وجود

... loading ...

وجود

ایران کی طرف سے اتحادیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا اعلان۔امریکا میں شدید تنقیدکا طوفان

بدھ 06 ستمبر 2017 ایران کی طرف سے اتحادیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا اعلان۔امریکا میں شدید تنقیدکا طوفان

اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نکی ہیلی نے گزشتہ روز ایک بیان میں ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے فلسطینی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ اپنے رابطے قائم کرکے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے اور بین الاقوامی کمیونیٹی کو لازماً اسے جواب دہ ٹہرانا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی جاری خطرناک اشتعال انگیزی کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہچانا ہے۔وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ بغیر نگرانی کے ایران امکانی طور پر شمالی کوریا کے راستے پر چل سکتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایران پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ لبنان، عراق، شام اور یمن میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کے مطابق’ ایران سے متعلق جامع پالیسی کی تحت ہمیں ایران کی جانب سے لاحق خطرات کو نمٹنا ہے اور یہ واضح ہے کہ یہ بہت ہیں ۔
اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا تھا کہ ایران نے صدر اوباما کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں ۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کے جائزے کا حکم دیا ہے کہ آیا دو سال قبل ایران پر سے اٹھائی جانی والی پابندیاں امریکا کے قومی مفاد میں ہیں یا نہیں ۔یہ جائزہ متعدد امریکی اداروں کی جانب سے لیا جائے گا اور اس عمل کی قیادت نیشنل سیکورٹی کونسل کرے گی۔ٹلرسن نے امریکی کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں ایران کے بطور ‘دہشت گردی کا ریاستی پشت پناہ’ کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اپنی صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ انتظامیہ کے دور میں ایران کے طے پانے والے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بدترین معاہدہ ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران نے یورینیئم کی افزودگی روک دی تھی جب کہ اس کے بدلے میں مغربی ممالک، بشمول امریکا نے ایران پر عائد معاشی پابندیاں ہٹا دی تھیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ
کو اقتدار میں آئے ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ انھوں نے ایران کو ’دنیا کی درجہ اوّل کی دہشت گرد ریاست‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’سرکاری طور پر نوٹس‘ جاری کر دیا تھا۔اس کے علاوہ جب صدر ٹرمپ نے سات ملکوں کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کیں تو ان میں ایران بھی شامل تھا۔ تاہم بعد میں عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔حماس کے نئے رہنما نے پیر کوغزہ میں کہا کہ شام میں برسوں کی کشیدگی اور خانہ جنگی کے بعد تہران ایک بار پھر انہیں سب سے زیادہ ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرنے والا ملک ثابت ہوا ہے۔حماس ایران سے اس لیے ناراض تھا کہ اس نے چھ سالہ خانہ جنگی کے دوران ان کے اتحادی شام کے صدر بشارلاسد کی حمایت سے انکار کر دیا تھا۔ہیلی نے حماس کے لیڈر کے بیان کو چونکا دینے والا اعتراف قرار دیا۔ ایران کو اس وقت ہتھیاروں کی پابندی کا سامنا ہے اور اسے بعض معاملات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد ہی ہتھیار درآمد یا برآمد کرنے کی اجازت ملتی ہے۔حماس اور ایران میں سے کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ تہران کی حمایت کی سطح کیا ہے۔ لیکن علاقائی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں اسلام پرستوں کی تحریک کے لیے ایران کی مالی مدد میں ڈرامائی کمی آئی ہے اور ایران حماس کی بجائے قاسم بریگیڈ کی طرف زیادہ توجہ دے رہا ہے۔حماس اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ 2007 میں مغربی کنارے کے فلسطینی صدر محمد عباس کی وفادار فورسز سے غزہ کی پٹی کا علاقہ چھیننے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں لڑ چکا ہے۔
اسرائیلی حکام نے گزشتہ روز ایران پر یہ الزام بھی لگایاہے کہ ایران شام اور لبنان میں میزائل تیار کرنے والی فیکٹریاں تعمیر کر رہا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ ‘اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے شام کو اپنے عسکری اڈے میں تبدیل کر رہا ہے۔بن یامین نتن یاہونے الزام لگایا ہے کہ ایران کے ‘میزائل تجربے’ کا جواب دینا ضروری ہے:۔اسرائیل کے وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس ملاقات کے بعد سامنے آیا۔گو کہ اسرائیلی وزیراعظم نے میزائل تیار کرنے والی ایرانی سائٹس کی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن اْنھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران کے ان اقدامات کو ہر گز تسلیم نہیں کرے گا۔دو ہفتے قبل سٹیلائٹ سے تصاویر لینے والی اسرائیلی کمپنی امیج سیٹ انٹرنیشنل نے کچھ تصاویر شائع کیں تھیں جس سے شام میں حزب اختلاف کی حمایت کرنے والے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کی تصدیق ہو گئی ہے۔اخبار کے مطابق شام میں ایرانیوں کی زیر نگرانی میزائل بنانے والی فیکٹری تعمیر ہو رہی ہے۔وامیج سیٹ کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم کے ساحلی قصبے بانیاس کے قریب وادی جہانم میں تعمیر ہونے والی فیکٹری تہران کی میزائل فیکٹری سے مماثلت رکھتی ہے۔اسرائیل کے اس بیان کے بعد ایران کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے اسرائیل کے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ اسرائیل کی سکیورٹی کو لاحق خدشات سے آگاہ ہیں ۔اسرائیل کے وزیراعظم نے سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستے حزب اللہ کو اسلحے کی ذخیرہ اندوزی سے روکنے میں ناکام رہے ہیں ۔مسٹر گوتیرس نے وعدہ کیا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ اقوام متحدہ کے امن فورس کے دستے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔انھوں نے کہا کہ ‘میں اسرائیل کی سکیورٹی کو لاحق خدشات کو سمجھ سکتا ہوں اور میں یہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کو تباہ کرنے کا منصوبہ یا ارادہ کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔اس سے پہلے اسرائیل کے صدر نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں ‘اسرائیل کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے کے لیے’ اقدامات کرنے کو کہا تھا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس مشرقِ وسطی کے دورے کے دوران فلسطین اتھارٹی کے وزیر رامی حمداللہ سے ملاقات کریں گے اور وہ بدھ کو غزہ بھی جائیں گے۔
ایران کے وزیر دفاع جنرل عامر ہتمی کا کہنا ہے کہ ملک کے میزائل پروگرام اور اتحادیوں کو مستحکم کرنے کے لیے ان کو اسلحے کی برآمد ایران کی اولین ترجیح ہے۔ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق حال ہی میں تعینات ہونے والے وزیر دفاع نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ‘جنگی اعتبار سے خصوصاً میزائل کے حوالے سے ہمارے پاس ایک خاص منصوبہ ہے جس کے ذریعے ایران کی میزائل کی طاقت کو بڑھانا ہے۔ اور جلد ہی ایران کی بیلسٹک اور کروز میزائل کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔تاہم ایران کی نیوز ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں اور کس موقعے پر تقریر کر رہے تھے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل عامر کی تعیناتی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایران اپنی فوج کے دو حصوں کو ملا رہا ہے یعنی ریگولر آرمی اور پاسداران انقلاب۔ اور ایران ایسا عراق اور شام میں اپنے کردار کے حوالے سے ایسا کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 1979 کے انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر دفاع پاسداران انقلاب سے نہیں بلکہ ریگولر آرمی سے تعینات ہوا ہے۔جنرل عامر نے مزید کہا کہ ایران اسلحے کو برآمد کرنے پر غور کرے گا تاکہ ‘جنگ اور مسلح تصادم کو روکا جاسکے’۔انھوں نے کہا ‘جب بھی کوئی ملک کمزور ہوتا ہے تو دوسروں کو موقع ملتا ہے کہ اس پر حملہ آور ہوں ۔ جہاں بھی ضرورت ہوئی ہم اسلحے برآمد کریں گے تاکہ خطے اور ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے اور جنگ کو روکا جا سکے۔دوسری جانب ایران کے ملٹری چیف آف ا سٹاف جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ دشمن ایران پر زمینی حملہ نہیں کرے گا اور یہ مغرب کے وہ رہنما بھی جانتے ہیں جو دانشمند نہیں کہ زمینی حملہ ان کو بڑا مہنگا پڑے گا۔یاد رہے کہ فروری میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے حملے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکا ایران کو ‘نوٹس پر رکھ رہا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جنرل باقری نے کہا ‘اگر دشمن حملہ کرتا بھی ہے تو وہ زمینی کارروائی نہیں کرے گا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ اس کا سامنا بہادر فوجیوں سے ہو گا۔شکر ہے کہ مغرب کے غیر دانشمند رہنما بھی اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ایران پر حملہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔ اگرچہ ان کو جارحیت کے آغاز پر کنٹرول حاصل ہو گا لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کب
اس تصادم کا اختتام ہو گا اور وہ اس تصادم کو ایران کی سرحد تک محدود نہیں رکھ سکیں گے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر