وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حکومت سندھ کا نیب زدہ افسران کو ہٹانے سے انکار

جمعه 01 ستمبر 2017 حکومت سندھ کا نیب زدہ افسران کو ہٹانے سے انکار

حکومت سندھ نے نیب کے قوانین سندھ سے ختم کردیے مگر سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد حکومت سندھ کے تمام خواب چکنا چور ہونا شروع ہوگئے کیونکہ حکومت سندھ نے جن کرپٹ افراد کو بچانے کے لیے نیب کے قوانین ختم کرنے کی قانون سازی کی تھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت شاذر شمعون، منظور کاکا، ثاقب سومرو، اویس مظفر ٹپی، ضیاء الحسن لنجار، فقیر داد کھوسو سمیت 65 سے زائد ان شخصیات کو بچانا چاہتی ہے جن پر کرپشن کے الزامات ہیں ۔ اسی لیے جلدبازی میں قانون سازی کی گئی۔ لیکن جب سندھ ہائی کورٹ نے واضح حکم دیا کہ نیب تمام پرانی انکوائریز اور مقدمات کی تفتیش مکمل کرے تو حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کی قیادت میں صف ماتم بچھ گئی کیونکہ پی پی کی قیادت اپنے منظورنظر 65 افراد کو بچانے میں ناکام رہی۔یہی نہیں سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو یہ بھی حکم دیاہے کہ وہ ان افراد کے نام پیش کرے جن کے خلاف مقدمات احتساب عدالتوں میں چل رہے ہیں جس کے بعد نیب نے 1560 افراد کی فہرست سندھ ہائی کورٹ میں پیش کردی۔
نیب کی فہرست میں درج ناموں کے حوالے سے ہائیکورٹ نے جب حکومت سندھ سے پوچھا کہ ان افراد کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ہے؟ تو حکومت سندھ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ حکومت سندھ ایسے کسی افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی جس نے نیب کے ساتھ پلی بار گین کی ہے کیونکہ حکومت سندھ سمجھتی ہے کہ نیب کے قوانین غیر منصفانہ ہیں اور اب تو نیب کے قوانین سندھ میں ختم ہوگئے ہیں ۔ جن افسران کو نیب یا احتساب عدالت نے کوئی سزا دی ہے تو حکومت سندھ اُنہیں کوئی سزا نہیں دے گی کیونکہ ایک جرم کی دو سزائیں نہیں ہوسکتیں ۔ اس جواب کے بعد اب حکومت سندھ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کیا حکم دیتی ہے وہ توبعدمیں سامنے آئے گا۔
تاہم حکومت سندھ نے واضح کردیا ہے کہ اب وہ کرپٹ افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ حکومت سندھ ’’گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو بھوکا مرے گا‘‘ کے مصداق اگر کرپشن کے خلاف کارروائی کرے گی تو پھر اس کا پیٹ کیسے بھرے گا؟ حکومت سندھ کو گزشتہ سال نیب نے بذریعہ سپریم کورٹ 563 افسران کی فہرست دی تھی کہ ان افسران نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی ہے لیکن حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کسی بھی افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان میں کئی افسران پی پی کے ارکان پارلیمنٹ، وزرا اور پارٹی کے سینئر عہدیداروں کی قریبی رشتہ دار ہیں پی پی نے اس وقت بھی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیاتھا۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے دو بہنوئی اعجاز شاہ اور مہدی شاہ بھی نیب سے پلی بار گین کرچکے ہیں ۔ اب ان کے خلاف کون کارروائی کون کرے گا؟ لیکن اب جب سندھ ہائی کورٹ نے 1560 افسران اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کے لیے کہا تو حکومت سندھ کی جانب سے انکاریقینی تھااوراس نے کارروائی سے قطعی انکار بھی کیا۔ اس انکار کی وجہ صاف ظاہر ہے کیونکہ کسی بھی افسر نے انفرادی طورپر کرپشن نہیں کی ہے بلکہ انہوں نے تو ’’باجماعت‘‘ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اس لیے اگر حکومت سندھ کسی افسر کے خلاف کارروائی کرتی ہے امکان ہے کہ وہ افسر اعلی عدالتوں کو صاف بتا دے گا کہ جناب میں نے اکیلے کرپشن نہیں کی بلکہ میرے ساتھ بڑے بڑے لوگ بھی شامل تھے اور پھر کئی شرفا ء کے چہروں سے نقاب اترے گا اور کئی خفیہ چہرے بھی سامنے آئیں گے۔ کئی انکشافات ہوں گے۔
اس قسم کی صورت حال سے بچنے کے لیے حکومت سندھ نے افسران کو پیغام دے دیا ہے کہ دیکھو حکومت سندھ عدالتوں میں پریشان ضرور ہو رہی ہے لیکن کسی ’’کماؤ پوت‘‘ افسر کو پریشان نہیں کر رہی ہے بلکہ ان کا باقاعدہ تحفظ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے وہ افسران بالکل نہ ڈریں جو کچھ ہوگا ، اس کا سامنا حکومت سندھ خود کرے گی۔ حکومت سندھ کے اس پیغام کے بعد کرپشن میں ملوث افسران بھی دلیر بن گئے ہیں اور اب ان کو یقین ہو چلا ہے کہ انہیں کچھ بھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کے تحفظ کے لیے حکومت سندھ ہمہ وقت تیار ہے۔ ان افسران کے بچنے سے حکومت سندھ بچ جائے گی ورنہ پھر پارٹی کے اہم رہنما اور حکومت میں شامل کئی لوگ بے نقاب ہوں گے جس سے پارٹی اور صوبائی قیادت کے لیے مشکلات پیداہوں گی۔ نیب نے حکومت سندھ کی پالیسی کو دیکھ کر فوری طور پر التوا میں پڑی ہوئی انکوائریز اور تفتیش مکمل کرنے کا کام تیزی سے شروع کر دیا ہے اور جو دستاویزات حکومت سندھ کو مطلوب ہیں وہ حکومت سندھ سے مانگی جا رہی ہیں ۔صوبائی محکمے بھی نیب کے ساتھ کھل کر تعاون کر رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کہاں جا کر ختم ہوتا ہے۔
نیب حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ نیب وفاقی قانون کے تحت معرض وجود میں آیا تھا اس لیے اس کو صوبائی قانون کے تحت ختم نہیں کیا جاسکتا۔ صوبائی حکومت چاہے کیسے بھی قانون بنائے اور جو بھی اقدام اٹھائے لیکن نیب پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نیب اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ نیب صوبائی حکومت کے کہنے پر اپنا کام ختم یا بند نہیں کرے گا۔ اس صورتحال پر حکومت سندھ واقعی پریشان ہے کیونکہ حکومت سندھ جن اہم شخصیات کو بچانا چاہتی تھی اُس میں وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اس صورتِ حال پر حکومت سندھ کو ایڈووکیٹ جنرل نے جو قانونی رائے دی ہے اس میں بھی یہی کہا ہے کہ نیب التواء میں پڑی ہوئی تمام پرانی انکوائریز مکمل کرنے کے لیے صوبائی محکموں سے ریکارڈ لے سکتا ہے۔ البتہ نیب نئی انکوائری کے لیے کوئی ریکارڈ نہیں لے سکتا۔ یعنی پرانی انکوائری جائز اور نئی انکوائری نا جائز ہوگئی ہیں ۔ ایسا شاید پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔
حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر 1560 افراد کے خلاف کارروائی نہ کرکے ثابت کیا ہے کہ حکومت سندھ ’’کرپٹ دوست‘‘ حکومت ہے اس کا میرٹ، ایمانداری، قابلیت، محنت سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ہر اس کرپٹ افسر اور سیاسی رہنما کی دوست ہے جو خود کماتا ہے مگر ساتھ ساتھ حکومت سندھ اور پی پی قیادت کو کھلاتا ہے اس کے تحفظ کے لیے حکومت سندھ ہر محاذ پر لڑنے پر تیار ہے اور وہ افسر اور سیاسی رہنما خود کو اس کھیل میں تنہا نہ سمجھیں ۔ حکومت سندھ ایسے افراد کے لیے ڈھال بن جائے گی۔ حکومت سندھ کے ایسے اقدام سے اچھی شہرت رکھنے والے افراد مایوس ہوئے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی وزیرخارجہ نے ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ’’دھوکا دہی اور ابہام‘‘ سے کام لینے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنی حساس جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تاخیری حربے استعمال کررہا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے ایران پر زور دیا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور اس کے معائنہ کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کے دمام میں ایک دو شیزہ کا اپنے والد کے نام مکتوب سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد اس پر تحائف کی بارش کردی۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے شہردمام سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اپنے والد کو شادی سے چند دن قبل ایک مکتوب لکھا جس میں ان سے کہا کہ اس کی شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں۔ اس کا حق مہر25 ہزار ریال سے زیادہ نہ ہو اور اس کی شادی پراٹھنے والے اخراجات بھی اس رقم سے زیادہ نہ ہوں۔سعودی دو شیزہ کا والد کو پیغام سوشل میڈیا پروائرل ہوتے ہی صارفین کی طرف سے ...

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن وجود - بدھ 13 نومبر 2019

لیبیا سے تعلق رکھنے والے دو شیرخوار بچے جن کے دھڑ ایک دوسرے کے ساتھ جْڑے ہوئے ہیں کوآپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے لیے سعودی عرب لایا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے ماہر سرجن ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ اور ان کی ٹیم نے بچوں کے معائنے کی تکمیل کے بعد ان کی سرجری کا فیصلہ کیا ہے۔ آپس میں جڑے بچوں کے نام احمد اور محمد رکھے گئے ہیں۔ ان کی سرجری کا عمل کل جمعرات کو شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے شاہ عبداللہ اسپتال میں کیا جائے گا۔سرجری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربی...

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بیٹے جواد نصراللہ کا اکائونٹ بھی بلاک کردیاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹویٹر کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ منگل کوامریکا نے جواد نصراللہ کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ٹویٹر کا دعویٰء ہے کہ جواد نصراللہ اپنے سخت موقف اور متنازع فتووں کی تشہیر کے لیے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتا تھا جو کہ ٹویٹر کی پالیسی کے خلاف ہے۔ کمپنی کا کہناتھا کہ جواد نصراللہ کے خلاف بار بار شکایات ا...

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی ایک خصوصی فوجداری عدالت نے دہشت گردی اور متعدد الزامات میں قصوروار ثابت ہونے کے بعد کل 41 ملزمان میں سے 38 کو قید اور ملک بدری کی سزائیں سنادیں۔میڈیارپورٹس کیے مطابق ان ملزمان پر منہج کتاب و سنت کے برخلاف انتہا پسندانہ نظریات اختیار کرنے ،دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے ، دہشت گرد تنظیم قائم کرنے، لوگوں کو اس میں بھرتی کرنے، کچھ کو ایک انتہا پسند تنظیم کے ہاتھ پر بیعت کرنے، ملک میں بد امنی پھیلانے اور ملک کے نظم ونسق میں خلل پیدا کرنے کے لیے ...

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت وجود - منگل 12 نومبر 2019

گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ آٹومیٹڈ وئیرایبل مصنوعی گردے سے کڈنی فیلیئر کے مریضوں کے خون میں سے زہریلے مواد کو موثر طریقے سے نکالنے میں مدد مل سکے گی۔سائنسدانوں کی جانب سے اس مصنوعی گردے والی ڈیوائس کی ڈائیلاسز کے لیے آزمائش کی جارہی ہے جس سے تھراپی کے کئی گھنٹوں اور بڑی مشینوں کے استعمال سے نجات مل جائے گی۔اس ٹیکنالوجی میں ڈائیلاس...

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین وجود - منگل 12 نومبر 2019

چین نے تبت کے دلائی لامہ کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے واشنگٹن کی مبینہ سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، تبت میں مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کر رہا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براون بیک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تبت کے روحانی رہنما کی جانشینی کے معاملے کو اقوام متحدہ دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ دلائی لامہ کے جانشین کا انتخاب تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والوں سے متعلق ہے اور اس پر چینی حکومت کا کوئی ت...

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس وجود - منگل 12 نومبر 2019

مغربی افریقی ملک گیمبیا کی حکومت نے جنوبی ایشیائی ملک میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی عدالت میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست دائر کردی۔ یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں لایا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں دارے کے مطابق قانونی درخواست میں کہا گیا کہ میانمار نے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی کی۔گیمبیا کے وزیر انصاف...

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ وجود - منگل 12 نومبر 2019

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ شامی کْردوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی جرائم یا نسلی تطہیر سے باز رہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن کے دورے کی تیاری میں مصروف ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اوبرائن کا کہنا تھا کہ وہ شمال مشرقی شام میں ترکی کے حملے کے بعد وہاں ممکنہ جنگی جرائم ...

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل وجود - منگل 12 نومبر 2019

آئندہ اتوار کو مصر کی مشہور زمانہ نہر سویزکی کھدائی کے افتتاح کو 150 سال ہوجائیں گے۔ نہر سویز کی کھدائی کے بارے میں بہت سی زبانوں میں کافی مواد موجود ہے۔مصری میڈیا نے بتایاکہ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں ایک ملین مصریوں نے حصہ لیا جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک دن رات جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 1993 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 280 میٹر...

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق وجود - پیر 11 نومبر 2019

آسٹریلیا کی مشہور وکٹوریہ یونیورسٹی نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ 50 منٹ کی دوڑ انسان کو قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رنرز ورلڈ کے مطابق ملبورن کی وکٹوریا یونیورسٹی کی تحقیق میں 14 تحقیق کی معلومات کو اکٹھا کیا گیا جس میں 23 لاکھ سے زائد لوگ شامل تھے۔ ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ دوڑ صحت کیلئے بے حد مفید ہے اور یہ انسان کے قبل از وقت مرنے کے امکانات یا خطرات کو 27 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ ...

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما وجود - پیر 11 نومبر 2019

اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی مزاحمت کے حامی سوشل صحافت کی بندش پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹویٹرکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے بیرون ملک امور کے انچار محمد نزال نے ایک بیان میں کہا کہ فیس بک اورٹویٹرصہیونی ریاست کی مسلسل طرف داری کرکے اپنی غیر جانب ادارانہ ساکھ کھو چکے ہیں۔ ان دونوں ویب سائٹس کی طرف سے صہیونی ریاست کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اوردونوں سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم غاصب ...

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار