وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

معاشی استحکام کیلئے چھوٹی صنعتوں کی سرپرستی ضروری!

پیر 21 اگست 2017 معاشی استحکام کیلئے چھوٹی صنعتوں کی سرپرستی ضروری!


7جنوری 2014 کو خرم دستگیر خان صاحب نے وزارت تجارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد دعویٰ کیاتھا کہ اگلے دو سال میں برآمدات کو دگنا کردیا جائیگا مگر ہوا اس کے برعکس اور برآمدات کے بجائے درآمدات دگنی ہوگئیں ۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2013-14 کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات میں کم وبیش 19فیصد کی کمی ہوئی جس کی وجہ سے برآمدی آمدنی میں 4.7ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوئی اور درآمدات میں 15فیصد اضافہ کے بعد 7.9ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا جس کی وجہ سے تجارتی خسارے میں 39فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جو خود ایک کاروباری شخصیت ہیں ملک کی برآمدات اوردرآمدات میں موجود شدید عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کیاہے ، اور پرویز ملک کو وزیر تجارت بنایا گیا ہے جو خود کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ،وزیر تجارت کاقلمدان سنبھالنے کے بعد اب ان کو باریک بینی سے پوری صورت حال کاجائزہ لینا ہوگا اور اس بات کاتجزیہ کرناہوگا کہ وہ کون سے عوامل ہیں جس کی وجہ سے برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور وہ کون سے اقدامات ہیں جن کے ذریعے برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
ان کو ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بالخصوص برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی پر اپنا پورا فوکس کرنا ہوگااورمعیشت کی صحیح صورت حال کوسمجھنے کے لیے مرکزی بینک کے اعدادوشمار سے استفادہ کرناہوگا اگر ہمارے نئے وزیر تجارت اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کا بغور جائزہ لیں توان سے بآسانی اندازاہوسکتا ہے کہ کن ممالک میں ہماری برآمدات میں کمی آئی ہے اورکن ممالک میں تجارت بڑھانے کی گنجائش ہے اس لیے اگر نئے وزیر اعظم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی تمنا رکھتے ہیں تو ان کو پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات کو کم کرنے کی طرف پوری توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ اربابِ اختیار کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ ہمارے ملک میں پیداواری عمل کا نہ ہونا ہے،جبکہ ہماری وزارت صنعت و پیداواراس سلسلے میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزارت صنعت اور پیداوار ہی پاکستان کی برآمدات کو بڑھاسکتی ہے اس لیے اگرہمارا محورومقصود اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانا ہے تو ہمیں ملک میں صنعتوں کا جال بچھانا ہوگا اورصنعتوں کو سہولتیں دینی ہوں گی،جو صنعتیں بندہوچکی ہیں ان کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے تمام تر وسائل فراہم کرنے اور صنعتوں کے لیے بجلی، پانی اور گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی قیمتیں بھی کم کرنا ہوں گی کیونکہ ہمارے قریبی ممالک اور تجارتی مقابل ممالک میں بجلی، پانی ،گیس اور دیگر ضروری اشیاکی قیمتیں پاکستان کی نسبت بہت کم ہیں اور اسی وجہ سے ہم تجارتی میدان میں مسابقت اور مقابلے کی فضا سے تقریباً باہر
ہوچکے ہیں ۔
ہمارے ملک میں پیداوری عمل نہ ہونے کے برابر ہونے کی جہاں ایک وجہ ہمارے ملک میں صنعتوں کا بند ہونا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں چند مافیاز کی اجاری داری بھی ہے جس کی وجہ سے ہم ا نجینئرنگ ، آٹوا نجینئرنگ اور کیمیکل کے شعبوں میں صرف اسمبلنگ پلانٹس لگائے بیٹھے ہیں یا درآمدات کے مرہون منت ہیں اور یہی اسمبلنگ پلانٹ ہمارے ملک میں پیداواری عمل کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے درآمدی بل میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہا ہے جبکہ اگر ہم اپنے ارد گرد کے ممالک پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پیداواری عمل بڑھانے سے ہی ملکی معیشت پنپتی ہے اورتعمیر وترقی کی منازل طے کرتی ہے جیسا کہ تھائی لینڈ جو ایک صنعتی ملک کہلاتا ہے اس کی برآمدات 220ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہیں جس میں زیادہ حصہ اس کی صنعتی برآمدات کا ہے اور وہ اپنی ا نجینئرنگ اور آٹو انجینئرنگ کی برآمدات سے اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل کررہا ہے۔ اسی طرح انڈونیشیااپنے پیدواری عمل اور صنعتی ترقی کی وجہ سے دنیا کو 144ارب ڈالرز کی برآمدات کررہا ہے اور ملائشیاکی برآمدات 180ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہیں ۔ ان تمام ممالک کی برآمدات کا زیادہ تر انحصاران کے پیداوری عمل اور صنعتی ترقی پر ہے جبکہ ہم برآمدات میں بنگلہ دیش سے بھی مقابلے کی سطح سے باہر ہیں ۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فوری بعد یہ واضح کردیاتھا کہ پاکستان کوقوموں کی برادری میں باعزت ملک کی حیثیت سے اپنا مقام بنانے کے لیے معاشی طورپر مضبوط ومستحکم ہونا ہوگا کیونکہ معاشی واقتصادی ترقی کے بغیر کوئی بھی ملک ، معاشرہ یا قوم مستحکم و مضبوط نہیں ہوسکتے اور اگر ہم قائد اعظم کے ارشادات اور نظریہ معیشت کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی سمت متعین کرلیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی وکامیابی سے نہیں روک سکے گی جبکہ موجودہ صدی میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ دنیا میں وہی قومیں حکمرانی کررہی ہیں جو معاشی و اقتصادی طور پر مضبوط ہیں کیونکہ اب عالمی طاقتوں نے بھی یہ بات سمجھ لی ہے کہ اب دنیا کو لوہے کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معاشی ہتھیاروں سے زیر کیا جاسکتا ہے۔امریکہ کی سرفہرست انٹیلی جنس تھنک ٹینک نیشنل انٹیلی جنس کونسلNIC) ( نے گلوبل ٹرینڈ کے حوالے کہا ہے کہ ’’اگلے پانچ سالوں میں بھارت دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بن جائیگا جس طرح چین کی معیشت نے تیزی سے ترقی کی مگر عدم مساوات ، مذہب اور اندرونی کشیدگی اس کے لیے باعث پریشانی ہوگی جبکہ پاکستان میں بھارت کی اقتصادی ومعاشی صلاحیت کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے اور اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو دیگر ذرائع تلاش کرنے ہوں گے‘‘۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنیوالے سالوں میں دنیا میں معاشی ترقی کوہی ترقی کا معیارسمجھا جائیگا۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار نہ تاریخ سے کچھ سیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ، نہ ماضی کے تجربات ان کا کچھ بگاڑ سکے ہیں ، نہ آنے والے وقت کا ادراک رکھتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ وہ اصل زمینی حقائق کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ۔ اب جبکہ نئی کابینہ معرض وجودمیں آچکی ہے اور نئے وزیر اعظم اپنی کرسی پر براجمان ہوچکے ہیں توان کو ملک کی مضبوطی اور استحکام کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اگر چہ ان کو ایک سال سے بھی کم عرصہ کے لیے دور حکمرانی ملا ہے مگر نئے وزیر اعظم خود بہت تیز کام کرنے کے خواہاں ہیں ۔ معیشت کی بہتری کے لیے صنعت وتجارت کا بہت بڑاہاتھ ہوتا ہے اور سابق وزیر اعظم بھی تجارت بڑھانے کے خواہشمند تھے مگر دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کی وزارت تجارت ان کی خواہشات کی تکمیل نہیں کرپائی۔جس کی وجہ یہ ہے کہ وزارت تجارت نے اپنا کام احسن انداز میں انجام نہیں دیا۔
موجودہ صورتحال کاتقاضا ہے کہ ہم ملک کو اقتصادی بد حالی اور قرض پر قرض کی بھیانک صورت حال سے نجات دلانے کے لیے صنعتی ترقی پر توجہ دیں ، اور بڑی صنعتوں کے ساتھ ہی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ دنیا میں تیزی سے صنعتی ترقی کرنے والے تمام ممالک چھوٹی گھریلو صنعتوں کو فروغ دے کر اور ان کی سرپرستی کرکے ہی دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کی صف مین اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔جب تک چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی نہ تو ملک صنعتی اعتبار سے ترقی کرسکتاہے اور نہ ہی بیروزگاری پر قابو پانے میں کوئی قابل ذکر پیش رفت ممکن ہے، امید کی جاتی ہے کہ شاہد خاقان عباسی اس جانب توجہ دے کر پاکستان کی معاشی بنیاد مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا وجود - هفته 22 جون 2019

سعودی عرب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا باقاعدہ رکن بن گیا۔ ایف اے ٹی ایف انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی فنڈنگ کابین الاقوامی گروپ ہے جس میں عرب ممالک میں سے سعودی عرب کو پہلی مرتبہ رکنیت ملی ہے۔ایف اے ٹی ایف میں سعودی عرب کی شمولیت کا اعلان اورلانڈو میں ایف اے ٹی ایف‘ کے اجلاس میں کیا گیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب 2015ء سے ایف اے ٹی ایف کا مبصر رکن چلا آ رہا تھا اور اب یہ باقاعدہ ایف اے ٹی ایف گروپ کا رکن بن گیا ہے۔

عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے دی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے۔ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر حملے کا حکم دے کر واپس لینے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 150 ایرانی ہلاک ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں تھا اور میں نہیں سمجھتا تھا یہ مناسب ت...

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار وجود - هفته 22 جون 2019

شمالی انگلینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے 1995 سے 2002 کے درمیان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 44 افراد کو گرفتار کرلیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مغربی یارک شائر کی پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کرکلیز، بریڈ فورڈ اور لیڈز سمیت دیگر علاقوں سے 3 خواتین سمیت 39 افراد گرفتار کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ دیگر 5 افراد کو اس ہی کیس کی تحقیقات کے لیے گزشتہ سال کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ کرکلیز کے ڈیوز بری اور بیٹلے کے علاقوں میں 4 خواتین...

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز وجود - هفته 22 جون 2019

بٹ کوائنز جیسی ڈیجیٹل کوائنز (کرپٹو کرنسی) کو منی لانڈرنگ جیسے غیر قانونی عمل کیلئے استعمال کیے جانے سے روکنے کیلئے منی لانڈرنگ کے عالمی نگراں ادارے نے اقدامات کا آغاز کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سال قبل منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے قائم ہونے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنے رکن ممالک کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی پر نظر رکھی جائے تاکہ ڈیجیٹل کوائنز کو کیش کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے یہ اقدام عالمی قانو...

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں سعودی عرب اور کیوبا کو تیسرا درجہ دیا گیا، اس کے علاوہ چین، شمالی کوریا، روس اور ونزویلا بھی اِسی نچلی ترین سطح میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کو دوسری سطح پر رکھا گیا۔یہ درجہ ان ملکوں کے لیے مخصوص ہے جو کم سے کم معیار پر پورے نہیں اُترتے تاہم، وہ معیاری سطح کی جانب قدم بڑھانے کے حوالے سے قابل قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر افغانستان، بنگلہ دیش، برما، ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن ...

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت وجود - هفته 22 جون 2019

چین نے کہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تمام اراکین کی نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی) کیلئے رکنیت کیلئے یکساں اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔چینی عہدیدار کے دیے گئے بیان کے مطابق چین نیاب تک کازغستان میں اختتام پذیر ہونے والے منصوبہ بندی اجلاس میں بھارت کی درخواست پر غور کیا گیا۔چینی ترجمان کے حوالے سے بھارتی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت کی نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کا معاملہ کازغستان کے دارلحکومت نور سلطان میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔رپورٹ میں...

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ وجود - بدھ 19 جون 2019

ماورائے عدالت قتل پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو قانوناً ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد پر عالمی سطح پر آزادانہ تفتیش ضروری ہے، قتل کی سعودی عرب میں ہونیوالی تحقیقات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے انفرادی طور پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے اپنی ا...

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی وجود - منگل 18 جون 2019

مصر کے سابق صدر اور اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی قاہرہ کے مشرقی علاقے مدین النصر میں سپرد خاک کردیا گیا، تدفین کے وقت سابق صدر کا خاندان موجود تھا۔اخوان المسلمون نے محمد مرسی کی موت کو مکمل طور پر قتل قرار دیا ہے۔ مصر میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرہ عدالت میں اچانک حرکت ِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے، ان کی عمر 67 سال تھی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جج ...

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ وجود - منگل 18 جون 2019

ایک عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں ایٹم بموں کی تعداد کی تفصیلات بیان کیں، اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ہیں جس کے بعد صہیونی ریاست کے ایٹم بموں کی تعداد 80 سے 90 تک جا پہنچی۔عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کے پاس جوہری اور ہائیڈروجن بموں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ان ایٹم بموں کو جنگی طیاروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے ...

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ وجود - منگل 18 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، اس طرح ہر تیسرا شخص اس سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں یونیسیف اورعالمی ادارہ صحت کے جوائنٹ مانیٹرنگ پروگرام کی رپورٹ2000-2017 کے مطابق عالمی ادارہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں عدم مساوات کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پر اقدامات کررہا ہے تاکہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں 4.2 ارب افراد نکاسی آب کی سہولی...

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت