وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

پیر 21 اگست 2017 نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری 94 ہزار روپے کا مقروض ہے جبکہ موجودہ حکومت نے یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 تک 819 ارب روپے کے مزید مقامی قرضے لیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دسمبر 2016 تک لیے گئے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیل پیش کی گئی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ 31 دسمبر 2016 تک مجموعی مقامی قرضے 12 ہزار 310 ارب روپے رہے جبکہ مذکورہ تاریخ تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب ڈالر تھا۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 کے دوران موجودہ حکومت نے 819.1 ارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کئے گئے ۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 734.62 ارب روپے اور کمرشل بینکوں سے 84.50 ارب روپے کے قرضے لیے۔جواب کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کے ذمہ 94 ہزار 890 روپے واجب الادا ہیں ۔
وزارت خزانہ نے اپنے تحریری جواب میں یہ اعتراف کیا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 182 کھرب 80 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 30 ستمبر 2016 تک ملک پر 182کھرب 77 ارب 60 کروڑ روپے قرض تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق تین سال قبل یعنی مالی سال 2013-2012 کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم 134 کھرب 80 ارب روپے تھا، اس قرض کی بڑھنے کی اہم وجہ مقامی قرض میں 40 فیصد اضافہ تھا، یہ قرض مالی سال 2013 کے اختتام تک 86 کھرب 86 ارب روپے تھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 121 کھرب 40 ارب تک پہنچ گیا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ موجودہ حکومت نے قرضوں میں 8000 ارب روپے کا اضافہ کیا۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ملک میں قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، موجودہ دور حکومت میں 8000 ارب روپے کا ملکی و غیر ملکی قرضہ لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں میں اضافے کا رحجان بدستور جاری ہے، قرضوں کا مجموعی حجم 22000 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے جس میں ملکی قرضے 14 ہزار787 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7 ہزار200 ارب روپے سے زائد ہے۔موجودہ حکومت میں ملکی قرضوں میں 5 ہزار 255 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں میں ڈھائی ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدا دو شمار کے مطابق 30 ستمبر 2016 تک مقامی قرضوں کا بوجھ 14ہزار 787ارب روپے ہوگیا جس میں طویل المدت قرضے 7ہزار 904ارب روپے اور قلیل المدت قرضوں کا حجم 6ہزار 482ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔اسی طرح30جون 2016تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7ہزار 200ارب روپے سے بڑھ گیا جس میں سرکاری قرضوں کا حجم 6ہزار 200ارب روپے ہوگیا۔غیر ملکی مجموعی قرضوں میں غیر ملکی کرنسی، براہ راست سرمایہ کاروں کو قرضے کے واجبا ت، بینکوں ، سرکاری اداروں اور نان ریذیڈنٹ ڈپازیٹس کے واجبات بھی شامل ہیں ۔سرکاری دستاویز کے مطابق تین سال قبل ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318 ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضوں کا حجم 9ہزار 522ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 4ہزر 800ارب روپے تھے۔اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق 1999 میں قرضوں کا مجموعی حجم 2ہزار 946ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضے 1ہزار 389ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 1ہزار 557ارب روپے تھے۔اسی طرح 2008 تک قرضوں کا مجموعی حجم 6ہزار 126ارب روپے ہوگیا تھا جس میں ملکی قرضے 3ہزار 275ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 2ہزار 852ارب روپے تھے۔قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریبا 68فیصد تک پہنچ چکے ہیں جو فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لی میٹیشن ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1971 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ محض 30ارب روپے تھا جو1990تک بڑھ کر711ارب روپے اور1996میں 1ہزار 704ارب روپے ہوگیاتھا۔اسی دورانیے میں غیر ملکی قرضوں میں 28 فیصد اضافہ ہوا، یہ قرضے مالی سال 2013 میں 47 کھرب،7 ارب 96 ارب روپے تھے، جو 30 ستمبر 2016 تک بڑھ کر 61 کھرب 40 ارب تک پہنچ گئے۔ ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وزارت خزانہ نے کہا کہ قرضے دراصل مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حاصل کیے گئے تھے، جس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی تھی۔وزارت خزانہ کے مطابق یہ قرض قومی اہمیت کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے حاصل کئے گئے، جن میں بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن، زلزلوں اور سیلابوں کے بعد دوبارہ بحالی میں مدد، یوریا، کھاد اور کروڈ آئل کی برآمد جیسے منصوبے شامل ہیں ۔وزارت کے مطابق یہ قرضے لینے کا ایک اور مقصد زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے حفاظت اور بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے میں مدد حاصل کرنا تھا۔ وزارت خزانہ نے مقامی قرضوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قرضے زیادہ تر سالہا سال ہونے والی مالی اعانت کی ضروررت کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں ، جب کہ موجودہ حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے زیادہ تر غیرملکی قرضوں کا مقصد حکومت کے طویل المدتی معاشی منصوبوں کی اعانت کرنا ہے، جنھیں بجٹ کے تحت متعین کردہ قرض کی ادائیگیوں کے شیڈول کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔ وزارت نے اپنے جواب میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت گزشتہ تین سال کے دوران اقتصادی خطرات کو نمایاں طور پر کم کرنے،اور مختلف تعمیری ڈھانچوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مقامی قرضوں کی واپسی اور اخراجات میں کمی ممکن ہوئی۔وزارت نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت گزشتہ تین سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کے قابل ہوئی، جس کی بدولت 2015 – 2016 میں جی ڈی پی کی شرح گزشتہ 8 سال کے دوران سب سے زیادہ یعنی 4.71 فیصد تک پہنچی۔معیشت میں بہتری کی وجہ سے مصنوعات کی پیداوار بہتر اور اجرتوں میں اضافہ ہوا جس نے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔وزارت نے مزید بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے منسلک توانائی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں سے آنے والے سال میں ملک کی جی ڈی پی میں مزید 2 فیصد اضافے کی امید ہے۔حکومت نے مالی خسارہ بھی کم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حکومت کے مطابق مالی سال 2014-2013 میں یہ خسارہ جی ڈی پی کا 8.2 فیصد تھا جو مالی سال 2016-2015 میں کم ہوکر 4.6 فیصد رہ گیا۔اس کے علاہ وزارت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ حکومت نے گزشتہ حکومت کی جانب سے حاصل کیا گیا 12 ارب امریکی ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس بھی کیا تاہم اس کے باوجود اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر سے زائد ہیں جب کہ یہ ذخائر جون 2013 کے اختتام تک صرف 11 ارب ڈالر تھے۔وزارت نے ٹیکس چھوٹ کو کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس تا جی ڈی پی کے تناسب میں اضافہ ہوا ، ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے مالی سال 16-2015 میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب جی ڈی پی کا 12.4 فیصد تک پہنچا حالانکہ 13-2012 میں یہ تناسب 9.8 فیصد تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا، سال 2013 میں یہ سرمایہ کاری 348 ارب تھی جو رواں سال بڑ کر 800 ارب تک پہنچ گئی۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ نے کڑوا گھونٹ پی لیا، بائیڈن کو اختیارات منتقلی کی منظوری وجود - منگل 24 نومبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کڑوا گھونٹ پی لیا، نو منتخب صدر جوبائیڈن انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی بالآخر منظوری دیدی، اس طرح کئی ہفتوں سے جاری ٹال مٹول انجام کو پہنچ گئی۔سربراہ جنرل سروس ایڈمنسٹریشن ایملی مرفی نے نومنتخب امریکی صدر کو اس بات سے آگاہ کردیا ہے ۔غیرلکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک گفتگومیں کہاکہ قانونی جنگ جاری رہے گی مگر انتظامیہ سے کہہ دیا ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہے اسے انجام دیا جائے ۔امریکی ٹی وی کا کہنا تھا کہ خط صدر ٹرمپ کی شکست تسلیم کرنے کی جانب پ...

ٹرمپ نے کڑوا گھونٹ پی لیا، بائیڈن کو اختیارات منتقلی کی منظوری

قطر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ہاتھوں ایک کشمیری اغوا وجود - منگل 24 نومبر 2020

قطر میں ایک کشمیری جس کی شناخت منیب احمد صوفی کے نام سے ہوئی ہے ،لاپتہ ہوگیا ہے اور شبہ کیا جارہا ہے کہ اسے بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی''را'' نے اغواکیا ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع اسلام آباد میں بجبہاڑہ کے علاقے کنیلون سے تعلق رکھنے والا منیب قطر میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھااوروہ گزشتہ ایک ہفتے سے لاپتہ ہے ۔متاثرہ شخص کے دوستوں نے بتایا کہ جب انہوں نے تمام کڑیاں ملائیں تو پتہ چلا کہ منیب کو بھارتی ایجنسی را نے اغوا کیاہے ۔ انہوں نے کہاتب سے اس کے بارے میں کسی کو کچ...

قطر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ہاتھوں ایک کشمیری اغوا

متحدہ عرب امارات نے غیرملکی ملکیت پر پابندیاں نرم کردیں وجود - منگل 24 نومبر 2020

متحدہ عرب امارات (یو اے ای)نے کمپنیز کی غیر ملکی ملکیت پر عائد پاندیوں کی ایک حد کو نرم اور ختم کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یو اے ای کے سرکاری میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیا گیا کہ یہ قدم عالمی حیثیت کو مزید بڑھانے اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے ملک کی جانب سے اٹھائے جانے والے حالیہ اقدامات کے تناظر میں ہے ۔سات صحراوں کی فیڈریشن میں وبا کے باعث ہونے والے معاشی اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک بار پھر چونکا دینے والی تبدیلی کی گئی ہیں۔اس سے قبل...

متحدہ عرب امارات نے غیرملکی ملکیت پر پابندیاں نرم کردیں

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کورونا کے جلد خاتمے کیلئے پرامید وجود - منگل 24 نومبر 2020

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے سربراہ ٹیڈروس ادھانو نے کہاہے کہ کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائلز کی کامیابی کے بعد پرامید ہیں کہ رواں برس کے آخر تک عالمی وبا کو ختم کردیا جائے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیڈروس ادھانو کا کہناتھا کہ طویل تاریک سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آنا شروع ہوگئی ہے ، کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائلز کی کامیابی سے متعلق مثبت خبریں آرہی ہیں جلد ہی ہم عالمی وبا پر قابو پالیں گے اور ختم کردیں گے ۔ٹیڈروس ادھانو نے کہا کہ کامیاب ویکسین ٹرائلز سے وبا کے خاتمے کی...

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کورونا کے جلد خاتمے کیلئے پرامید

کورونا،دنیا کے 100بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں 400ارب ڈالر کی کمی وجود - منگل 24 نومبر 2020

کورونا وائرس کے طوفان نے عالمی معیشت کے منظر میں ہر خشک و تر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اس وبا کے بحران کے بیچ صرف دہ ماہ کے عرصے میں دنیا کے 100 بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں تقریبا 400 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ کرونا وائرس کی پرچھائیاں صرف ان کروڑوں غریب اور متوسط آمدنی والے افراد پر نہیں پڑیں جو اس بحران کے سبب اپنی ملازمتوں یا آمدنی کے ذرائع سے محروم ہو گئے ۔ اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں دولت مندوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔انگریزی ویب سائٹ مارکیٹ واچ نے تحقی...

کورونا،دنیا کے 100بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں 400ارب ڈالر کی کمی

ارطغرل کی حلیمہ سلطان نے خوبصورت نظر آنے کا راز بتا دیا وجود - منگل 24 نومبر 2020

پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ترکی ڈرامے 'ارطغرل' میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی اسراء بلقیس نے گزشتہ روز اپنی ایک نئی تصویر کے ساتھ 'ہمیشہ خوبصورت' نظر آنے کا راز، مختصر ترین الفاظ میں بتادیا ہے ۔اپنی تصویر کے ساتھ صرف ایک جملے میں انہوں نے لکھا ''ہم جتنے سادہ ہوتے ہیں، ہم اتنے ہی مکمل ہوجاتے ہیں،'' جو دراصل اْنیسویں صدی کے مشہور فرانسیسی مجسمہ ساز آگستے رودین کا مشہور قول ہے ۔انہوں نے اس تصویر میں کسی قسم کا میک اپ نہیں کیا ہوا جبکہ تصویر کے ساتھ لکھے گئے قول ک...

ارطغرل کی حلیمہ سلطان نے خوبصورت نظر آنے کا راز بتا دیا

16سالہ امریکی ٹک ٹاکر کا 10کروڑ فالورزرکھنے کا منفرداعزاز وجود - منگل 24 نومبر 2020

دنیا بھر میں مقبول ترین چین کی مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر 16 سالہ امریکی صارف چارلی ڈی امیلو نے 10 کروڑ فالوورز رکھنے کا منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔چارلی ڈی امیلو کے قریب ترین فالوورز رکھنے والے جو 2 افراد ہیں ان کے محض 5 کروڑ فالوورز ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق 16 سالہ چارلی ٹک ٹاک میں حقیقی معنوں میں راج کررہی ہیں کیونکہ ان کے فالورز ول اسمتھ سے دو گنا زیادہ، دی راک سے 3 گنا زیادہ، سیلینا گومز سے 4 گنا زیادہ اور کائلی جینر سے 5 گنا زیادہ ہیں۔2018 میں لانچ ہونے والی ایپ...

16سالہ امریکی ٹک ٹاکر کا 10کروڑ فالورزرکھنے کا منفرداعزاز

ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا وجود - پیر 23 نومبر 2020

ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ کرپشن پر سندھ حکومت کو لکھا گیا ایک خط سامنے آ گیا ہے ، جس میں چیف سیکریٹری سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے میں جاری کرپشن پر نوٹس لیا جائے ۔ذرائع کے مطابق کراچی میں امراض قلب کے لیے قائم اہم ادارے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ کرپشن کے سلسلے میں 5 ماہ قبل چیف سیکریٹری سندھ کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کی شکایت کی گئی تھی تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ان شکایات پر ایکشن نہیں لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ چی...

ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ وجود - پیر 23 نومبر 2020

پاکستان میں بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ ہوہیا۔ این جی او ساحل کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 1489 بچوں کو نشانہ بنایاگیا،جن میں 785 بچیاں اور 704 بچے شامل ہیں ۔ 38 واقعات میں زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا۔331 بچے اغوا، 233 سے بدفعلی،104 سے اجتماعی زیادتی،168 لاپتہ، 160 بچیوں سے زیادتی، 134 سے دست درازی، 69 سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔ 51 بچوں کی شادی کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ 490 متاثرین کی عمر 11 سے 15 سال اور 331 کی 6 سے 10 سال بتائی گئی۔پنجاب میں سب سے زیادہ 57 ف...

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم وجود - پیر 23 نومبر 2020

مقامی عدالت نے مزار قائد بے حرمتی کیس میں مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ہفتہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں قائد اعظم کے مزار کی مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی پر مقدمے کے لیئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد ندیم خان اور ایڈووکیٹ محمد احمد پیش ہوئے ۔ عدالت نے گواہوں کو بیان کیلئے 10 دسمبر کو طلب کرلیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ موقع پر موجود مزار قائد کے ملازمین...

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی وجود - پیر 23 نومبر 2020

شہرقائد کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی ہے ۔ذرائع کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی جس کے بعد شہری نجی اسپتالوں میں جانے پرمجبورہوگئے جہاں داخلے سے قبل لاکھوں روپے وصول کئے جارہے ہیں۔انڈس اسپتال میں 16 بیڈزپرمشتمل وارڈ میں تمام بیڈزمریضوں سے بھرگئے ہیں۔ جناح اسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے 90 بیڈز مختص ہیں، جناح میں 24 ایچ ڈی یوبیڈذ اور12 وینٹلیٹرزبھی موجود ہیں، سول اسپتال میں 141 بیڈزبشم...

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار وجود - پیر 23 نومبر 2020

اسلام قبول کر کے پسند کی شادی کرنے والی13سالہ آرزو فاطمہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے ۔پولیس نے آرزو کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا، چالان کے مطابق آرزو کی کورونا رپورٹ 16 نومبر کو موصول ہوئی تھی، پولیس نے کورونا کا شکار آرزو کو عدالت میں پیش کردیا۔پولیس نے بتایا کہ ملزم اظہر علی کا بھی کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو کہ منفی آیا ہے ۔چالان میں کہا گیا ہے کہ آرزونے اپنے بیان میں بتایاکہ اس کی اظہرعلی سے طویل عرصہ سے دوستی ہے ، وہ اظہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر وکیل ...

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار