وجود

... loading ...

وجود

قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد اور آئین میں ترمیم

جمعرات 07 ستمبر 2017 قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد اور آئین میں ترمیم

30جون 1974؁ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کے لیے جو قراردادپیش کی تھی اسکا متن درج ذیل ہے :
’’جناب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
محترمی !
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہو نے کا دعویٰ کیا ، نیزہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھی ،نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اورا سکا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا،اور اسلام کو جھٹلانا تھا ،نیز ہرگا ہ کہ پوری امت مسلمہ کاا س پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیرو کارچاہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہوں یا اُسے مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں ،دائرئہ اسلام سے خارج ہیں ۔نیز ہرگا ہ ان کے پیروکار انہیں کوئی بھی نام دیا جائے مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانا کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سر گر میوں میں مصروف ہیں ۔نیز ہر گا ہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو کہ مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6/اور10 /اپریل1974؁ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی کہ قادیانیت اسلام اور عالم ِ اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہیے کہ مرزا غلام مذکور کے پیر وکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے ،مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بِل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلا ن کو مئوثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں ‘‘محرکین قرار داد میں مفکر اسلام مفتی محمود ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک ) مولاناعبدالمصطفیٰ الازہری ،مولانا شاہ احمد نورانی ،پروفیسر غفور احمد ، مولاناظفر احمد انصاری ، میر حاجی علی احمد ٹالپور، رئیس عطا محمد خان مری ،غلام فاروق، سمیت 36 ارکان اسمبلی شامل تھے ، بروز پیر5 اگست1974نیشنل اسمبلی کے چیمبر ’’اسٹیٹ بینک بلڈنگ ‘‘اسلام آباد میں صبح دس بجے نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے پورے ایوان کی اسپیشل کمیٹی کی کارروائی وقوع پزیر ہوئی ۔ اسپیکر نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان بحیثیت چیئر مین تھے ،اور یحییٰ بختیار بحیثیت اٹارنی جنرل کے اس میں شریک تھے ، یہ بل سرکاری طور پر وزیر قانون عبدالحفیظ پیر زادہ نے پیش کیا۔تلاوت کلام پاک کے بعد وفد کو بلایا گیا اوراسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث شروع ہوئی ،قادیانی اور لاہوری گروپ نے اپنے محضر نامے پیش کیے ۔قادیانی گروپ کے محضر نامے کے جواب میں ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘نامی محضر نامہ تیا ر کیا گیا ،شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مولانامحمد شریف جالندھری ،مولانا محمد حیات ،مولاناتاج محمود ،اور مولانا عبد ا لرحیم اشعر علیہم الرحمہ نے حوالہ جات کی تدوین کا کام کیا۔جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی ،اور مولانا سمیع الحق نے ان حوالہ جات کو ترتیب دے کر ایک کتاب مرتب کردی ،حضرت اقدس مولانا سیدانور حسین نفیسؒ کی قیادت میں ملک بھر کے کاتبوں نے لکھنا شروع کردیا ،جتنا لکھ دیا جاتا اسے حضرت مولانا مفتی محمود ،اور چوہدری ظہور الٰہی ،مولانا شاہ احمد نورانی سن لیتے تھے۔ ضروری ترامیم کے بعد اسے چھپوالیا گیا ،پھر اسے مفکر اسلام مفتی محمود نے اسمبلی میں پڑھا،اگرچہ اسی محضر نامے میں لاہوری گروپ کے جوابات بھی آگئے تھے ،لیکن لاہوری گروپ کے جواب میں مستقل محضر نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی نے پیش کیا، قادیانی گروپ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر 5/سے10/اگست اور20سے24 اگست یعنی کل گیارہ دن تک جرح ہوئی ،27/28 /اگست کو لاہوری گروپ کے صدر الدین ،عبدالمنان عمراور مسعود بیگ پر جرح ہوئی ، 5/6 ستمبر 1974؁ء کو اٹارنی جنرل آف پاکستان جناب یحیٰ بختیار نے بحث کو سمیٹا ،انکا اسمبلی ارکان کے آگے دوروز مفصل بیان ہوا ،اور آخر شاید وہی ’’ٹائم بم‘‘ جو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نوراللہ مرقدہ عوام الناس کے دل میں فٹ کرگئے تھے وہ پھٹا اور7/ستمبرکو چار بجے شام قومی اسمبلی کا فیصلہ کُن اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی منظوری سے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا جو درج ذیل ہے۔
’’آئین پاکستان میں ترمیم کے لیے ایک بل ‘‘
ہر گاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید تر میم کی جائے ،لہٰذا بذریعہ ہٰذاحسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے :
1…مختصر عنوان اور آغاز نفاذ :(1) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوئم)ایکٹ1974؁ ء کہلائیگا (2) یہ فی الفور نافذالعمل ہوگا ۔
2…آئین کی دفعہ106میں ترمیم :اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں ،جسے بعد ازیں آئین کہا جائیگا دفعہ106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ’’اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں)‘‘درج کیے جائیں گے ۔
3…آئین کی دفعہ260میں ترمیم :آئین کی دفعہ206 میں شق (2) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائی گی یعنی ’’(3)جو شخص حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو آخری نبی ہیں ،کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتایا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے ۔‘‘


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر