وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

پیر 21 اگست 2017 نواز حکومت نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری 94 ہزار روپے کا مقروض ہے جبکہ موجودہ حکومت نے یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 تک 819 ارب روپے کے مزید مقامی قرضے لیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دسمبر 2016 تک لیے گئے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیل پیش کی گئی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ 31 دسمبر 2016 تک مجموعی مقامی قرضے 12 ہزار 310 ارب روپے رہے جبکہ مذکورہ تاریخ تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب ڈالر تھا۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 کے دوران موجودہ حکومت نے 819.1 ارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کئے گئے ۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 734.62 ارب روپے اور کمرشل بینکوں سے 84.50 ارب روپے کے قرضے لیے۔جواب کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کے ذمہ 94 ہزار 890 روپے واجب الادا ہیں ۔
وزارت خزانہ نے اپنے تحریری جواب میں یہ اعتراف کیا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 182 کھرب 80 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 30 ستمبر 2016 تک ملک پر 182کھرب 77 ارب 60 کروڑ روپے قرض تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق تین سال قبل یعنی مالی سال 2013-2012 کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم 134 کھرب 80 ارب روپے تھا، اس قرض کی بڑھنے کی اہم وجہ مقامی قرض میں 40 فیصد اضافہ تھا، یہ قرض مالی سال 2013 کے اختتام تک 86 کھرب 86 ارب روپے تھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 121 کھرب 40 ارب تک پہنچ گیا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ موجودہ حکومت نے قرضوں میں 8000 ارب روپے کا اضافہ کیا۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ملک میں قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، موجودہ دور حکومت میں 8000 ارب روپے کا ملکی و غیر ملکی قرضہ لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں میں اضافے کا رحجان بدستور جاری ہے، قرضوں کا مجموعی حجم 22000 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے جس میں ملکی قرضے 14 ہزار787 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7 ہزار200 ارب روپے سے زائد ہے۔موجودہ حکومت میں ملکی قرضوں میں 5 ہزار 255 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں میں ڈھائی ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدا دو شمار کے مطابق 30 ستمبر 2016 تک مقامی قرضوں کا بوجھ 14ہزار 787ارب روپے ہوگیا جس میں طویل المدت قرضے 7ہزار 904ارب روپے اور قلیل المدت قرضوں کا حجم 6ہزار 482ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔اسی طرح30جون 2016تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7ہزار 200ارب روپے سے بڑھ گیا جس میں سرکاری قرضوں کا حجم 6ہزار 200ارب روپے ہوگیا۔غیر ملکی مجموعی قرضوں میں غیر ملکی کرنسی، براہ راست سرمایہ کاروں کو قرضے کے واجبا ت، بینکوں ، سرکاری اداروں اور نان ریذیڈنٹ ڈپازیٹس کے واجبات بھی شامل ہیں ۔سرکاری دستاویز کے مطابق تین سال قبل ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318 ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضوں کا حجم 9ہزار 522ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 4ہزر 800ارب روپے تھے۔اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق 1999 میں قرضوں کا مجموعی حجم 2ہزار 946ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضے 1ہزار 389ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 1ہزار 557ارب روپے تھے۔اسی طرح 2008 تک قرضوں کا مجموعی حجم 6ہزار 126ارب روپے ہوگیا تھا جس میں ملکی قرضے 3ہزار 275ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 2ہزار 852ارب روپے تھے۔قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریبا 68فیصد تک پہنچ چکے ہیں جو فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لی میٹیشن ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1971 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ محض 30ارب روپے تھا جو1990تک بڑھ کر711ارب روپے اور1996میں 1ہزار 704ارب روپے ہوگیاتھا۔اسی دورانیے میں غیر ملکی قرضوں میں 28 فیصد اضافہ ہوا، یہ قرضے مالی سال 2013 میں 47 کھرب،7 ارب 96 ارب روپے تھے، جو 30 ستمبر 2016 تک بڑھ کر 61 کھرب 40 ارب تک پہنچ گئے۔ ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وزارت خزانہ نے کہا کہ قرضے دراصل مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حاصل کیے گئے تھے، جس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی تھی۔وزارت خزانہ کے مطابق یہ قرض قومی اہمیت کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے حاصل کئے گئے، جن میں بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن، زلزلوں اور سیلابوں کے بعد دوبارہ بحالی میں مدد، یوریا، کھاد اور کروڈ آئل کی برآمد جیسے منصوبے شامل ہیں ۔وزارت کے مطابق یہ قرضے لینے کا ایک اور مقصد زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے حفاظت اور بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے میں مدد حاصل کرنا تھا۔ وزارت خزانہ نے مقامی قرضوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قرضے زیادہ تر سالہا سال ہونے والی مالی اعانت کی ضروررت کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں ، جب کہ موجودہ حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے زیادہ تر غیرملکی قرضوں کا مقصد حکومت کے طویل المدتی معاشی منصوبوں کی اعانت کرنا ہے، جنھیں بجٹ کے تحت متعین کردہ قرض کی ادائیگیوں کے شیڈول کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔ وزارت نے اپنے جواب میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت گزشتہ تین سال کے دوران اقتصادی خطرات کو نمایاں طور پر کم کرنے،اور مختلف تعمیری ڈھانچوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مقامی قرضوں کی واپسی اور اخراجات میں کمی ممکن ہوئی۔وزارت نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت گزشتہ تین سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کے قابل ہوئی، جس کی بدولت 2015 – 2016 میں جی ڈی پی کی شرح گزشتہ 8 سال کے دوران سب سے زیادہ یعنی 4.71 فیصد تک پہنچی۔معیشت میں بہتری کی وجہ سے مصنوعات کی پیداوار بہتر اور اجرتوں میں اضافہ ہوا جس نے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔وزارت نے مزید بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے منسلک توانائی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں سے آنے والے سال میں ملک کی جی ڈی پی میں مزید 2 فیصد اضافے کی امید ہے۔حکومت نے مالی خسارہ بھی کم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حکومت کے مطابق مالی سال 2014-2013 میں یہ خسارہ جی ڈی پی کا 8.2 فیصد تھا جو مالی سال 2016-2015 میں کم ہوکر 4.6 فیصد رہ گیا۔اس کے علاہ وزارت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ حکومت نے گزشتہ حکومت کی جانب سے حاصل کیا گیا 12 ارب امریکی ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس بھی کیا تاہم اس کے باوجود اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر سے زائد ہیں جب کہ یہ ذخائر جون 2013 کے اختتام تک صرف 11 ارب ڈالر تھے۔وزارت نے ٹیکس چھوٹ کو کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس تا جی ڈی پی کے تناسب میں اضافہ ہوا ، ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے مالی سال 16-2015 میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب جی ڈی پی کا 12.4 فیصد تک پہنچا حالانکہ 13-2012 میں یہ تناسب 9.8 فیصد تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا، سال 2013 میں یہ سرمایہ کاری 348 ارب تھی جو رواں سال بڑ کر 800 ارب تک پہنچ گئی۔


متعلقہ خبریں


کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ،چیف جسٹس وجود - منگل 15 جون 2021

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کیس میں نسلہ ٹاور کے وکلا سے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر جواب طلب کرلیا۔ پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل لارجر بنچ نے نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ کراچی کا سسٹم کینیڈا سے چلایا جارہا ہے ، کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ، یونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے ، وہی چلارہا ہے سارا سسٹم ، ایڈوکی...

کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ،چیف جسٹس

مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دینے والا بی جے پی کا ترجمان مقرر وجود - منگل 15 جون 2021

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے ذمہ دار اور ہجومی تشدد کے ذریعے مسلمانوں کے قتل کی حمایت کرنے والے شخص کو بھارتی ریاست ہریانہ میں بی جے پی کا ترجمان مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت بھر میں کورونا وبا کے بے قابو ہونے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے ہندو مسلم رواداری کے عظیم الشان اور مثالی رویے کا بھارت بھر میں اظہار کیا جارہا تھا۔ مگر اس دوران میں ہندو انتہا پسند کورونا وبا سے زیادہ خطرناک وبا یعنی مسلم دشمنی کے شکار ہندؤں نے اپنے روایتی تعص...

مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دینے والا بی جے پی کا ترجمان مقرر

پاکستان نے افرادی قوت باہر بھیجنے میں بھارت، بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 15 جون 2021

وزارت سمندر پار پاکستانیز نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2020 میں افرادی قوت بیرون ملک بھیجنے میں بھارت اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کورونا کے باوجود 2 لاکھ 24 ہزار 705 افراد کو مختلف ممالک بھیج کر خطے کا لیڈر بن گیا ہے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزارت سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2020 میں بنگلہ دیش نے 2 لاکھ 17 ہزار 699 شہریوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک بھیجا اور بھارت سے اسی دوران 94 ہزار 145 افراد روزگار کی غرض دیگر ممالک گئے ۔ٹوئٹ میں مزید ک...

پاکستان نے افرادی قوت باہر بھیجنے میں بھارت، بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا

نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج وجود - منگل 15 جون 2021

سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔احتساب عدالت اسلام آباد نے توشہ خانہ ریفرنس میں اشتہاری ملزم نواز شریف کی جائیداد ضبطگی اور نیلامی کے احکامات جاری کیے تھے جس پر نواز شریف کی جائیدادوں کے تین دعویدار سامنے آئے اور انہوں نے احتساب عدالت سے رجوع کیا تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کی درخواستیں مسترد کریں۔ درخواست گزاروں میاں اقبال برکت، اسلم عزیز اور اشرف ملک نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے ر...

نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کیلیے درست راہ پرگامزن ہے ، عالمی بینک وجود - منگل 15 جون 2021

عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجی بنہاسین نے کہا ہے کہ پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کے لیے درست سمت پر گامزن ہے ، تاہم کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ڈیجیٹالائزشن بہت ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرمایہ کاری بورڈ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ تقریب سے خطاب میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹین ٹرنرنے کہاکہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں اورمیری ترجیح معیشت اور سرمایہ کاری ہے پاکستان کو جی ڈی پی کے دوگنا سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ...

پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کیلیے درست راہ پرگامزن ہے ، عالمی بینک

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ہجوم کا حملہ وجود - منگل 15 جون 2021

بھارتی ریاست راجستھان میں ہجوم نے گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل اور دوسرے کو زخمی کردیا۔بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دو افراد بابو لال بھیل اور پنٹو اپنی گاڑی میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے ، چھتیس گڑھ کے عاقے بیگو میں ہجوم نے زبردستی ان کا راستہ روک لیا اور موبائل فون اور دستاویزات چھیننے کے بعد ان کو مارنا شروع کردیا۔ادے پور پولیس کے انسپکٹر جنرل ستیاویر سنگھ نے بتایا کہ آدھی رات کے لگ بھگ پولیس اسٹیشن انچارج...

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ہجوم کا حملہ

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ وجود - منگل 15 جون 2021

دی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری)نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔ جرمن ٹی وی رپورٹ کے مطابق سپری نے بتایا ہے کہ امریکا، روس اور چین جیسی عالمی طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید مہلک اور جدید تر کر رہی ہیں۔ اسٹاک ہوم میں واقع عالمی امن پر تحقیق کرنے والے ادارے سپری 'دی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ(ایس آئی پی آر آئی) کا کہنا ہے کہ گرچہ گزشتہ برس کے بعد سے مجموعی طور پر دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی آئی ہے تاہم عملی طور پر ایسے جو...

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ

بھارت ،مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ وجود - منگل 15 جون 2021

بھارتی انتہاہ پسندہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے رہنما اور آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ اقلیتی فرقے (مسلمانوں)کو اپنی غربت اور دھرتی پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے خاطر فیملی پلاننگ کے مناسب طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ مسلم سماجی اور سیاسی تنظیموں نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی کے خلاف شرمناک رویہ قرار دیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی بالخصوص آسام میں مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مسلمان تارکین وطن ک...

بھارت ،مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ

20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ وجود - پیر 14 جون 2021

یکم جولائی سے فلورملز پر ٹرن اوور ٹیکس 1.25 فیصد ہونے سے 20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں فلور ملز کیلئے ٹرن اوور ٹیکس میں دی گئی رعایت ختم کردی گئی ہے ، جس کے بعد ٹیکس بڑھنے سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 30 روپے اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے مطابق آٹے کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری کی امپورٹ پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد اور ...

20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی، شوکت ترین وجود - پیر 14 جون 2021

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی۔ ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بڑی تحقیقات اور محنت کے بعد بہترین بجٹ بنایا ہے ، امید رکھتے ہیں بجٹ میں طے کیے گئے خدوخال مکمل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پرپٹرول قیمتیں گریں گی توپٹرول لیوی رکھنا شروع کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب سے رعایتی قیمت پر تیل جلد ملنا شروع ہو جائے گا، امید ہے پٹرولیم لیوی میں اضافے کی ضرورت نہ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی، شوکت ترین

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان وجود - پیر 14 جون 2021

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان کر دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دنیا بھر سے 2026 تک پولیو کے مکمل خاتمے کا اعادہ کیا گیا ہے اور مختص کردہ عالمی فنڈ کا بڑا حصہ پاکستان اور افغانستان میں انسدادِ پولیو مہم پر صرف ہوگا۔واضح رہے کہ اس وقت صرف پاکستان اور افغانستان میں ہی پولیو موجود ہے ورنہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ کیا جا چکا ہے ۔پولیو کے خاتمے سے متعلق حکومتوں، غیر سرکاری اداروں اور صحت کی تنظیموں کے مشترکہ عالمی پروگرام ''گلوبل پولیو اریڈیکیشن ا...

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان

دنیا کی قسمت کا فیصلہ جی سیون جیسے چھوٹے گروپ نہیں کرسکتے، چین وجود - پیر 14 جون 2021

چین نے جیـ7 ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن چلے گئے جب دنیا کی قسمت کا فیصلہ چھوٹے گروپ کے ہاتھ میں تھا۔عالمی میڈیاکے مطابق چین نے دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے گروپ جیـ7 کے ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔چین نے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا متبادل لانے کی جیـسیون کے منصوبے کو ناممکن، جبری مشقت کے الزام کو جھوٹا اور سنگیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بہتان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پر چھوٹے گروپ کی حکمرانی نہیں چلتی۔چین نے...

دنیا کی قسمت کا فیصلہ جی سیون جیسے چھوٹے گروپ نہیں کرسکتے، چین