وجود

... loading ...

وجود

ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے کے گھپلے

منگل 29 اگست 2017 ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے کے گھپلے

ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کے معاملے کی آڈٹ کے دوران زمین کی خریداری میں 50 کروڑ30 لاکھ روپے سے زیادہ کے گھپلوں کاانکشاف ہوا ہے،آڈیٹر جنرل پاکستان کی تیار کردہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کراچی میں ورکرز کے لیے 3 ہزار فلیٹوں کی تعمیرکے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے سے زیادہ کے زائد اخراجات کاپتہ چلایاگیاہے، رپورٹ کے مطابق یہ پراجیکٹ بروقت مکمل نہ کیے جانے کے سبب اس کی مجموعی لاگت 85 کروڑ 45 لاکھ 34 ہزار بڑھ جائے گی جبکہ اس پراجیکٹ کے لیے زمین کی خریداری پر مجموعی طورپر 50 کروڑ 33 لاکھ 15 ہزار روپے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں ،آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ یہ پراجیکٹ شروع کرنے سے قبل اس کی فزیبلٹی رپورٹ بھی تیار نہیں کی گئی تھی اوران فلیٹوں کی تعمیر کی مجاذ حکام سے پیشگی اجازت بھی حاصل نہیں کی گئی جبکہ اس پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے کسیکل وقت پراجیکٹ ڈائریکٹر کابھی تقرر نہیں کیاگیا۔
حال ہی میں جاری کی جانے والی آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2006 میں سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ نے ورکرزکو رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ناردرن بائی پاس کے نزدیک 3008 فلیٹ تعمیر کرنے کی تجویز دی تھی ۔جس کے بعد اس پراجیکٹ کا پی سی ون تیار کیاگیاہے اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی نے2007 میں اس کی منظوری دیدی تھی اس وقت اس کی تعمیر پر اخراجات کااندازہ 53 کروڑ10 لاکھ روپے لگایاگیاتھا۔
پی سی ون کے مطابق یہ پراجیکٹ متعلقہ حکام کی منظوری اور فنڈز جاری کیے جانے کے بعد 36 ماہ میں مکمل کیاجاناتھا۔اس پراجیکٹ پر کام 6 مراحل میں شروع کیاگیااور فروری 2015 تک اس کا87 فیصد کام مکمل کرلیاگیاتھا،اس پراجیکٹ پر کام اب بھی جاری ہے،اس پراجیکٹ کے 6 مرحلوں کا کام 71 پیکیجز کے تحت مختلف ٹھیکیداروں کو سونپاگیاتھا۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اس پراجیکٹ کے لیے منظور شدہ رقم سے 4,385 ملین روپے زمین کی خریداری ٹھیکداروں کے بلز اور کنسلٹنٹس کی فیس کی مد میں ادا کردیے گئے۔جبکہ اس پراجیکٹ کی تخمینی لاگت 3,531 ملین روپے تھی۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اس پراجیکٹ پر کام کے دوران بعض آئٹمز کی تعداد اور مقدار جس میں اسٹیل ر ی انفورسمنٹ بارز ،ری افورسڈ سیمنٹ کنکریٹ ،ٹھوس اینٹوں کی چنائی ،پرنٹنگ اور دیگر اشیا اور کاموں کی تعداد اور مقدار میں کنٹریکٹ کے اعتبار سے بہت زیادہ اضافہ کردیاگیا۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اس پراجیکٹ پر کام کے دوران اس عمارت کے ڈیزائن اورتصریحات کو تبدیل کردیاگیاجس کی وجہ سے اس کی لاگت میں 854 ملین یعنی 85 کروڑ 40 لاکھ روپے کا اضافہ ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کراچی نے اس پراجیکٹ کے لیے مجموعی طورپر194.24 ایکڑ زمین خریدی جبکہ یہ پراجیکٹ صرف 65.25 ایکڑ زمین پر تعمیر کیاگیا،رپورٹ کے مطابق اس طرح 128.29 ایکڑ زمین بچ گئی جس سے ظاہرہواکہ ضرورت سے بہت زیادہ زمین خریدی گئی جس کی وجہ سے زمین کی خریداری پر 50 کروڑ30 لاکھ روپے زیادہ خرچ کیے گئے۔
اس حوالے سے جب ورکرز ویلفیئر بورڈ سے رابطہ کیاگیا تو بورڈ کے ذمہ داروں نے موقف اختیار کیا کہ باقی رہ جانے والی زمین مستقبل میں اس پراجیکٹ کی توسیع اور صنعتی ورکرز کے لیے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے استعمال کرلی جائے گی۔لیکن ان کایہ جواب اس لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ یہ زمین زیربحث پراجیکٹ کے فنڈ سے خریدی گئی ہے۔
دوسری جانب نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن نے بھی جو ورکرز اور محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم ہے اس پراجیکٹ پرکام کی سست روی پر تشویش کااظہار کیاہے۔ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصرمنصور کاکہناہے کہ ورکرز ان فلیٹوں کے تمام واجبات ادا کرچکے ہیں اور اب وہ ان فلیٹوں کاقبضہ حاصل کرنے کے منتظر ہیں تاکہ ان کو اور ان کے بچوں کوسر چھپانے کی جگہ حاصل ہوسکے لیکن ورکرز ویلفیئر بورڈ کے حکام مستقل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں جس کی وجہ سے ورکرز کی بے چینی میں اضافہ ہورہاہے اور تمام واجبات ادا کرنے کے باوجود وہ دور دراز علاقوں میں کرائے پر رہائش اختیار کیے رکھنے پر مجبور ہیں اور انھیں ڈیوٹی دینے کے لیے آمدورفت پربھاری کرایہ خرچ کرنا پڑتاہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گلشن معمار میں اسی طرح تعمیر کیے جانے والے ایک ہزار8فلیٹوں پر سیلاب زدگان کے نام پر قبضہ کرادیاگیاہے اور ان فلیٹوں کے الاٹی دربدر کے دھکے کھارہے ہیں اور حکومت اور محکمہ محنت بوجود ان فلیٹوں کوخالی کراکے اصل الاٹیوں کے حوالے کرنے سے مسلسل گریزاں ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ ان فلیٹوں پر ناجائز قبضہ کرنے والے بجلی گیس اور دیگر یوٹیلیٹیز کے بل بھی ادا کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان فلیٹوں پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کے واجبات چڑھ گئے ہیں اور حکومت سندھ ان کی ادائیگی کے لیے کچھ کرنے کوتیار نظر نہیں آتی۔ ناصرمنصور کاکہناہے کہ اس پراجیکٹ کی تعمیر مکمل کرنے میں کی جانے والی غیر ضروری تاخیر سے ادارے کی بد نیتی کا اندازہ ہوتاہے اور خدشہ یہ ہے کہ ان فلیٹوں کی تعمیر کے بعد ان پر بھی اسی طرح ناجائز قبضہ کرادیاجائے گا۔تاہم ورکرز ویلفیئر بورڈ کے حکام اس سلسلے میں کسی طرح کی یقین دہانی کرانے کوتیار نہیں ہیں اور وہ گلشن معمار میں ورکرز کے لیے تعمیر کیے گئے فلیٹوں کو ناجائز قابضین سے خالی کراکے انھیں اصل الاٹیوں کے سپر د کرنے کوبھی اپنی ذمہ داری تسلیم کرنے کوتیار نظر نہیں آتے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے جاری کی جانے والی آڈٹ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد محکمہ انسداد
رشوت ستانی، ایف آئی اے اور نیب اس حوالے سے کیاکارروائی کرتی ہے اور اس پراجیکٹ میں مبینہ گھپلوں کے ذمہ داروں کو کوئی سزا دی جاتی ہے یا دیگر محکموں میں ہونے والے گھپلوں کی طرح اس کو بھی دبا دیاجائے گا۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر