... loading ...
حکومت سندھ نے نیب کے قوانین سندھ سے ختم کردیے مگر سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد حکومت سندھ کے تمام خواب چکنا چور ہونا شروع ہوگئے کیونکہ حکومت سندھ نے جن کرپٹ افراد کو بچانے کے لیے نیب کے قوانین ختم کرنے کی قانون سازی کی تھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت شاذر شمعون، منظور کاکا، ثاقب سومرو، اویس مظفر ٹپی، ضیاء الحسن لنجار، فقیر داد کھوسو سمیت 65 سے زائد ان شخصیات کو بچانا چاہتی ہے جن پر کرپشن کے الزامات ہیں ۔ اسی لیے جلدبازی میں قانون سازی کی گئی۔ لیکن جب سندھ ہائی کورٹ نے واضح حکم دیا کہ نیب تمام پرانی انکوائریز اور مقدمات کی تفتیش مکمل کرے تو حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کی قیادت میں صف ماتم بچھ گئی کیونکہ پی پی کی قیادت اپنے منظورنظر 65 افراد کو بچانے میں ناکام رہی۔یہی نہیں سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو یہ بھی حکم دیاہے کہ وہ ان افراد کے نام پیش کرے جن کے خلاف مقدمات احتساب عدالتوں میں چل رہے ہیں جس کے بعد نیب نے 1560 افراد کی فہرست سندھ ہائی کورٹ میں پیش کردی۔
نیب کی فہرست میں درج ناموں کے حوالے سے ہائیکورٹ نے جب حکومت سندھ سے پوچھا کہ ان افراد کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ہے؟ تو حکومت سندھ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ حکومت سندھ ایسے کسی افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی جس نے نیب کے ساتھ پلی بار گین کی ہے کیونکہ حکومت سندھ سمجھتی ہے کہ نیب کے قوانین غیر منصفانہ ہیں اور اب تو نیب کے قوانین سندھ میں ختم ہوگئے ہیں ۔ جن افسران کو نیب یا احتساب عدالت نے کوئی سزا دی ہے تو حکومت سندھ اُنہیں کوئی سزا نہیں دے گی کیونکہ ایک جرم کی دو سزائیں نہیں ہوسکتیں ۔ اس جواب کے بعد اب حکومت سندھ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کیا حکم دیتی ہے وہ توبعدمیں سامنے آئے گا۔
تاہم حکومت سندھ نے واضح کردیا ہے کہ اب وہ کرپٹ افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ حکومت سندھ ’’گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو بھوکا مرے گا‘‘ کے مصداق اگر کرپشن کے خلاف کارروائی کرے گی تو پھر اس کا پیٹ کیسے بھرے گا؟ حکومت سندھ کو گزشتہ سال نیب نے بذریعہ سپریم کورٹ 563 افسران کی فہرست دی تھی کہ ان افسران نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی ہے لیکن حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کسی بھی افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان میں کئی افسران پی پی کے ارکان پارلیمنٹ، وزرا اور پارٹی کے سینئر عہدیداروں کی قریبی رشتہ دار ہیں پی پی نے اس وقت بھی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیاتھا۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے دو بہنوئی اعجاز شاہ اور مہدی شاہ بھی نیب سے پلی بار گین کرچکے ہیں ۔ اب ان کے خلاف کون کارروائی کون کرے گا؟ لیکن اب جب سندھ ہائی کورٹ نے 1560 افسران اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کے لیے کہا تو حکومت سندھ کی جانب سے انکاریقینی تھااوراس نے کارروائی سے قطعی انکار بھی کیا۔ اس انکار کی وجہ صاف ظاہر ہے کیونکہ کسی بھی افسر نے انفرادی طورپر کرپشن نہیں کی ہے بلکہ انہوں نے تو ’’باجماعت‘‘ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اس لیے اگر حکومت سندھ کسی افسر کے خلاف کارروائی کرتی ہے امکان ہے کہ وہ افسر اعلی عدالتوں کو صاف بتا دے گا کہ جناب میں نے اکیلے کرپشن نہیں کی بلکہ میرے ساتھ بڑے بڑے لوگ بھی شامل تھے اور پھر کئی شرفا ء کے چہروں سے نقاب اترے گا اور کئی خفیہ چہرے بھی سامنے آئیں گے۔ کئی انکشافات ہوں گے۔
اس قسم کی صورت حال سے بچنے کے لیے حکومت سندھ نے افسران کو پیغام دے دیا ہے کہ دیکھو حکومت سندھ عدالتوں میں پریشان ضرور ہو رہی ہے لیکن کسی ’’کماؤ پوت‘‘ افسر کو پریشان نہیں کر رہی ہے بلکہ ان کا باقاعدہ تحفظ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے وہ افسران بالکل نہ ڈریں جو کچھ ہوگا ، اس کا سامنا حکومت سندھ خود کرے گی۔ حکومت سندھ کے اس پیغام کے بعد کرپشن میں ملوث افسران بھی دلیر بن گئے ہیں اور اب ان کو یقین ہو چلا ہے کہ انہیں کچھ بھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کے تحفظ کے لیے حکومت سندھ ہمہ وقت تیار ہے۔ ان افسران کے بچنے سے حکومت سندھ بچ جائے گی ورنہ پھر پارٹی کے اہم رہنما اور حکومت میں شامل کئی لوگ بے نقاب ہوں گے جس سے پارٹی اور صوبائی قیادت کے لیے مشکلات پیداہوں گی۔ نیب نے حکومت سندھ کی پالیسی کو دیکھ کر فوری طور پر التوا میں پڑی ہوئی انکوائریز اور تفتیش مکمل کرنے کا کام تیزی سے شروع کر دیا ہے اور جو دستاویزات حکومت سندھ کو مطلوب ہیں وہ حکومت سندھ سے مانگی جا رہی ہیں ۔صوبائی محکمے بھی نیب کے ساتھ کھل کر تعاون کر رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کہاں جا کر ختم ہوتا ہے۔
نیب حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ نیب وفاقی قانون کے تحت معرض وجود میں آیا تھا اس لیے اس کو صوبائی قانون کے تحت ختم نہیں کیا جاسکتا۔ صوبائی حکومت چاہے کیسے بھی قانون بنائے اور جو بھی اقدام اٹھائے لیکن نیب پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نیب اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ نیب صوبائی حکومت کے کہنے پر اپنا کام ختم یا بند نہیں کرے گا۔ اس صورتحال پر حکومت سندھ واقعی پریشان ہے کیونکہ حکومت سندھ جن اہم شخصیات کو بچانا چاہتی تھی اُس میں وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اس صورتِ حال پر حکومت سندھ کو ایڈووکیٹ جنرل نے جو قانونی رائے دی ہے اس میں بھی یہی کہا ہے کہ نیب التواء میں پڑی ہوئی تمام پرانی انکوائریز مکمل کرنے کے لیے صوبائی محکموں سے ریکارڈ لے سکتا ہے۔ البتہ نیب نئی انکوائری کے لیے کوئی ریکارڈ نہیں لے سکتا۔ یعنی پرانی انکوائری جائز اور نئی انکوائری نا جائز ہوگئی ہیں ۔ ایسا شاید پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔
حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر 1560 افراد کے خلاف کارروائی نہ کرکے ثابت کیا ہے کہ حکومت سندھ ’’کرپٹ دوست‘‘ حکومت ہے اس کا میرٹ، ایمانداری، قابلیت، محنت سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ہر اس کرپٹ افسر اور سیاسی رہنما کی دوست ہے جو خود کماتا ہے مگر ساتھ ساتھ حکومت سندھ اور پی پی قیادت کو کھلاتا ہے اس کے تحفظ کے لیے حکومت سندھ ہر محاذ پر لڑنے پر تیار ہے اور وہ افسر اور سیاسی رہنما خود کو اس کھیل میں تنہا نہ سمجھیں ۔ حکومت سندھ ایسے افراد کے لیے ڈھال بن جائے گی۔ حکومت سندھ کے ایسے اقدام سے اچھی شہرت رکھنے والے افراد مایوس ہوئے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...