... loading ...
پاکستان میں صارفین کو عام طورپر یہ شکایت ہے کہ اشیائے صرف تیار اور مارکیٹ کرنے والے بیشتر ادارے اپنی مصنوعات کی خوبیاں بہت زیادہ بڑھاچڑھاکر پیش کرتے ہیں جبکہ ان کی خامیوں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے،بعض ادارے کسی اعلان اور وجہ ظاہر کئے بغیر اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ،جبکہ بعض ادارے اپنی پیکنگ کے وزن میں کسی اعلان کے بغیر کمی کردیتے ہیں اور اس کو پیکٹ کے کسی کونے میں اس طرح درج کیاجاتاہے کہ عام صارفین کی نظر نہ پڑ سکے ، کھانے پینے کی اشیا ’’ریڈی ٹو ایٹ‘‘ اور ’’ریڈی ٹو کک‘‘مارکیٹ کرنے والے ادارے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر اپنی اشیا کا حجم اتنا بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں کہ صارفین دھوکہ کھاجاتے ہیں اور جب اشتہارات کی بنیا پر ملنے والے ترغیب کے تحت وہ یہ اشیا خریدتے ہیں تو انھیں اندازہ ہوتاہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیاگیا ہے ۔صارفین اس صورت حال پر دل مسوس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ ملک میں صارفین کے مفادات کاتحفظ کرنے والانہ تو کوئی فعال ادارہ موجود ہے اورنہ ہی صارفین کی کوئی ایسی فعال تنظیم ہے جو ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے۔اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے سندھ کی حکومت نے فروری 2015 میں سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے نام سے ایک قانون کی منظوری دی تھی ، جس کے بعد عام لوگوں میں خیال پیدا ہوچلا تھا کہ اب اس قانون کے تحت صارفین کے حقوق کا بھی کچھ تحفظ ہوسکے گا اوراگر اس قانون کے تحت چند بڑے اداروں کو بھی سزائیں مل گئیں توصارفین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کایہ سلسلہ رک جائے گا۔لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق عام لوگوں کی یہ سوچ ان کے دلوں تک ہی محدود رہی اور اس قانون کے منظور کئے جانے کے کم وبیش ڈھائی سال گزرجانے کے باوجود اب تک اس قانون پر عملدرآمد کیلئے پورے سندھ میں ایک بھی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ قائم نہیں کیاجاسکاہے ۔جس کی وجہ سے یہ قانون کاغذ کاایک ٹکڑا بن کر رہ گیاہے۔
سندھ اسمبلی نے فروری 2015 میں جب سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی منظوری دی تھی تو یہ کہاگیاتھا کہ اس ایکٹ کے تحت سندھ میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا ،اس ایکٹ کے جومقاصد بیان کئے گئے تھے ان کے مطابق اس ایکٹ کا مقصد صارفین کی شکایات کا تیزی کے ساتھ تدارک اور صارفین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے اداروں کو قرار واقعی سزا دے کر صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا ۔
اس ایکٹ کے تحت ہر ضلع میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے کنزیومر عدالتیں قائم کی جانی تھیں جن کے دائرہ اختیار کو اس ایکٹ میں واضح کردیاگیاتھا۔اس ایکٹ کے تحت صارفین کوئی بھی چیز تیار کرنے یا مارکیٹ کرنے والوں کی جانب سے غیر معیاری اور فراہم کی گئی معلومات کے منافی شے ملنے کی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف30دن میں عدالت میں شکایت داخل کرسکتاتھا اور عدالت پر یہ لازم تھا کہ وہ شکایت ملنے کے بعدمتعلقہ ادارے کو نوٹس دے کر جواب طلب کرے اور اسے 15دن کے اندر شکایت کاتحریری جواب دینے کا حکم جاری کرے۔اس ایکٹ کے تحت عدالت کو متعلقہ ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والی چیز غیر معیاری ثابت ہونے کی صورت میں مارکیٹ سے وہ اشیا واپس لے کر اس کی جگہ معیاری اشیا فراہم کرنے اور غیر معیاری اشیا فراہم نہ کئے جانے کے سبب صارف کو ہونے والے نقصان کاازالہ کرنے کاحکم دینے کااختیار دیاگیاتھا۔
اس ایکٹ میں کہاگیاتھا کہ اگر کوئی صارف یہ شکایت کرے کہ متعلقہ ادارے کی فراہم کردہ شے عمومی معیار پر پوری نہیں اترتی تو عدالت مسلمہ صنعتی معیار اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہے اورشے غیر معیاری ہونے کی صورت میں متعلقہ ادارے کواپنی فراہم کردہ اشیا مارکیٹ سے تبدیل کرنے کاحکم دینے کے علاوہ عدالت کوجرمانہ کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔ اس ایکٹ کے تحت کنزیومر عدالت کو ایسی غیر معیاری اشیا ضبط کرکے ضائع کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔
اس ایکٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ جو ادارے جعلی اشیا تیار کررہے ہوں یا جو دکاندار جعلی مال فروخت کررہے ہوں عدالت ان پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عاید کرنے اور جرم کے مرتکب ادارے یادکاندار کو 2 سال تک قیدبا مشقت کی سزا بھی دینے کااختیار رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کو غلط شکایت کرنے والے کی شکایت رد کرنے اور اس کومناسب سزا دینے اورغلط شکایت کرنے والوں پر10 ہزارروپے تک جرمانہ عاید کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔
اس ایکٹ کے تحت متعلقہ فریقوں کو کنزیومر عدالت کے فیصلے سے متفق اور مطمئن نہ ہونے کی صورت میں عدالتی حکم کے 30دن کے اندر سندھ ہائیکورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اختیار دیاگیاہے تاکہ کسی کو عدالت کی جانب سے اختیارات سے تجاوز اور ناانصانی کی شکایت نہ رہے۔
اس ایکٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اس قانون کے تحت مختلف اضلاع میں صارفین کے تحفظ کیلئے کونسلیں قائم کی جائیں گی جو اپنے حلقہ اختیار میں فروخت ہونے والی اشیا کے بارے میں معلومات جمع کریں گی تاکہ اس بات کویقینی بنایاجاسکے کہ عوام کی صحت اور مفادات کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکنے والی کوئی چیز تو فروخت نہیں کی جارہی ہے اورایسی اشیا کی فروخت کو روکا جاسکے۔ایکٹ کے تحت ان کونسلوں میں علاقے کے صارفین اور صنعت کاروں اور تاجروں کو مناسب نمائندگی دینے کی پابندی بھی عاید کی گئی ہے تاکہ کسی کو یکطرفہ کارروائی کاشکوہ نہ رہے ۔اس ایکٹ کے تحت اپنی اشیا کی فروخت بڑھانے اور صارفین کو اپنی اشیا کی خریداری کی ترغیب دینے کیلئے کسی طرح کی لاٹری یا قرعہ اندازی کی اسکیمیں چلانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
صارفین کے تحفظ کیلئے اس سے پہلے بھی سندھ کی حکومت کئی قوانین کی منظوری دے چکی ہے لیکن یہ تما م قوانین صرف قانون کی کتابوں اور حکومت کے نوٹی فیکشنز تک ہی محدود ہیں ان پر عملدرآمد کرانے کیلئے حکومت نے اب تک پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا ہے۔اس حوالے سے مختلف تنظیموں کی جانب سے سندھ کے متعلقہ وزرا سے رابطے بھی کئے گئے اور اخبارات کے ذریعہ بھی حکومت کی توجہ ان قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت پر مبذول کرانے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن ارباب حکومت اس حوالے سے کسی پیش رفت پر تیار نظر نہیں آتے۔اگرچہ سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑو کاکہناہے کہ حکومت اس ایکٹ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے متعلق قواعد وضوابط تیار کررہی ہے اور جلد ہی ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کنزیومر عدالتیں قائم کردی جائیں گی جہاں صارفین کی شکایت کی سماعت کیلئے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کاتقرر کیاجائے گا لیکن ابھی تک اس یقین دہانی پر عملدرآمد کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔اس طرح 2015 میں سندھ اسمبلی سے منظور کیاجانے والا یہ عوام دوست ایکٹ بھی ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ گیاہے۔
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...
وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...
لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...
مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...
صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...