... loading ...
چین کی حکومت نے پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی اثر ونفوذ پر تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے خدشات کو محسوس کرتے ہوئے انھیں دور کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اس حوالے سے گزشتہ دنوں چین نے پاکستان کے ساتھ کم وبیش 38تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے جن کے تحت چین پاکستان سے 325 ملین ڈالر یعنی کم وبیش ساڑھے 32 کروڑ ڈالر مالیت کی مختلف اشیا خریدے گا جس سے ایک طرح پاکستانی تاجروں کو کاروبار کے نئے مواقع ملیں گے اور دوسری طرف حکومت کو تجارتی خسارے میں کمی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں پر دستخط کی یہ تقریب اسی مہینے کے وسط میں اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں چین کی کم وبیش 18 کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی اور پاکستان سے مختلف اشیا کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
ان معاہدوں کے حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق چین کی کمپنیاں پاکستان سے الیکٹرلائٹک کاپر، مچھلیوں کی خوراک، مچھلی اور دیگر بحری خوراک، خشک میوہ جات، جوار اور اس کی مصنوعات، چمڑا اور چمڑے سے بنی ہوئی مصنوعات، منجمد کردہ تازہ کھانے پینے کی اشیا، ارنڈ، کروم،خام حالت میں غیر تراشیدہ زرقون،خام تانبہ،چٹنیاں اورمربے، سنگ مرمر کی سلیں خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں جو ان کے عوام کے کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ ان کی صنعتوں میں بھی کام آئیں گی اور چین ان کے ذریعہ تیار شدہ اشیاء مہنگے داموں دیگر ممالک کو برآمد کرسکے گا اس طرح پاکستان سے خریدی گئی یہ اشیا چین کے لیے ایک منافع بخش کاروبار ثابت ہوں گی اور اس سے چین کی برآمدات میں بھی ایک گونہ اضافہ ہونے کاامکان ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں کی اس تقریب میں پاکستان میں چین کے سفیر وی ڈونگ اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے سیکریٹری انعام اللہ بھی موجود تھے جنھوں معاہدوں پر دستخط کے بعد دونوں فریقوں کومبارکباد دی۔
یہ بھی معلوم ہواہے کہ چین کی وزارت تجارت نے باہمی تجارت کے فروغ کے لیے چینی تاجروں کے ایک وفد کے دورہ پاکستان کااہتمام کیا ہے جس کے تحت چین کی 18 کمپنیوں اور تجارتی اداروں اور صنعت کاروں کاایک وفد جن میں ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، زراعت ،زرعی مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل سے متعلق شعبوں کے تاجر اور صنعت کار شامل ہیں ان دنوں پاکستان کے مشاہداتی اور مطالعاتی دورے پر پاکستان آیا ہوا ہے ،وفد کے ارکان اپنے دوہ پاکستان کے دوران پاکستان سے اپنے شعبوں کی اشیا اور مہارت کے حصول کے علاوہ باہمی تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے قیام کے امکانات کاجائزہ لیں گے جس کے بعد پاکستان اورچین کے درمیان مزید تجارتی معاہدوں کاامکان ہے۔ اس طرح پاکستانی تاجروں اورصنعت کاروں کی جانب سے پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی تجارتی دلچسپی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات میں بڑی حد تک کمی ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 2006 میں طے پانے والے آزاد تجارت کے معاہدے کے بعد چین کے ساتھ پاکستان کی تجارت کاتوازن بری طرح چین کے حق میں چلاگیاتھا جس کی وجہ سے پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں میں عدم تحفظ کااحساس اجاگر ہورہاتھا اور عوامی سطح پر بھی یہ بات محسوس کی جارہی تھی کہ اگر چین کے ساتھ تجارت کاسلسلہ اسی طرح جاری رہاتو بہت سی پاکستانی صنعتیں بند اور اس میں کام کرنے ولے لاکھوں افراد بیروزگار ہوجائیں گے ،پاک چین اقتصادی کوریڈوکے حوالے سے چین کو ٹیرف اورٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ نے صورت حال کو مزید گمبھیر بنادیا تھا عام طورپر اس طرح کے تجارتی معاہدے دونوں ملکوں کی کمپنیوں اور تجارتی اور صنعتی اداروں کے درمیان ہوتے ہیں اور اس میں دونوں ہی ملکوں کی حکومتوں کاکوئی عمل دخل نہیں ہوتالیکن ان کے اثرات پوری ملکی معیشت پر پڑتے ہیں جس کو سنبھالنا حکومتوں کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔تاہم پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے خدشات کومحسوس کرنے اور اس کاتدارک کرنے کے لیے نئے تجارتی معاہدوں کااہتمام کرکے چین کی حکومت نے یہ ثابت کیاہے کہ اسے پاکستان اور خاص طورپر پاکستان کے عوام کے ساتھ دوستی عزیز ہے اور وہ اس دوستی کو کسی طرح کے شک وشبہے سے بالاتر رکھنے کی خواہاں ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں پر دستخط کے لیے منعقدہ تقریب میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر وی ڈونگ نے بھی یہی کہا کہ چین کی حکومت پاکستان کی مارکیٹ کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور چین پاکستان کاسب سے بڑاتجارتی پارٹنر بننا چاہتاہے۔انھوں نے کہا کہ سی پیک پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس کی تکمیل سے پاکستان کوتوانائی کے بحران سے نجات ملنے کے ساتھ ہی انفراسٹرکچر کی کمی کا بھی تدارک ہوجائے گا۔
پاکستان اور چین کے درمیان فی الوقت دوطرفہ تجارت کی مجموعی مالیت19.2 بلین ڈالر یعنی 19 ارب20 کروڑ ڈالر ہے لیکن اس میں پاکستان سے چین کوبرآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت صرف 1.9 بلین یعنی ایک ارب 90 کروڑ ڈالر ہے ،اسٹیٹ بینک پاکستان کی رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ 2016-17 کے دوران پاکستان سے چین کے لیے برآمدات میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور پاکستان سے چین کو صرف 1.62 بلین یعنی ایک ارب 62 کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کی گئیں ،اگرچہ 2013 میں نواز حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان کی مجموعی برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے لیکن چین کے لیے جسے پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہونے کااعزاز حاصل ہے پاکستان سے برآمدات میں تیزی سے کمی تشویشناک ہے اور اس پر پاکستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کی جانب سے تشویش کااظہار فطری امر ہے،کیونکہ ظاہر ہے کہ اس طرح چین کے ساتھ تجارت میں پاکستان کوسراسر خسارے کاسامنا کرنا پڑرہاہے اور اس کاتجارتی عدم توازن اور خسارہ بڑھتاہی جارہاہے ، توقع کی جاتی ہے کہ نئے تجارتی معاہدوں اور چین کے تجارتی وصنعتی اداروں کے وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والے معاہدوں سے یہ خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی اگرچہ ان معاہدوں سے بھی تجارتی توازن مساوی ہونے کاامکان نہیں ہے لیکن نئے تجارتی معاہدوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارہ کسی حد تک کم کرنے میں ضرورمدد ملے گی۔
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے سیکریٹری انعام اللہ کاخیال بھی یہی ہے کہ چین کے ساتھ طے پانے والے نئے تجارتی معاہدوں سے چین میں پاکستانی اشیا کی کھپت میں اور طلب میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافہ ہوگا اورتجارتی خسارے میں کمی کرنے میں مدد ملے گی۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...