... loading ...
سندھ کے محکمہ اوقاف میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کاانکشاف ہوا ہے، اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں واقع معروف اولیائے کرام اور بزرگان دین کے کم وبیش500 مزاروں پر زائرین کی جانب سے پیش کیے جانے والے نذرانے ،چڑھاوے اور عطیات کے طورپر حاصل ہونے والی رقم اور قیمتی اشیا مبینہ طورپر خورد برد کرلی جاتی ہیں اوران کابہت ہی معمولی ساحصہ سرکاری خزانے میں جمع کرایاجاتاہے، اطلاعات کے مطابق مزاروں پر ہونے والی آمدنی کی خورد برد اور چوریوں میں ان مزاروں کی دیکھ بھال اور ان کے معاملات چلانے کے لیے محکمہ اوقاف کی جانب سے مقرر کیے گئے متولیوں اور نچلے اہلکاروں کے علاوہ محکمہ اوقاف کے اعلیٰ افسران اور وزارت اوقاف کے افسران بھی برابرکے شریک ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق سندھ میں موجود مزاروں پر ہرسال کروڑوں روپے مالیت کے چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں جن میں سونے چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیا بھی شامل ہوتی ہیں لیکن محکمہ اوقاف کے افسران وزارت اوقاف کے حکام کی مبینہ ملی بھگت سے اس کابڑا حصہ خود ہڑپ کرلیتے ہیں جبکہ سونے چاندی کی نیلامی میں بھی بھاری کمیشن حاصل کرکے مارکیٹ کی قیمت سے بہت کم قیمت پربولی کی منظوری دے کر قومی خزانے کولاکھوں روپے کانقصان پہنچاتے ہیں ۔
اطلاعات کے مطا بق سندھ اسمبلی کی اوقاف مذہبی امور اورزکوٰۃ وعشر سے متعلق امور کی کمیٹی کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس کے دوران محکمہ اوقاف کے معاملات پر غور کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ گزشتہ 3سال کے دوران محکمہ اوقاف میں 10 کروڑ روپے خورد کرلئے گئے ہیں ۔کمیٹی کے اجلاس کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ محکمہ اوقاف کے حکام سندھ کے مزاروں کی دیکھ بھال کے لیے متولیوں کامستقل بنیادوں پر تقرر کرنے کے بجائے ان کا تقرر یومیہ اجرت کی بنیا پر کررہے ہیں ۔صوبائی اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاس کی اس کارروائی کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق محکمہ اوقاف کے معاملات کی چھان بین کے دوران جب محکمہ اوقاف کے حکام سے مزاروں کی دیکھ بھال کے لیے متولیوں کے تقرر اور ان کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے 10 کروڑ روپے کا حساب اور مزاروں پر رکھے گئے ملازمین کی فہرست طلب کی گئی تو محکمہ اوقاف کے حکام نہ تو 10 کروڑ کے خرچ کا کوئی حساب پیش کرسکے اور نہ ہی مزاروں کی دیکھ بھال کے لیے رکھے گئے ملازمین کی کوئی فہرست پیش کرسکے۔
کمیٹی کی چھان بین کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ محکمہ اوقاف کے حکام نے مزاروں پرملازمین کی تنخواہوں کی مد میں جاری کیے گئے10 کروڑ روپے ملازمین کی جعلی فہرستیں جمع کر کے خورد برد کرلئے ہیں اور ملازمین کاتقرر محض کاغذوں پر ہواہے حقیقی معنوں میں کوئی ملازم رکھا ہی نہیں گیا اور یومیہ اجرت پر لوگوں کی خدمات حاصل کرکے کام چلایاجارہاہے جن کی اجرت مزار سے ہونے والی آمدنی سے ادا کردی جاتی ہے۔کمیٹی کی چھان بین کے دوران محکمہ اوقاف کے حکام نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وہ عرس کے مواقع پر عارضی طورپر لوگوں کی خدمات حاصل کرکے ان کو ادائیگیاں کردیتے ہیں اور ان ادائیگیوں پر ہی یہ فنڈ خرچ ہواہے لیکن اس حوالے سے بھی وہ کوئی ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر رہے اور اس حوالے سے بھی ان کے پاس کسی کو کسی طرح کی ادائیگی کاکوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
اس معاملے کی چھان بین کرنے والی کمیٹی کی سربراہ مسلم لیگ فنکشنل کی رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کاکہناہے کہ 10 کروڑ روپے کی اس خورد برد کے انکشاف کے بعد سے انھیں طرح طرح کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان کو اس حوالے سے زبان بند رکھنے کو کہاجارہاہے ،لیکن انھوں نے اس حوالے سے کرپشن کی پوری طرح چھان بین کرنے اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کااظہار کیا ہے۔
زکوٰۃ وعشر سے متعلق امور کے صوبائی سیکریٹری نے اس اجلاس کو بتایا تھا کہ ان کے محکمے میں موجود کم وبیش 750 ملازمین میں کوئی بھی مستقل نہیں ہے کیونکہ ان ملازمین کی ملازمتیں ریگولرائز کرنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ابھی تک منظوری نہیں دی گئی ہے۔نصرت سحر عباسی کاکہنا ہے کہ وہ سندھ کے مزاروں سے متعلق معاملات کی چھان بین کاسلسلہ جاری رکھیں گی اور کسی بھی دھمکی سے خوفزدہ ہوکر تحقیقات کاعمل نہیں روکیں گی، اطلاعات کے مطابق انھوں نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے لیے محکمہ اوقاف کے ایڈمنسٹریٹر کو طلب کرلیاہے۔خیال کیاجاتاہے کہ مزاروں سے متعلق معاملات کی چھان بین کے دوران چشم کشا انکشافات ہوں گے اور بہت سے پردہ داروں کے چہروں سے نقاب الٹ جائے گا اور مزاروں کی آمدنی سے تجوریاں بھرنے والے بہت سے پارسا بے نقاب ہوجائیں گے۔
ابھی تک وزارت اوقاف کی جانب سے اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے اور وزیر اوقاف ،مذہبی امور، زکوٰۃ وعشر نے اس پورے معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ،یہ بھی معلوم ہواہے کہ مزاروں کی آمدنی میں خورد برد اور مزاروں کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے جاری کردہ 10 کروڑ روپے کی خورد برد کے انکشاف کے بعد متعلق حلقوں اور حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے اور ہر ایک اس کی ذمہ داری دوسرے کے سر ڈال کر خود صاف بچ نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہے، یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس انکشاف کے بعد مزاروں پر رکھے گئے ملازمین کی جعلی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرکے یومیہ اجرت پر رکھے گئے بعض ملازمین کو محکمہ سے باقاعدہ تنخواہیں وصول کرنے کی گواہی دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے عوض بعد میں انھیں محکمے میں مستقل ملازمت فراہم کرنے کاجھانسا دیاجارہاہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی اس معاملے کو کس حد تک آگے لے جانے اور اس معاملے کو دبانے کے لیے ملنے والی دھمکیوں کو برداشت کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں ،یا پھر وہ بھی حالات سے سمجھوتا کرکے سرکاری محکموں میں خورد برد کے دیگر بہت سے معاملات کی طرح اس معاملے کوبھی متعلقہ حکام کو دکھاوے کی تنبیہ کرکے طاق نسیاں کے سپرد کردیتی ہیں ۔تاہم ہمارے خیال میں محکمہ اوقاف میں خورد برد کے اس انکشاف کے بعد ایف آئی اے اور محکمہ انسداد بدعنوانی کو آگے بڑھ کر اس کی تحقیقات کی ذمہ داری سنبھالنی چاہئے اور سرکاری رقوم کی خورد برد میں ملوث تمام چھوٹے بڑے افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر ان سے لوٹی ہوئی تمام رقم واپس وصول کرنے کے ساتھ ہی ان کو قرار واقعی سزا بھی دلوانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...