... loading ...
30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کے لیے جو قراردادپیش کی تھی اسکا متن درج ذیل ہے :
’’جناب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
محترمی !
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہو نے کا دعویٰ کیا ، نیزہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھی ،نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اورا سکا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا،اور اسلام کو جھٹلانا تھا ،نیز ہرگا ہ کہ پوری امت مسلمہ کاا س پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیرو کارچاہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہوں یا اُسے مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں ،دائرئہ اسلام سے خارج ہیں ۔نیز ہرگا ہ ان کے پیروکار انہیں کوئی بھی نام دیا جائے مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانا کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سر گر میوں میں مصروف ہیں ۔نیز ہر گا ہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو کہ مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6/اور10 /اپریل1974ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی کہ قادیانیت اسلام اور عالم ِ اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہیے کہ مرزا غلام مذکور کے پیر وکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے ،مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بِل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلا ن کو مئوثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں ‘‘محرکین قرار داد میں مفکر اسلام مفتی محمود ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک ) مولاناعبدالمصطفیٰ الازہری ،مولانا شاہ احمد نورانی ،پروفیسر غفور احمد ، مولاناظفر احمد انصاری ، میر حاجی علی احمد ٹالپور، رئیس عطا محمد خان مری ،غلام فاروق، سمیت 36 ارکان اسمبلی شامل تھے ، بروز پیر5 اگست1974نیشنل اسمبلی کے چیمبر ’’اسٹیٹ بینک بلڈنگ ‘‘اسلام آباد میں صبح دس بجے نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے پورے ایوان کی اسپیشل کمیٹی کی کارروائی وقوع پزیر ہوئی ۔ اسپیکر نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان بحیثیت چیئر مین تھے ،اور یحییٰ بختیار بحیثیت اٹارنی جنرل کے اس میں شریک تھے ، یہ بل سرکاری طور پر وزیر قانون عبدالحفیظ پیر زادہ نے پیش کیا۔تلاوت کلام پاک کے بعد وفد کو بلایا گیا اوراسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث شروع ہوئی ،قادیانی اور لاہوری گروپ نے اپنے محضر نامے پیش کیے ۔قادیانی گروپ کے محضر نامے کے جواب میں ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘نامی محضر نامہ تیا ر کیا گیا ،شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مولانامحمد شریف جالندھری ،مولانا محمد حیات ،مولاناتاج محمود ،اور مولانا عبد ا لرحیم اشعر علیہم الرحمہ نے حوالہ جات کی تدوین کا کام کیا۔جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی ،اور مولانا سمیع الحق نے ان حوالہ جات کو ترتیب دے کر ایک کتاب مرتب کردی ،حضرت اقدس مولانا سیدانور حسین نفیسؒ کی قیادت میں ملک بھر کے کاتبوں نے لکھنا شروع کردیا ،جتنا لکھ دیا جاتا اسے حضرت مولانا مفتی محمود ،اور چوہدری ظہور الٰہی ،مولانا شاہ احمد نورانی سن لیتے تھے۔ ضروری ترامیم کے بعد اسے چھپوالیا گیا ،پھر اسے مفکر اسلام مفتی محمود نے اسمبلی میں پڑھا،اگرچہ اسی محضر نامے میں لاہوری گروپ کے جوابات بھی آگئے تھے ،لیکن لاہوری گروپ کے جواب میں مستقل محضر نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی نے پیش کیا، قادیانی گروپ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر 5/سے10/اگست اور20سے24 اگست یعنی کل گیارہ دن تک جرح ہوئی ،27/28 /اگست کو لاہوری گروپ کے صدر الدین ،عبدالمنان عمراور مسعود بیگ پر جرح ہوئی ، 5/6 ستمبر 1974ء کو اٹارنی جنرل آف پاکستان جناب یحیٰ بختیار نے بحث کو سمیٹا ،انکا اسمبلی ارکان کے آگے دوروز مفصل بیان ہوا ،اور آخر شاید وہی ’’ٹائم بم‘‘ جو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نوراللہ مرقدہ عوام الناس کے دل میں فٹ کرگئے تھے وہ پھٹا اور7/ستمبرکو چار بجے شام قومی اسمبلی کا فیصلہ کُن اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی منظوری سے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا جو درج ذیل ہے۔
’’آئین پاکستان میں ترمیم کے لیے ایک بل ‘‘
ہر گاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید تر میم کی جائے ،لہٰذا بذریعہ ہٰذاحسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے :
1…مختصر عنوان اور آغاز نفاذ :(1) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوئم)ایکٹ1974 ء کہلائیگا (2) یہ فی الفور نافذالعمل ہوگا ۔
2…آئین کی دفعہ106میں ترمیم :اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں ،جسے بعد ازیں آئین کہا جائیگا دفعہ106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ’’اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں)‘‘درج کیے جائیں گے ۔
3…آئین کی دفعہ260میں ترمیم :آئین کی دفعہ206 میں شق (2) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائی گی یعنی ’’(3)جو شخص حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو آخری نبی ہیں ،کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتایا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے ۔‘‘
امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...
عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...
تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...
فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...
پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آئین کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی گیس پیدا کرنیوالا صوبہ خود گیس سے محروم ہے، وزیراعلیٰ برس پڑے،سہیل آفریدی ،فیصل کریم کنڈی کی پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت صوبائی حقوق کے معاملے پ...
معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...
آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...
منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...
حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...
اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...
عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...
نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...