... loading ...
سندھ میں 2008 کے بعد سے لے کر اب تک جو نا انصافیاں اوربے ضابطگیاں پیپلز پارٹی کے ادداورحکومت میں ہوئی ہیںایسی شاید مارشل لا دور میں بھی نہیں ہوئی ہونگی۔ اس دورمیں متعددسرکاری محکموں میں جعلی بھرتیاں کی گئیں خصوصا محکمہ تعلیم اور محکمہ بلدیات میں تواندھیرنگری ہی مچادی گئی ۔مال بنانے کے لیے ان محکموں میں اندھادھندجعلی بھرتیاں کی گئیں اوراوپرسے لے کرنیچے تک سب نے اپنی جیبیں بھریں ۔ اورپھران کولٹکاکررکھاگیااب جعلی ملازمین کی برطرفیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔اس حوالے سے صوبہ سندھ کے کم از کم 25 ہزار خاندان اس لیے پریشان ہیںکہ ان کے خاندان کے کسی ایک فرد نے محکمہ تعلیم یابلدیات میں نوکری کے حصول کے لیے کم از کم 5 لاکھ روپے فی کس ادا کیے تھے۔ اس لحاظ سے اداکی جانے والی رشوت کی رقم تقریبا 12 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ رقم تو صوبائی وزراء اور افسران کے پیٹوں میں چلی گئی لیکن جن بے روز گارر نوجوانوں کو ملازمتوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ان کو نوکری کا کوئی آرڈرملا نہ ہی ابھی تک کوئی تنخواہ اُنہیں مل سکی ہے ۔ اور وہ بے چارے عدالتوں اور محکموں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہاکہ وہ کس کے در پر جاکر فریاد کریں۔
اس بات میں اب کوئی شک باقی نہیں رہاکہ سندھ میں صرف دوہی اصل حاکم ہیں ۔ایک آصف زرداری، دوسری فریال تالپر، باقی سب ان کے ماتحت ملازم ہیں ۔خود وزیراعلیٰ کی حیثیت بھی ان کے ذاتی ملازم جیسی ہی ہے۔ جعلی نوکریوں کے عوض وصول کی گئی رقم کے گزشتہ آٹھ سال کے اگر سود کاہی حساب لگالیاجائے تو وہ بھی کروڑوں روپے کا ہوگا۔ لیکن جن کاضمیر نہیں ہے وہ اسی طرح لوگوں کو خوار کریں گے ۔ نیب ویسے تو ہر چھوٹے بڑے کی پگڑی کو اچھالتی ہے لیکن سندھ میں نیب کے پر جل جاتے ہیں۔ نیب نے پیر مظہر الحق اور آغا سراج درانی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ پیر مظہر الحق کو محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیوں کے اسکینڈل سے ہی بری کر دیا ہے ۔جب اصل ملزم ہی بری ہوجائے تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ جب پیر مظہر ہی ملازمتیں دینے سے بری ہوگئے تو پھر ماتحت افسران کا کیا قصور ہے؟ اور آغا سراج درانی پر کیسے ہاتھ ڈالا جائے گا؟ تبھی تو کہا جاتا ہے کہ قومیں صرف نا انصافی کے باعث تباہ ہو جاتیں ہیں۔ جب انصاف نہیں رہے گا تو پھر معاشرہ کس طرح آباد رہے گا ۔نیب نے ویسے تو بڑی باتیں کی ہیں لیکن جعلی بھرتیوں کے کیس میں پیر مظہر اور آغا سراج درانی پر ہاتھ نہ ڈال کر انصاف کا بیڑا ہی غرق کر دیا گیا ہے۔
خیر اب تو حکومت سندھ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں 20 ہزار جعلی بھرتیوں کو مسترد کر دیں گے یعنی جن کو جعلی آرڈر ملے اب ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔ اور یہ آخری امید بھی بے روزگاروں کی ٹوٹ جائے گی۔ اب تک تو ان بے چاروں کو آسرا تھا کہ کبھی نہ کبھی ان کو عدالتوں کی جانب سے بحال کردیا جائے گا لیکن اب یہ سہارا بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس کے علاوہ ایک نیا فیصلہ منظور کیا گیا ہے کہ 20 ہزار ملازمین کو برطرف کرکے 12 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ دوسرے لفظوں میں جن بے روزگاروں نے پہلے پیسے دے کر ملازمتیں حاصل کی تھیں ان پر ’’رحم‘‘ کھا کہ ان کو ملازمت پر اس لیے بحال نہیں کیا جا رہا کیونکہ وہ دوبارہ ملازمت کے لیے پیسے نہیں دیں گے۔ اس لیے نئے لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی نئی ملازمت کے لیے پیسے دیں اور ملازمت حاصل کریں اور پھر وہ اگر تنخواہ نہ لے سکیں تو تازہ دم ہو کہ عدالتوں کے چکر کاٹتے رہیں۔ ان کو دام میں پھنسانا آسان ہوگا ۔
حکومت سندھ کے پاس کوئی منطق بھی نہیں رہی کہ ان 20 ہزار ملازمین کو کیوں نکالا جا رہا ہے؟ ان کو مستقل کیوں نہیں کیا گیا؟ اور پھر نئی ملازمتیں دینے کا کیا مقصد ہے؟ مگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق حکومت سندھ کی اپنی نرالی منطق ہے۔ محکمہ تعلیم کا پہلے پیر مظہر نے بیڑا غرق کیا اور باقی جو کسررہ گئی تھی وہ آصف زرداری کے بہنوئی ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے پوری کی جنہوں نے 5 ہزار نئی بھرتیاں کیں۔ 2500 سرکاری اسکول غیر سرکاری افراد یا تنظیموں کو فروخت کیے، کروڑوں روپے کے فنڈز غیر قانونی طور پر نکلوائے ۔غیر ملکی فنڈز سے جو رقم ملتی تھی وہ بھی چالاکی سے اپنے جیب میں رکھ لی۔ اس طرح محکمہ اسکول ایجوکیشن کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں پچھلے آٹھ سال سے ہزاروں بے روز گار نوجوان اس آس میں بیٹھے ہیں کہ ان کو تنخواہیں ملیں گی مگر حکومت سندھ نے ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے ان کو مایوسی ہوئی ہے۔ اس وقت سیکریٹری تعلیم عبدالعزیز عقیلی اپنے بھائی کا ایک پروجیکٹ میں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ میں سالانہ اربوں روپے کی مالی امداد آتی ہے اور من پسند افراد کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ایسے منصوبے جس سے تعلیم کو کوئی فائدہ نہیںہوتا اس کے لیے ہر سال اربوں روپے کا قرض کیوں لیا جاتا ہے؟ اس حوالے سے بھی کوئی نہیں پوچھتا۔
پچھلے دنوں ایک حقیقت پسند کنٹریکٹ افسر اصغر سومرو نے میڈیا میں آکر سوال پوچھا کہ جب اربوں روپے قرض لے کر سرکاری اسکولوں میں حاضری نہیں بڑھائی گئی اور اضافی بچے سرکاری اسکولوں میں داخل نہیں ہوئے تو پھر دوبارہ کیوں قرض لیا جارہا ہے بس پھر کیا ہوا؟ اصغر سومرو کا کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا ان کو پیغام دیا گیا کہ ان کی یہ مجال کہ وہ حاکموں سے سوال کریں؟ وہ تو شریف آدمی تھے خاموشی سے گھر چلے گئے اگر ان کی جگہ کوئی سرپھرا ہوتا تو وہ عدالت چلا جاتا پھر عدالتوں میں ہوشربا انکشافات ہوتے۔ کئی چہروں سے نقاب اُتر جاتے کئی اصل چہرے سامنے آتے، کرپشن کی داستانیں سامنے آتیں لیکن اصغر سومرو ایک نفیس، شریف اور شائستگی والے انسان ہیں اس لیے انہوں نے گند میں پتھر مار کر بدبو نہیں پھیلائی بلکہ مافیا کو ہی گندگی میں چھوڑ دیا ۔ ان کو کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہے کیونکہ اوپر بیٹھے ہوئے لوگوں میں جوجتنابڑا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں وہ اتنا ہی کرپٹ اور چور ہے۔پہلے نیب کاڈر خوف تھا اب وہ بھی نہیں رہا۔ نئی ملازمتوں کے لیے ایجنٹ مافیا سرگرم ہوگئی ہے اور وہ بے روزگار نوجوانوں سے پیشگی رقومات بھی لے رہے ہیں۔
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...