وجود

... loading ...

وجود

سنتا جا شرماتا جا؛ محکمہ خوراک کے 70 افسران ڈھائی ارب کی گندم ڈکار گئے

بدھ 06 ستمبر 2017 سنتا جا شرماتا جا؛ محکمہ خوراک کے 70 افسران ڈھائی ارب کی گندم ڈکار گئے

دنیا کہیں کی کہیں پہنچ جائے لیکن سندھ کا محکمہ خوراک کبھی نہیں سدھرے گا خیر اب تو محکمہ خوراک کی اصلاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس مرتبہ گندم کی خریداری سے قبل دو ارب روپے کی جوٹ کی بوریاں خرید نے کے بجائے زرداری کے دست راست انور مجید کے اومنی گروپ سے پلاسٹک بیگ خریدے گئے اور یہ پلاسٹک کے بیگ سخت گرمی میں پھٹ جاتے ہیں جس سے اربوں روپے کی گندم ضائع ہو جائے گی لیکن محکمہ خوراک کو اس سے کیا سروکارکہ گندم خراب ہوتی ہے یا بچ جاتی ہے؟ ان کو تو صرف اومنی گروپ کی اشیر باد چاہیے جس کے روح رواں انور مجید ہیں ۔ جب سے حکومت سندھ نے نیب سے تنازع لیا ہے اور سندھ میں ایسی قانون سازی کی ہے جس کے تحت اب نیب صوبہ کے کسی بھی محکمہ کی تحقیقات نہیں کرسکتا تو اس پر حکومت سندھ نے تمام محکموں سے کہا ہے کہ وہ مالی بے قاعدگیوں کی خود تحقیقات شروع کریں تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ تمام محکمے مالی بے قاعدگیوں کی خود بھی تحقیقات کر رہے ہیں ۔
اس حوالے سے محکمہ خوراک نے اپنے 70 افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پچھلے 70 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ محکمہ خوراک نے 70 افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے جنہوں نے ڈھائی ارب روپے کی گندم ہڑپ کی ہے۔اس سلسلے میں جن ذمہ داران کو متعلقہ افسران کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے ان میں منظور علی دھامراہ پر 388 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ ارشاد احمد پر 14700 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالکریم کلھوڑ پر 5005 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ ان پر دوسرا الزام 4275 خالی بوریاں (جس کی قیمت 5 لاکھ 30 ہزار 100 روپے ہے) غائب کرنے کا بھی الزام ہے۔ عبدالرحیم سومرو پر 14 لاکھ 47 ہزار 400 روپے سرکاری خزانہ میں جمع نہ کرانے کا الزام ہے۔ اسلام الدین پر 17525 بوریاں گندم کی غائب کرنے الزام ہے۔ غلام شبیر مہر پر 65.986 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔
عبدالرشید سومرو پر 890 خالی بوریاں جن کی قیمت ایک لاکھ 10 ہزار 360 روپے ہے، غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالغنی قریشی پر890.520 میٹرک ٹن گندم جس کی قیمت 2 کروڑ 50 لاکھ 15 ہزار200 روپے ہے، غائب کرنے کا الزام ہے۔ منظور خان پر 2 کروڑ 50 لاکھ 15 ہزار 200 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ محمد اسلام مزاری پر 2 کروڑ50 لاکھ 15 ہزار 200 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ دھنومل پر 579 بوریاں گندم اور 552 خالی بوریاں جن کی قیمت6 لاکھ 91 ہزار 918 روپے ہے غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالکریم مزاری پر 3069 بوریاں گندم اور 9.030 میٹرک ٹن گندم جن کی قیمت ایک کروڑ 15 لاکھ 20 ہزار 247 روپے ہے، غائب کرنے کا الزام ہے۔ کریم داد جونیجو پر 4762 بوریاں گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ ان پر دوسرا الزام ہے کہ انہوں نے 220 خالی بوریوں کی جگہ 430 خالی بوریاں جاری کیں ۔ اندر سنگھ پر قحط کے لیے بھیجی گئی گندم سے 65 بوریاں اضافی جاری کیں جو ریکارڈ سے غائب ہیں ۔ امین بلوچ نے گندم سے بھرے ہوئے 11 ٹرک کاٹھور سے کر اس کرائے جس کا ریکارڈ میں کوئی ذکر نہیں ہے، منذر جوکھیو پر بھی 11 گندم سے بھرے ٹرک کراچی سے باہر منتقل کرنے کا الزام ہے۔
حسن علی مگسی پر 3045 خالی بوریاں اور 3 لاکھ 18 ہزار 478 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ اختر منگی نے حکومت کے احکامات پر عمل نہیں کیا ۔محمد جاوید نے بھی حکومتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ جان محمد راجڑ نے بھی حکومتی احکامات کو پس پشت ڈال دیا۔ دھنی بخش، عنایت علی اور شبیر چنانے بھی حکومتی حکم پر عمل نہیں کیا۔ عبدالستار اجن پر ایک کروڑ84 لاکھ 77 ہزار 496 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ محمد یونس کھوسو پر 22 لاکھ 25 ہزار 799 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ ان پر دوسرا الزام ہے کہ اس نے 3063.657 میٹرک ٹن گندم غائب کی ہے۔ امتیاز علی انڑ پر 3416 نیا باردانہ، 1593 بوریاں پرانا باردانہ اور 400 قابل سروس باردانہ غائب کیا۔ نوروز سومرو پر 76 لاکھ 47 ہزار 500 روپے کی مالی بے قاعدگیوں اور 10 ہزار 111 گندم کی بوریاں مشکوک طور پر غائب کرنے کا الزام ہے۔ عبدالحق پر 467 جوٹ کی خالی بوریاں اور 3125 پلاسٹک کی خالی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ باہر علی جمالی پر 4012 پلاسٹک کی خالی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ اعجاز انڑنے 40436 خالی بوریاں غائب کیں ۔
محمد یوسف ملک پر 12 ہزار 643 بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ شاہ میر سولنگی پر 247 بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ وحید شیخ پر 5 کروڑ 62 لاکھ 82 ہزار 158 روپے کا نقصان دینے کا الزام ہے۔ محمد حنیف کٹپر پر ایک کروڑ 56 لاکھ 97 ہزار 712 روپے کا نقصان دینے کا الزام ہے، ان ہی پر دوسرا الزام ہے کہ انہوں نے 2256.128 میٹرک گندم غائب کی ہے۔ انعام ابڑو پر 60 ہزار خالی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ شبیر احمد مینگل نے حکومتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ امتیاز احمد مہر پر 106.065 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ علی حسن سانگی پر 2000 گندم کی بوریاں غائب کرنے کا الزام ہے۔ نظام الدین بجارانی پر پپری گودام سے گندم غائب کرنے الزام ہے۔ جلال الدین مرھٹو پر 979.509 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے منظور الحق چانڈیو پر 82 لاکھ 55 ہزار 151 روپے کی گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ خادم حسین کھیڑو پر 8 ہزار میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ فہیم اظہر ڈیر پر 900 میٹرک ٹن گندم غائب کرنے کا الزام ہے۔ عنایت علی اپنی ڈیوٹی سے غائب رہے۔ خالد قریشی نے 32 چوکیداروں کے نام پر 43 لاکھ 15 ہزار 123 روپے غیر قانونی طور پر نکلوائے۔ شرف الدین ساریو اپنی ڈیوٹی سے اس وقت غائب ہوگئے جب ڈائریکٹر فوڈ نے دورہ کیا۔ عمران علی مگسی نے 146 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ جاوید چانڈیو نے گندم کی 2000 بوریاں غائب کیں ۔ آفتاب احمد قاضی نے 2000 اضافی گندم کی بوریاں خریدیں ۔ غلام سرور بھٹو نے 1864 جوٹ کی بوریاں 15230 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ کریم داد جونیجو نے گندم کی حفاظت کے لیے اقدامات نہیں کیے ۔قربان علی کلوڑ نے 32 ہزار793 گندم کی بوریاں غائب کیں امتیاز مہر نے 44419 گندم کی بوریاں غائب کیں ۔ علی محمد چاچڑ نے 55679 بوریاں گندم کی غائب کیں ۔ دلدار علی کلوڑ نے 36 ہزار 223 بوریاں گندم کی غائب کیں ۔ اکبر پھلپوٹو نے 80540 گندم کی بوریاں غائب کیں ۔
شاہ میر سولنگی نے 1093 بوریاں گندم کی غائب کیں ۔ محمد اشرف کیریو نے ایک کروڑ 28 لاکھ 21 ہزار 96 روپے کی گندم غائب کی۔ انہوں نے 1222 گندم کی بوریاں غائب کیں ۔ محمد علی اجن اپنی ڈیوٹی سے غائب تھے ۔سعید الدین نے 6700 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ محمد عاقل جت نے 69 لاکھ 22 ہزار 833 روپے کا نقصان پہنچایا۔ رؤف رضا نے 23.006 میٹرک ٹن گندم اور 6452 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں ۔ یاسر گبول نے 876 جوٹ بوریاں اور 2424 پلاسٹک کی بوریاں غائب کیں اور سید غلام علی شاہ نے 540 جوٹ کی بوریاں اور 4171پلاٹک کی بوریاں غائب کیں جن کی قیمت 86 لاکھ 33 ہزار 612 روپے ہے اور وہ اپنی 60 سال عمر پوری کرکے ریٹائرڈ بھی ہوگئے ہیں تاہم ان کو بھی ڈائریکٹر فوڈ کے پاس ریکارڈ سمیت طلب کیا گیا ہے ان کے تمام واجبات اورپنشن کو بھی روک لیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر