وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ۔ دس ہزار اساتذہ غیر حاضر

منگل 05 ستمبر 2017 سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ۔ دس ہزار اساتذہ غیر حاضر

کسی بھی قوم کی ترقی صرف تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے لیکن سندھ میں تعلیم کا بیڑا ہی غرق ہوگیا ہے۔ اس سے بڑھ کر صوبہ کی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ تعلیم کے اکثر وزراء ایسے بھی رہے جو گریجویٹ بھی نہیں تھے یا پھر ان کی گریجویشن تھرڈ ڈویژن کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانوں کو صوبے کی تعلیم سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ گزشتہ سال جب پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ہوگیا ہے تو اس وقت سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے کرارا جواب دیا تھا کہ سندھ میں تعلیم کی تباہی کی بنیاد خورشید شاہ نے ہی ڈالی تھی اور انہوں نے جن افراد کو ٹیچر بھرتی کیا تھا وہ نااہل تھے، ان کی وجہ سے آج ہم محکمہ تعلیم میں مشکلات دیکھ رہے ہیں ۔
سچی بات یہ ہے کہ خورشید شاہ نے بھی سچ بولا تھا اور فضل اللہ پیچوہو نے بھی حقائق بیان کیے تھے۔ کیونکہ 1988 ء میں جب پی پی کی حکومت بنی تھی تو اس وقت سید خورشید شاہ سندھ کے وزیر تعلیم بنے اور انہوں نے ہزاروں افراد کو ٹیچر بھرتی کیا، یہ تک نہ دیکھا کہ ان میں قابلیت ہے یا نہیں ؟ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سید خورشید شاہ کے اس اقدام پر پارٹی قیادت اور اس وقت کی حکومت سندھ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ جو سی گریڈ اور ڈی گریڈ والے بھرتی ہوئے ہیں ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔ یوں سینکڑوں افراد ملازمت سے ہٹا دیے گئے۔ سید خورشید شاہ نے جو تعلیم کی تباہی کا بیج بویا تھا ، آج اس کی فصل پک گئی ہے۔ اس کا نتیجہ اب صوبے کے عوام اور طلبہ بھگت رہے ہیں اور پھربعد میں تو ایسے وزراء بھی آئے جو تعلیم سے نابلد تھے ان کو وزیر تعلیم بنانے کا مقصد سندھ میں تعلیم کی تباہی تھا اور پھر جب آصف علی زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو کو سندھ کا سیکریٹری تعلیم بنایا گیا تو اس کے بعد سندھ کی تعلیم کا جنازہ ہی نکل گیا۔
کراچی میں 2500 سرکاری اسکول فروخت کردیے گئے۔ اربوں روپے کا بجٹ اپنی جیبوں میں ڈال دیا گیا۔ کرپٹ مافیا کو مسلط کیا گیا ۔ اور تو اور اس وقت کے وزیر تعلیم نثار کھوڑو کو بھی بے اختیار بنا دیا گیا۔ فضل اللہ پیچوہو جنگل کے بادشاہ تھے، ان کی جو بھی مرضی ہوتی تھی وہ کر گزرتے تھے۔ انہوں نے براہ راست گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹر بھرتی کیے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن جیسا ادارہ کیوں بنایا گیا تھا؟ اور پھر براہ راست ہیڈ ماسٹر بھرتی کرنے کے دوران جو بے قاعدگیاں کی گئیں ان کو بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ پہلے تعلیمی قابلیت مانگی گئی، اخبارات میں اشتہار دیا گیا پھر جب فرنٹ میں ’’لین دین‘‘ پر بات کرنے کے لیے آگے آئے تو انہیں پرکشش پیشکش کی گئی حتی کہ فضل اللہ پیچوہو نے اس سے کم ڈگری والوں کو بھی ہیڈ ماسٹر بنانے کے لیے تیار ہوگئے اور پھر میڈیا میں آکر کہہ دیا کہ اخبار میں جو اشتہار دیا گیا تھا اس میں تعلیمی قابلیت میں کچھ غلطی ہوئی ہے۔ اس طرح کھل کر رشوت کا بازار گرم کیا گیا ۔پھر ایک عالمی مالیاتی ادارے سے 80 ارب روپے کا قرض لیا گیا ۔قرض لینے کے لیے کہا تو یہ گیاکہ اس رقم سے سرکاری اسکولوں میں طلباء کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پرائمری اسکولوں میں بچوں کو کھانا کھلایا جائے گا۔ کیا ایسا عملی طور پر ممکن تھا؟ مگر اس نام پر بھی کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کیے گئے۔ یہ سارا معاملہ ہوگیا لیکن فضل اللہ پیچوہو سے کون پوچھتا؟ پھر آگے چل کر پانچ ہزار افراد تاریخی فراڈ کے ذریعے بھرتی کیے گیے۔ فراڈاس طرح کیاگیاکہ ان افراد کو دس پندرہ سال پہلے کا ملازم قرار دیا گیا اوران پر پرانے واجبات دلوائے گئے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے واجبات کی ادائی کا مطلب دراصل پرسنٹیج پر رقم کی تقسیم ہوتا ہے۔یہ کہانیاں ایسی ہیں جس پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ۔ پھر جو بجٹ مالی سال کے اختتام کے وقت بچ جاتا تھا وہ بھی ضلعی تعلیمی افسران سے مل کر اے جی سندھ کے ذریعہ نکلوایالیا جاتا۔ یوں وہ بچ جانے والا بجٹ بھی جیب میں چلا جاتا۔
صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں حاضرنہ ہونے والے اساتذہ کا قبلہ درست کرنے کے لیے سندھ کے تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک سسٹم نافذکرانے کافیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں جب سندھ بھر میں ’’علمی‘‘ نامی ایک نجی ادارے کے ذریعہ بائیو میٹرک کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ صوبہ بھر میں دس ہزار اساتذہ اسکول ہی نہیں جاتے ۔ اساتذہ اسکول ہی نہیں جائیں گے تو تعلیم کا بیڑا غرق بھی ہوگا۔ سندھ میں جب دس ہزار اساتذہ اسکول نہیں جائیں گے اور گھر بیٹھے تنخواہ لے لیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ غیرحاضر اساتذہ کی جب تنخواہ بند ہوئی تو پھر سب کی آنکھیں کھلیں کیونکہ اب بائیو میٹرک سسٹم میں کسی کی سفارش نہیں چل سکتی تھی ۔ مجبور ہوکر وہ اساتذہ بیدار ہوئے اور انہوں نے فوری طور پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے حکام سے رابطے کیے اور پھر سفارش کرانے لگے ہیں کہ ان کو بحال کیا جائے ان کو تنخواہ دی جائے اب وہ اسکول بھی جائیں گے اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے۔
مگر ان کے لیے ایک سسٹم بنا دیا گیا ہے کہ وہ گھر بیٹھے اپنے کوائف ’’علمی‘‘ کو واٹس اپ پر بھیجیں تاکہ ان کو محفوظ کیا جاسکے اور پھر ان کی تنخواہیں جاری کرنا شروع کردی گئی ہیں ۔ بائیو میٹرک سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب غیر حاضر اساتذہ بھی حاضر ہونا شروع ہوئے ہیں ۔’’ علمی‘‘ سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں روزانہ سینکڑوں اسکولوں کا بائیو میٹرک کررہی ہیں ، تین مرتبہ جو استاد غیر حاضر ہوتا ہے اس کی تنخواہ روک دی جاتی ہے اور پھر اس کو اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ خوتوبہ تائب کرکے راہ راست پرآجاتا ہے۔ سندھ میں تعلیم کی تباہی کے ہم سب ذمہ دار ہیں ، سندھ کے سیاستدان تعلیم کی ترقی میں دلچسپی نہیں لیتے اور وہ اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا حشر خراب ہے۔


متعلقہ خبریں


قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر