وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ۔ دس ہزار اساتذہ غیر حاضر

منگل 05 ستمبر 2017 سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ۔ دس ہزار اساتذہ غیر حاضر

کسی بھی قوم کی ترقی صرف تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے لیکن سندھ میں تعلیم کا بیڑا ہی غرق ہوگیا ہے۔ اس سے بڑھ کر صوبہ کی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ تعلیم کے اکثر وزراء ایسے بھی رہے جو گریجویٹ بھی نہیں تھے یا پھر ان کی گریجویشن تھرڈ ڈویژن کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانوں کو صوبے کی تعلیم سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ گزشتہ سال جب پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ہوگیا ہے تو اس وقت سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے کرارا جواب دیا تھا کہ سندھ میں تعلیم کی تباہی کی بنیاد خورشید شاہ نے ہی ڈالی تھی اور انہوں نے جن افراد کو ٹیچر بھرتی کیا تھا وہ نااہل تھے، ان کی وجہ سے آج ہم محکمہ تعلیم میں مشکلات دیکھ رہے ہیں ۔
سچی بات یہ ہے کہ خورشید شاہ نے بھی سچ بولا تھا اور فضل اللہ پیچوہو نے بھی حقائق بیان کیے تھے۔ کیونکہ 1988 ء میں جب پی پی کی حکومت بنی تھی تو اس وقت سید خورشید شاہ سندھ کے وزیر تعلیم بنے اور انہوں نے ہزاروں افراد کو ٹیچر بھرتی کیا، یہ تک نہ دیکھا کہ ان میں قابلیت ہے یا نہیں ؟ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سید خورشید شاہ کے اس اقدام پر پارٹی قیادت اور اس وقت کی حکومت سندھ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ جو سی گریڈ اور ڈی گریڈ والے بھرتی ہوئے ہیں ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔ یوں سینکڑوں افراد ملازمت سے ہٹا دیے گئے۔ سید خورشید شاہ نے جو تعلیم کی تباہی کا بیج بویا تھا ، آج اس کی فصل پک گئی ہے۔ اس کا نتیجہ اب صوبے کے عوام اور طلبہ بھگت رہے ہیں اور پھربعد میں تو ایسے وزراء بھی آئے جو تعلیم سے نابلد تھے ان کو وزیر تعلیم بنانے کا مقصد سندھ میں تعلیم کی تباہی تھا اور پھر جب آصف علی زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو کو سندھ کا سیکریٹری تعلیم بنایا گیا تو اس کے بعد سندھ کی تعلیم کا جنازہ ہی نکل گیا۔
کراچی میں 2500 سرکاری اسکول فروخت کردیے گئے۔ اربوں روپے کا بجٹ اپنی جیبوں میں ڈال دیا گیا۔ کرپٹ مافیا کو مسلط کیا گیا ۔ اور تو اور اس وقت کے وزیر تعلیم نثار کھوڑو کو بھی بے اختیار بنا دیا گیا۔ فضل اللہ پیچوہو جنگل کے بادشاہ تھے، ان کی جو بھی مرضی ہوتی تھی وہ کر گزرتے تھے۔ انہوں نے براہ راست گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹر بھرتی کیے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن جیسا ادارہ کیوں بنایا گیا تھا؟ اور پھر براہ راست ہیڈ ماسٹر بھرتی کرنے کے دوران جو بے قاعدگیاں کی گئیں ان کو بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ پہلے تعلیمی قابلیت مانگی گئی، اخبارات میں اشتہار دیا گیا پھر جب فرنٹ میں ’’لین دین‘‘ پر بات کرنے کے لیے آگے آئے تو انہیں پرکشش پیشکش کی گئی حتی کہ فضل اللہ پیچوہو نے اس سے کم ڈگری والوں کو بھی ہیڈ ماسٹر بنانے کے لیے تیار ہوگئے اور پھر میڈیا میں آکر کہہ دیا کہ اخبار میں جو اشتہار دیا گیا تھا اس میں تعلیمی قابلیت میں کچھ غلطی ہوئی ہے۔ اس طرح کھل کر رشوت کا بازار گرم کیا گیا ۔پھر ایک عالمی مالیاتی ادارے سے 80 ارب روپے کا قرض لیا گیا ۔قرض لینے کے لیے کہا تو یہ گیاکہ اس رقم سے سرکاری اسکولوں میں طلباء کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پرائمری اسکولوں میں بچوں کو کھانا کھلایا جائے گا۔ کیا ایسا عملی طور پر ممکن تھا؟ مگر اس نام پر بھی کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کیے گئے۔ یہ سارا معاملہ ہوگیا لیکن فضل اللہ پیچوہو سے کون پوچھتا؟ پھر آگے چل کر پانچ ہزار افراد تاریخی فراڈ کے ذریعے بھرتی کیے گیے۔ فراڈاس طرح کیاگیاکہ ان افراد کو دس پندرہ سال پہلے کا ملازم قرار دیا گیا اوران پر پرانے واجبات دلوائے گئے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے واجبات کی ادائی کا مطلب دراصل پرسنٹیج پر رقم کی تقسیم ہوتا ہے۔یہ کہانیاں ایسی ہیں جس پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ۔ پھر جو بجٹ مالی سال کے اختتام کے وقت بچ جاتا تھا وہ بھی ضلعی تعلیمی افسران سے مل کر اے جی سندھ کے ذریعہ نکلوایالیا جاتا۔ یوں وہ بچ جانے والا بجٹ بھی جیب میں چلا جاتا۔
صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں حاضرنہ ہونے والے اساتذہ کا قبلہ درست کرنے کے لیے سندھ کے تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک سسٹم نافذکرانے کافیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں جب سندھ بھر میں ’’علمی‘‘ نامی ایک نجی ادارے کے ذریعہ بائیو میٹرک کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ صوبہ بھر میں دس ہزار اساتذہ اسکول ہی نہیں جاتے ۔ اساتذہ اسکول ہی نہیں جائیں گے تو تعلیم کا بیڑا غرق بھی ہوگا۔ سندھ میں جب دس ہزار اساتذہ اسکول نہیں جائیں گے اور گھر بیٹھے تنخواہ لے لیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ غیرحاضر اساتذہ کی جب تنخواہ بند ہوئی تو پھر سب کی آنکھیں کھلیں کیونکہ اب بائیو میٹرک سسٹم میں کسی کی سفارش نہیں چل سکتی تھی ۔ مجبور ہوکر وہ اساتذہ بیدار ہوئے اور انہوں نے فوری طور پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے حکام سے رابطے کیے اور پھر سفارش کرانے لگے ہیں کہ ان کو بحال کیا جائے ان کو تنخواہ دی جائے اب وہ اسکول بھی جائیں گے اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے۔
مگر ان کے لیے ایک سسٹم بنا دیا گیا ہے کہ وہ گھر بیٹھے اپنے کوائف ’’علمی‘‘ کو واٹس اپ پر بھیجیں تاکہ ان کو محفوظ کیا جاسکے اور پھر ان کی تنخواہیں جاری کرنا شروع کردی گئی ہیں ۔ بائیو میٹرک سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب غیر حاضر اساتذہ بھی حاضر ہونا شروع ہوئے ہیں ۔’’ علمی‘‘ سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں روزانہ سینکڑوں اسکولوں کا بائیو میٹرک کررہی ہیں ، تین مرتبہ جو استاد غیر حاضر ہوتا ہے اس کی تنخواہ روک دی جاتی ہے اور پھر اس کو اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ خوتوبہ تائب کرکے راہ راست پرآجاتا ہے۔ سندھ میں تعلیم کی تباہی کے ہم سب ذمہ دار ہیں ، سندھ کے سیاستدان تعلیم کی ترقی میں دلچسپی نہیں لیتے اور وہ اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا حشر خراب ہے۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر