وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

پیر 21 اگست 2017 نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری 94 ہزار روپے کا مقروض ہے جبکہ موجودہ حکومت نے یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 تک 819 ارب روپے کے مزید مقامی قرضے لیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دسمبر 2016 تک لیے گئے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیل پیش کی گئی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ 31 دسمبر 2016 تک مجموعی مقامی قرضے 12 ہزار 310 ارب روپے رہے جبکہ مذکورہ تاریخ تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب ڈالر تھا۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 کے دوران موجودہ حکومت نے 819.1 ارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کئے گئے ۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 734.62 ارب روپے اور کمرشل بینکوں سے 84.50 ارب روپے کے قرضے لیے۔جواب کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کے ذمہ 94 ہزار 890 روپے واجب الادا ہیں ۔
وزارت خزانہ نے اپنے تحریری جواب میں یہ اعتراف کیا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 182 کھرب 80 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 30 ستمبر 2016 تک ملک پر 182کھرب 77 ارب 60 کروڑ روپے قرض تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق تین سال قبل یعنی مالی سال 2013-2012 کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم 134 کھرب 80 ارب روپے تھا، اس قرض کی بڑھنے کی اہم وجہ مقامی قرض میں 40 فیصد اضافہ تھا، یہ قرض مالی سال 2013 کے اختتام تک 86 کھرب 86 ارب روپے تھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 121 کھرب 40 ارب تک پہنچ گیا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ موجودہ حکومت نے قرضوں میں 8000 ارب روپے کا اضافہ کیا۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ملک میں قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، موجودہ دور حکومت میں 8000 ارب روپے کا ملکی و غیر ملکی قرضہ لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں میں اضافے کا رحجان بدستور جاری ہے، قرضوں کا مجموعی حجم 22000 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے جس میں ملکی قرضے 14 ہزار787 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7 ہزار200 ارب روپے سے زائد ہے۔موجودہ حکومت میں ملکی قرضوں میں 5 ہزار 255 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں میں ڈھائی ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدا دو شمار کے مطابق 30 ستمبر 2016 تک مقامی قرضوں کا بوجھ 14ہزار 787ارب روپے ہوگیا جس میں طویل المدت قرضے 7ہزار 904ارب روپے اور قلیل المدت قرضوں کا حجم 6ہزار 482ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔اسی طرح30جون 2016تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7ہزار 200ارب روپے سے بڑھ گیا جس میں سرکاری قرضوں کا حجم 6ہزار 200ارب روپے ہوگیا۔غیر ملکی مجموعی قرضوں میں غیر ملکی کرنسی، براہ راست سرمایہ کاروں کو قرضے کے واجبا ت، بینکوں ، سرکاری اداروں اور نان ریذیڈنٹ ڈپازیٹس کے واجبات بھی شامل ہیں ۔سرکاری دستاویز کے مطابق تین سال قبل ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318 ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضوں کا حجم 9ہزار 522ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 4ہزر 800ارب روپے تھے۔اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق 1999 میں قرضوں کا مجموعی حجم 2ہزار 946ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضے 1ہزار 389ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 1ہزار 557ارب روپے تھے۔اسی طرح 2008 تک قرضوں کا مجموعی حجم 6ہزار 126ارب روپے ہوگیا تھا جس میں ملکی قرضے 3ہزار 275ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 2ہزار 852ارب روپے تھے۔قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریبا 68فیصد تک پہنچ چکے ہیں جو فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لی میٹیشن ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1971 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ محض 30ارب روپے تھا جو1990تک بڑھ کر711ارب روپے اور1996میں 1ہزار 704ارب روپے ہوگیاتھا۔اسی دورانیے میں غیر ملکی قرضوں میں 28 فیصد اضافہ ہوا، یہ قرضے مالی سال 2013 میں 47 کھرب،7 ارب 96 ارب روپے تھے، جو 30 ستمبر 2016 تک بڑھ کر 61 کھرب 40 ارب تک پہنچ گئے۔ ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وزارت خزانہ نے کہا کہ قرضے دراصل مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حاصل کیے گئے تھے، جس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی تھی۔وزارت خزانہ کے مطابق یہ قرض قومی اہمیت کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے حاصل کئے گئے، جن میں بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن، زلزلوں اور سیلابوں کے بعد دوبارہ بحالی میں مدد، یوریا، کھاد اور کروڈ آئل کی برآمد جیسے منصوبے شامل ہیں ۔وزارت کے مطابق یہ قرضے لینے کا ایک اور مقصد زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے حفاظت اور بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے میں مدد حاصل کرنا تھا۔ وزارت خزانہ نے مقامی قرضوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قرضے زیادہ تر سالہا سال ہونے والی مالی اعانت کی ضروررت کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں ، جب کہ موجودہ حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے زیادہ تر غیرملکی قرضوں کا مقصد حکومت کے طویل المدتی معاشی منصوبوں کی اعانت کرنا ہے، جنھیں بجٹ کے تحت متعین کردہ قرض کی ادائیگیوں کے شیڈول کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔ وزارت نے اپنے جواب میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت گزشتہ تین سال کے دوران اقتصادی خطرات کو نمایاں طور پر کم کرنے،اور مختلف تعمیری ڈھانچوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مقامی قرضوں کی واپسی اور اخراجات میں کمی ممکن ہوئی۔وزارت نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت گزشتہ تین سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کے قابل ہوئی، جس کی بدولت 2015 – 2016 میں جی ڈی پی کی شرح گزشتہ 8 سال کے دوران سب سے زیادہ یعنی 4.71 فیصد تک پہنچی۔معیشت میں بہتری کی وجہ سے مصنوعات کی پیداوار بہتر اور اجرتوں میں اضافہ ہوا جس نے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔وزارت نے مزید بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے منسلک توانائی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں سے آنے والے سال میں ملک کی جی ڈی پی میں مزید 2 فیصد اضافے کی امید ہے۔حکومت نے مالی خسارہ بھی کم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حکومت کے مطابق مالی سال 2014-2013 میں یہ خسارہ جی ڈی پی کا 8.2 فیصد تھا جو مالی سال 2016-2015 میں کم ہوکر 4.6 فیصد رہ گیا۔اس کے علاہ وزارت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ حکومت نے گزشتہ حکومت کی جانب سے حاصل کیا گیا 12 ارب امریکی ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس بھی کیا تاہم اس کے باوجود اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر سے زائد ہیں جب کہ یہ ذخائر جون 2013 کے اختتام تک صرف 11 ارب ڈالر تھے۔وزارت نے ٹیکس چھوٹ کو کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس تا جی ڈی پی کے تناسب میں اضافہ ہوا ، ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے مالی سال 16-2015 میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب جی ڈی پی کا 12.4 فیصد تک پہنچا حالانکہ 13-2012 میں یہ تناسب 9.8 فیصد تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا، سال 2013 میں یہ سرمایہ کاری 348 ارب تھی جو رواں سال بڑ کر 800 ارب تک پہنچ گئی۔


متعلقہ خبریں


بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ سے لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئیں۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس نے زمین کو پھاڑ ڈالا تھا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لبنان کے دارالخلافہ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی سیٹلائٹ سی لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زور دار دھماکے نے کس قدر تباہی مچا دی تھی۔تصویر میں دکھایا گیاکہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بندرگاہ کا ایک حصہ جہاں دھماکہ خیز مواد موجود تھا وہ مکمل طور پر پھٹ گیا۔ غیر ملکی ...

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے برطانوی شہریت ترک کرنے کا کہا تو 2 سیکنڈز سے زیادہ وقت نہیں لگائوں گا۔ غیرملکی ویب سائیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اگلے 8 سال پاکستان کے لیے بڑے بہترین ہوں گے ، اس سے پہلے ہم کہیں نہیں جا رہے ، 8سال کے لیے اپوزیشن کوئی نوکری ڈھونڈ لے اور کام کرے ، بہت ہو گیا ملک کو لوٹنا، کچھ اب محنت بھی کرلے ۔دہری شہریت رکھنے والے مشیروں اور معاونین خصوصی پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے ک...

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان وجود - جمعه 07 اگست 2020

جاپان پاکستانی سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے اسکالر شپ مہیا کرے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جاپان رواں مالی سال 2020ـ21 میں سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے سکالر شپ فراہم کرے جس کیلئے پاکستان اور جاپانا کے درمیان پاکستان میں ہیومن ریسورس ڈویلپمینٹ کے لیے جاپانی حکومت کی جانب سے گرانٹ کی فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا، اس حوالے سے تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی، جس میں پراجیکٹ کی دستاویزات پر دستخط کئے گئے ۔پروگرام کے تحت جاپان رواں مالی سال پاکستان...

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے چار ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔3لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور3 سے 5 ارب ڈالر کے املاک کی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔اس کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیر رو...

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا وجود - جمعرات 06 اگست 2020

وزیراعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ کر اپنی جماعت بی جے پی کی مسلم دشمنی اور نفرت آمیز منشور کی تکمیل کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ راکھی رام مندر کی تعمیر کے لیے تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نے سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے ہنومان گڑھی مندر میں بھومی پوجن کی رسومات بھی ادا کی تھی۔ 161 فٹ بلند رام مندر کی تعمیر میں دو سال اور 8 ماہ لگیں گے ۔خوف زدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتظامیہ نے ایودھیا میں سخت سیکیور...

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو وجود - جمعرات 06 اگست 2020

چین میں تین ہفتوں سے موجود عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے تفصیلی انٹرویوکرلیے ۔ عالمی ادارے کی ٹیم کرونا وائرس کی ابتدا اور اس کے انسانوں میں منتقلی سمیت دیگر حقائق جاننے کے لیے چین پہنچی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں جانوروں پر تحقیق کے ادارے ، صحت، حیاتیاتی اور وبائی امراض کے ماہرین سمیت دیگر حکام سے طویل ملاقاتیں کیں۔عالمی ادارہ صحت...

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے تعلیمی اداروں کی بندش نے ایک پوری نسل کو بحران سے دو چار کر دیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ کی ایک نئی مہم ہمارا مستقبل بچائیں کے آغاز کے موقع پر ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہی۔اس مہم کا مقصد کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں رسمی تعلیم کی بحالی کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے ۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کے 160 کے لگ بھگ ممالک میں ایک ارب سے زا...

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن وجود - جمعرات 06 اگست 2020

ٓ امریکی صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اگر کوئی امریکی کمپنی خریدتی ہے ، تو اس کی آمدنی کا اچھا خاصا حصہ امریکی حکومت کو ملنا چاہیے ۔ امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ پہلے ہی ٹک ٹاک خریدنے کے لیے اس کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہی ہے ۔ لیکن صدر ٹرمپ کے ٹک ٹاک سے متعلق سخت موقف نے بظاہر ان مذاکرات کو پیچیدہ کر دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے چند دن پہلے مائیکروسافٹ کے سرابراہان سے فون پر بات چیت میں واضح ک...

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے جار ی لاک ڈاون کے سبب بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے جنسی اور جسمانی استحصال کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بے روزگاری اور اقتصادی بحران کی وجہ سے پریشان حال افراد خود بھی اپنے بچوں سے مزدوری کرانے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کے چلڈرنس فاونڈیشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں یہ باتیں کہی گئیں۔فاونڈیشن نے لاک ڈاون کے بالخصوص دیہی علاقوں کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ ل...

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت وجود - جمعرات 06 اگست 2020

سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے ایک پیچیدہ ترین معمے سے پردہ اٹھانا شروع کردیا ہے کہ آخر کچھ لوگ کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار کیوں ہوجاتے ہیں جبکہ بیشتر بہت جلد صحتیاب ہوجاتے ہیں۔امریکی میڈیا نے بتایاکہ حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق مخصوص افراد میں یہ وائرس مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کردیتا ہے ۔حملہ آور وائرس کے خلاف جنگ میںدرست خلیات اور مالیکیولز کو متحرک کرنے میں ناکامی پر بیمار افراد کے جسم تمام ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیتا ہے ۔اور یہ حملہ صحت م...

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواںسال کرونا وبا کی وجہ سے حج متاثر ہوا مگر اس کے باوجود میدان عرفات سے خطبہ حج کے ترجمہ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ترجمہ پروگرام کو پوری ...

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی وجود - بدھ 05 اگست 2020

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے ۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی...

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی