... loading ...
کسی بھی قوم کی ترقی صرف تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے لیکن سندھ میں تعلیم کا بیڑا ہی غرق ہوگیا ہے۔ اس سے بڑھ کر صوبہ کی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ تعلیم کے اکثر وزراء ایسے بھی رہے جو گریجویٹ بھی نہیں تھے یا پھر ان کی گریجویشن تھرڈ ڈویژن کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانوں کو صوبے کی تعلیم سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ گزشتہ سال جب پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ہوگیا ہے تو اس وقت سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے کرارا جواب دیا تھا کہ سندھ میں تعلیم کی تباہی کی بنیاد خورشید شاہ نے ہی ڈالی تھی اور انہوں نے جن افراد کو ٹیچر بھرتی کیا تھا وہ نااہل تھے، ان کی وجہ سے آج ہم محکمہ تعلیم میں مشکلات دیکھ رہے ہیں ۔
سچی بات یہ ہے کہ خورشید شاہ نے بھی سچ بولا تھا اور فضل اللہ پیچوہو نے بھی حقائق بیان کیے تھے۔ کیونکہ 1988 ء میں جب پی پی کی حکومت بنی تھی تو اس وقت سید خورشید شاہ سندھ کے وزیر تعلیم بنے اور انہوں نے ہزاروں افراد کو ٹیچر بھرتی کیا، یہ تک نہ دیکھا کہ ان میں قابلیت ہے یا نہیں ؟ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سید خورشید شاہ کے اس اقدام پر پارٹی قیادت اور اس وقت کی حکومت سندھ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ جو سی گریڈ اور ڈی گریڈ والے بھرتی ہوئے ہیں ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔ یوں سینکڑوں افراد ملازمت سے ہٹا دیے گئے۔ سید خورشید شاہ نے جو تعلیم کی تباہی کا بیج بویا تھا ، آج اس کی فصل پک گئی ہے۔ اس کا نتیجہ اب صوبے کے عوام اور طلبہ بھگت رہے ہیں اور پھربعد میں تو ایسے وزراء بھی آئے جو تعلیم سے نابلد تھے ان کو وزیر تعلیم بنانے کا مقصد سندھ میں تعلیم کی تباہی تھا اور پھر جب آصف علی زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو کو سندھ کا سیکریٹری تعلیم بنایا گیا تو اس کے بعد سندھ کی تعلیم کا جنازہ ہی نکل گیا۔
کراچی میں 2500 سرکاری اسکول فروخت کردیے گئے۔ اربوں روپے کا بجٹ اپنی جیبوں میں ڈال دیا گیا۔ کرپٹ مافیا کو مسلط کیا گیا ۔ اور تو اور اس وقت کے وزیر تعلیم نثار کھوڑو کو بھی بے اختیار بنا دیا گیا۔ فضل اللہ پیچوہو جنگل کے بادشاہ تھے، ان کی جو بھی مرضی ہوتی تھی وہ کر گزرتے تھے۔ انہوں نے براہ راست گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹر بھرتی کیے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن جیسا ادارہ کیوں بنایا گیا تھا؟ اور پھر براہ راست ہیڈ ماسٹر بھرتی کرنے کے دوران جو بے قاعدگیاں کی گئیں ان کو بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ پہلے تعلیمی قابلیت مانگی گئی، اخبارات میں اشتہار دیا گیا پھر جب فرنٹ میں ’’لین دین‘‘ پر بات کرنے کے لیے آگے آئے تو انہیں پرکشش پیشکش کی گئی حتی کہ فضل اللہ پیچوہو نے اس سے کم ڈگری والوں کو بھی ہیڈ ماسٹر بنانے کے لیے تیار ہوگئے اور پھر میڈیا میں آکر کہہ دیا کہ اخبار میں جو اشتہار دیا گیا تھا اس میں تعلیمی قابلیت میں کچھ غلطی ہوئی ہے۔ اس طرح کھل کر رشوت کا بازار گرم کیا گیا ۔پھر ایک عالمی مالیاتی ادارے سے 80 ارب روپے کا قرض لیا گیا ۔قرض لینے کے لیے کہا تو یہ گیاکہ اس رقم سے سرکاری اسکولوں میں طلباء کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پرائمری اسکولوں میں بچوں کو کھانا کھلایا جائے گا۔ کیا ایسا عملی طور پر ممکن تھا؟ مگر اس نام پر بھی کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کیے گئے۔ یہ سارا معاملہ ہوگیا لیکن فضل اللہ پیچوہو سے کون پوچھتا؟ پھر آگے چل کر پانچ ہزار افراد تاریخی فراڈ کے ذریعے بھرتی کیے گیے۔ فراڈاس طرح کیاگیاکہ ان افراد کو دس پندرہ سال پہلے کا ملازم قرار دیا گیا اوران پر پرانے واجبات دلوائے گئے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے واجبات کی ادائی کا مطلب دراصل پرسنٹیج پر رقم کی تقسیم ہوتا ہے۔یہ کہانیاں ایسی ہیں جس پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ۔ پھر جو بجٹ مالی سال کے اختتام کے وقت بچ جاتا تھا وہ بھی ضلعی تعلیمی افسران سے مل کر اے جی سندھ کے ذریعہ نکلوایالیا جاتا۔ یوں وہ بچ جانے والا بجٹ بھی جیب میں چلا جاتا۔
صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں حاضرنہ ہونے والے اساتذہ کا قبلہ درست کرنے کے لیے سندھ کے تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک سسٹم نافذکرانے کافیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں جب سندھ بھر میں ’’علمی‘‘ نامی ایک نجی ادارے کے ذریعہ بائیو میٹرک کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ صوبہ بھر میں دس ہزار اساتذہ اسکول ہی نہیں جاتے ۔ اساتذہ اسکول ہی نہیں جائیں گے تو تعلیم کا بیڑا غرق بھی ہوگا۔ سندھ میں جب دس ہزار اساتذہ اسکول نہیں جائیں گے اور گھر بیٹھے تنخواہ لے لیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ غیرحاضر اساتذہ کی جب تنخواہ بند ہوئی تو پھر سب کی آنکھیں کھلیں کیونکہ اب بائیو میٹرک سسٹم میں کسی کی سفارش نہیں چل سکتی تھی ۔ مجبور ہوکر وہ اساتذہ بیدار ہوئے اور انہوں نے فوری طور پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے حکام سے رابطے کیے اور پھر سفارش کرانے لگے ہیں کہ ان کو بحال کیا جائے ان کو تنخواہ دی جائے اب وہ اسکول بھی جائیں گے اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے۔
مگر ان کے لیے ایک سسٹم بنا دیا گیا ہے کہ وہ گھر بیٹھے اپنے کوائف ’’علمی‘‘ کو واٹس اپ پر بھیجیں تاکہ ان کو محفوظ کیا جاسکے اور پھر ان کی تنخواہیں جاری کرنا شروع کردی گئی ہیں ۔ بائیو میٹرک سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب غیر حاضر اساتذہ بھی حاضر ہونا شروع ہوئے ہیں ۔’’ علمی‘‘ سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں روزانہ سینکڑوں اسکولوں کا بائیو میٹرک کررہی ہیں ، تین مرتبہ جو استاد غیر حاضر ہوتا ہے اس کی تنخواہ روک دی جاتی ہے اور پھر اس کو اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ خوتوبہ تائب کرکے راہ راست پرآجاتا ہے۔ سندھ میں تعلیم کی تباہی کے ہم سب ذمہ دار ہیں ، سندھ کے سیاستدان تعلیم کی ترقی میں دلچسپی نہیں لیتے اور وہ اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا حشر خراب ہے۔
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...
غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...
جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...
تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...
ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...
بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...
عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...
تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...
پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...
نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...
متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...