وجود

... loading ...

وجود

عام صارفین کے حقوق کاتحفظ کون کرے گا۔۔ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ ڈھائی سال سے نفاذ کامنتظر ہے

جمعه 18 اگست 2017 عام صارفین کے حقوق کاتحفظ کون کرے گا۔۔ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ ڈھائی سال سے نفاذ کامنتظر ہے

پاکستان میں صارفین کو عام طورپر یہ شکایت ہے کہ اشیائے صرف تیار اور مارکیٹ کرنے والے بیشتر ادارے اپنی مصنوعات کی خوبیاں بہت زیادہ بڑھاچڑھاکر پیش کرتے ہیں جبکہ ان کی خامیوں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے،بعض ادارے کسی اعلان اور وجہ ظاہر کئے بغیر اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ،جبکہ بعض ادارے اپنی پیکنگ کے وزن میں کسی اعلان کے بغیر کمی کردیتے ہیں اور اس کو پیکٹ کے کسی کونے میں اس طرح درج کیاجاتاہے کہ عام صارفین کی نظر نہ پڑ سکے ، کھانے پینے کی اشیا ’’ریڈی ٹو ایٹ‘‘ اور ’’ریڈی ٹو کک‘‘مارکیٹ کرنے والے ادارے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر اپنی اشیا کا حجم اتنا بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں کہ صارفین دھوکہ کھاجاتے ہیں اور جب اشتہارات کی بنیا پر ملنے والے ترغیب کے تحت وہ یہ اشیا خریدتے ہیں تو انھیں اندازہ ہوتاہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیاگیا ہے ۔صارفین اس صورت حال پر دل مسوس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ ملک میں صارفین کے مفادات کاتحفظ کرنے والانہ تو کوئی فعال ادارہ موجود ہے اورنہ ہی صارفین کی کوئی ایسی فعال تنظیم ہے جو ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے۔اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے سندھ کی حکومت نے فروری 2015 میں سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے نام سے ایک قانون کی منظوری دی تھی ، جس کے بعد عام لوگوں میں خیال پیدا ہوچلا تھا کہ اب اس قانون کے تحت صارفین کے حقوق کا بھی کچھ تحفظ ہوسکے گا اوراگر اس قانون کے تحت چند بڑے اداروں کو بھی سزائیں مل گئیں توصارفین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کایہ سلسلہ رک جائے گا۔لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق عام لوگوں کی یہ سوچ ان کے دلوں تک ہی محدود رہی اور اس قانون کے منظور کئے جانے کے کم وبیش ڈھائی سال گزرجانے کے باوجود اب تک اس قانون پر عملدرآمد کیلئے پورے سندھ میں ایک بھی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ قائم نہیں کیاجاسکاہے ۔جس کی وجہ سے یہ قانون کاغذ کاایک ٹکڑا بن کر رہ گیاہے۔
سندھ اسمبلی نے فروری 2015 میں جب سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی منظوری دی تھی تو یہ کہاگیاتھا کہ اس ایکٹ کے تحت سندھ میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا ،اس ایکٹ کے جومقاصد بیان کئے گئے تھے ان کے مطابق اس ایکٹ کا مقصد صارفین کی شکایات کا تیزی کے ساتھ تدارک اور صارفین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے اداروں کو قرار واقعی سزا دے کر صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا ۔
اس ایکٹ کے تحت ہر ضلع میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے کنزیومر عدالتیں قائم کی جانی تھیں جن کے دائرہ اختیار کو اس ایکٹ میں واضح کردیاگیاتھا۔اس ایکٹ کے تحت صارفین کوئی بھی چیز تیار کرنے یا مارکیٹ کرنے والوں کی جانب سے غیر معیاری اور فراہم کی گئی معلومات کے منافی شے ملنے کی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف30دن میں عدالت میں شکایت داخل کرسکتاتھا اور عدالت پر یہ لازم تھا کہ وہ شکایت ملنے کے بعدمتعلقہ ادارے کو نوٹس دے کر جواب طلب کرے اور اسے 15دن کے اندر شکایت کاتحریری جواب دینے کا حکم جاری کرے۔اس ایکٹ کے تحت عدالت کو متعلقہ ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والی چیز غیر معیاری ثابت ہونے کی صورت میں مارکیٹ سے وہ اشیا واپس لے کر اس کی جگہ معیاری اشیا فراہم کرنے اور غیر معیاری اشیا فراہم نہ کئے جانے کے سبب صارف کو ہونے والے نقصان کاازالہ کرنے کاحکم دینے کااختیار دیاگیاتھا۔
اس ایکٹ میں کہاگیاتھا کہ اگر کوئی صارف یہ شکایت کرے کہ متعلقہ ادارے کی فراہم کردہ شے عمومی معیار پر پوری نہیں اترتی تو عدالت مسلمہ صنعتی معیار اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہے اورشے غیر معیاری ہونے کی صورت میں متعلقہ ادارے کواپنی فراہم کردہ اشیا مارکیٹ سے تبدیل کرنے کاحکم دینے کے علاوہ عدالت کوجرمانہ کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔ اس ایکٹ کے تحت کنزیومر عدالت کو ایسی غیر معیاری اشیا ضبط کرکے ضائع کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔
اس ایکٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ جو ادارے جعلی اشیا تیار کررہے ہوں یا جو دکاندار جعلی مال فروخت کررہے ہوں عدالت ان پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عاید کرنے اور جرم کے مرتکب ادارے یادکاندار کو 2 سال تک قیدبا مشقت کی سزا بھی دینے کااختیار رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کو غلط شکایت کرنے والے کی شکایت رد کرنے اور اس کومناسب سزا دینے اورغلط شکایت کرنے والوں پر10 ہزارروپے تک جرمانہ عاید کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔
اس ایکٹ کے تحت متعلقہ فریقوں کو کنزیومر عدالت کے فیصلے سے متفق اور مطمئن نہ ہونے کی صورت میں عدالتی حکم کے 30دن کے اندر سندھ ہائیکورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اختیار دیاگیاہے تاکہ کسی کو عدالت کی جانب سے اختیارات سے تجاوز اور ناانصانی کی شکایت نہ رہے۔
اس ایکٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اس قانون کے تحت مختلف اضلاع میں صارفین کے تحفظ کیلئے کونسلیں قائم کی جائیں گی جو اپنے حلقہ اختیار میں فروخت ہونے والی اشیا کے بارے میں معلومات جمع کریں گی تاکہ اس بات کویقینی بنایاجاسکے کہ عوام کی صحت اور مفادات کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکنے والی کوئی چیز تو فروخت نہیں کی جارہی ہے اورایسی اشیا کی فروخت کو روکا جاسکے۔ایکٹ کے تحت ان کونسلوں میں علاقے کے صارفین اور صنعت کاروں اور تاجروں کو مناسب نمائندگی دینے کی پابندی بھی عاید کی گئی ہے تاکہ کسی کو یکطرفہ کارروائی کاشکوہ نہ رہے ۔اس ایکٹ کے تحت اپنی اشیا کی فروخت بڑھانے اور صارفین کو اپنی اشیا کی خریداری کی ترغیب دینے کیلئے کسی طرح کی لاٹری یا قرعہ اندازی کی اسکیمیں چلانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
صارفین کے تحفظ کیلئے اس سے پہلے بھی سندھ کی حکومت کئی قوانین کی منظوری دے چکی ہے لیکن یہ تما م قوانین صرف قانون کی کتابوں اور حکومت کے نوٹی فیکشنز تک ہی محدود ہیں ان پر عملدرآمد کرانے کیلئے حکومت نے اب تک پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا ہے۔اس حوالے سے مختلف تنظیموں کی جانب سے سندھ کے متعلقہ وزرا سے رابطے بھی کئے گئے اور اخبارات کے ذریعہ بھی حکومت کی توجہ ان قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت پر مبذول کرانے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن ارباب حکومت اس حوالے سے کسی پیش رفت پر تیار نظر نہیں آتے۔اگرچہ سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑو کاکہناہے کہ حکومت اس ایکٹ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے متعلق قواعد وضوابط تیار کررہی ہے اور جلد ہی ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کنزیومر عدالتیں قائم کردی جائیں گی جہاں صارفین کی شکایت کی سماعت کیلئے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کاتقرر کیاجائے گا لیکن ابھی تک اس یقین دہانی پر عملدرآمد کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔اس طرح 2015 میں سندھ اسمبلی سے منظور کیاجانے والا یہ عوام دوست ایکٹ بھی ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ گیاہے۔

 


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر