وجود

... loading ...

وجود

قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد اور آئین میں ترمیم

جمعرات 07 ستمبر 2017 قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد اور آئین میں ترمیم

30جون 1974؁ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کے لیے جو قراردادپیش کی تھی اسکا متن درج ذیل ہے :
’’جناب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
محترمی !
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہو نے کا دعویٰ کیا ، نیزہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھی ،نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اورا سکا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا،اور اسلام کو جھٹلانا تھا ،نیز ہرگا ہ کہ پوری امت مسلمہ کاا س پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیرو کارچاہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہوں یا اُسے مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں ،دائرئہ اسلام سے خارج ہیں ۔نیز ہرگا ہ ان کے پیروکار انہیں کوئی بھی نام دیا جائے مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانا کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سر گر میوں میں مصروف ہیں ۔نیز ہر گا ہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو کہ مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6/اور10 /اپریل1974؁ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی کہ قادیانیت اسلام اور عالم ِ اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہیے کہ مرزا غلام مذکور کے پیر وکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے ،مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بِل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلا ن کو مئوثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں ‘‘محرکین قرار داد میں مفکر اسلام مفتی محمود ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک ) مولاناعبدالمصطفیٰ الازہری ،مولانا شاہ احمد نورانی ،پروفیسر غفور احمد ، مولاناظفر احمد انصاری ، میر حاجی علی احمد ٹالپور، رئیس عطا محمد خان مری ،غلام فاروق، سمیت 36 ارکان اسمبلی شامل تھے ، بروز پیر5 اگست1974نیشنل اسمبلی کے چیمبر ’’اسٹیٹ بینک بلڈنگ ‘‘اسلام آباد میں صبح دس بجے نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے پورے ایوان کی اسپیشل کمیٹی کی کارروائی وقوع پزیر ہوئی ۔ اسپیکر نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان بحیثیت چیئر مین تھے ،اور یحییٰ بختیار بحیثیت اٹارنی جنرل کے اس میں شریک تھے ، یہ بل سرکاری طور پر وزیر قانون عبدالحفیظ پیر زادہ نے پیش کیا۔تلاوت کلام پاک کے بعد وفد کو بلایا گیا اوراسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث شروع ہوئی ،قادیانی اور لاہوری گروپ نے اپنے محضر نامے پیش کیے ۔قادیانی گروپ کے محضر نامے کے جواب میں ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘نامی محضر نامہ تیا ر کیا گیا ،شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مولانامحمد شریف جالندھری ،مولانا محمد حیات ،مولاناتاج محمود ،اور مولانا عبد ا لرحیم اشعر علیہم الرحمہ نے حوالہ جات کی تدوین کا کام کیا۔جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی ،اور مولانا سمیع الحق نے ان حوالہ جات کو ترتیب دے کر ایک کتاب مرتب کردی ،حضرت اقدس مولانا سیدانور حسین نفیسؒ کی قیادت میں ملک بھر کے کاتبوں نے لکھنا شروع کردیا ،جتنا لکھ دیا جاتا اسے حضرت مولانا مفتی محمود ،اور چوہدری ظہور الٰہی ،مولانا شاہ احمد نورانی سن لیتے تھے۔ ضروری ترامیم کے بعد اسے چھپوالیا گیا ،پھر اسے مفکر اسلام مفتی محمود نے اسمبلی میں پڑھا،اگرچہ اسی محضر نامے میں لاہوری گروپ کے جوابات بھی آگئے تھے ،لیکن لاہوری گروپ کے جواب میں مستقل محضر نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی نے پیش کیا، قادیانی گروپ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر 5/سے10/اگست اور20سے24 اگست یعنی کل گیارہ دن تک جرح ہوئی ،27/28 /اگست کو لاہوری گروپ کے صدر الدین ،عبدالمنان عمراور مسعود بیگ پر جرح ہوئی ، 5/6 ستمبر 1974؁ء کو اٹارنی جنرل آف پاکستان جناب یحیٰ بختیار نے بحث کو سمیٹا ،انکا اسمبلی ارکان کے آگے دوروز مفصل بیان ہوا ،اور آخر شاید وہی ’’ٹائم بم‘‘ جو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نوراللہ مرقدہ عوام الناس کے دل میں فٹ کرگئے تھے وہ پھٹا اور7/ستمبرکو چار بجے شام قومی اسمبلی کا فیصلہ کُن اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی منظوری سے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا جو درج ذیل ہے۔
’’آئین پاکستان میں ترمیم کے لیے ایک بل ‘‘
ہر گاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید تر میم کی جائے ،لہٰذا بذریعہ ہٰذاحسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے :
1…مختصر عنوان اور آغاز نفاذ :(1) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوئم)ایکٹ1974؁ ء کہلائیگا (2) یہ فی الفور نافذالعمل ہوگا ۔
2…آئین کی دفعہ106میں ترمیم :اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں ،جسے بعد ازیں آئین کہا جائیگا دفعہ106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ’’اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں)‘‘درج کیے جائیں گے ۔
3…آئین کی دفعہ260میں ترمیم :آئین کی دفعہ206 میں شق (2) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائی گی یعنی ’’(3)جو شخص حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو آخری نبی ہیں ،کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتایا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے ۔‘‘


متعلقہ خبریں


پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

مضامین
آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر