وجود

... loading ...

وجود

چین کی مقامی تاجروں کے خدشات دور کرنے کی کوششیں ‘38 معاہدوں پر دستخط

منگل 29 اگست 2017 چین کی مقامی تاجروں کے خدشات دور کرنے کی کوششیں ‘38 معاہدوں پر دستخط

چین کی حکومت نے پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی اثر ونفوذ پر تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے خدشات کو محسوس کرتے ہوئے انھیں دور کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اس حوالے سے گزشتہ دنوں چین نے پاکستان کے ساتھ کم وبیش 38تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے جن کے تحت چین پاکستان سے 325 ملین ڈالر یعنی کم وبیش ساڑھے 32 کروڑ ڈالر مالیت کی مختلف اشیا خریدے گا جس سے ایک طرح پاکستانی تاجروں کو کاروبار کے نئے مواقع ملیں گے اور دوسری طرف حکومت کو تجارتی خسارے میں کمی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں پر دستخط کی یہ تقریب اسی مہینے کے وسط میں اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں چین کی کم وبیش 18 کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی اور پاکستان سے مختلف اشیا کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
ان معاہدوں کے حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق چین کی کمپنیاں پاکستان سے الیکٹرلائٹک کاپر، مچھلیوں کی خوراک، مچھلی اور دیگر بحری خوراک، خشک میوہ جات، جوار اور اس کی مصنوعات، چمڑا اور چمڑے سے بنی ہوئی مصنوعات، منجمد کردہ تازہ کھانے پینے کی اشیا، ارنڈ، کروم،خام حالت میں غیر تراشیدہ زرقون،خام تانبہ،چٹنیاں اورمربے، سنگ مرمر کی سلیں خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں جو ان کے عوام کے کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ ان کی صنعتوں میں بھی کام آئیں گی اور چین ان کے ذریعہ تیار شدہ اشیاء مہنگے داموں دیگر ممالک کو برآمد کرسکے گا اس طرح پاکستان سے خریدی گئی یہ اشیا چین کے لیے ایک منافع بخش کاروبار ثابت ہوں گی اور اس سے چین کی برآمدات میں بھی ایک گونہ اضافہ ہونے کاامکان ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں کی اس تقریب میں پاکستان میں چین کے سفیر وی ڈونگ اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے سیکریٹری انعام اللہ بھی موجود تھے جنھوں معاہدوں پر دستخط کے بعد دونوں فریقوں کومبارکباد دی۔
یہ بھی معلوم ہواہے کہ چین کی وزارت تجارت نے باہمی تجارت کے فروغ کے لیے چینی تاجروں کے ایک وفد کے دورہ پاکستان کااہتمام کیا ہے جس کے تحت چین کی 18 کمپنیوں اور تجارتی اداروں اور صنعت کاروں کاایک وفد جن میں ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، زراعت ،زرعی مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل سے متعلق شعبوں کے تاجر اور صنعت کار شامل ہیں ان دنوں پاکستان کے مشاہداتی اور مطالعاتی دورے پر پاکستان آیا ہوا ہے ،وفد کے ارکان اپنے دوہ پاکستان کے دوران پاکستان سے اپنے شعبوں کی اشیا اور مہارت کے حصول کے علاوہ باہمی تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے قیام کے امکانات کاجائزہ لیں گے جس کے بعد پاکستان اورچین کے درمیان مزید تجارتی معاہدوں کاامکان ہے۔ اس طرح پاکستانی تاجروں اورصنعت کاروں کی جانب سے پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی تجارتی دلچسپی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات میں بڑی حد تک کمی ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 2006 میں طے پانے والے آزاد تجارت کے معاہدے کے بعد چین کے ساتھ پاکستان کی تجارت کاتوازن بری طرح چین کے حق میں چلاگیاتھا جس کی وجہ سے پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں میں عدم تحفظ کااحساس اجاگر ہورہاتھا اور عوامی سطح پر بھی یہ بات محسوس کی جارہی تھی کہ اگر چین کے ساتھ تجارت کاسلسلہ اسی طرح جاری رہاتو بہت سی پاکستانی صنعتیں بند اور اس میں کام کرنے ولے لاکھوں افراد بیروزگار ہوجائیں گے ،پاک چین اقتصادی کوریڈوکے حوالے سے چین کو ٹیرف اورٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ نے صورت حال کو مزید گمبھیر بنادیا تھا عام طورپر اس طرح کے تجارتی معاہدے دونوں ملکوں کی کمپنیوں اور تجارتی اور صنعتی اداروں کے درمیان ہوتے ہیں اور اس میں دونوں ہی ملکوں کی حکومتوں کاکوئی عمل دخل نہیں ہوتالیکن ان کے اثرات پوری ملکی معیشت پر پڑتے ہیں جس کو سنبھالنا حکومتوں کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔تاہم پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے خدشات کومحسوس کرنے اور اس کاتدارک کرنے کے لیے نئے تجارتی معاہدوں کااہتمام کرکے چین کی حکومت نے یہ ثابت کیاہے کہ اسے پاکستان اور خاص طورپر پاکستان کے عوام کے ساتھ دوستی عزیز ہے اور وہ اس دوستی کو کسی طرح کے شک وشبہے سے بالاتر رکھنے کی خواہاں ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں پر دستخط کے لیے منعقدہ تقریب میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر وی ڈونگ نے بھی یہی کہا کہ چین کی حکومت پاکستان کی مارکیٹ کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور چین پاکستان کاسب سے بڑاتجارتی پارٹنر بننا چاہتاہے۔انھوں نے کہا کہ سی پیک پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس کی تکمیل سے پاکستان کوتوانائی کے بحران سے نجات ملنے کے ساتھ ہی انفراسٹرکچر کی کمی کا بھی تدارک ہوجائے گا۔
پاکستان اور چین کے درمیان فی الوقت دوطرفہ تجارت کی مجموعی مالیت19.2 بلین ڈالر یعنی 19 ارب20 کروڑ ڈالر ہے لیکن اس میں پاکستان سے چین کوبرآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت صرف 1.9 بلین یعنی ایک ارب 90 کروڑ ڈالر ہے ،اسٹیٹ بینک پاکستان کی رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ 2016-17 کے دوران پاکستان سے چین کے لیے برآمدات میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور پاکستان سے چین کو صرف 1.62 بلین یعنی ایک ارب 62 کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کی گئیں ،اگرچہ 2013 میں نواز حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان کی مجموعی برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے لیکن چین کے لیے جسے پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہونے کااعزاز حاصل ہے پاکستان سے برآمدات میں تیزی سے کمی تشویشناک ہے اور اس پر پاکستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کی جانب سے تشویش کااظہار فطری امر ہے،کیونکہ ظاہر ہے کہ اس طرح چین کے ساتھ تجارت میں پاکستان کوسراسر خسارے کاسامنا کرنا پڑرہاہے اور اس کاتجارتی عدم توازن اور خسارہ بڑھتاہی جارہاہے ، توقع کی جاتی ہے کہ نئے تجارتی معاہدوں اور چین کے تجارتی وصنعتی اداروں کے وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والے معاہدوں سے یہ خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی اگرچہ ان معاہدوں سے بھی تجارتی توازن مساوی ہونے کاامکان نہیں ہے لیکن نئے تجارتی معاہدوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارہ کسی حد تک کم کرنے میں ضرورمدد ملے گی۔
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے سیکریٹری انعام اللہ کاخیال بھی یہی ہے کہ چین کے ساتھ طے پانے والے نئے تجارتی معاہدوں سے چین میں پاکستانی اشیا کی کھپت میں اور طلب میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافہ ہوگا اورتجارتی خسارے میں کمی کرنے میں مدد ملے گی۔


متعلقہ خبریں


ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو،سماعت کے دوران عدالت کا استفسار سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے، سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں،رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی ح...

عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا

سانحہ گل پلازہ، جاں بحق 61 خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ مل گیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

843 دکان داروں کو فی کس 5 لاکھ، 11 کیسز پر فیصلہ ہونا باقی، وزیراعلیٰ کو بریفنگ پلازہ پر کام جلد شروع کیا جائے،متاثرہ تاجروں کیلئے مالی امداد کیلئے 600 ملین مختص سانحہ گل پلازا میں جاں بحق ہوئے افراد میں سے 61 خاندانوں کو فی کیس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیدیا گیا 11 کیسز پر فیصلہ...

سانحہ گل پلازہ، جاں بحق 61 خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ معاوضہ مل گیا

بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی رہائی فورس لانچ ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو گئی پی ٹی آئی نے اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے عمران رہائی فورس کے منصوبے کو مسترد کر دیا،ذرائع بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟ تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار ہوُگئی، وزیر اعلیٰ خیبر ...

بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات ؟تحریک انصاف اپنے ہی مطالبات پر تقسیم کا شکار

دہشت گردوں ،پشت پناہی کرنیوالوں کو نہیں چھوڑیں گے،صدرمملکت،وزیراعظم وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

زرداری،شہباز ،وزیرداخلہ ودیگر کا دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کو خراج تحسین حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہے،صدر،وزیراعظم صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرداخلہ محسن نقوی ودیگر نے خیبرپختونخواہ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر ...

دہشت گردوں ،پشت پناہی کرنیوالوں کو نہیں چھوڑیں گے،صدرمملکت،وزیراعظم

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم وجود - بدھ 01 اپریل 2026

برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان وجود - بدھ 01 اپریل 2026

جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی وجود - بدھ 01 اپریل 2026

علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

مضامین
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا وجود جمعرات 02 اپریل 2026
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا

مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے! وجود جمعرات 02 اپریل 2026
مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجود جمعرات 02 اپریل 2026
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس وجود جمعرات 02 اپریل 2026
خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس

تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر