وجود

... loading ...

وجود

قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد اور آئین میں ترمیم

جمعرات 07 ستمبر 2017 قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد اور آئین میں ترمیم

30جون 1974؁ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کے لیے جو قراردادپیش کی تھی اسکا متن درج ذیل ہے :
’’جناب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
محترمی !
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہو نے کا دعویٰ کیا ، نیزہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھی ،نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اورا سکا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا،اور اسلام کو جھٹلانا تھا ،نیز ہرگا ہ کہ پوری امت مسلمہ کاا س پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیرو کارچاہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہوں یا اُسے مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں ،دائرئہ اسلام سے خارج ہیں ۔نیز ہرگا ہ ان کے پیروکار انہیں کوئی بھی نام دیا جائے مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانا کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سر گر میوں میں مصروف ہیں ۔نیز ہر گا ہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو کہ مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6/اور10 /اپریل1974؁ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی کہ قادیانیت اسلام اور عالم ِ اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہیے کہ مرزا غلام مذکور کے پیر وکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے ،مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بِل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلا ن کو مئوثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں ‘‘محرکین قرار داد میں مفکر اسلام مفتی محمود ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک ) مولاناعبدالمصطفیٰ الازہری ،مولانا شاہ احمد نورانی ،پروفیسر غفور احمد ، مولاناظفر احمد انصاری ، میر حاجی علی احمد ٹالپور، رئیس عطا محمد خان مری ،غلام فاروق، سمیت 36 ارکان اسمبلی شامل تھے ، بروز پیر5 اگست1974نیشنل اسمبلی کے چیمبر ’’اسٹیٹ بینک بلڈنگ ‘‘اسلام آباد میں صبح دس بجے نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے پورے ایوان کی اسپیشل کمیٹی کی کارروائی وقوع پزیر ہوئی ۔ اسپیکر نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان بحیثیت چیئر مین تھے ،اور یحییٰ بختیار بحیثیت اٹارنی جنرل کے اس میں شریک تھے ، یہ بل سرکاری طور پر وزیر قانون عبدالحفیظ پیر زادہ نے پیش کیا۔تلاوت کلام پاک کے بعد وفد کو بلایا گیا اوراسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث شروع ہوئی ،قادیانی اور لاہوری گروپ نے اپنے محضر نامے پیش کیے ۔قادیانی گروپ کے محضر نامے کے جواب میں ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘نامی محضر نامہ تیا ر کیا گیا ،شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مولانامحمد شریف جالندھری ،مولانا محمد حیات ،مولاناتاج محمود ،اور مولانا عبد ا لرحیم اشعر علیہم الرحمہ نے حوالہ جات کی تدوین کا کام کیا۔جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی ،اور مولانا سمیع الحق نے ان حوالہ جات کو ترتیب دے کر ایک کتاب مرتب کردی ،حضرت اقدس مولانا سیدانور حسین نفیسؒ کی قیادت میں ملک بھر کے کاتبوں نے لکھنا شروع کردیا ،جتنا لکھ دیا جاتا اسے حضرت مولانا مفتی محمود ،اور چوہدری ظہور الٰہی ،مولانا شاہ احمد نورانی سن لیتے تھے۔ ضروری ترامیم کے بعد اسے چھپوالیا گیا ،پھر اسے مفکر اسلام مفتی محمود نے اسمبلی میں پڑھا،اگرچہ اسی محضر نامے میں لاہوری گروپ کے جوابات بھی آگئے تھے ،لیکن لاہوری گروپ کے جواب میں مستقل محضر نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی نے پیش کیا، قادیانی گروپ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر 5/سے10/اگست اور20سے24 اگست یعنی کل گیارہ دن تک جرح ہوئی ،27/28 /اگست کو لاہوری گروپ کے صدر الدین ،عبدالمنان عمراور مسعود بیگ پر جرح ہوئی ، 5/6 ستمبر 1974؁ء کو اٹارنی جنرل آف پاکستان جناب یحیٰ بختیار نے بحث کو سمیٹا ،انکا اسمبلی ارکان کے آگے دوروز مفصل بیان ہوا ،اور آخر شاید وہی ’’ٹائم بم‘‘ جو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نوراللہ مرقدہ عوام الناس کے دل میں فٹ کرگئے تھے وہ پھٹا اور7/ستمبرکو چار بجے شام قومی اسمبلی کا فیصلہ کُن اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی منظوری سے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا جو درج ذیل ہے۔
’’آئین پاکستان میں ترمیم کے لیے ایک بل ‘‘
ہر گاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید تر میم کی جائے ،لہٰذا بذریعہ ہٰذاحسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے :
1…مختصر عنوان اور آغاز نفاذ :(1) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوئم)ایکٹ1974؁ ء کہلائیگا (2) یہ فی الفور نافذالعمل ہوگا ۔
2…آئین کی دفعہ106میں ترمیم :اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں ،جسے بعد ازیں آئین کہا جائیگا دفعہ106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ’’اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں)‘‘درج کیے جائیں گے ۔
3…آئین کی دفعہ260میں ترمیم :آئین کی دفعہ206 میں شق (2) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائی گی یعنی ’’(3)جو شخص حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو آخری نبی ہیں ،کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتایا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے ۔‘‘


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

مضامین
زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

کوشش کرکے تو دیکھیں! وجود جمعه 20 فروری 2026
کوشش کرکے تو دیکھیں!

بھارت بند ہڑتال وجود جمعه 20 فروری 2026
بھارت بند ہڑتال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر