... loading ...
دنیا کہیں کی کہیں پہنچ جائے لیکن سندھ کا محکمہ خوراک کبھی نہیں سدھرے گا خیر اب تو محکمہ خوراک کی اصلاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس مرتبہ گندم کی خریداری سے قبل دو ارب روپے کی جوٹ کی بوریاں خرید نے کے بجائے زرداری کے دست راست انور مجید کے اومنی گروپ سے پلاسٹک بیگ خریدے گئے اور یہ پلاسٹک کے بیگ سخت گرمی میں پھٹ جاتے ہیں جس سے اربوں روپے کی گندم ضائع ہو جائے گی لیکن محکمہ خوراک کو اس سے کیا سروکارکہ گندم خراب ہوتی ہے یا بچ جاتی ہے؟ ان کو تو صرف اومنی گروپ کی اشیر باد چاہیے جس کے روح رواں انور مجید ہیں ۔ جب سے حکومت سندھ نے نیب سے تنازع لیا ہے اور سندھ میں ایسی قانون سازی کی ہے جس کے تحت اب نیب صوبہ کے کسی بھی محکمہ کی تحقیقات نہیں کرسکتا تو اس پر حکومت سندھ نے تمام محکموں سے کہا ہے کہ وہ مالی بے قاعدگیوں کی خود تحقیقات شروع کریں تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ تمام محکمے مالی بے قاعدگیوں کی خود بھی تحقیقات کر رہے ہیں ۔
اس حوالے سے محکمہ خوراک نے اپنے 70 افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پچھلے 70 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ محکمہ خوراک نے 70 افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے جنہوں نے ڈھائی ارب روپے کی گندم ہڑپ کی ہے۔اس سلسلے میں جن ذمہ داران کو متعلقہ افسران کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے ان میں منظور علی دھامراہ پر 388 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ ارشاد احمد پر 14700 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالکریم کلھوڑ پر 5005 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ ان پر دوسرا الزام 4275 خالی بوریاں (جس کی قیمت 5 لاکھ 30 ہزار 100 روپے ہے) غائب کرنے کا بھی الزام ہے۔ عبدالرحیم سومرو پر 14 لاکھ 47 ہزار 400 روپے سرکاری خزانہ میں جمع نہ کرانے کا الزام ہے۔ اسلام الدین پر 17525 بوریاں گندم کی غائب کرنے الزام ہے۔ غلام شبیر مہر پر 65.986 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔
عبدالرشید سومرو پر 890 خالی بوریاں جن کی قیمت ایک لاکھ 10 ہزار 360 روپے ہے، غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالغنی قریشی پر890.520 میٹرک ٹن گندم جس کی قیمت 2 کروڑ 50 لاکھ 15 ہزار200 روپے ہے، غائب کرنے کا الزام ہے۔ منظور خان پر 2 کروڑ 50 لاکھ 15 ہزار 200 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ محمد اسلام مزاری پر 2 کروڑ50 لاکھ 15 ہزار 200 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ دھنومل پر 579 بوریاں گندم اور 552 خالی بوریاں جن کی قیمت6 لاکھ 91 ہزار 918 روپے ہے غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالکریم مزاری پر 3069 بوریاں گندم اور 9.030 میٹرک ٹن گندم جن کی قیمت ایک کروڑ 15 لاکھ 20 ہزار 247 روپے ہے، غائب کرنے کا الزام ہے۔ کریم داد جونیجو پر 4762 بوریاں گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ ان پر دوسرا الزام ہے کہ انہوں نے 220 خالی بوریوں کی جگہ 430 خالی بوریاں جاری کیں ۔ اندر سنگھ پر قحط کے لیے بھیجی گئی گندم سے 65 بوریاں اضافی جاری کیں جو ریکارڈ سے غائب ہیں ۔ امین بلوچ نے گندم سے بھرے ہوئے 11 ٹرک کاٹھور سے کر اس کرائے جس کا ریکارڈ میں کوئی ذکر نہیں ہے، منذر جوکھیو پر بھی 11 گندم سے بھرے ٹرک کراچی سے باہر منتقل کرنے کا الزام ہے۔
حسن علی مگسی پر 3045 خالی بوریاں اور 3 لاکھ 18 ہزار 478 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ اختر منگی نے حکومت کے احکامات پر عمل نہیں کیا ۔محمد جاوید نے بھی حکومتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ جان محمد راجڑ نے بھی حکومتی احکامات کو پس پشت ڈال دیا۔ دھنی بخش، عنایت علی اور شبیر چنانے بھی حکومتی حکم پر عمل نہیں کیا۔ عبدالستار اجن پر ایک کروڑ84 لاکھ 77 ہزار 496 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ محمد یونس کھوسو پر 22 لاکھ 25 ہزار 799 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ ان پر دوسرا الزام ہے کہ اس نے 3063.657 میٹرک ٹن گندم غائب کی ہے۔ امتیاز علی انڑ پر 3416 نیا باردانہ، 1593 بوریاں پرانا باردانہ اور 400 قابل سروس باردانہ غائب کیا۔ نوروز سومرو پر 76 لاکھ 47 ہزار 500 روپے کی مالی بے قاعدگیوں اور 10 ہزار 111 گندم کی بوریاں مشکوک طور پر غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالحق پر 467 جوٹ کی خالی بوریاں اور 3125 پلاسٹک کی خالی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ باہر علی جمالی پر 4012 پلاسٹک کی خالی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ اعجاز انڑنے 40436 خالی بوریاں غائب کیں ۔
محمد یوسف ملک پر 12 ہزار 643 بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ شاہ میر سولنگی پر 247 بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ وحید شیخ پر 5 کروڑ 62 لاکھ 82 ہزار 158 روپے کا نقصان دینے کا الزام ہے۔ محمد حنیف کٹپر پر ایک کروڑ 56 لاکھ 97 ہزار 712 روپے کا نقصان دینے کا الزام ہے، ان ہی پر دوسرا الزام ہے کہ انہوں نے 2256.128 میٹرک گندم غائب کی ہے۔ انعام ابڑو پر 60 ہزار خالی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ شبیر احمد مینگل نے حکومتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ امتیاز احمد مہر پر 106.065 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ علی حسن سانگی پر 2000 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ نظام الدین بجارانی پر پپری گودام سے گندم غائب کرنے الزام ہے۔ جلال الدین مرھٹو پر 979.509 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے منظور الحق چانڈیو پر 82 لاکھ 55 ہزار 151 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ خادم حسین کھیڑو پر 8 ہزار میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ فہیم اظہر ڈیر پر 900 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ عنایت علی اپنی ڈیوٹی سے غائب رہے۔ خالد قریشی نے 32 چوکیداروں کے نام پر 43 لاکھ 15 ہزار 123 روپے غیر قانونی طور پر نکلوائے۔ شرف الدین ساریو اپنی ڈیوٹی سے اس وقت غائب ہوگئے جب ڈائریکٹر فوڈ نے دورہ کیا۔ عمران علی مگسی نے 146 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ جاوید چانڈیو نے گندم کی 2000 بوریاں غائب کیں ۔ آفتاب احمد قاضی نے 2000 اضافی گندم کی بوریاں خریدیں ۔ غلام سرور بھٹو نے 1864 جوٹ کی بوریاں 15230 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ کریم داد جونیجو نے گندم کی حفاظت کے لیے اقدامات نہیں کیے ۔قربان علی کلوڑ نے 32 ہزار793 گندم کی بوریاں غائب کیں امتیاز مہر نے 44419 گندم کی بوریاں غائب کیں ۔ علی محمد چاچڑ نے 55679 بوریاں گندم کی غائب کیں ۔ دلدار علی کلوڑ نے 36 ہزار 223 بوریاں گندم کی غائب کیں ۔ اکبر پھلپوٹو نے 80540 گندم کی بوریاں غائب کیں ۔
شاہ میر سولنگی نے 1093 بوریاں گندم کی غائب کیں ۔ محمد اشرف کیریو نے ایک کروڑ 28 لاکھ 21 ہزار 96 روپے کی گندم غائب کی۔ انہوں نے 1222 گندم کی بوریاں غائب کیں ۔ محمد علی اجن اپنی ڈیوٹی سے غائب تھے ۔سعید الدین نے 6700 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ محمد عاقل جت نے 69 لاکھ 22 ہزار 833 روپے کا نقصان پہنچایا۔ رؤف رضا نے 23.006 میٹرک ٹن گندم اور 6452 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ یاسر گبول نے 876 جوٹ بوریاں اور 2424 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں اور سید غلام علی شاہ نے 540 جوٹ کی بوریاں اور 4171پلاٹک کی بوریاں غائب کیں جن کی قیمت 86 لاکھ 33 ہزار 612 روپے ہے اور وہ اپنی 60 سال عمر پوری کرکے ریٹائرڈ بھی ہوگئے ہیں تاہم ان کو بھی ڈائریکٹر فوڈ کے پاس ریکارڈ سمیت طلب کیا گیا ہے ان کے تمام واجبات اورپنشن کو بھی روک لیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...