان کے خون کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ شاہ جی نے اپنے مخصوص انداز میں گرج کر جواب دیا کہ ’’ہاں ان سب کے خون کا بدلہ قیامت میں اپنے نانا ( حضرت محمد ﷺ ) سے جنت کی صورت میں لے کر دونگا ،باقی مسئلہ حل نہیں ہوا تو اس کے لیے اس تحریک کے ذریعے میں نے مسلمانوں کے دل میں ایک ٹائم بم فِٹ کردیا ہے ،ایک دن وہ پھٹے گا اور جو بھی حکومت ہوگی وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مجبور ہو جائے گی‘‘
شاہ جی کے جیل سے آزادی کے بعد ۲۰/۲۱اپریل ۱۹۵۴؁ ء کو حضرت امیرِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کے مکان ملتان میں قائدین مجلس احرار کا اجلاس ہوا جس میں امیرِ شریعت کے علاوہ ماسٹر تاج الدین انصاری ،شیخ حسام الدین ،مولانا محمد علی جالندھری ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا حافظ سید عطاء المنعم شاہ بخاری ، مولانا تاج محمود فیصل آبادی ، مولانا مجاہد الحسینی شامل تھے ،اتفاقِ رائے سے طے پایا کہ شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج الدین انصاری آئندہ مجلس احرار کے سربراہ جبکہ امیر شریعت اور قاضی احسان ،مولانا محمد علی جالندھری ،مجلس تحفظ ختم نبوت کے سر براہ ہونگے۔ اسی اجلاس میں دفاتر تقسیم کرکے خیر سگالی کے طریقے سے آپس میں رہنے کا عہد کیا گیا ،یوں اب مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک پھر سے منظم طریقے سے شروع ہوئی ،ایک طرف قادیانیوں نے ملک کے اہم اہم عہدوں پر قبضہ کرلیا ،چناب نگر(سابق ربوہ) کو اپنی آماجگا ہ بنا کروہاں اپنی ایک طرح سے جدا حکومت قائم کرلی ،اُدھر مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے دوبارہ سے قادیانیوں کوغیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شروع کردیا ،یہ تحریک چلتی رہی اور اکابرین الوداع کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے ،چلتے چلتے ۱۹۷۴؁ء میں تحریک ختم نبوت کی کمان قائدِ تحریک ِ ختم نبوت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اور جامعہ بنوری ٹائون کے بانی ومہتمم حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے سنبھالی،اب کہتے ہیں کہ ’’گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے‘‘قادیانیوں کو خود شرارت سوجھی اور وہ اس طرح کہ ۲۹مئی ۱۹۷۴؁ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ بذریعہ چناب ایکسپریس(جسکا اب نام ہزارہ ایکسپریس) ملتان سے روانہ ہوئے اور ان غیرتمند نوجوانوں نے قادیانیوں کے شہر ربوہ میں گاڑی کے رکتے ہی قادیانیوں پر لعنت کے نعرے لگانا شروع کردیے،گاڑی چل نکلی ،مگر اسٹیشن ماسٹر نے پتہ لگوالیا کہ یہ طلبہ کس گاڑی میں اور کب واپس آرہے ہیں ۔معلوم ہوا کہ اِسی چناب ایکسپریس میں واپس آرہے ہیں ،واپسی پر اسٹیشن ماسٹرمرزا مشتاق احمد قادیانی نے گاڑی کو ۴۵منٹ چناب نگرمیں روکے رکھا،جہاں قادیانی درندے آنجہانی مرزا طاہر کی سر براہی میں خنجر ،ڈنڈے، کُدالیں ،کلہاڑیاں لے کر پہلے سے موجود تھے انہوں نے اِ ن نوجوانوں پر حملہ کرکے انہیں لہو لہان کرکے زندہ لاشیں بنا دیا ،اب جو گاڑی یہاں سے نکلی تو اگلا اسٹاپ فیصل آباد تھا ،اس درندگی کی خبر گاڑی چلنے سے قبل ہی پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ،فیصل آباد ریلوے اسٹیشن مسجد کے امام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم رہنما مولانا تاج محمود فیصل آبادی ،اور مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف وہاں پر ہزاروں کا مجمع لیکر پہلے ہی موجود تھے ، گاڑی چناب ایکسپریس فیصل آباد پہنچی اور اِن زندہ لاشوں کو ٹرین سے اتارا گیا ،لوگوں نے یہ درندگی اپنی آنکھوں سے دیکھی تو اپنے گھروں کو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا اور مولانا تاج محمود سے مطالبہ کیا کہ ابھی اوراسی وقت ان کے قتل کا قادیانیوں سے بدلہ لیا جائے ۔مولانا نے وہاں موجود ہزاروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اِ ن طلباء میں سے جب تک ہر ایک کا بدلہ نہیں لیں گے سکون سے نہیں بیٹھیں گے ‘‘ اس کے بعد ان حضرات نے ان زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ۲۹ مئی ۴۷؁ ء کو یہ واقعہ ہوا ،۳۱مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے لاہور ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس کے ۔ایم۔ اے صمدانی پر مشتمل ایک کمیٹی ٹریبونل کا اعلان کردیا ،اس ٹریبونل نے اسی دن کارروائی کاباقاعدہ آغاز کردیا ،۵جون ۷۴؁ ء کو ٹریبونل نے گواہوں کو طلب کیا ۔پہلا اور دوسرا گواہ ملک محمد اقبال لگیج گارڈ ،چوہدری نذیر احمدانچارج گارڈ(دونوں قادیانی تھے) کو بلوایا گیا ،اور معزز جج کے آگے انہوں نے جو واقعہ بیان کیا وہ یوں ہے ’’میں نے واقعے کے خلاف سخت احتجاج کیا کہ یہ خالص درندگی تھی ،جو کچھ طلبہ کے ساتھ ہوا وہ شرافت اور انسانیت کے خلاف تھا ،طلبہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے ‘‘ اس بیان سے صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ اس واقعے کی سنگینی کا اندازا لگایاجائے کہ کس قدر درندگی کے ساتھ طلبہ کو زدوکوب کیا گیا تھا کہ خود قادیانی گواہ مان رہے ہیں کہ درندگی تھی، تحقیقاتی ٹریبونل نے کام مکمل کرلیا ۔اس ٹریبونل نے ستر گواہوں سے اس واقعے کی گواہی حاصل کی جن میں دوقادیانی بھی شامل تھے ۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق مذکورہ رپورٹ 112 صفحات پر مشتمل تھی مگر اسے حکومت نے منظرِ عام پر لانے سے روک دیا ۔ عوام اور علماء نے مطالبہ کیا کہ جسٹس صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے ، یہیںسے تحریک ختم نبوت کا باقاعدہ آغاز ہوا ،دوبارہ سے پورے ملک میں جلسے جلوس جلائو گھیرائو پتھرائو اور ایک سول نافرمانی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ،اس وقت کے وزیر ِ اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے،اور بھٹو ایک عوامی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی رہنماء تھے ،ان سے یہ مطالبہ کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاجائے ان کے لیے اس کو ماننا بہت مشکل اس وجہ سے بھی تھا کہ 1970؁ء کے الیکشن میں قادیانیوں نے من حیث القوم پیپلز پارٹی کو ووٹ دیے تھے ،اوربھٹو مرحوم اس وقت تک قادیانیوں کااصل روپ نہ پہچانتے تھے ،بلکہ قادیانیوں کے اس قدر حامی تھے کہ 4ستمبر1974؁ء کو میجر عزیزبھٹی کے مقام شہادت پرشہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ جنرل ملک اختر کی یادگار بننی چاہیے اگریہ اب نہ ہو اتو جب بھی پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو ان کی یادگار ضرور قائم کریگی ‘‘اوریہ ملک اختر متعصب قادیانی تھا ،یہ بھی ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ قادیانیوں کو اگر غیر مسلم اقلیت قرارد ے دیا گیا تو انہیں امریکا کبھی معاف نہیں کریگا ،وہ اس وجہ سے کہ جب مرحوم بھٹو سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکا کے دورے پر گئے تو امریکی صدر نے انہیں ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہماراسیکٹ (Sects )ہے۔ ان کاآپ نے ہرلحاظ سے خیال رکھنا ہے ،دوسری مرتبہ بھی جب امریکا کے دورے پر گئے تو بھی یہی بات دہرائی گئی ۔ اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری ایّام میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ’’ یہ بات میرے پاس امانت تھی فقط ریکارڈ پر لانے کے لیے کہہ رہا ہوں ‘‘بھٹو کے دور اقتدار میں کئی ایک افسران کو جبری ریٹائرڈ کرنا پڑا اس موقع پر بھی کئی سینئر قادیانی افسران نے مسلمانوں کو ریٹائرڈ کرکے اپنے ہم مذہب افراد کو بھرتی کرلیاپاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب قادیانی تھے ،انہوں نے ایئرفورس پر مرزائیوں کو قابض کرنے کے لیے بڑی ناکام تدابیر کیں ،ایک دفعہ ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلم فضائی افسر نے مسٹر بھٹو تک رسائی حاصل کی اورانہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت سے آگاہ کیا ،ان کی یہ لرزہ خیزداستان سن کرمسٹر بھٹو بہت حیران ہوئے اور اس روز بھٹو بے حد پریشان ہوئے اور ان کے ماتھے پر معنی خیزشکن ابھر آئی اور کہا ’’اچھا یہ ہے انکا اصل روپ‘‘بس اس بات کے بعد بھٹو کے ذہن میں قادیانیت کی جو نفرت ابھری اس کا اندازا نہیں لگایا جاسکتا،اس بات کے علاوہ بھی بھٹو کوبہت سی ایسی باتیں اسی ظفر چوہدری کے حوالے سے پتہ پڑیں جن سے اس بات پر مسٹر بھٹو کو یقین کامل ہوگیا کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم بلکہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی آگ ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے پاکستان جل تو سکتا ہے مگر سرسبزو شاداب نہیں رہ سکتا۔یہ وہ دن تھا جب بھٹو نے یہ تہیہ کرلیا کہ اب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینا ہے اور یہ کام بھٹو خود اپنی حکومت میں اکیلے بھی کرسکتے تھے مگربھٹو بے انتہاذہین اور مستقل سوچ رکھنے والے انسان تھے ۔وہ یہ خوب جانتے تھے کہ اگر یہ کام اکیلے انہوں نے کرلیا تو مابعدوالی حکومتوں میں کوئی اگر قادیانی یا ان کا حامی آنکلا تو وہ یہ کہہ کر اس قانون کو ختم کرسکتا ہے کہ یہ بھٹو کا انتقام تھا اور عوام اسے نہیں چاہتی۔ اسی وجہ سے بھٹو نے یہ مسئلہ اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور13جون1974؁ء کو بھٹو نے اپنے نشری خطاب میں کہا کہ ’’میں مسلمان ہو ں اور مجھے مسلمان ہو نے پر فخر ہے کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور کلمہ کیساتھ ہی مروں گا،ختم نبوت پر میرا کامل ایمان ہے انشاء اللہ عوام کے تعاون کے ساتھ قادیانیوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرونگا ،یہ اعزازبھی مجھے ہی حاصل ہوگا اور بروزمحشر خدا کے سامنے اسی کام کے باعث سرخروہونگا ‘‘،پھر مجلس تحفظ ختم نبوت نے حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مفتی محمود ، مولاناعبدالحق ، مولاناشاہ احمد نورانی جو اس وقت حزبِ اختلاف کے قائدین تھے، سے ملاقات کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک بل اسمبلی میں پیش کرنے کامطالبہ کیا ۔
مفتی طاہر مکی


متعلقہ خبریں


ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

مضامین
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر