وجود

... loading ...

وجود

ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے کے گھپلے

منگل 29 اگست 2017 ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے کے گھپلے

ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کے معاملے کی آڈٹ کے دوران زمین کی خریداری میں 50 کروڑ30 لاکھ روپے سے زیادہ کے گھپلوں کاانکشاف ہوا ہے،آڈیٹر جنرل پاکستان کی تیار کردہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کراچی میں ورکرز کے لیے 3 ہزار فلیٹوں کی تعمیرکے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے سے زیادہ کے زائد اخراجات کاپتہ چلایاگیاہے، رپورٹ کے مطابق یہ پراجیکٹ بروقت مکمل نہ کیے جانے کے سبب اس کی مجموعی لاگت 85 کروڑ 45 لاکھ 34 ہزار بڑھ جائے گی جبکہ اس پراجیکٹ کے لیے زمین کی خریداری پر مجموعی طورپر 50 کروڑ 33 لاکھ 15 ہزار روپے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں ،آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ یہ پراجیکٹ شروع کرنے سے قبل اس کی فزیبلٹی رپورٹ بھی تیار نہیں کی گئی تھی اوران فلیٹوں کی تعمیر کی مجاذ حکام سے پیشگی اجازت بھی حاصل نہیں کی گئی جبکہ اس پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے کسیکل وقت پراجیکٹ ڈائریکٹر کابھی تقرر نہیں کیاگیا۔
حال ہی میں جاری کی جانے والی آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2006 میں سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ نے ورکرزکو رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ناردرن بائی پاس کے نزدیک 3008 فلیٹ تعمیر کرنے کی تجویز دی تھی ۔جس کے بعد اس پراجیکٹ کا پی سی ون تیار کیاگیاہے اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی نے2007 میں اس کی منظوری دیدی تھی اس وقت اس کی تعمیر پر اخراجات کااندازہ 53 کروڑ10 لاکھ روپے لگایاگیاتھا۔
پی سی ون کے مطابق یہ پراجیکٹ متعلقہ حکام کی منظوری اور فنڈز جاری کیے جانے کے بعد 36 ماہ میں مکمل کیاجاناتھا۔اس پراجیکٹ پر کام 6 مراحل میں شروع کیاگیااور فروری 2015 تک اس کا87 فیصد کام مکمل کرلیاگیاتھا،اس پراجیکٹ پر کام اب بھی جاری ہے،اس پراجیکٹ کے 6 مرحلوں کا کام 71 پیکیجز کے تحت مختلف ٹھیکیداروں کو سونپاگیاتھا۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اس پراجیکٹ کے لیے منظور شدہ رقم سے 4,385 ملین روپے زمین کی خریداری ٹھیکداروں کے بلز اور کنسلٹنٹس کی فیس کی مد میں ادا کردیے گئے۔جبکہ اس پراجیکٹ کی تخمینی لاگت 3,531 ملین روپے تھی۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اس پراجیکٹ پر کام کے دوران بعض آئٹمز کی تعداد اور مقدار جس میں اسٹیل ر ی انفورسمنٹ بارز ،ری افورسڈ سیمنٹ کنکریٹ ،ٹھوس اینٹوں کی چنائی ،پرنٹنگ اور دیگر اشیا اور کاموں کی تعداد اور مقدار میں کنٹریکٹ کے اعتبار سے بہت زیادہ اضافہ کردیاگیا۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اس پراجیکٹ پر کام کے دوران اس عمارت کے ڈیزائن اورتصریحات کو تبدیل کردیاگیاجس کی وجہ سے اس کی لاگت میں 854 ملین یعنی 85 کروڑ 40 لاکھ روپے کا اضافہ ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کراچی نے اس پراجیکٹ کے لیے مجموعی طورپر194.24 ایکڑ زمین خریدی جبکہ یہ پراجیکٹ صرف 65.25 ایکڑ زمین پر تعمیر کیاگیا،رپورٹ کے مطابق اس طرح 128.29 ایکڑ زمین بچ گئی جس سے ظاہرہواکہ ضرورت سے بہت زیادہ زمین خریدی گئی جس کی وجہ سے زمین کی خریداری پر 50 کروڑ30 لاکھ روپے زیادہ خرچ کیے گئے۔
اس حوالے سے جب ورکرز ویلفیئر بورڈ سے رابطہ کیاگیا تو بورڈ کے ذمہ داروں نے موقف اختیار کیا کہ باقی رہ جانے والی زمین مستقبل میں اس پراجیکٹ کی توسیع اور صنعتی ورکرز کے لیے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے استعمال کرلی جائے گی۔لیکن ان کایہ جواب اس لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ یہ زمین زیربحث پراجیکٹ کے فنڈ سے خریدی گئی ہے۔
دوسری جانب نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن نے بھی جو ورکرز اور محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم ہے اس پراجیکٹ پرکام کی سست روی پر تشویش کااظہار کیاہے۔ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصرمنصور کاکہناہے کہ ورکرز ان فلیٹوں کے تمام واجبات ادا کرچکے ہیں اور اب وہ ان فلیٹوں کاقبضہ حاصل کرنے کے منتظر ہیں تاکہ ان کو اور ان کے بچوں کوسر چھپانے کی جگہ حاصل ہوسکے لیکن ورکرز ویلفیئر بورڈ کے حکام مستقل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں جس کی وجہ سے ورکرز کی بے چینی میں اضافہ ہورہاہے اور تمام واجبات ادا کرنے کے باوجود وہ دور دراز علاقوں میں کرائے پر رہائش اختیار کیے رکھنے پر مجبور ہیں اور انھیں ڈیوٹی دینے کے لیے آمدورفت پربھاری کرایہ خرچ کرنا پڑتاہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گلشن معمار میں اسی طرح تعمیر کیے جانے والے ایک ہزار8فلیٹوں پر سیلاب زدگان کے نام پر قبضہ کرادیاگیاہے اور ان فلیٹوں کے الاٹی دربدر کے دھکے کھارہے ہیں اور حکومت اور محکمہ محنت بوجود ان فلیٹوں کوخالی کراکے اصل الاٹیوں کے حوالے کرنے سے مسلسل گریزاں ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ ان فلیٹوں پر ناجائز قبضہ کرنے والے بجلی گیس اور دیگر یوٹیلیٹیز کے بل بھی ادا کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان فلیٹوں پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کے واجبات چڑھ گئے ہیں اور حکومت سندھ ان کی ادائیگی کے لیے کچھ کرنے کوتیار نظر نہیں آتی۔ ناصرمنصور کاکہناہے کہ اس پراجیکٹ کی تعمیر مکمل کرنے میں کی جانے والی غیر ضروری تاخیر سے ادارے کی بد نیتی کا اندازہ ہوتاہے اور خدشہ یہ ہے کہ ان فلیٹوں کی تعمیر کے بعد ان پر بھی اسی طرح ناجائز قبضہ کرادیاجائے گا۔تاہم ورکرز ویلفیئر بورڈ کے حکام اس سلسلے میں کسی طرح کی یقین دہانی کرانے کوتیار نہیں ہیں اور وہ گلشن معمار میں ورکرز کے لیے تعمیر کیے گئے فلیٹوں کو ناجائز قابضین سے خالی کراکے انھیں اصل الاٹیوں کے سپر د کرنے کوبھی اپنی ذمہ داری تسلیم کرنے کوتیار نظر نہیں آتے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے جاری کی جانے والی آڈٹ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد محکمہ انسداد
رشوت ستانی، ایف آئی اے اور نیب اس حوالے سے کیاکارروائی کرتی ہے اور اس پراجیکٹ میں مبینہ گھپلوں کے ذمہ داروں کو کوئی سزا دی جاتی ہے یا دیگر محکموں میں ہونے والے گھپلوں کی طرح اس کو بھی دبا دیاجائے گا۔


متعلقہ خبریں


مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز وجود - اتوار 05 اپریل 2026

ملک بھر میں توانائی کی بچت کیلئے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز صوبائی حکومتیں کی چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جاری ، ذرائع وزارتِ توانائی نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں چی...

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

مضامین
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا ! وجود اتوار 05 اپریل 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا !

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر