وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

پیر 21 اگست 2017 نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری 94 ہزار روپے کا مقروض ہے جبکہ موجودہ حکومت نے یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 تک 819 ارب روپے کے مزید مقامی قرضے لیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دسمبر 2016 تک لیے گئے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیل پیش کی گئی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ 31 دسمبر 2016 تک مجموعی مقامی قرضے 12 ہزار 310 ارب روپے رہے جبکہ مذکورہ تاریخ تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب ڈالر تھا۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 کے دوران موجودہ حکومت نے 819.1 ارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کئے گئے ۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 734.62 ارب روپے اور کمرشل بینکوں سے 84.50 ارب روپے کے قرضے لیے۔جواب کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کے ذمہ 94 ہزار 890 روپے واجب الادا ہیں ۔
وزارت خزانہ نے اپنے تحریری جواب میں یہ اعتراف کیا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 182 کھرب 80 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 30 ستمبر 2016 تک ملک پر 182کھرب 77 ارب 60 کروڑ روپے قرض تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق تین سال قبل یعنی مالی سال 2013-2012 کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم 134 کھرب 80 ارب روپے تھا، اس قرض کی بڑھنے کی اہم وجہ مقامی قرض میں 40 فیصد اضافہ تھا، یہ قرض مالی سال 2013 کے اختتام تک 86 کھرب 86 ارب روپے تھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 121 کھرب 40 ارب تک پہنچ گیا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ موجودہ حکومت نے قرضوں میں 8000 ارب روپے کا اضافہ کیا۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ملک میں قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، موجودہ دور حکومت میں 8000 ارب روپے کا ملکی و غیر ملکی قرضہ لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں میں اضافے کا رحجان بدستور جاری ہے، قرضوں کا مجموعی حجم 22000 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے جس میں ملکی قرضے 14 ہزار787 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7 ہزار200 ارب روپے سے زائد ہے۔موجودہ حکومت میں ملکی قرضوں میں 5 ہزار 255 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں میں ڈھائی ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدا دو شمار کے مطابق 30 ستمبر 2016 تک مقامی قرضوں کا بوجھ 14ہزار 787ارب روپے ہوگیا جس میں طویل المدت قرضے 7ہزار 904ارب روپے اور قلیل المدت قرضوں کا حجم 6ہزار 482ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔اسی طرح30جون 2016تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7ہزار 200ارب روپے سے بڑھ گیا جس میں سرکاری قرضوں کا حجم 6ہزار 200ارب روپے ہوگیا۔غیر ملکی مجموعی قرضوں میں غیر ملکی کرنسی، براہ راست سرمایہ کاروں کو قرضے کے واجبا ت، بینکوں ، سرکاری اداروں اور نان ریذیڈنٹ ڈپازیٹس کے واجبات بھی شامل ہیں ۔سرکاری دستاویز کے مطابق تین سال قبل ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318 ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضوں کا حجم 9ہزار 522ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 4ہزر 800ارب روپے تھے۔اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق 1999 میں قرضوں کا مجموعی حجم 2ہزار 946ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضے 1ہزار 389ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 1ہزار 557ارب روپے تھے۔اسی طرح 2008 تک قرضوں کا مجموعی حجم 6ہزار 126ارب روپے ہوگیا تھا جس میں ملکی قرضے 3ہزار 275ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 2ہزار 852ارب روپے تھے۔قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریبا 68فیصد تک پہنچ چکے ہیں جو فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لی میٹیشن ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1971 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ محض 30ارب روپے تھا جو1990تک بڑھ کر711ارب روپے اور1996میں 1ہزار 704ارب روپے ہوگیاتھا۔اسی دورانیے میں غیر ملکی قرضوں میں 28 فیصد اضافہ ہوا، یہ قرضے مالی سال 2013 میں 47 کھرب،7 ارب 96 ارب روپے تھے، جو 30 ستمبر 2016 تک بڑھ کر 61 کھرب 40 ارب تک پہنچ گئے۔ ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وزارت خزانہ نے کہا کہ قرضے دراصل مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حاصل کیے گئے تھے، جس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی تھی۔وزارت خزانہ کے مطابق یہ قرض قومی اہمیت کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے حاصل کئے گئے، جن میں بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن، زلزلوں اور سیلابوں کے بعد دوبارہ بحالی میں مدد، یوریا، کھاد اور کروڈ آئل کی برآمد جیسے منصوبے شامل ہیں ۔وزارت کے مطابق یہ قرضے لینے کا ایک اور مقصد زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے حفاظت اور بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے میں مدد حاصل کرنا تھا۔ وزارت خزانہ نے مقامی قرضوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قرضے زیادہ تر سالہا سال ہونے والی مالی اعانت کی ضروررت کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں ، جب کہ موجودہ حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے زیادہ تر غیرملکی قرضوں کا مقصد حکومت کے طویل المدتی معاشی منصوبوں کی اعانت کرنا ہے، جنھیں بجٹ کے تحت متعین کردہ قرض کی ادائیگیوں کے شیڈول کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔ وزارت نے اپنے جواب میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت گزشتہ تین سال کے دوران اقتصادی خطرات کو نمایاں طور پر کم کرنے،اور مختلف تعمیری ڈھانچوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مقامی قرضوں کی واپسی اور اخراجات میں کمی ممکن ہوئی۔وزارت نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت گزشتہ تین سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کے قابل ہوئی، جس کی بدولت 2015 – 2016 میں جی ڈی پی کی شرح گزشتہ 8 سال کے دوران سب سے زیادہ یعنی 4.71 فیصد تک پہنچی۔معیشت میں بہتری کی وجہ سے مصنوعات کی پیداوار بہتر اور اجرتوں میں اضافہ ہوا جس نے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔وزارت نے مزید بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے منسلک توانائی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں سے آنے والے سال میں ملک کی جی ڈی پی میں مزید 2 فیصد اضافے کی امید ہے۔حکومت نے مالی خسارہ بھی کم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حکومت کے مطابق مالی سال 2014-2013 میں یہ خسارہ جی ڈی پی کا 8.2 فیصد تھا جو مالی سال 2016-2015 میں کم ہوکر 4.6 فیصد رہ گیا۔اس کے علاہ وزارت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ حکومت نے گزشتہ حکومت کی جانب سے حاصل کیا گیا 12 ارب امریکی ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس بھی کیا تاہم اس کے باوجود اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر سے زائد ہیں جب کہ یہ ذخائر جون 2013 کے اختتام تک صرف 11 ارب ڈالر تھے۔وزارت نے ٹیکس چھوٹ کو کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس تا جی ڈی پی کے تناسب میں اضافہ ہوا ، ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے مالی سال 16-2015 میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب جی ڈی پی کا 12.4 فیصد تک پہنچا حالانکہ 13-2012 میں یہ تناسب 9.8 فیصد تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا، سال 2013 میں یہ سرمایہ کاری 348 ارب تھی جو رواں سال بڑ کر 800 ارب تک پہنچ گئی۔


متعلقہ خبریں


ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں بری ملزمان کو رہا نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیاہے ۔بدھ کو عدالتِ عالیہ نے سیکریٹری داخلہ اور جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی ضمنی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ستمبر میں حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ملزمان کو رہا نہ کیا جائے ۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ م...

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ہ عوام واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی پلیٹ فارم بپ کی طرف راغب ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں بھی اس ایپ کی ڈائون لوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق لوگ ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق اندیشوں کے باعث فوری پیغام رسانی کی اپیلی کیشن واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی رابطہ پلیٹ فارم بِپ کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے زیادہ بہتر ویڈیو کال، ایک ہزار افراد تک کے چیٹنگ گروپ اور مختلف چینلوں کی رکنیت کی اجازت دینے جیسی خصوصیات کی وجہ سے ہم بِپ کو تر...

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ۔ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔اب ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہماری قومی عظمت سے اعتماد کے ضیاع کا ہے ،غیرملکی خبررساں ادراے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے بحیثیت امریکی صدر اپنا الوداعی خطاب بذریعہ یوٹیوب کیا ۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں...

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی ٹرمپ نے والد کی مدتِ صدارت کے آخری روز اپنی منگنی کا باضابطہ اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اپنے منگیتر مائیکل بلوس کے ہمراہ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی منگنی کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ زندگی کا نیا باب ان کے ساتھ گزارنے کی منتظر ہیں۔اپنی پوسٹ میں ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں فیملی کے ہمراہ تاریخی مواقعوں پر سنہری یادیں سمیٹنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں میری سب سے بہترین یاد مائ...

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور متعدد موجودہ اور سابق اعلی امریکی عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عاید کردیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاکہ امریکی صدر ٹرمپ اور پومپیو کے علاوہ قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفرملر، وزیرخزانہ اسٹیفن نوشین ،سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل ،امریکا کے خصوصی ایلچی برائے ایران اور وینزویلا ایلیٹ ابرامس، دفتر برائے غیرملکی اثاثہ کنٹرول کی سربراہ آندریا گاکی،صدر ٹرمپ کے قوم...

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

برطانیہ میں 44ارب کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے اور حکام کی جانب سے تلاشی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے 35سالہ آئی ٹی انجینئر نے 2009میں کرپٹو کرنسی میں حصہ لیا اور2013میں آفس کی صفائی کی دوران غلطی سے بٹ کوائن والی ہارڈ ڈرائیو کوڑے میں پھینک دی۔جیمز ہویلز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 75 سو بٹ کوائن موجود تھے جو آج کی قیمت کے مطابق 28 کروڑ ڈالرز کے قریب بنتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 8 سال قبل پھینکے گئے کوڑے کے ڈھیر میں ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی حکام...

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

معروف آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما 2 ماہ سے زائد عوامی منظرنامے سے پراسرار طور پر غائب رہنے کے بعد سامنے آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جیک ما نے گزشتہ روز ویڈیو لِنک کے ذریعے دیہی اساتذہ کی زیر قیادت سماجی بہبود کے پروگرام میں شرکت کی۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کورونا کے بعد جلد ملاقات کریں گے ۔ خیال رہے کہ چین کے ریگولیٹری نظام پر تنقید کے بعد جیک ما کے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کی خبروں سے متعلق سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو...

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز وجود - منگل 19 جنوری 2021

سابق فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور پر مقدمے کا آغاز کردیاگیا ہے ،کراچی افیئرکے نام سے مشہور اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990کی دہائی میں ناکام صدارتی مہم کے سلسلے میں فنڈز کی فراہمی کے لیے اسلحہ کے معاہدوں میں رشوت لی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق91سالہ بیلاڈور بدانتظامی کے الزامات کا سامنا کرنے والے فرانسیسی سیاست دانوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن گئے جہاں اس فہرست میں سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے پیش رو جیک چیراک بھی شامل ہیں۔قدامت پسند سابق وزیر اعظم پر کورٹ آ...

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار وجود - منگل 19 جنوری 2021

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل جبکہ گانے گانے پرمتعدد لڑکیاں گرفتارکرلی گئیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل نے اپنے ایوننگ فیملی پروگرام کی میزبان روزیتا قبادی کو معطل کر دیا۔ ایک روز جب وہ ٹی وی کے دفتر پہنچی تو اسے وہ یہ جان کر حیران رہی کہ اسے پروگرام کی میزبانی سے روک دیا گیا ہے ۔روزیتا قبادی نے بتایا گیا کہ اس کے پروگرام میں ایک ڈاکٹر نے رقص جیسے متنازع الفاظ استعمال کیے تھے مگر اس نے اپنے مہمان کو ایسی گفتگو سے من...

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل وجود - منگل 19 جنوری 2021

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے پہلے واشنگٹن ڈی سی کا ریڈ زون فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی دارالحکومت میںرکاوٹیں، خاردار تاریں اور نیشنل گارڈز بڑی تعداد میں تعینات ہے جبکہ سڑکیں سنسان ہیں۔امریکا کی بعض ریاستوں میں ٹرمپ کے حامی سڑکوں پر نکلے ، تاہم سیکورٹی اہل کاروں کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری بدھ کو ہوگی۔

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع وجود - منگل 19 جنوری 2021

امریکی قائم مقام سیکٹری دفاع کرسٹوفر ملر نے کہاہے کہ امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی پرتعینات اہلکاروں کے حملے کا خدشہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کرسٹوفر ملر نے کہا کہ کوئی خفیہ اطلاعات نہیں کہ بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے حملے کاخدشہ ہو.انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پرتعینات تمام 25 ہزار نیشنل گارڈز کی اسکریننگ ہورہی ہے ، سیکیورٹی پرتعینات اہکاروں کی اسکریننگ معمول کی بات ہے ۔

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی وجود - منگل 19 جنوری 2021

بھارتی ریاست حیدرآباد دکن میں پڑھائی پر پڑھائی پر توجہ نہ دینے والے 10 سالہ بچے کو اس کے والد نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔باپ نے بیٹے پر تارپین کا تیل چھڑک کا آگ لگائی، باپ کے تشدد کا نشانہ بننے والے 10سالہ بچے کا 60 فیصد جسم جل گیا ہے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم پوری کوشش کررہی ہے ۔جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کا باپ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہے اور اپنے بچے کو نذر آتش کرنے کے بعد سے مفرور ہے ۔علاقہ پولیس کے مطابق یہ واق...

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی