وجود

... loading ...

وجود

صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی اور پاکستان پر چڑھائی!!

جمعه 25 اگست 2017 صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی اور پاکستان پر چڑھائی!!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔فورٹ میئر آرلنگٹن میں تقریباً آدھے گھنٹے تک کی گئی تقریر میں صدر ٹرمپ نے پاکستان، افغانستان اور بھارت کے متعلق اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکا کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔ہماری پوری کوشش ہے کہ جوہری ہتھیار یا ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کو تلقین کی کہ امریکا سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔’ماضی میں پاکستان ہمارا بہت اہم اتحادی رہا ہے اور ہماری فوجوں نے مل کر ہمارے مشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی کی ہے۔ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کی اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے اور ہم ان کی قربانیوں اور خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے۔صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے ملک سے ان تمام شر انگیزوں کا خاتمہ کرے جو وہاں پناہ لیتے ہیں اور امریکیوں کو نشانا بناتے ہیں ۔’ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب ان ہی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں ۔
اگرچہ پاکستانی حکومت کی جانب سے فوری طورپر امریکی صدر کے ان بیانات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن عوامی جمہوریہ چین کی حکومت نے کسی تاخیر کے بغیر امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں پر شدید ردعمل کا اظہا ر کرتے ہوئے چینی وزارت دفاع کی ترجمان ہوا چْن ینگ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن پر موجود ہے، پاکستان نے اس جنگ میں ’عظیم قربانیاں ‘ دی ہیں اور ’اہم حصہ‘ ڈالا ہے۔ایک نیوز بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ بین الاقوامی برادری انسداد دہشت گردی میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرے گی‘۔ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں متعلقہ امریکی پالیسیاں افغانستان اور خطے میں سلامتی، استحکام اور ترقی کو فروغ دیں گی۔
افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے جلد بازی میں امریکی فوجیوں کے انخلاء کی صورت میں افغانستان میں دہشت گردوں کو دوبارہ جگہ مل جائے گی اور اس بارے میں وہ زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہوں گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پہلے ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلا لیں گے لیکن وہ عراق میں کی جانے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس وقت تک افغانستان میں موجود رہیں گے جب تک جیت نے مل جائے۔’امریکا افغان حکومت کے ساتھ تب تک مل کر کام کرے گا جب تک ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہ ہو جائے۔لیکن انھوں نے اس بارے میں وضاحت نہیں دی کہ امریکا کتنے اور فوجی افغانستان بھیجے گااور کہا کہ’ہم اب اپنے فوجیوں کی تعداد اور اپنے منصوبے کے بارے میں گفتگو نہیں کریں گے۔
امریکا کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی حکومت کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ان تنظیموں کو پناہ دیتا آیا ہے جو ان کے بقول ہر روز امریکی شہریوں کے قتل کی کوششیں کر رہی ہوتی ہیں ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا پاکستان کو اربوں ڈالرز دیتا رہا ہے لیکن پاکستان نے ان دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن سے امریکا لڑ رہا ہے۔انہوں نے پاکستان کومتنبہ کیا کہ یہ رویہ اب فوری طور پر تبدیل کرنا ہوگا کیوں کہ امریکا کسی ایسے ملک کے ساتھ تعاون جاری نہیں رکھ سکتا جو امریکی شہریوں اور حکام کو نشانا بنانے والے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی پشت پناہی کرے۔امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے نزدیک واقع فوجی چھاؤنی ‘فورٹ مائر’ میں پیر کی شب خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان “تہذیب، تمدن اور امن سے اپنی وابستگی کا اظہار کرے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کی امریکی کوششوں سے پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا لیکن اگر اس نے جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی تو اس کا نقصان بھی سب سے زیادہ اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ماضی میں پاکستان امریکا کا قابلِ قدر شراکت دار رہا ہے اور دونوں ملکوں کی فوج مل کر مشترکہ دشمنوں کے خلاف لڑتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی اور شدت پسندی کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھائے ہیں جن کا امریکا کو اعتراف ہے۔افغانستان کے لیے اپنی انتظامیہ کی حکمتِ عملی واضح کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان اور اس کے سرحدی علاقوں میں سیکورٹی خطرات انتہائی سنگین ہیں ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج افغانستان اور پاکستان میں 20 ایسی تنظیمیں سرگرم ہیں جنہیں امریکا دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران بار بار یہ الزام دہرایا کہ پاکستان اکثر ایسی تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے جو دہشت گردی، تشدد اور افراتفری پھیلاتی ہیں ۔
اس کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ہم اپنی حکمت عملی اور یہ نہیں بتائیں گے کہ ہم کب اور کہاں کیسی کارروائی کریں گے ،پاکستان کودھمکیاں دینے کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے جسے ان کے بقول افغانستان کی معیشت، امن اور سیکورٹی میں بہتری لانے کے لیے مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دھمکی آمیز لہجے کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح معلوم ہوتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس طرح کے بیانات سے معاملات مزید خراب ہوجائیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہی لہجہ ہے جس نے پوری دنیا میں ان کی ساکھ کو بگاڑ رکھا ہے اور اس سے ظاہرہوتاہے کہ وہ سفارتکاری کے آداب سے ناواقف ہیں ، ان کے دھمکی آمیز لہجے سے معاملات مزید خراب ہوسکتے ہیں ۔ امریکی صدر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کی جنگ جیتیں گے، جس کے لیے وہ مختلف سماجی، اقتصادی، سفارتی اور فوجی ذرائع استعمال کریں گے،لیکن پاکستان جیسے اتحادی اور مخلص دوست کومطعون کرکے وہ افغان جنگ کبھی نہیں جیت سکتے ،امریکی فوجی قیادت بھی بار بار اس بات کا اظہار کرتی رہی ہے کہ افغانستان کی جنگ جیتنے کے لیے پاکستان کا تعاون بہت ضروری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر سے ظاہرہوتاہے کہ امریکا پاکستان کو مجبورکر کے اور اس پر دباؤ ڈال کر اس سے اپنے احکام تسلیم کرانا چاہتاہے ،لیکن اس طرح کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھول گئے ہیں کہ اب پاکستان پہلے کی طرح ان کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا سر نہیں جھکائے گا،اور اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس سے یہ مسئلہ مزید بگڑ سکتا ہے۔ جس کااندازہ ان کو اپنی تقریر کے فوری بعد چین کی جانب سے آنے والے بیان سے اچھی طرح لگالینا چاہئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اوران کے معاونین اورصلاح کاروں کو یہ سوچنا چاہئے کہ پاکستان ایسے معاملے میں امریکا کو تعاون کیسے فراہم کرسکتاہے جس سے بھارت کی گرفت افغانستان میں مضبوط ہو، اورجس کے باعث پاکستان کے لیے مزید خطرات پیدا ہوسکتے ہوں ، امریکی صدرکی دھمکی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان ہوگا اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا دہشتگردی کیخلاف جنگ کو سبوتاژ کرنا ہے۔یہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ سوال کیا جا سکتاہے کہ افغانستان کو وار زون کس نے بنایا؟ امریکا نے ہی پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں دھکیلا تھا۔ امریکا کو پاکستانی فوج و سویلین کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔ بھارت افغانستان کی زمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کررہا ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان کو تجویز دی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے اور امریکی دھمکی کو اقوام متحدہ میں لے کر جانا چاہیے۔ دراصل امریکا افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈال رہا ہے دہائیوں سے نافذ کی گئی ناقص اور ناکام افغان پالیسی حقیقت میں امریکی مایوسی کا سبب ہے جبکہ بھارت کشمیر میں اپنی عسکری حکمت عملی کی ناکامی کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہراتا ہے لیکن کشمیر میں سر اٹھاتی مزاحمت خود بھارت کی اپنی ناکام عسکری حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ الزام تراشی کی اس نئی قسط سے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے ناقابل فراموش سبق حاصل کرنا چاہیے اور پاکستان کو سیکھ لینا چاہیے کہ ڈالروں کے عوض پرائی جنگ کو کبھی بھی اپنے گھر تک نہیں لانا چاہیے۔

 


متعلقہ خبریں


ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

مضامین
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی وجود جمعرات 05 مارچ 2026
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

Crime and Punishment وجود جمعرات 05 مارچ 2026
Crime and Punishment

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ وجود جمعرات 05 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر