وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں ٹریفک حادثات کے سبب ‘قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے کانقصان

هفته 26 اگست 2017 پاکستان میں ٹریفک حادثات کے سبب ‘قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے کانقصان

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال کم وبیش 30 ہزار سنگین ٹریفک حادثات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ کم وبیش 100 ارب روپے کانقصان اٹھانا پڑتاہے۔اتھارٹی کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔اسلام آباد میں ٹریفک قواعد وضوابط اور اصولوں سے آگہی کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ڈائریکٹرسیفٹی تجمل اشرف نے بتایا کہ ٹریفک کے ایک معمولی حادثے کی صورت میں بھی قومی خزانے کو اوسطاً 4 لاکھ روپے کانقصان اٹھانا پڑتاہے۔جبکہ اس حادثے کی صورت میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کو ہونے والی پریشانیاں اپنی جگہ الگ ہوتی ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ ان حادثات کی وجہ سے بہت سے لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے متعلقہ خاندان بری طرح متاثر ہوتاہے اور گھر کاکفیل ہونے کی صورت میں گوناگوں مالی مشکلات کاشکار ہوجاتاہے۔تاہم ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہر سال زندگی بھر کے لیے معذور ہوجانے والوں کے بارے میں مستند اعدادوشمار ابھی تک حکومت مرتب نہیں کرسکی ہے جس کی وجہ سے اس مسئلے کی سنگینی کے باوجود اس کی وسعت اور اس کی وجہ سے معاشرے اور قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کااندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔
برطانیہ میں ٹریفک مانیٹرنگ سروس سے وابستہ حادثات کے حوالے سے بین الاقوامی کنسلٹنٹ اسٹیفن پروکٹر نے اس موقع پر اپنی تقریر میں پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش کااظہار کیا ۔ انھوں نے پاکستان میں ٹریفک حادثات کے حوالے سے مرتب کیے گئے اعدادوشمار کی روشنی میں بتایا کہ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعدا د کے بنیادی اسباب میں ضرورت سے زیادہ تیزرفتاری،ڈرائیونگ کے دوران لاپروائی ، ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزیاں ،کمسن بچوں کو ڈرائیونگ کاموقع دیاجانا،غیرتربیت یافتہ ڈرائیور اور گاڑیوں کی خستہ حالی اورگاڑی کی گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا یا سامان لادنا شامل ہیں ۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین شاہد اشرف تارڑ نے بتایا کہ ہرسال ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہم کسی بھی قوم کے لیے اثاثہ تصور کی جانے والی متعدد قیمتی جانوں سے محروم ہوجاتے ہیں ۔جبکہ فوری توجہ اور کارروائی کے ذریعے طبی امداد بہم پہنچاکر حادثات کے شکار بہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں اسی طرح حادثے کے شکار لوگوں پر فوری اور مناسب توجہ دے کر بہت سی قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں اسی طرح فوری طبی امداد بہم پہنچاکر بہت سے لوگوں کومستقل معذوری سے بھی بچایاجاسکتاہے ،لیکن حادثے کے شکار لوگوں کو ہسپتال پہنچانے میں تاخیر یا ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں کی عدم توجہی کے سبب بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں یا لوگوں کومستقل معذوری کاسامنا کرنا پڑتاہے۔انھوں نے بتایا کہ اب جبکہ حکومت کی جانب سے پورے ملک میں سڑکوں کاجال بچھایاجارہاہے اورآبادی اور کاروباری وصنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں بھی اضافہ ہورہاہے ،اور چین کی مدد سے تعمیر ہونے والا اقتصادی کوریڈور بھی تیاری کے مراحل میں ہے لوگوں کو ٹریفک کے اصولوں اور ڈرائیوروں کے ساتھ ہی پیدل چلنے والوں کو بھی سڑک کے بہتراورمحفوظ استعمال کے حوالے سے آگہی فراہم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ انھوں نے سڑکوں کے نیٹ ورک میں توسیع کے ساتھ ہی اب ٹریفک کے اصولوں پر زیادہ سختی کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنانا پہلے سے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے سڑکوں کو لوگوں کے لیے زیادہ محفوظ اور فائدہ مند بنایاجاسکتاہے لیکن اس کے لیے سڑک استعمال کرنے والے ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں کے ساتھ ہی ٹریفک اصولوں پر عملدرآمد کرانے کے ذمہ دار اہلکاروں اورافسران کی تربیت بھی از حد ضروری ہے،جبکہ ہمارے ملک میں صورت حال اس کے قطعی برعکس نظر آتی ہے۔جس کااندازہ کسی بھی مصروف سڑک پر مصروف اوقات میں کیاجاتاہے،کراچی ، حیدرآباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور ملک کے دوسرے تمام بڑے شہروں میں کسی بھی مصروف سڑک پر مصروف اوقات میں نکل جائیں آپ کو ایک ہی منظر دیکھنے کوملے گا سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگا لوگوں کا سڑک پر چلنا محال ہوگا اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور سڑک کراس کرنے میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے تعینات ٹریفک کانسٹیبل ، یا وارڈن کسی نہ کسی ڈرائیور سے ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں چالان کرنے کی دھمکی دے کر بھاؤ تاؤ میں مصروف نظر آئے گا اور اس کی اس مصروفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درجنوں دوسرے ڈرائیور ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کرتے اور پیدل چلنے والوں توکجا دوسری گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں مشکلات میں مبتلا کرکے آگے نکلنے کی کوشش میں ٹریفک کو مزید جام کرتے نظر آئیں گے اورموقع ملنے پر کسی کو ٹکر مار کر نکل جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔سڑکوں کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے فٹ پاتھوں پر یاتو ان ٹریفک اہلکاروں کی سرپرستی میں پتھارے والوں کاقبضہ ہوگا یا ان فٹ پاتھوں پر بھی بڑی بڑی گاڑیاں پارک نظر آئیں گی اور یہ گاڑیاں بھی اس طرح پارک کی جاتی ہیں کہ درمیان سے پیدل چلنے والوں کے نکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہوتا،اس عام لوگوں اور ڈرائیوروں کو پیدل چلنے اور ڈرائیونگ کے حوالے سے ٹریفک اصولوں سے آگاہ کرنے سے زیادہ بڑی ضرورت ٹریفک کنٹرول کرنے اور ٹریفک کی بحفاظت روانی بحال رکھنے کے لیے تعینات کیے جانے والے ان پولیس اہلکاروں اور وارڈنز کو تربیت دینا اور انھیں رشوت ستانی سے باز رکھنے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
یہ ایک واضح امر ہے کہ اگر بڑے شہروں میں ٹریفک کنٹرول کرنے اور لوگوں کو سڑک پار کرنے میں مدد دینے کے لیے تعینات کیے جانے والے پولیس اہلکاروں کواپنی ڈیوٹی مستعدی اور ایمانداری کے ساتھ انجام دینے کاپابندبنادیا جائے ،غلط سمت سے آنے والی گاڑیوں کو روزمرہ کامعمول تصور کرکے اس سے اغماض برتنے کاسلسلہ ترک کردیاجائے، کمسن ڈرائیوروں کوروک کر ان کی گاڑیاں ضبط کرنے اور ان پر بھاری جرمانے عاید کرنے کااصول اپنالیاجائے اور تیزرفتاری اورلاپروائی کے ساتھ ڈرائیونگ کرنے والے ڈرائیوروں کے لائسنس کم از کم 3 ماہ کے لیے ہی معطل کرنے کے طریقہ کار پر سختی کے ساتھ عمل شروع کردیاجائے تو ٹریفک حادثات کی شرح نصف سے بھی کم ہوجائے گی ،ہمارے ارباب اختیار اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیشتر اہلکاروں کی جانب سے قوانین پر عملدرآمد کرانے سے گریز معمولی سے مالی فائدے کے عوض ٹریفک کی بڑی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی اور اس رویئے کی وجہ سے ڈرائیوروں میں تقویت پانے والا یہ احساس ہے کہ ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہونے والے بڑے سے بڑے حادثے کو بھی رشوت کے عوض اتفاقی حادثہ قرار دے کر وہ سزا سے صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔جب تک اس منفی خیال یا احساس کو ختم نہیں کیاجاتا نہ تو ٹریفک اصولوں پر سختی سے عملدرآمد ہوسکتاہے اور نہ ہی ٹریفک حادثات میں کمی اوریہ احساس ٹریفک اہلکاروں ، افسران اور ٹریفک وارڈن کو اصولوں پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کرانے پر مجبور کرکے ہی ختم کیاجاسکتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ارباب اختیار محکمہ پولیس میں ناسور کی طرح جر پکڑنے والی رشوت ستانی کی وبا کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرسکتے ہیں ۔ اس سوال کے منفی یامثبت جواب میں ہی پورے نظام کی اصلاح یابربادی کاانحصار ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر