وجود

... loading ...

وجود

توہین عدالت کے مجرم کی معافی: صدر ٹرمپ امریکیوں کو تقسیم کرنے لگے!

منگل 05 ستمبر 2017 توہین عدالت کے مجرم کی معافی: صدر ٹرمپ امریکیوں کو تقسیم کرنے لگے!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر توہینِ عدالت کے ملزم ریاست ایریزونا کے شیرف جو آرپائیو کو معاف کرنے کے بعد ان کی اپنی ہی ریپبلکن جماعت کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ایوانِ نمائندگان کے ا سپیکر پال رائن کا کہنا تھا کہ شیروف جو آرپائیو کو معاف نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔صدر ٹرمپ نے شیرف جو آرپائیو کو صدارتی معافی عطا کر دی تھی، ان پر توہینِ عدالت کا الزام تھا۔ 85 سالہ آرپائیو کو اس وقت مجرم قرار دیا گیا تھا جب انھوں نے مشتبہ تارکینِ وطن کی نگرانی کرنے کے عدالتی حکم کو نظرانداز کر دیا تھا۔ انھیں اکتوبر میں سزا سنائی جانی تھی۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کچھ ماہ قبل بھی اس مقدمے کے خاتمے کی کوشش کی تھی۔
نیو یارک ٹائمز نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے حامی آرپائیو کو بچانے کے لیے اٹارنی جنرل اور وائٹ ہاؤس کونسل کے ارکان سے ممکنہ راستے تلاش کرنے کو کہا تھا۔پال رائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپیکر اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر امریکا میں موجود لوگوں کے حقوق کے احترام کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں کسی کو بھی یہ سمجھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ اس معافی سے یہ ذمہ داری کم ہو گئی ہے۔ معافی کے اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں میں صدر ٹرمپ کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایریزونا کے سینیٹر جان میک کین اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی شامل ہیں ۔پال ریان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپیکر اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایریزونا کے ایک دوسرے سینیٹر جیف فلیک سمیت ڈیموکریٹس اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔معافی کے بعد صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آرپائیو نے کہا تھا کہ انھیں وزارتِ انصاف میں صدر اوباما کے دور کی باقیات کی جانب سے سیاسی طور پر نشانا بنایا گیا تھا۔انھوں نے ٹویٹ کی: ’شکریہ۔۔ میرے خلاف فیصلے کو سمجھنے کے لیے۔انھوں نے کہا میں کہیں نہیں جا رہا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وہ آئندہ شیرف کا انتخاب لڑیں گے یا نہیں ۔صدٹرمپ پہلے کئی بار آرپائیو کی تعریفیں کر چکے ہیں جو تارکینِ وطن کے خلاف سخت اور متنازع موقف کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔آرپائیو 2016 میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران کئی بار نظر آتے رہے ہیں ۔صدر ٹرمپ نے معافی کے بیان میں لکھا: آرپائیو کی زندگی اور کیریئر 18 برس کی عمر میں شروع ہوئے جب انھوں نے کوریا کی جنگ شروع ہونے کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی۔ شیرف کی حیثیت سے آرپائیو نے عوام کو جرم اور غیر قانونی تارکینِ وطن سے بچانے کے لیے خدمات سرانجام دیں ۔اب جب کہ ان کی عمر 85 برس ہے، ہماری قوم کی 50 برس تک قابلِ قدر خدمت کرنے کے بعد وہ صدارتی معافی کے لیے مستحق امیدوار ہیں ۔جو آرپائیو کا نام اس وقت خبروں میں آنا شروع ہو گیا تھا جب انھوں نے ہسپانوی نژاد افراد کے علاقوں میں چھاپے مارنا اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے شبہ میں ہسپانوی بولنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تھی۔تاہم انھیں 2011 میں جاری کردہ ایک حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔انھیں اکتوبر میں چھ ماہ کی سزا ہو سکتی تھی۔
امیگریشن امور کی ایک سر گرم کارکن لنڈا گزمین کا کہنا تھا کہ ایرپائنوکو معاف کر کے ٹرمپ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ نسل پرستوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ کہ وہ سفید فام بالا دستی کے حامیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ کہ وہ ہمارے شہری حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔صدر کی ری پبلکن پارٹی کے کچھ اہم اراکین نے بھی اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ ایوان کے اسپیکر پال ریان کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں پر امریکا میں ہر ایک کے حقوق کے احترام کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اری زونا کے سینیٹر جان مک کین نے کہا کہ یہ معافی صدر کی جانب سے قانون کی بالا دستی کے ان کے دعوے کو کمزور کرتی ہے۔انتظامیہ کے ایک مشیر نے کہا کہ منفی رد عمل مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔اے بی سی کے پروگرام دس ویک میں گفتگو کرتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مشیر ٹام باسرٹ نے کہا کہ نئے دور کے تقریباً ہر صدر کی جانب سے دی جانے والی کچھ معافیاں متنازع بن جاتی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ صدر اس بارے میں بالکل واضح رہے ہیں اور میں یقینی طور پر یہ نہیں سمجھتا کہ انہیں قانون کی بالادستی کی پروا نہ کرنے والا قرار دینا مناسب ہے۔شیرف ایرپائیو، صدرٹرمپ کی صدارتی مہم کے اولین حامیوں میں شامل تھے۔ وہ اور ٹرمپ دونوں ہی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت تر پالیسیوں کے حق میں دلائل دے چکے ہیں ۔
دوسری جانب ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً دو تہائی امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ قوم کو جوڑنے کی بجائے اسے تقسیم کررہے ہیں ۔امریکی یونیورسٹی کوانپیاک کے تحت کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں 62 فی صد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ قوم کو تقسیم کرنے کی جاب بڑھ رہے ہیں ۔ جب کہ 31 فیصد لوگوں کی رائے اس کے برعکس تھی۔سروے میں ان سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ وہ شارلٹس ویل کے واقعہ پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کو کس طرح دیکھتے ہیں ۔ 60 فی صد رائے دہندگان نے اسے مایوس کن قرار دیا۔ 32 فی صد نے کہا کہ وہ صدر کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں ۔59 فی صد لوگوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے رویے اور بیانات سے سفید فام بالادستی کے حامیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ صرف 3 فی صد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ صدر کے بیانات سے سفید فام بالا دستی کے حامیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔35 فی صد کی رائے میں صدر ٹرمپ کے بیانات کا نہ تو سفید فام بالادستی کے حامیوں اور نہ ہی اس سوچ کے مخالفین پر کوئی اثر ہوا۔


متعلقہ خبریں


ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

مضامین
انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

بھارت بنگلہ دیش تعلقات وجود جمعرات 23 اپریل 2026
بھارت بنگلہ دیش تعلقات

ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر