... loading ...
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال کم وبیش 30 ہزار سنگین ٹریفک حادثات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ کم وبیش 100 ارب روپے کانقصان اٹھانا پڑتاہے۔اتھارٹی کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔اسلام آباد میں ٹریفک قواعد وضوابط اور اصولوں سے آگہی کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ڈائریکٹرسیفٹی تجمل اشرف نے بتایا کہ ٹریفک کے ایک معمولی حادثے کی صورت میں بھی قومی خزانے کو اوسطاً 4 لاکھ روپے کانقصان اٹھانا پڑتاہے۔جبکہ اس حادثے کی صورت میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کو ہونے والی پریشانیاں اپنی جگہ الگ ہوتی ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ ان حادثات کی وجہ سے بہت سے لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے متعلقہ خاندان بری طرح متاثر ہوتاہے اور گھر کاکفیل ہونے کی صورت میں گوناگوں مالی مشکلات کاشکار ہوجاتاہے۔تاہم ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہر سال زندگی بھر کے لیے معذور ہوجانے والوں کے بارے میں مستند اعدادوشمار ابھی تک حکومت مرتب نہیں کرسکی ہے جس کی وجہ سے اس مسئلے کی سنگینی کے باوجود اس کی وسعت اور اس کی وجہ سے معاشرے اور قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کااندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔
برطانیہ میں ٹریفک مانیٹرنگ سروس سے وابستہ حادثات کے حوالے سے بین الاقوامی کنسلٹنٹ اسٹیفن پروکٹر نے اس موقع پر اپنی تقریر میں پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش کااظہار کیا ۔ انھوں نے پاکستان میں ٹریفک حادثات کے حوالے سے مرتب کیے گئے اعدادوشمار کی روشنی میں بتایا کہ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعدا د کے بنیادی اسباب میں ضرورت سے زیادہ تیزرفتاری،ڈرائیونگ کے دوران لاپروائی ، ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزیاں ،کمسن بچوں کو ڈرائیونگ کاموقع دیاجانا،غیرتربیت یافتہ ڈرائیور اور گاڑیوں کی خستہ حالی اورگاڑی کی گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا یا سامان لادنا شامل ہیں ۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین شاہد اشرف تارڑ نے بتایا کہ ہرسال ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہم کسی بھی قوم کے لیے اثاثہ تصور کی جانے والی متعدد قیمتی جانوں سے محروم ہوجاتے ہیں ۔جبکہ فوری توجہ اور کارروائی کے ذریعے طبی امداد بہم پہنچاکر حادثات کے شکار بہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں اسی طرح حادثے کے شکار لوگوں پر فوری اور مناسب توجہ دے کر بہت سی قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں اسی طرح فوری طبی امداد بہم پہنچاکر بہت سے لوگوں کومستقل معذوری سے بھی بچایاجاسکتاہے ،لیکن حادثے کے شکار لوگوں کو ہسپتال پہنچانے میں تاخیر یا ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں کی عدم توجہی کے سبب بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں یا لوگوں کومستقل معذوری کاسامنا کرنا پڑتاہے۔انھوں نے بتایا کہ اب جبکہ حکومت کی جانب سے پورے ملک میں سڑکوں کاجال بچھایاجارہاہے اورآبادی اور کاروباری وصنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں بھی اضافہ ہورہاہے ،اور چین کی مدد سے تعمیر ہونے والا اقتصادی کوریڈور بھی تیاری کے مراحل میں ہے لوگوں کو ٹریفک کے اصولوں اور ڈرائیوروں کے ساتھ ہی پیدل چلنے والوں کو بھی سڑک کے بہتراورمحفوظ استعمال کے حوالے سے آگہی فراہم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ انھوں نے سڑکوں کے نیٹ ورک میں توسیع کے ساتھ ہی اب ٹریفک کے اصولوں پر زیادہ سختی کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنانا پہلے سے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے سڑکوں کو لوگوں کے لیے زیادہ محفوظ اور فائدہ مند بنایاجاسکتاہے لیکن اس کے لیے سڑک استعمال کرنے والے ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں کے ساتھ ہی ٹریفک اصولوں پر عملدرآمد کرانے کے ذمہ دار اہلکاروں اورافسران کی تربیت بھی از حد ضروری ہے،جبکہ ہمارے ملک میں صورت حال اس کے قطعی برعکس نظر آتی ہے۔جس کااندازہ کسی بھی مصروف سڑک پر مصروف اوقات میں کیاجاتاہے،کراچی ، حیدرآباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور ملک کے دوسرے تمام بڑے شہروں میں کسی بھی مصروف سڑک پر مصروف اوقات میں نکل جائیں آپ کو ایک ہی منظر دیکھنے کوملے گا سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگا لوگوں کا سڑک پر چلنا محال ہوگا اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور سڑک کراس کرنے میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے تعینات ٹریفک کانسٹیبل ، یا وارڈن کسی نہ کسی ڈرائیور سے ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں چالان کرنے کی دھمکی دے کر بھاؤ تاؤ میں مصروف نظر آئے گا اور اس کی اس مصروفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درجنوں دوسرے ڈرائیور ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کرتے اور پیدل چلنے والوں توکجا دوسری گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں مشکلات میں مبتلا کرکے آگے نکلنے کی کوشش میں ٹریفک کو مزید جام کرتے نظر آئیں گے اورموقع ملنے پر کسی کو ٹکر مار کر نکل جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔سڑکوں کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے فٹ پاتھوں پر یاتو ان ٹریفک اہلکاروں کی سرپرستی میں پتھارے والوں کاقبضہ ہوگا یا ان فٹ پاتھوں پر بھی بڑی بڑی گاڑیاں پارک نظر آئیں گی اور یہ گاڑیاں بھی اس طرح پارک کی جاتی ہیں کہ درمیان سے پیدل چلنے والوں کے نکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہوتا،اس عام لوگوں اور ڈرائیوروں کو پیدل چلنے اور ڈرائیونگ کے حوالے سے ٹریفک اصولوں سے آگاہ کرنے سے زیادہ بڑی ضرورت ٹریفک کنٹرول کرنے اور ٹریفک کی بحفاظت روانی بحال رکھنے کے لیے تعینات کیے جانے والے ان پولیس اہلکاروں اور وارڈنز کو تربیت دینا اور انھیں رشوت ستانی سے باز رکھنے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
یہ ایک واضح امر ہے کہ اگر بڑے شہروں میں ٹریفک کنٹرول کرنے اور لوگوں کو سڑک پار کرنے میں مدد دینے کے لیے تعینات کیے جانے والے پولیس اہلکاروں کواپنی ڈیوٹی مستعدی اور ایمانداری کے ساتھ انجام دینے کاپابندبنادیا جائے ،غلط سمت سے آنے والی گاڑیوں کو روزمرہ کامعمول تصور کرکے اس سے اغماض برتنے کاسلسلہ ترک کردیاجائے، کمسن ڈرائیوروں کوروک کر ان کی گاڑیاں ضبط کرنے اور ان پر بھاری جرمانے عاید کرنے کااصول اپنالیاجائے اور تیزرفتاری اورلاپروائی کے ساتھ ڈرائیونگ کرنے والے ڈرائیوروں کے لائسنس کم از کم 3 ماہ کے لیے ہی معطل کرنے کے طریقہ کار پر سختی کے ساتھ عمل شروع کردیاجائے تو ٹریفک حادثات کی شرح نصف سے بھی کم ہوجائے گی ،ہمارے ارباب اختیار اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیشتر اہلکاروں کی جانب سے قوانین پر عملدرآمد کرانے سے گریز معمولی سے مالی فائدے کے عوض ٹریفک کی بڑی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی اور اس رویئے کی وجہ سے ڈرائیوروں میں تقویت پانے والا یہ احساس ہے کہ ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہونے والے بڑے سے بڑے حادثے کو بھی رشوت کے عوض اتفاقی حادثہ قرار دے کر وہ سزا سے صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔جب تک اس منفی خیال یا احساس کو ختم نہیں کیاجاتا نہ تو ٹریفک اصولوں پر سختی سے عملدرآمد ہوسکتاہے اور نہ ہی ٹریفک حادثات میں کمی اوریہ احساس ٹریفک اہلکاروں ، افسران اور ٹریفک وارڈن کو اصولوں پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کرانے پر مجبور کرکے ہی ختم کیاجاسکتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ارباب اختیار محکمہ پولیس میں ناسور کی طرح جر پکڑنے والی رشوت ستانی کی وبا کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرسکتے ہیں ۔ اس سوال کے منفی یامثبت جواب میں ہی پورے نظام کی اصلاح یابربادی کاانحصار ہے۔
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...
بحریہ ٹاؤن اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کیخلاف تحقیقات ایکبار پھر بحال کر دی ،چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، ذرائع کارروائی کے دوران کسی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ، ضبط شدہ...
پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے نمائندگان کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی پی ایس ایل کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گی، محسن نقوی،عطاء تارڑ موجود تھے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی بڈنگ جیتنے والی فرمز کے نمائندگان نے ملاقات کی ہے۔تفصیل...
کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...