وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

صوبہ اترپردیش اور بہار کے دیہاتیوں نے بھارت کایوم آزادی منانے سے انکار کردیا

جمعرات 17 اگست 2017 صوبہ اترپردیش اور بہار کے دیہاتیوں نے بھارت کایوم آزادی منانے سے انکار کردیا

عام طورپر یہ خیال کیاجاتاہے کہ صرف مقبوضہ کشمیر ہی ایک ایسی وادی ہے جہاں کے لوگ بھارت کایوم آزادی اور یوم جمہوریہ نہیں مناتے ، اور بھارتی رہنما اس کا الزام بھی پاکستان پر لگاتے ہیں اور پاکستان پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی حکومت کے خلاف اکسانے کے الزامات عاید کرتے نہیں تھکتے ، لیکن اب اس کوکیاکہئے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی حکمراں پارٹی کا سب سے زیادہ مضبوط گڑھ سمجھاجانے والا صوبہ یا ریاست اتر پردیش اورصوبہ بہا میں 2ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا یعنی ان دونوں دیہات کی کم وبیش پوری آبادی ہندوؤں پر مشتمل اور پاکستان مخالف انتہا پسندوں پر مشتمل ہے لیکن ان میں رہنے والے لوگوں نے بھی بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر آزادی کی خوشیوں اور جشن میں شرکت سے انکار کردیاہے اور اب وہ بھارت کے یوم آزادی کاکوئی جشن منانے کوتیار نہیں ہیں ، اس صورت حال کااندازہ بھارت کے کثیرالاشاعت اخبار ٹائمز آف انڈیا کی اس خبر سے لگایاجاسکتاہے جس میں اخبار نے لکھاہے کہ بھارت میں گزشتہ روز 71 واں یوم آزادی منایا گیا اس موقع پر بھارت کے مختلف علاقوں میں کافی جوش و خروش بھی دیکھنے میں آیا لیکن دلچسپ بات یہ کہ بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش اوربہار کے دوگاؤں کے لوگوں نے بھارت کا جشن آزادی منانے اور اس حوالے سے منائی جانے والی خوشیوں میں شریک ہونے سے انکار کردیا۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں واقع گاؤں میں 80 گھرانے آباد ہیں اور انہوں نے کسی بھی صورت بھارتی یوم آزادی کو منانے سے انکار کردیا ہے، کیونکہ اس گاؤں کے مکینوں کاکہناہے کہ انہیں لگتا ہے کہ اس گاؤں میں 70 سال کے دوران کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ گاؤں کے لوگوں کاکہنا ہے کہ یہ گاؤں 1923 سے قائم ہے مگر آج بھی یہ بجلی سے محروم ہے جبکہ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں یہاں تک کہ اس گاؤں کے لوگوں کورفع حاجت کیلئے ٹوائلٹ کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔
چوہدری پور نامی اس گاؤں میں متعدد افراد رہائش پذیر ہیں مگر ٹوائلٹ صرف 4ہیں جس کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کو رفع حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔یہاں قریب واقع جنگلات کی وجہ سے رات کی تاریکی میں جنگلی جانور گاؤں کے رہائشیوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں کیونکہ جنگلی جانور گاؤں میں گھس آتے ہیں ۔یہاں کے رہائشیوں نے بجلی لگوانے کے لیے متعلقہ حکام سے کئی بار رابطہ کیا مگر کچھ نہیں ہوسکا حالانکہ ارگرد کے 41 دیہات میں بجلی کی سہولت اب موجود ہے۔یہاں کے رہائشیوں کے مطابق ‘ اس ان بیشتر بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں ، جن کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہ گاؤں میں ہوں گی، گاؤں کے مکینوں کا کہناہے کہ ہم جنگلی جانوروں کے حملے کے ڈر سے زندگی گزارتے ہیں ، جبکہ یہاں کوئی آنا پسند نہیں کرتا جس کی وجہ سڑکوں کی ابتر حالت ہے، خواتین تاحال حکومت کی جانب سے ٹوائلٹس کی تعمیرکا انتظار کررہی ہیں ‘۔
ویسے تو پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اکثر کشیدہ ہی رہتے ہیں اوربھارت کے انتہا پسند ہندو ؤں کی اکثریت بھی پاکستان کے بارے میں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے مگر دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ بھارت کے صوبہ بہار میں ایک گاؤں کا نام ہی پاکستان ہے۔جی ہاں ریاست بہار اگر جانا ہو تو آپ وہاں پاکستان جانے کا ‘ شرف’ بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔درحقیقت یہ کسی کی حس مزاح کا شاہکار نظر آتا ہے جس نے ضلع پورنیہ کے ایک گاؤں کو پاکستان کا نام دے دیا یا ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کی خواہش ہو کہ عوامی ذہنوں میں تقسیم برصغیر کی یاد ہمیشہ زندہ رہے۔ بھارت کے صوبہ بہار کاپاکستان نامی گاؤں 300 افراد کی آبادی پر مشتمل ہے،یہ گاؤں صوبہ بہار کے انتہاپسند ہندوؤں کاگاؤں تصور کیاجاتاہے جہاں مسلمانوں کیلئے نماز کی ادائیگی کیلئے کوئی ایک مسجد بھی نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ گنتی کے چند گھروں کے علاوہ اس گاؤں میں کوئی مسلمان ہی آباد نہیں ، درحقیقت وہاں کے رہنے والے ایک قبائلی گروپ سانتھل سے تعلق رکھتے ہیں ۔تقسیم ہند کے وقت یہ بنگال کے ضلع اسلام پور کا حصہ تھا جسے پاکستان کا نام ان مسلم رہائشیوں کی یاد میں دیا گیا جو یہاں سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) چلے گئے، روانگی سے قبل ان مسلمانوں نے اپنی جائیدادیں پڑوسی علاقوں کے ہندوؤں کے حوالے کردی تھیں ۔اب چھ دہائیوں بعد بھی اس گاؤں کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور یہاں کے رہائشی بدستور غریب ہیں جبکہ گاؤں میں شرح تعلیم 31.51 فیصد ہے۔سڑکیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہی حال بجلی، صاف پانی، ایک طبی مرکز اور اسکولوں کا ہے۔یہاں کے باسیوں نے 2014 کے عام انتخابات میں نریندرا مودی کو ووٹ دیا تھا اور ان کا خیال تھا کہ وہ یہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں تبدیلی لائیں گے اور وہ ایسا وزیراعظم چاہتے تھے جو ‘ دشمن پاکستان’ کو آڑے ہاتھوں لے سکے۔ لیکن گاؤں کے ایک 67 سالہ رہائشی گیوتر مرمر نے بتایا کہ وہ اب زیادہ خوش نہیں ہیں اور اب جب الیکشن لڑنے والے ہمارے گاؤں آکر ہمارے مسائل کو سنے اور ان کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائیں گے جب ہی ہم انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کریں گے وگرنہ ہم پولنگ کا بائیکاٹ کریں گے، آخر
ہمیں پولنگ بوتھوں میں جاکر کیا فائدہ ہوتا ہے؟15سالہ ڈسیکا ہسدا نے پانچویں جماعت تک پڑھا ہے اور وہ اس گاؤں کی واحد تعلیم یافتہ ہستی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب قصبے، ریاست اور ملک میں کچھ بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ اخبار خرید کر لاتے ہیں اور اسے ڈسیکا کے پاس لاتے ہیں جو پڑھ کر سناتی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ اگر کوئی رات کو بیمار ہوجائے تو ہمیں اسے ہسپتال لے جانے کے لیے صبح تک انتظار کرنا ہوتا ہے اور سڑک نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔یہاں روزگار کا بنیادی ذریعہ کاشتکاری ہے اور اس حوالے سے حکومتی امداد نہ ملنے پر بھی مقامی رہائشی کچھ زیادہ خوش نہیں ۔ اب اس گاؤں کے لوگوں نے بھارت کایوم آزادی منانے سے صاف انکار کردیا ہے گاؤں کے لوگوں کاکہنا ہے کہ جب ہمیں آزادی کے بعد زندگی کی کوئی سہولت اورنعمت ہی میسر نہیں تو ہم ایسا یوم آزادی کیوں منائیں ۔


متعلقہ خبریں


ایرانی سپریم لیڈر الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں، ٹرمپ وجود - اتوار 19 جنوری 2020

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو الفاظ کے چناومیں محتاط رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اور یورپ کے بارے میں غلط باتوں سے پرہیز کریں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت تباہ ہو رہی ہے ،وہاں لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز 8 سال بعد پہلی مرتبہ نماز جمعہ کی امامت کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر آیت الل...

ایرانی سپریم لیڈر الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں، ٹرمپ

جاپان، کوبے میں آنے والے شدید زلزلے کو 25 سال مکمل وجود - اتوار 19 جنوری 2020

جاپان کے مغربی علاقے کوبے اور اِردگرد کے علاقوں کو ہلا کر رکھ دینے والے تباہ کن زلزلے کو آئے 25 سال مکمل ہو گئے ہیں، اس زلزلے کے باعث 6 ہزار 4 سو 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 17 جنوری 1995 کو آنے والا یہ زلزلہ گریٹ ہانشن اواجی زلزلہ کہلاتا ہے ، اس زلزلے سے کئی عمارتیں تباہ ہوئی تھیں اور کئی میں آگ لگ گئی تھی۔سب سے متاثرہ کوبے شہر کے ایک پارک میں ہلاک شدگان کی یاد میں بانس سے بنی لالٹینیں روشن کی گئیں۔

جاپان، کوبے میں آنے والے شدید زلزلے کو 25 سال مکمل

بانی اسرائیل کے بیٹے کی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر اظہار شرمندگی وجود - اتوار 19 جنوری 2020

اسرائیلی ریاست کے بانی کے بیٹے ''یعقوف شریٹ''نے صہیونی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف 1940 ء کی د ہائی میں جزیرہ نما النقب پر سمجھوتے پر افسوس ہے بلکہ وہ صہیونی ریاست کے پورے پروگرام پر شرمندہ ہیں۔ دیے گئے انٹرویو میں مسٹر یعقوف شریٹ نے کہا کہ اگرچہ ان کے آبائو اجداد نے ارض فلسطین میں اسرائیلی ریاست قائم کی۔ وہ اسرائیل کے بانی موشے شریٹ کا بیٹا ہونے کے باوجود صہیونی ریاست کے جرائم کی حمایت نہیں کرسکتے ۔ وہ اسرائیل...

بانی اسرائیل کے بیٹے کی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر اظہار شرمندگی

سلامتی کونسل اجلاس سے بھارت پر دبائو بڑھے گا، منیر اکرم وجود - اتوار 19 جنوری 2020

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے بھارت پر دبائوبڑھے گا، بھارت کو اپنے جارحانہ اقدامات واپس لینے کا پیغام دیا گیا ہے ۔ سلامتی کونسل جب چاہے مسئلہ کشمیر کو اٹھا سکتی ہے ۔ سلامتی کونسل کی 50سال سے غیر فعال قراردادیں اب فعال ہو چکی ہیں۔ نہ صرف چین بلکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی واضح بیان دیا ہے ۔ حق خودارادیت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بھارت کی کوششوں کو رد کیا گیا۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں منیر اکرم کا ک...

سلامتی کونسل اجلاس سے بھارت پر دبائو بڑھے گا، منیر اکرم

فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا ہے اور رہے گا، سعودی عرب وجود - جمعه 17 جنوری 2020

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ عرب امن فارمولے اور بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق جامع عرب حل کا مطالبہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہمارا غیر متزلزل موقف ہے کہ فلسطینیوں کے حوالے سے قابض حکام کے یکطرفہ اقدامات غیر قانونی ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، عرب ممالک کے اتحاد و سالمیت کو ضروری سمجھتا ہے اور عربوں کے استحکام کو خطرہ لاحق کرنے والی...

فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا ہے اور رہے گا، سعودی عرب

ایرانی حکومت ہر آنے والے دن اپنا قانونی جواز کھو رہی ہے ، مائیک پومپیو وجود - جمعه 17 جنوری 2020

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران حکومت اپنے عوام اور پوری دنیا سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے ۔پومپیو نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ایرانی حکومت اپنے عوام سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کررہی ہے ۔ ایرانی رجیم اپنے من پسند لوگوں کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے پارلیمنٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی بھی مرتکب ہے ۔انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ یہاں تک کہ ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ ی...

ایرانی حکومت ہر آنے والے دن اپنا قانونی جواز کھو رہی ہے ، مائیک پومپیو

ایرانی میزائل حملے میں11 فوجی زخمی ہوئے ، امریکی سینٹرل کمانڈ وجود - جمعه 17 جنوری 2020

امریکی سینٹرل کمانڈ نے عراق میں 8 جنوری کو ہونے والے ایرانی میزائل حملے میں 11 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے جنہیں علاج کے لیے کویت اور جرمنی منتقل کیا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے عراق میں ایران کی جانب سے امریکی بیس پر 8 جنوری کو کیے گئے میزائل حملے کے نتیجے میں 11 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی میزائل حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عراق میں الاسد ایئر بیس پر ایرانی میزائل...

ایرانی میزائل حملے میں11 فوجی زخمی ہوئے ، امریکی سینٹرل کمانڈ

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ، فائرنگ سے کئی مظاہرین زخمی وجود - منگل 14 جنوری 2020

ایران میں حکومت کی طرف سے یوکرین کا مسافر جہاز مارگرائے جانے کی غلطی تسلیم کرنے بعد ملک میں حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جن میں سیکڑوں افراد نے ایرانی رجیم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی طرف سے پرتشدد حربے استعمال کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ سماجی کارکنوں کی طرف سے سوشل میڈیا مظاہروں حکومت مخالف ریلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں مظاہرین کو حکومت کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ ویڈیوز میں پولیس اور قا...

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ، فائرنگ سے کئی مظاہرین زخمی

ہیری اورمیگھان کو کینیڈا اوربرطانیہ میں رہنے کی عبوری اجازت مل گئی وجود - منگل 14 جنوری 2020

ملکہ نے کہا ہے کہ شاہی خاندان نے سندرنگھم پر پرنس ہیری اور میگھان مرکل کے مستقبل کے حوالے سے مثبت بحث میں حصہ لیا مگر یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ جوڑے کو شاہی خاندان کے کل وقتی رکن کی حیثیت دینے کو ترجیح دیں گی۔ تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ پرنس ہیری، پرنس ولیم اور پرنس چارلس ہرمیجسٹی سے دو گھنٹے جاری رہنے والی بحرانی ملاقا ت کے بعد علیحدہ علیحدہ کاروں میں واپس جا رہے ہیں۔ ڈیوک آف سسیکس نے شاہی خاندان کے فردکی حیثیت ختم کرنے کے بعد ہر میجسٹی، اپنے بھائی اور اپنے والد کا پہلی بار ...

ہیری اورمیگھان کو کینیڈا اوربرطانیہ میں رہنے کی عبوری اجازت مل گئی

امریکی صدر کی ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت وجود - پیر 13 جنوری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فارسی زبان میں ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں ایرانی حکومتکو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ایرانی عوام اور حکومت مخالف مظاہروںکی حمایت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی نظریں اس وقت ایران پرلگی ہوئی ہیں۔ ہم ایران کو مزید قتل عام کی اجازت نہیں دیں گے ۔امریکی صدر کی طرف سے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی پرمبنی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ایرانی شہروں میں اس وقت لوگ سڑکوں پرنکل آگئے جب ایرانی پاسداران انقلاب نے اعتراف کیا کہ 8جنو...

امریکی صدر کی ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت

پاسداران انقلاب ایران کے داعشی ہیں ، تہران میں عوام کی نعرے بازی وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایران کے دارالحکومت تہران میں اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی جب تہران نے سرکاری سطح پر اعتراف کیا کہ حال ہی میں یوکرین کا ایک مسافر جہاز میزائل حملے کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔ مظاہرین سخت مشتعل اورغم وغصے میں تھے ۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے خلاف' اے ڈکٹیٹر ۔۔۔ تم ایران کے داعشی ہو' کے نعرے لگائے ۔ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل کی طرف سے تہران میں نکالے جانے والے جلوس کی فوٹیج دکھائی ...

پاسداران انقلاب ایران کے داعشی ہیں ، تہران میں عوام کی نعرے بازی

مظاہروں میں شرکت پر ایران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری اور رہائی وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایرانی پولیس نے حکومت کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس میں شرکت کرنے پرتہران میں متعین برطانوی سفیر روب مکائیر کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا ۔برطانوی حکومت نے تہران میں اپنے سفیر کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار یا ہے ،جبکہ امریکا نے بھی تہران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری کو سفارتی آداب کی توہین قراردیتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اس اقدام پر برطانیہ سے معافی مانگے ۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مقرب ...

مظاہروں میں شرکت پر ایران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری اور رہائی