وجود

... loading ...

وجود

حج مظہر عشق وبندگی

جمعرات 31 اگست 2017 حج مظہر عشق وبندگی

الحمد ﷲ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی ، أمّا بعد :
وأذّن فی الناس بالحج یأتوک رجالا وعلی کل ضامر یأتین من کل فج عمیق۔ (الحج)
حضرت ابراہیم خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بحکمِ الٰہی جو صدا لگائی ،اُسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے بندگی ، عبادت اوراللہ تعالیٰ سے اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کے اظہارکاایک منفرداورمخصوص طریقہ طے کر دیا،جسے حج کہتے ہیں ۔
حج کیا ہے ؟اُس کے افعال وارکان کی حکمت وفلسفہ کیا ہے ؟اس کی حقیقت ومعقولیت کا نقطہ کیا ہے ؟صوفیاء کرام نے سفر حج کو سفر عشق اور ارکانِ حج کو عاشقانہ وارفتگی سے تشبیہ دے کر یہ حکمت وحقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔جس طرح عاشقِ زار کے افعال واعمال میں ظاہری معقولیت دیکھنا اور بتانا مشکل ہوتا ہے، اسی طرح افعالِ حج کے ظاہری افعال کی حکمت ومعقولیت سمجھنے اور سمجھانے میں بھی دشواری پیش آسکتی ہے۔ فریضۂ حج کے ظاہری افعال واعمال کی حقیقت ومعقولیت کا ادراک کرنے کے لیے عقل سلیم ،فطرتِ سلیمہ اور عشقِ حقیقی کا جذبۂ صادق بنیادی شرط ہے ،چنانچہ حاجی اپنے آپ اوراپنے حلیہ ولباس کوفراموش کرکے اور راہ کی مشقتوں ، صعوبتوں کوبھلاکر اپنے پروردگارمحبوبِ حقیقی کی یاد اور ذکر کے ساتھ زیارت وملاقات کے جذبات سے لبریز ہوکر والہانہ وار اُس کے دَر پر حاضری دینے کے لیے بڑھتا چلا جاتا ہے ، اوراپنے تمام ترحسیات اور قلبی کیفیات کے ساتھ مرکز تجلیات بیت اللہ پہنچ جاتا ہے،پھر مکہ سے منیٰ کارُخ کرتا ہے،اور پھر منیٰ سے عرفات جاتا ہے،عرفات سے پھر مزدلفہ آتا ہے اوروہاں سے پھر واپس منیٰ آجاتا ہے۔
یہ آمدورفت ،یہ سرگرداں ہونا ، ہر ہر جگہ جاکر اُس ایک خدائے وحدہ لا شریک کو پکارنا ، اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نادم ہونااوراُسے منانے کے لیے رونادھونا کہ کسی طرح اپنے محبوبِ حقیقی کو پالے۔ بظاہر اللہ ہمیں اس دنیا میں نظر تونہیں آسکتا ،لیکن اُس کے احکامات کی روشنی میں اُس کی عبادت کرکے اُسے پایا تو جاسکتا ہے ۔ اُس نے ہمیں راستے اور طریقے بھی خود بتادیے، ابھی وہاں آؤ اوراس طرح عبادت کرکے مجھے پالو،اور یہ سب کچھ کرنا اسی طریقے سے ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔اب حج کے ان سارے ارکان کو عام دنیوی سوچ اور عقل سے دیکھا جائے تو عجیب سا لگے گا، لیکن یہی اصل حقیقت ہے کہ:
میانِ عاشق و معشوق رمزیست
کراماً کاتبین را ہم خبر نیست
اس شعر سے حج کے فلسفہ کو سمجھا جاسکتا ہے ، جو اس رمز کو پالیتا ہے وہی کامیاب ہوجاتا ہے ۔ دور سے دیکھنے والوں کو یہ کبھی سمجھ میں نہیں آسکتا ۔کراماً کاتبین سے اس شعر میں فرشتے مراد نہیں ہیں ، بلکہ اس سے مراد اُس عاشقانہ کیفیت سے نا آشنا لوگ ہیں ، جب تک وہ اس جذبے کے اندر نہ اُتریں وہ اس کو کبھی نہیں سمجھ سکتے ۔جب وہ اس عشق حقیقی کے اندر ڈوب جائیں گے تبھی ان کو پتہ چل سکے گا:
أمر علی الدیار دیار لیلی
أقبل ذا الجدار وذا الجدارا
وما حب الدیار شغفن قلبی
ولکن حب من سکن الدیارا
معشوق کے گھر یعنی خدا اور اس کے راستے سے گزرنے کی بھی ایک راحت اور فضیلت ہے ۔ شاعر نے یہی جذبہ اس شعر میں پیش کیا ہے ، معشوق کے در ودیوارسے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار اور ساتھ ساتھ در و دیوار کی حقیقت کو بھی بیان کیاکہ معشوق کے بغیر اُن کی بذات خود کوئی حیثیت نہیں ہے،جیسے حضرت عمرؓ نے حجر اسود کو خطاب کرکے کہا کہ: اے پتھر!میں جانتا ہوں تیری حقیقت کچھ نہیں ہے ، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ان جگہوں کی وقعت اور حیثیت ان افضل اور مقدس ترین ہستیوں کی وجہ سے ہوئی جو یہاں آئے اور یہاں سے گزرے۔
حج کا جو قافلہ ہوتا ہے یہ عُشاق کا ٹولہ ہوتا ہے ، اس کارواں میں بعض حقیقی عاشق ہوتے ہیں اور بعض ظاہری ، اسی وجہ سے نوازنے کے اعتبار سے فرق بھی ہوتا ہے ، کسی کو خدا ملتا ہے اور کوئی وقت گزاری کرکے خالی ہاتھوں لوٹ جاتا ہے اور اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔جو شخص حج کو اس کی حقیقی روح اور مقصد کے ساتھ ادا کرتا ہے تو گویا وہ خدا کو پالیتا ہے ، اُس کی زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے، اور جس کو خدا نہیں ملتا وہ تہی داماں ہوکر واپس آتا ہے ،اور جوپالیتا ہے تووہ گویا معصوم نومولود بچے کی طرح ہوجاتا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے محض اللہ کی رضا کے لیے حج کیا اور اس حج میں گالم گلوچ نہ کی اور نہ ہی گناہ وفسق وفجور کیا تو وہ (حج کے بعدگناہوں سے پاک صاف ہوکر)ایسے واپس لوٹتا ہے، جیسے آج ہی کے دن اس کی ماں نے اُسے جنا ہو۔ (بخاری)
جیسے رات کے آخری وقت میں اُٹھ کر مانگناہے ۔نیک ،عبادت گذار ،تہجد گزار لوگ رات کے آخری وقت میں اٹھ کر اللہ سے مانگتے ہیں ، کیونکہ اس وقت اللہ نے خود کہا ہے: میں اس وقت آسمانِ دنیا پرموجود ہوتا ہوں ،قریب ہوتا ہوں ۔اس لیے بندہ جاکر اللہ سے مانگتا ہے، توایسے ہی حج کے اندر اللہ نے کہا کہ:میں اس دن فلاں وقت عرفات میں موجود ہوں گا ،اور اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کروں گا۔عاشق حقیقی کویقین ہوتا ہے کہ:اللہ نے کہا ہے کہ عرفہ کے دن میں میدانِ عرفات میں موجود ہوں گا ،چنانچہ حاجی مسجد حرام (جس کی اتنی فضیلت ہے کہ وہاں ادا کی جانے والی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازکے برابر ہے)کی بجائے وہاں پہنچ جاتاہے۔ حدیث میں آتا ہے، حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور پھر فرشتوں کے سامنے حاجیوں پر فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ذرا میرے بندوں کی طرف تو دیکھو! یہ میرے پاس پراگندہ بال ،گرد آلود اور لبیک وذکر کے ساتھ آوازیں بلند کرتے ہوئے دور دور سے آئے ہیں ،میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اُنہیں بخش دیا ۔یہ سن کر فرشتے کہتے ہیں کہ پروردگار ! ان میں فلاں شخص وہ بھی ہے جس کی طر ف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے اورفلاں شخص اور فلاں عورت وہ بھی ہے جو گناہ گار ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اُنہیں بھی بخش دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں یوم عرفہ کے برابر لوگوں کو آگ سے نجات کا پروانہ عطا کیا جاتا ہو۔
پھر اللہ نے جب حکم دیا کہ عرفات سے مزدلفہ آجاؤ،اب تم مجھے وہاں پاؤگے تو پھر سب وہاں پہنچ گئے، پھر اس کے بعد دوبارہ منیٰ واپسی کا حکم دیا کہ اب وہاں کچھ راتیں گزارو۔منیٰ أمنیات (امیدوں )سے ہے ،منیٰ میں موجود رہ کر اللہ کو مناتے رہو ، اللہ سے امیدیں باندھو ۔ منیٰ کا قیام ہمارے لیے ترغیب اور تربیت ہے ،دنیا کے ساتھ اپنی تمنائیں اور امیدیں نہ باندھے ،دنیا میں اپنی خواہشات کو نہ ڈھونڈھے ،غیر اللہ کے ساتھ امیدیں نہ باندھے ، بلکہ صرف ایک ذات کو اپنی امید کا مرکزومحور بنالے، اُس ایک ذات سے مانگے اور دعائیں کرتا رہے اورمنیٰ میں رہ کر شیطان کو دھتکارتا رہے اورمارتا رہے۔ایک طرف اللہ نے منیٰ میں عبادات اور دعاؤں کا حکم دیا، اس کے ساتھ ہی شیطان کو جاکرکنکریاں مارنے کا حکم بھی دیا۔اگر ان ارکان کو اُن کی صحیح روح اور حقیقت کے ساتھ ادا کیا جائے تو اس کا بہت گہرا اثر انسان کی زندگی پر پڑتا ہے،اور پھر ساری زندگی ان شاء اللہ اسی طرح وہ شیطان کو دھتکارتا رہے گا اور اللہ سے مانگتا رہے گا۔
یہ ایک عام خیال ہے کہ بس توفیق مل گئی، یہی اصل ہے۔اسی طرح کہتے ہیں کہ بلاواتو نصیب والوں کاہوتاہے اب وہ صاحب نصیب توفیق ملنے کے بعد یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب میں یہاں آگیا ہوں ،جیسے چاہے وقت گزاروں ، سب قبول ہے۔توفیق یا نصیب کا مل جانا یہ یقیناًسعادت مندی کی علامت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ احتیاط اور ڈر بھی ضروری ہے ۔اگرقدر دانی اور شکرِ نعمت ہوگا تو اس توفیق میں مزید اضافہ بھی ہوگا۔ بعض بزرگوں کے بارے میں سنا گیا ،وہ فرمایا کرتے تھے کہ :حج سے ڈرنا چاہئے ۔حج سے اس لیے ڈرنا چاہئے کہ اگر آپ حج اس مقصد اور مطلوبہ کیفیت کے ساتھ نہیں کررہے تو وہ نجات کا ذریعہ بننے کی بجائے سوہانِ روح اور وبالِ جان بن جاتا ہے۔ جو شخص محض شہرت، تفریح ، نام وری ، ریاکاری اور دکھلاوے کی غرض سے حج کرے گا تو وہ کہاں سے خدا کو پاسکے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ میری امت کے مال دار سیر وتفریح کے لیے حج کریں گے اور بیچ کے درجہ کے لوگ تجارت کے لیے کریں گے ۔اُن کے علماء اور پڑھے لکھے ریا ، شہرت اور نام وری کے لیے کریں گے اور غریب لوگ سوال (مانگنے) کے لیے کریں گے۔
حج کیفیات کے ساتھ ہے ، اس لیے دورانِ حج مقصد اور کیفیات کا احساس بار بار ہونا چاہئے،اس کی فکرکرنی چاہئے ، لوگ بھول جاتے ہیں ۔ شیطان تو ہر وقت انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے ، وہ اُسے گمراہ کرنے سے کبھی غافل نہیں رہتا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ بس بلاوا آگیا ،توفیق مل گئی تو خوش ہوگئے کہ اب میں یہاں پہنچ گیا ہوں ، اب جو کروں جیسے کروں ، وہ سب قبول ہے ۔اگر یہ تصور اور سوچ ہے تو یہ بھی شیطان ہی کا دھوکاہے اور شیطان کے انہی حملوں سے بچنا یہ بھی حج کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ۔دورانِ حج غفلت ،بے توجہی اور لاپروائی کی وجہ سے ہم کتنے غیر شرعی کام کرلیتے ہیں : سب سے پہلے حج کو جاندار انسانی تصویروں اور فلموں سے سمجھاجاتا ہے ، وہاں پہنچنے کے بعد بھی ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں ۔
نمازوں کے ادا کرنے میں کوتاہی ، جماعت کی پابندی میں کوتاہی ، احرام باندھنے کے بعد بجائے تلبیہ وذکرُ اللہ کے غیبت ، گناہ، منکرات ومنہیات کا ارتکاب ، نامحرم عورتوں سے اختلاط ، عورتوں کی بے پردگی ، بدنظری اور دیگر کئی گناہ حج کے دوران سرزد ہورہے ہیں ۔ ان گناہوں کے اثر سے دل کی وہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ جو ملنا ہوتا ہے وہ نہیں ملتا ۔یقیناًتوفیق اس انسان کو بھی ملی ہے، لیکن یہ گناہوں کے ذریعے اپنی توفیق کو ضائع کرکے محروم ہورہا ہے ۔ عبادات کے ذریعے مرتب ہونے والے فوائد وثمرات کی حفاظت کے لیے گناہوں سے بچنا سخت ضروری ہے ۔ اگر پرہیز کے ساتھ حج ہوگا تو حج کا فائدہ بھی ظاہر ہوگا۔اگر گناہ اور منکرات ومنہیات سے پرہیز نہ کیااور جو توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی، اُس کی کماحقہ قدر نہیں کی توپھر وہ شیطان کے حملوں سے نہیں بچا۔ شیطان کے حملے اسی طرح جاری رہیں گے اور وہ اپنا کام کرتا رہے گا۔ اگر ایک آدمی صاحب استطاعت ہونے کے باوجود فرض حج نہیں ادا کرتا تو یہ ناشکری اور ناقدری ہے ۔گویا عملی طور پر وہ خدا کو اپنی عدمِ احتیاج کا اظہار کررہا ہے کہ مجھے تو آپ کی ضرورت ہی نہیں ، حالانکہ اُسے مال واسباب سے جو نوازا گیا تھا وہ اس لیے تھا کہ اب تم میری طرف آجاؤ، لیکن تم نہیں آئے ۔یہ تو اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے صرف صاحب استطاعت پر اور وہ بھی زندگی میں صرف ایک مرتبہ حج فرض کیا ہے ،حدیث میں آتا ہے:
ترجمہ:۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس سفر حج اور بیت اللہ تک پہنچنے کے لیے سواری کا انتظام ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں اس بات میں کہ وہ یہودی ہوکر مرجائے یا نصرانی ہوکر مرے۔ (ترمذی)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ :جس نے حج کا ارادہ کرلیا تو اب اُسے چاہئے کہ وہ جلدی کرے۔(ابوداؤد)
عام طور پرکہاجاتا ہے کہ جب فرض حج ادا ہوگیا تو اب نفلی حج کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی حیاتِ طیبہ میں ایک ہی دفعہ حج کیا۔غور کیا جائے تو یہ بھی خدا کا اُمت پر احسان ہے کہ اس نے صاحب استطاعت پر زندگی میں صرف ایک ہی مرتبہ حج فرض قرار دیا کہ ہاں ! اگر ایک دفعہ بھی تم نے حج کرکے اپنے رب کوپالیا اور تمہاری زندگی تبدیل ہوگئی تویہ بھی تمہارے لیے کافی ہے ، ورنہ جس کو اللہ نے ہمیشہ نوازا ہے، اگر وہ کامل زندگی بھی اس راستے میں لگادے اور بار بار حج کرتا رہے تو بھی حق نہیں ادا ہوسکتا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :پے در پے حج وعمرے کیا کرو،کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح صاف کردیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے ،سونے اور چاندی کے میل کو صاف کردیتی ہے ، اور حج مبرور کا ثواب صرف جنت ہے ۔ (ترمذی)
یہ بات بھی زبان زَد عام ہے کہ نفلی حج کی بجائے اس رقم سے کسی غریب اورمستحق کی ضرورت کو پورا کردیا جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لیجیے ،ایک مد ہے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ، جس کا مستحق ایک غریب اور ضرورت مند ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صدقاتِ نافلہ بھی ہیں ،مثلاًانسان کا اپنی ذات پر خرچ کرنا، اپنی اولاد واہل وعیال پر خرچ کرنا ، کسی کو ہدیہ تحفہ دے دینا ،کسی کی دعوتِ طعام کردینا،کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنااور کوئی کار خیرکرنا، یہ تمام صدقاتِ نافلہ ہیں ۔ صدقاتِ نافلہ میں انسان کو اختیار ہے، دل چاہے تو یہ کرلے اور دل چاہے تو وہ کرلے ۔صدقاتِ واجبہ کو صدقاتِ نافلہ کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہئے۔غریب اور ضرورت مند کے لیے تو اللہ نے صاحب نصاب پر ہرسال زکوٰۃ اور صدقۂ فطر فرض کیا ہے ،جو صاحب نصاب کو ہر سال اور ہر حال میں ادا کرنا چاہئے۔ صاحب استطاعت نفلی حج، زکوۃ یا صدقاتِ واجبہ کی رقم سے تو ادا نہیں کررہا اور نہ ہی کرسکتا ہے ۔اگر ایک صاحب حیثیت زکوۃ اور صدقات واجبہ ادا کررہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بطورِ صدقۂ نافلہ اللہ کے راستے میں اس کے قرب کی خاطر حج ادا کررہا ہے تو یہ بھی شریعت کے تقاضے کے مطابق ہے ۔ صدقاتِ نافلہ میں انسان جہاں بھی خرچ کرے وہ کار خیر ہے اور ایک کارِخیر کو دوسرے پر وقتی حالات اور ضرورت کے پیش نظر ترجیح تو دی جاسکتی ہے، لیکن کسی ایک ہی کو افضل سمجھ لینا یا ان کارہائے خیر میں باہمی تقابل کرنا یہ مناسب نہیں ہے۔بسا اوقات یہ شیطان کا دھوکابھی ہوتا ہے کہ انسان یہ سوچتا ہے کہ فلاں نیک کام ابھی نہیں کرنا،بعد میں کرلوں گا، ابھی کوئی دوسرا نیک کام کرلیتا ہوں ،پہلاکار خیر مؤخر کردیا اور اس کا وقت گزر گیااوردوسرا نیک کام جس کا ارادہ کیا تھا پھروہ بھی نہ کرسکا، چنانچہ اس سوچ کی وجہ سے وہ کارِخیر سے ہی محروم ہوجاتا ہے ۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ زکوۃ یا صدقاتِ واجبہ مالی عبادات کی قبیل سے ہیں ، جبکہ حج مالی اور جانی دونوں قسم کی عبادت ہے ۔ بسااوقات تن آسانی کے لیے بھی شیطان اس طرح ورغلاتا ہے ،کیونکہ حج در اصل مشقت کا نام ہے ۔ ہزاروں سہولیات واسباب بڑھنے کے باوجود آج تک وہ مشقت ہر دور کے اعتبار سے برقرار ہے ۔ یہ مشقتیں بھی حج کے اجر کو بڑھاتی ہیں ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ قرآن ادا فرمایا تھا ،یعنی ایک سفر اور ایک احرام کے اندر دوعبادتوں کو جمع کرنا ،اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اور ثواب بھی زیادہ ہے ،اسی لیے امام ابوحنیفہؒ نے قران کو افضل کہا ہے۔ غرض تن آسانی کی وجہ سے بھی یہ دھوکاہوجاتا ہے ۔
اکثر لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ حج تو بڑھاپے کی عبادت ہے ،ابھی جوان ہیں ، جب گناہوں سے مکمل توبہ کرلیں گے تب جاکر حج کریں گے۔تو یہ بھی درحقیقت شیطان ہی کا دھوکا ہے ، گویاکہ اس سوچ اور فکر سے یہ بات طے کرلی ہے کہ ہم نے ابھی مزید گناہ کرنے ہیں ۔ یہ سوچ بذات خود بہت بڑا گناہ ہے کہ اس نیت سے اپنے آپ کو حج فرض سے روک لیا۔جب حج کو اس کی حقیقی روح ، مطلوبہ کیفیات اور مقاصد کے ساتھ گناہوں سے بچتے ہوئے اور خالص توبہ کرتے ہوئے ادا کیا جائے تو یقیناًان شاء اللہ سابقہ گناہ بھی معاف ہوجائیں گے اور آئندہ زندگی بدل جائے گی ۔ حج مبرور کہتے ہی اس کو ہیں کہ جس سے زندگی تبدیل ہوجائے ۔پھر اگر نیت خالص ہوگی اور انسان بالارادہ و بالاختیار گناہوں سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے گناہوں سے بچنے کی توفیق دیں گے۔جس کی یہ سوچ ہے کہ حج بڑھاپے کی عبادت ہے تو گویا اس نے حج کا فلسفہ ہی نہیں سمجھا۔ حج جیسے عظیم الشان اجر وثواب اور فضیلت کے باوجود کتنے لوگ ایسے ہیں جن پر حج فرض ہے، لیکن وہ فریضۂ حج کی ادائی کے لیے نہیں جاتے۔ کوئی بیوی بچوں کی تنہائی کا بہانا بناتا ہے تو کوئی روپے پیسے اور مال ودولت کے خرچ پر نکتہ چینی کرتاہے۔کوئی دُکان اور کاروبار کے اُجڑجانے کا اندیشہ ظاہر کرتا ہے توکوئی بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی کا ہمالیہ کھڑا کردیتا ہے اور کوئی طویل صعوبتوں اور مشقتوں سے خوف زدہ نظر آتاہے۔یہ سب اندیشے، وسوسے، خیالات اور توہمات اُنہیں لوگوں کا حصہ اور نصیب ہیں جن کے دل ودماغ عشق الٰہی سے خالی اوربیت اللہ کی عظمت وبرکات سے بے بہرہ ہیں ،ورنہ کون کلمہ گو انسان ایساہوگا جو انوارات وتجلیات کے اس عظیم ترین مرکز اور بے بہارحمتوں اور برکتوں کے خزانہ سے دور رہنا گوارا کرسکے؟فاعتبروا یا أولی الأبصار۔
مولاناسید سلیمان یوسف بنوری


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر