وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ۔ دس ہزار اساتذہ غیر حاضر

منگل 05 ستمبر 2017 سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ۔ دس ہزار اساتذہ غیر حاضر

کسی بھی قوم کی ترقی صرف تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے لیکن سندھ میں تعلیم کا بیڑا ہی غرق ہوگیا ہے۔ اس سے بڑھ کر صوبہ کی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ تعلیم کے اکثر وزراء ایسے بھی رہے جو گریجویٹ بھی نہیں تھے یا پھر ان کی گریجویشن تھرڈ ڈویژن کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانوں کو صوبے کی تعلیم سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ گزشتہ سال جب پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سندھ میں تعلیم کا بیڑا غرق ہوگیا ہے تو اس وقت سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے کرارا جواب دیا تھا کہ سندھ میں تعلیم کی تباہی کی بنیاد خورشید شاہ نے ہی ڈالی تھی اور انہوں نے جن افراد کو ٹیچر بھرتی کیا تھا وہ نااہل تھے، ان کی وجہ سے آج ہم محکمہ تعلیم میں مشکلات دیکھ رہے ہیں ۔
سچی بات یہ ہے کہ خورشید شاہ نے بھی سچ بولا تھا اور فضل اللہ پیچوہو نے بھی حقائق بیان کیے تھے۔ کیونکہ 1988 ء میں جب پی پی کی حکومت بنی تھی تو اس وقت سید خورشید شاہ سندھ کے وزیر تعلیم بنے اور انہوں نے ہزاروں افراد کو ٹیچر بھرتی کیا، یہ تک نہ دیکھا کہ ان میں قابلیت ہے یا نہیں ؟ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سید خورشید شاہ کے اس اقدام پر پارٹی قیادت اور اس وقت کی حکومت سندھ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ جو سی گریڈ اور ڈی گریڈ والے بھرتی ہوئے ہیں ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔ یوں سینکڑوں افراد ملازمت سے ہٹا دیے گئے۔ سید خورشید شاہ نے جو تعلیم کی تباہی کا بیج بویا تھا ، آج اس کی فصل پک گئی ہے۔ اس کا نتیجہ اب صوبے کے عوام اور طلبہ بھگت رہے ہیں اور پھربعد میں تو ایسے وزراء بھی آئے جو تعلیم سے نابلد تھے ان کو وزیر تعلیم بنانے کا مقصد سندھ میں تعلیم کی تباہی تھا اور پھر جب آصف علی زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو کو سندھ کا سیکریٹری تعلیم بنایا گیا تو اس کے بعد سندھ کی تعلیم کا جنازہ ہی نکل گیا۔
کراچی میں 2500 سرکاری اسکول فروخت کردیے گئے۔ اربوں روپے کا بجٹ اپنی جیبوں میں ڈال دیا گیا۔ کرپٹ مافیا کو مسلط کیا گیا ۔ اور تو اور اس وقت کے وزیر تعلیم نثار کھوڑو کو بھی بے اختیار بنا دیا گیا۔ فضل اللہ پیچوہو جنگل کے بادشاہ تھے، ان کی جو بھی مرضی ہوتی تھی وہ کر گزرتے تھے۔ انہوں نے براہ راست گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹر بھرتی کیے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن جیسا ادارہ کیوں بنایا گیا تھا؟ اور پھر براہ راست ہیڈ ماسٹر بھرتی کرنے کے دوران جو بے قاعدگیاں کی گئیں ان کو بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ پہلے تعلیمی قابلیت مانگی گئی، اخبارات میں اشتہار دیا گیا پھر جب فرنٹ میں ’’لین دین‘‘ پر بات کرنے کے لیے آگے آئے تو انہیں پرکشش پیشکش کی گئی حتی کہ فضل اللہ پیچوہو نے اس سے کم ڈگری والوں کو بھی ہیڈ ماسٹر بنانے کے لیے تیار ہوگئے اور پھر میڈیا میں آکر کہہ دیا کہ اخبار میں جو اشتہار دیا گیا تھا اس میں تعلیمی قابلیت میں کچھ غلطی ہوئی ہے۔ اس طرح کھل کر رشوت کا بازار گرم کیا گیا ۔پھر ایک عالمی مالیاتی ادارے سے 80 ارب روپے کا قرض لیا گیا ۔قرض لینے کے لیے کہا تو یہ گیاکہ اس رقم سے سرکاری اسکولوں میں طلباء کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پرائمری اسکولوں میں بچوں کو کھانا کھلایا جائے گا۔ کیا ایسا عملی طور پر ممکن تھا؟ مگر اس نام پر بھی کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کیے گئے۔ یہ سارا معاملہ ہوگیا لیکن فضل اللہ پیچوہو سے کون پوچھتا؟ پھر آگے چل کر پانچ ہزار افراد تاریخی فراڈ کے ذریعے بھرتی کیے گیے۔ فراڈاس طرح کیاگیاکہ ان افراد کو دس پندرہ سال پہلے کا ملازم قرار دیا گیا اوران پر پرانے واجبات دلوائے گئے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے واجبات کی ادائی کا مطلب دراصل پرسنٹیج پر رقم کی تقسیم ہوتا ہے۔یہ کہانیاں ایسی ہیں جس پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ۔ پھر جو بجٹ مالی سال کے اختتام کے وقت بچ جاتا تھا وہ بھی ضلعی تعلیمی افسران سے مل کر اے جی سندھ کے ذریعہ نکلوایالیا جاتا۔ یوں وہ بچ جانے والا بجٹ بھی جیب میں چلا جاتا۔
صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں حاضرنہ ہونے والے اساتذہ کا قبلہ درست کرنے کے لیے سندھ کے تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک سسٹم نافذکرانے کافیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں جب سندھ بھر میں ’’علمی‘‘ نامی ایک نجی ادارے کے ذریعہ بائیو میٹرک کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ صوبہ بھر میں دس ہزار اساتذہ اسکول ہی نہیں جاتے ۔ اساتذہ اسکول ہی نہیں جائیں گے تو تعلیم کا بیڑا غرق بھی ہوگا۔ سندھ میں جب دس ہزار اساتذہ اسکول نہیں جائیں گے اور گھر بیٹھے تنخواہ لے لیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ غیرحاضر اساتذہ کی جب تنخواہ بند ہوئی تو پھر سب کی آنکھیں کھلیں کیونکہ اب بائیو میٹرک سسٹم میں کسی کی سفارش نہیں چل سکتی تھی ۔ مجبور ہوکر وہ اساتذہ بیدار ہوئے اور انہوں نے فوری طور پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے حکام سے رابطے کیے اور پھر سفارش کرانے لگے ہیں کہ ان کو بحال کیا جائے ان کو تنخواہ دی جائے اب وہ اسکول بھی جائیں گے اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے۔
مگر ان کے لیے ایک سسٹم بنا دیا گیا ہے کہ وہ گھر بیٹھے اپنے کوائف ’’علمی‘‘ کو واٹس اپ پر بھیجیں تاکہ ان کو محفوظ کیا جاسکے اور پھر ان کی تنخواہیں جاری کرنا شروع کردی گئی ہیں ۔ بائیو میٹرک سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب غیر حاضر اساتذہ بھی حاضر ہونا شروع ہوئے ہیں ۔’’ علمی‘‘ سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں روزانہ سینکڑوں اسکولوں کا بائیو میٹرک کررہی ہیں ، تین مرتبہ جو استاد غیر حاضر ہوتا ہے اس کی تنخواہ روک دی جاتی ہے اور پھر اس کو اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ خوتوبہ تائب کرکے راہ راست پرآجاتا ہے۔ سندھ میں تعلیم کی تباہی کے ہم سب ذمہ دار ہیں ، سندھ کے سیاستدان تعلیم کی ترقی میں دلچسپی نہیں لیتے اور وہ اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا حشر خراب ہے۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت وجود - اتوار 08 نومبر 2026

حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کینیسٹ کو توڑ دیا جائے گا اور دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے، صدر اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیدی۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران جنگ چھیڑنے والے نیتن یاہو حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ اسرائیلی ا...

نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر