وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاکستان میں ٹریفک حادثات کے سبب ‘قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے کانقصان

هفته 26 اگست 2017 پاکستان میں ٹریفک حادثات کے سبب ‘قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے کانقصان

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال کم وبیش 30 ہزار سنگین ٹریفک حادثات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ کم وبیش 100 ارب روپے کانقصان اٹھانا پڑتاہے۔اتھارٹی کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔اسلام آباد میں ٹریفک قواعد وضوابط اور اصولوں سے آگہی کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ڈائریکٹرسیفٹی تجمل اشرف نے بتایا کہ ٹریفک کے ایک معمولی حادثے کی صورت میں بھی قومی خزانے کو اوسطاً 4 لاکھ روپے کانقصان اٹھانا پڑتاہے۔جبکہ اس حادثے کی صورت میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کو ہونے والی پریشانیاں اپنی جگہ الگ ہوتی ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ ان حادثات کی وجہ سے بہت سے لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے متعلقہ خاندان بری طرح متاثر ہوتاہے اور گھر کاکفیل ہونے کی صورت میں گوناگوں مالی مشکلات کاشکار ہوجاتاہے۔تاہم ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہر سال زندگی بھر کے لیے معذور ہوجانے والوں کے بارے میں مستند اعدادوشمار ابھی تک حکومت مرتب نہیں کرسکی ہے جس کی وجہ سے اس مسئلے کی سنگینی کے باوجود اس کی وسعت اور اس کی وجہ سے معاشرے اور قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کااندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔
برطانیہ میں ٹریفک مانیٹرنگ سروس سے وابستہ حادثات کے حوالے سے بین الاقوامی کنسلٹنٹ اسٹیفن پروکٹر نے اس موقع پر اپنی تقریر میں پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش کااظہار کیا ۔ انھوں نے پاکستان میں ٹریفک حادثات کے حوالے سے مرتب کیے گئے اعدادوشمار کی روشنی میں بتایا کہ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعدا د کے بنیادی اسباب میں ضرورت سے زیادہ تیزرفتاری،ڈرائیونگ کے دوران لاپروائی ، ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزیاں ،کمسن بچوں کو ڈرائیونگ کاموقع دیاجانا،غیرتربیت یافتہ ڈرائیور اور گاڑیوں کی خستہ حالی اورگاڑی کی گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا یا سامان لادنا شامل ہیں ۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین شاہد اشرف تارڑ نے بتایا کہ ہرسال ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہم کسی بھی قوم کے لیے اثاثہ تصور کی جانے والی متعدد قیمتی جانوں سے محروم ہوجاتے ہیں ۔جبکہ فوری توجہ اور کارروائی کے ذریعے طبی امداد بہم پہنچاکر حادثات کے شکار بہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں اسی طرح حادثے کے شکار لوگوں پر فوری اور مناسب توجہ دے کر بہت سی قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں اسی طرح فوری طبی امداد بہم پہنچاکر بہت سے لوگوں کومستقل معذوری سے بھی بچایاجاسکتاہے ،لیکن حادثے کے شکار لوگوں کو ہسپتال پہنچانے میں تاخیر یا ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں کی عدم توجہی کے سبب بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں یا لوگوں کومستقل معذوری کاسامنا کرنا پڑتاہے۔انھوں نے بتایا کہ اب جبکہ حکومت کی جانب سے پورے ملک میں سڑکوں کاجال بچھایاجارہاہے اورآبادی اور کاروباری وصنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں بھی اضافہ ہورہاہے ،اور چین کی مدد سے تعمیر ہونے والا اقتصادی کوریڈور بھی تیاری کے مراحل میں ہے لوگوں کو ٹریفک کے اصولوں اور ڈرائیوروں کے ساتھ ہی پیدل چلنے والوں کو بھی سڑک کے بہتراورمحفوظ استعمال کے حوالے سے آگہی فراہم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ انھوں نے سڑکوں کے نیٹ ورک میں توسیع کے ساتھ ہی اب ٹریفک کے اصولوں پر زیادہ سختی کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنانا پہلے سے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے سڑکوں کو لوگوں کے لیے زیادہ محفوظ اور فائدہ مند بنایاجاسکتاہے لیکن اس کے لیے سڑک استعمال کرنے والے ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں کے ساتھ ہی ٹریفک اصولوں پر عملدرآمد کرانے کے ذمہ دار اہلکاروں اورافسران کی تربیت بھی از حد ضروری ہے،جبکہ ہمارے ملک میں صورت حال اس کے قطعی برعکس نظر آتی ہے۔جس کااندازہ کسی بھی مصروف سڑک پر مصروف اوقات میں کیاجاتاہے،کراچی ، حیدرآباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور ملک کے دوسرے تمام بڑے شہروں میں کسی بھی مصروف سڑک پر مصروف اوقات میں نکل جائیں آپ کو ایک ہی منظر دیکھنے کوملے گا سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگا لوگوں کا سڑک پر چلنا محال ہوگا اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور سڑک کراس کرنے میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے تعینات ٹریفک کانسٹیبل ، یا وارڈن کسی نہ کسی ڈرائیور سے ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں چالان کرنے کی دھمکی دے کر بھاؤ تاؤ میں مصروف نظر آئے گا اور اس کی اس مصروفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درجنوں دوسرے ڈرائیور ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کرتے اور پیدل چلنے والوں توکجا دوسری گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں مشکلات میں مبتلا کرکے آگے نکلنے کی کوشش میں ٹریفک کو مزید جام کرتے نظر آئیں گے اورموقع ملنے پر کسی کو ٹکر مار کر نکل جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔سڑکوں کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے فٹ پاتھوں پر یاتو ان ٹریفک اہلکاروں کی سرپرستی میں پتھارے والوں کاقبضہ ہوگا یا ان فٹ پاتھوں پر بھی بڑی بڑی گاڑیاں پارک نظر آئیں گی اور یہ گاڑیاں بھی اس طرح پارک کی جاتی ہیں کہ درمیان سے پیدل چلنے والوں کے نکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہوتا،اس عام لوگوں اور ڈرائیوروں کو پیدل چلنے اور ڈرائیونگ کے حوالے سے ٹریفک اصولوں سے آگاہ کرنے سے زیادہ بڑی ضرورت ٹریفک کنٹرول کرنے اور ٹریفک کی بحفاظت روانی بحال رکھنے کے لیے تعینات کیے جانے والے ان پولیس اہلکاروں اور وارڈنز کو تربیت دینا اور انھیں رشوت ستانی سے باز رکھنے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
یہ ایک واضح امر ہے کہ اگر بڑے شہروں میں ٹریفک کنٹرول کرنے اور لوگوں کو سڑک پار کرنے میں مدد دینے کے لیے تعینات کیے جانے والے پولیس اہلکاروں کواپنی ڈیوٹی مستعدی اور ایمانداری کے ساتھ انجام دینے کاپابندبنادیا جائے ،غلط سمت سے آنے والی گاڑیوں کو روزمرہ کامعمول تصور کرکے اس سے اغماض برتنے کاسلسلہ ترک کردیاجائے، کمسن ڈرائیوروں کوروک کر ان کی گاڑیاں ضبط کرنے اور ان پر بھاری جرمانے عاید کرنے کااصول اپنالیاجائے اور تیزرفتاری اورلاپروائی کے ساتھ ڈرائیونگ کرنے والے ڈرائیوروں کے لائسنس کم از کم 3 ماہ کے لیے ہی معطل کرنے کے طریقہ کار پر سختی کے ساتھ عمل شروع کردیاجائے تو ٹریفک حادثات کی شرح نصف سے بھی کم ہوجائے گی ،ہمارے ارباب اختیار اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیشتر اہلکاروں کی جانب سے قوانین پر عملدرآمد کرانے سے گریز معمولی سے مالی فائدے کے عوض ٹریفک کی بڑی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی اور اس رویئے کی وجہ سے ڈرائیوروں میں تقویت پانے والا یہ احساس ہے کہ ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہونے والے بڑے سے بڑے حادثے کو بھی رشوت کے عوض اتفاقی حادثہ قرار دے کر وہ سزا سے صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔جب تک اس منفی خیال یا احساس کو ختم نہیں کیاجاتا نہ تو ٹریفک اصولوں پر سختی سے عملدرآمد ہوسکتاہے اور نہ ہی ٹریفک حادثات میں کمی اوریہ احساس ٹریفک اہلکاروں ، افسران اور ٹریفک وارڈن کو اصولوں پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کرانے پر مجبور کرکے ہی ختم کیاجاسکتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ارباب اختیار محکمہ پولیس میں ناسور کی طرح جر پکڑنے والی رشوت ستانی کی وبا کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرسکتے ہیں ۔ اس سوال کے منفی یامثبت جواب میں ہی پورے نظام کی اصلاح یابربادی کاانحصار ہے۔


متعلقہ خبریں


بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ سے لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئیں۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس نے زمین کو پھاڑ ڈالا تھا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لبنان کے دارالخلافہ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی سیٹلائٹ سی لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زور دار دھماکے نے کس قدر تباہی مچا دی تھی۔تصویر میں دکھایا گیاکہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بندرگاہ کا ایک حصہ جہاں دھماکہ خیز مواد موجود تھا وہ مکمل طور پر پھٹ گیا۔ غیر ملکی ...

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے برطانوی شہریت ترک کرنے کا کہا تو 2 سیکنڈز سے زیادہ وقت نہیں لگائوں گا۔ غیرملکی ویب سائیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اگلے 8 سال پاکستان کے لیے بڑے بہترین ہوں گے ، اس سے پہلے ہم کہیں نہیں جا رہے ، 8سال کے لیے اپوزیشن کوئی نوکری ڈھونڈ لے اور کام کرے ، بہت ہو گیا ملک کو لوٹنا، کچھ اب محنت بھی کرلے ۔دہری شہریت رکھنے والے مشیروں اور معاونین خصوصی پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے ک...

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان وجود - جمعه 07 اگست 2020

جاپان پاکستانی سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے اسکالر شپ مہیا کرے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جاپان رواں مالی سال 2020ـ21 میں سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے سکالر شپ فراہم کرے جس کیلئے پاکستان اور جاپانا کے درمیان پاکستان میں ہیومن ریسورس ڈویلپمینٹ کے لیے جاپانی حکومت کی جانب سے گرانٹ کی فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا، اس حوالے سے تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی، جس میں پراجیکٹ کی دستاویزات پر دستخط کئے گئے ۔پروگرام کے تحت جاپان رواں مالی سال پاکستان...

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے چار ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔3لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور3 سے 5 ارب ڈالر کے املاک کی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔اس کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیر رو...

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا وجود - جمعرات 06 اگست 2020

وزیراعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ کر اپنی جماعت بی جے پی کی مسلم دشمنی اور نفرت آمیز منشور کی تکمیل کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ راکھی رام مندر کی تعمیر کے لیے تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نے سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے ہنومان گڑھی مندر میں بھومی پوجن کی رسومات بھی ادا کی تھی۔ 161 فٹ بلند رام مندر کی تعمیر میں دو سال اور 8 ماہ لگیں گے ۔خوف زدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتظامیہ نے ایودھیا میں سخت سیکیور...

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو وجود - جمعرات 06 اگست 2020

چین میں تین ہفتوں سے موجود عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے تفصیلی انٹرویوکرلیے ۔ عالمی ادارے کی ٹیم کرونا وائرس کی ابتدا اور اس کے انسانوں میں منتقلی سمیت دیگر حقائق جاننے کے لیے چین پہنچی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں جانوروں پر تحقیق کے ادارے ، صحت، حیاتیاتی اور وبائی امراض کے ماہرین سمیت دیگر حکام سے طویل ملاقاتیں کیں۔عالمی ادارہ صحت...

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے تعلیمی اداروں کی بندش نے ایک پوری نسل کو بحران سے دو چار کر دیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ کی ایک نئی مہم ہمارا مستقبل بچائیں کے آغاز کے موقع پر ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہی۔اس مہم کا مقصد کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں رسمی تعلیم کی بحالی کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے ۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کے 160 کے لگ بھگ ممالک میں ایک ارب سے زا...

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن وجود - جمعرات 06 اگست 2020

ٓ امریکی صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اگر کوئی امریکی کمپنی خریدتی ہے ، تو اس کی آمدنی کا اچھا خاصا حصہ امریکی حکومت کو ملنا چاہیے ۔ امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ پہلے ہی ٹک ٹاک خریدنے کے لیے اس کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہی ہے ۔ لیکن صدر ٹرمپ کے ٹک ٹاک سے متعلق سخت موقف نے بظاہر ان مذاکرات کو پیچیدہ کر دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے چند دن پہلے مائیکروسافٹ کے سرابراہان سے فون پر بات چیت میں واضح ک...

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے جار ی لاک ڈاون کے سبب بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے جنسی اور جسمانی استحصال کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بے روزگاری اور اقتصادی بحران کی وجہ سے پریشان حال افراد خود بھی اپنے بچوں سے مزدوری کرانے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کے چلڈرنس فاونڈیشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں یہ باتیں کہی گئیں۔فاونڈیشن نے لاک ڈاون کے بالخصوص دیہی علاقوں کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ ل...

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت وجود - جمعرات 06 اگست 2020

سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے ایک پیچیدہ ترین معمے سے پردہ اٹھانا شروع کردیا ہے کہ آخر کچھ لوگ کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار کیوں ہوجاتے ہیں جبکہ بیشتر بہت جلد صحتیاب ہوجاتے ہیں۔امریکی میڈیا نے بتایاکہ حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق مخصوص افراد میں یہ وائرس مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کردیتا ہے ۔حملہ آور وائرس کے خلاف جنگ میںدرست خلیات اور مالیکیولز کو متحرک کرنے میں ناکامی پر بیمار افراد کے جسم تمام ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیتا ہے ۔اور یہ حملہ صحت م...

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواںسال کرونا وبا کی وجہ سے حج متاثر ہوا مگر اس کے باوجود میدان عرفات سے خطبہ حج کے ترجمہ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ترجمہ پروگرام کو پوری ...

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی وجود - بدھ 05 اگست 2020

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے ۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی...

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی