... loading ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر توہینِ عدالت کے ملزم ریاست ایریزونا کے شیرف جو آرپائیو کو معاف کرنے کے بعد ان کی اپنی ہی ریپبلکن جماعت کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ایوانِ نمائندگان کے ا سپیکر پال رائن کا کہنا تھا کہ شیروف جو آرپائیو کو معاف نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔صدر ٹرمپ نے شیرف جو آرپائیو کو صدارتی معافی عطا کر دی تھی، ان پر توہینِ عدالت کا الزام تھا۔ 85 سالہ آرپائیو کو اس وقت مجرم قرار دیا گیا تھا جب انھوں نے مشتبہ تارکینِ وطن کی نگرانی کرنے کے عدالتی حکم کو نظرانداز کر دیا تھا۔ انھیں اکتوبر میں سزا سنائی جانی تھی۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کچھ ماہ قبل بھی اس مقدمے کے خاتمے کی کوشش کی تھی۔
نیو یارک ٹائمز نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے حامی آرپائیو کو بچانے کے لیے اٹارنی جنرل اور وائٹ ہاؤس کونسل کے ارکان سے ممکنہ راستے تلاش کرنے کو کہا تھا۔پال رائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپیکر اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر امریکا میں موجود لوگوں کے حقوق کے احترام کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں کسی کو بھی یہ سمجھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ اس معافی سے یہ ذمہ داری کم ہو گئی ہے۔ معافی کے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں میں صدر ٹرمپ کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایریزونا کے سینیٹر جان میک کین اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی شامل ہیں ۔پال ریان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپیکر اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایریزونا کے ایک دوسرے سینیٹر جیف فلیک سمیت ڈیموکریٹس اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔معافی کے بعد صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آرپائیو نے کہا تھا کہ انھیں وزارتِ انصاف میں صدر اوباما کے دور کی باقیات کی جانب سے سیاسی طور پر نشانا بنایا گیا تھا۔انھوں نے ٹویٹ کی: ’شکریہ۔۔ میرے خلاف فیصلے کو سمجھنے کے لیے۔انھوں نے کہا میں کہیں نہیں جا رہا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وہ آئندہ شیرف کا انتخاب لڑیں گے یا نہیں ۔صدٹرمپ پہلے کئی بار آرپائیو کی تعریفیں کر چکے ہیں جو تارکینِ وطن کے خلاف سخت اور متنازع موقف کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔آرپائیو 2016 میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران کئی بار نظر آتے رہے ہیں ۔صدر ٹرمپ نے معافی کے بیان میں لکھا: آرپائیو کی زندگی اور کیریئر 18 برس کی عمر میں شروع ہوئے جب انھوں نے کوریا کی جنگ شروع ہونے کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی۔ شیرف کی حیثیت سے آرپائیو نے عوام کو جرم اور غیر قانونی تارکینِ وطن سے بچانے کے لیے خدمات سرانجام دیں ۔اب جب کہ ان کی عمر 85 برس ہے، ہماری قوم کی 50 برس تک قابلِ قدر خدمت کرنے کے بعد وہ صدارتی معافی کے لیے مستحق امیدوار ہیں ۔جو آرپائیو کا نام اس وقت خبروں میں آنا شروع ہو گیا تھا جب انھوں نے ہسپانوی نژاد افراد کے علاقوں میں چھاپے مارنا اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے شبہ میں ہسپانوی بولنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تھی۔تاہم انھیں 2011 میں جاری کردہ ایک حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔انھیں اکتوبر میں چھ ماہ کی سزا ہو سکتی تھی۔
امیگریشن امور کی ایک سر گرم کارکن لنڈا گزمین کا کہنا تھا کہ ایرپائنوکو معاف کر کے ٹرمپ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ نسل پرستوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ کہ وہ سفید فام بالا دستی کے حامیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ کہ وہ ہمارے شہری حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔صدر کی ری پبلکن پارٹی کے کچھ اہم اراکین نے بھی اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ ایوان کے اسپیکر پال ریان کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں پر امریکا میں ہر ایک کے حقوق کے احترام کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اری زونا کے سینیٹر جان مک کین نے کہا کہ یہ معافی صدر کی جانب سے قانون کی بالا دستی کے ان کے دعوے کو کمزور کرتی ہے۔انتظامیہ کے ایک مشیر نے کہا کہ منفی رد عمل مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔اے بی سی کے پروگرام دس ویک میں گفتگو کرتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مشیر ٹام باسرٹ نے کہا کہ نئے دور کے تقریباً ہر صدر کی جانب سے دی جانے والی کچھ معافیاں متنازع بن جاتی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ صدر اس بارے میں بالکل واضح رہے ہیں اور میں یقینی طور پر یہ نہیں سمجھتا کہ انہیں قانون کی بالادستی کی پروا نہ کرنے والا قرار دینا مناسب ہے۔شیرف ایرپائیو، صدرٹرمپ کی صدارتی مہم کے اولین حامیوں میں شامل تھے۔ وہ اور ٹرمپ دونوں ہی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت تر پالیسیوں کے حق میں دلائل دے چکے ہیں ۔
دوسری جانب ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً دو تہائی امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ قوم کو جوڑنے کی بجائے اسے تقسیم کررہے ہیں ۔امریکی یونیورسٹی کوانپیاک کے تحت کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں 62 فی صد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ قوم کو تقسیم کرنے کی جاب بڑھ رہے ہیں ۔ جب کہ 31 فیصد لوگوں کی رائے اس کے برعکس تھی۔سروے میں ان سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ وہ شارلٹس ویل کے واقعہ پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کو کس طرح دیکھتے ہیں ۔ 60 فی صد رائے دہندگان نے اسے مایوس کن قرار دیا۔ 32 فی صد نے کہا کہ وہ صدر کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں ۔59 فی صد لوگوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے رویے اور بیانات سے سفید فام بالادستی کے حامیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ صرف 3 فی صد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ صدر کے بیانات سے سفید فام بالا دستی کے حامیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔35 فی صد کی رائے میں صدر ٹرمپ کے بیانات کا نہ تو سفید فام بالادستی کے حامیوں اور نہ ہی اس سوچ کے مخالفین پر کوئی اثر ہوا۔
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...