وجود

... loading ...

وجود

صوبہ اترپردیش اور بہار کے دیہاتیوں نے بھارت کایوم آزادی منانے سے انکار کردیا

جمعرات 17 اگست 2017 صوبہ اترپردیش اور بہار کے دیہاتیوں نے بھارت کایوم آزادی منانے سے انکار کردیا

عام طورپر یہ خیال کیاجاتاہے کہ صرف مقبوضہ کشمیر ہی ایک ایسی وادی ہے جہاں کے لوگ بھارت کایوم آزادی اور یوم جمہوریہ نہیں مناتے ، اور بھارتی رہنما اس کا الزام بھی پاکستان پر لگاتے ہیں اور پاکستان پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی حکومت کے خلاف اکسانے کے الزامات عاید کرتے نہیں تھکتے ، لیکن اب اس کوکیاکہئے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی حکمراں پارٹی کا سب سے زیادہ مضبوط گڑھ سمجھاجانے والا صوبہ یا ریاست اتر پردیش اورصوبہ بہا میں 2ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا یعنی ان دونوں دیہات کی کم وبیش پوری آبادی ہندوؤں پر مشتمل اور پاکستان مخالف انتہا پسندوں پر مشتمل ہے لیکن ان میں رہنے والے لوگوں نے بھی بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر آزادی کی خوشیوں اور جشن میں شرکت سے انکار کردیاہے اور اب وہ بھارت کے یوم آزادی کاکوئی جشن منانے کوتیار نہیں ہیں ، اس صورت حال کااندازہ بھارت کے کثیرالاشاعت اخبار ٹائمز آف انڈیا کی اس خبر سے لگایاجاسکتاہے جس میں اخبار نے لکھاہے کہ بھارت میں گزشتہ روز 71 واں یوم آزادی منایا گیا اس موقع پر بھارت کے مختلف علاقوں میں کافی جوش و خروش بھی دیکھنے میں آیا لیکن دلچسپ بات یہ کہ بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش اوربہار کے دوگاؤں کے لوگوں نے بھارت کا جشن آزادی منانے اور اس حوالے سے منائی جانے والی خوشیوں میں شریک ہونے سے انکار کردیا۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں واقع گاؤں میں 80 گھرانے آباد ہیں اور انہوں نے کسی بھی صورت بھارتی یوم آزادی کو منانے سے انکار کردیا ہے، کیونکہ اس گاؤں کے مکینوں کاکہناہے کہ انہیں لگتا ہے کہ اس گاؤں میں 70 سال کے دوران کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ گاؤں کے لوگوں کاکہنا ہے کہ یہ گاؤں 1923 سے قائم ہے مگر آج بھی یہ بجلی سے محروم ہے جبکہ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں یہاں تک کہ اس گاؤں کے لوگوں کورفع حاجت کیلئے ٹوائلٹ کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔
چوہدری پور نامی اس گاؤں میں متعدد افراد رہائش پذیر ہیں مگر ٹوائلٹ صرف 4ہیں جس کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کو رفع حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔یہاں قریب واقع جنگلات کی وجہ سے رات کی تاریکی میں جنگلی جانور گاؤں کے رہائشیوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں کیونکہ جنگلی جانور گاؤں میں گھس آتے ہیں ۔یہاں کے رہائشیوں نے بجلی لگوانے کے لیے متعلقہ حکام سے کئی بار رابطہ کیا مگر کچھ نہیں ہوسکا حالانکہ ارگرد کے 41 دیہات میں بجلی کی سہولت اب موجود ہے۔یہاں کے رہائشیوں کے مطابق ‘ اس ان بیشتر بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں ، جن کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہ گاؤں میں ہوں گی، گاؤں کے مکینوں کا کہناہے کہ ہم جنگلی جانوروں کے حملے کے ڈر سے زندگی گزارتے ہیں ، جبکہ یہاں کوئی آنا پسند نہیں کرتا جس کی وجہ سڑکوں کی ابتر حالت ہے، خواتین تاحال حکومت کی جانب سے ٹوائلٹس کی تعمیرکا انتظار کررہی ہیں ‘۔
ویسے تو پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اکثر کشیدہ ہی رہتے ہیں اوربھارت کے انتہا پسند ہندو ؤں کی اکثریت بھی پاکستان کے بارے میں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے مگر دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ بھارت کے صوبہ بہار میں ایک گاؤں کا نام ہی پاکستان ہے۔جی ہاں ریاست بہار اگر جانا ہو تو آپ وہاں پاکستان جانے کا ‘ شرف’ بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔درحقیقت یہ کسی کی حس مزاح کا شاہکار نظر آتا ہے جس نے ضلع پورنیہ کے ایک گاؤں کو پاکستان کا نام دے دیا یا ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کی خواہش ہو کہ عوامی ذہنوں میں تقسیم برصغیر کی یاد ہمیشہ زندہ رہے۔ بھارت کے صوبہ بہار کاپاکستان نامی گاؤں 300 افراد کی آبادی پر مشتمل ہے،یہ گاؤں صوبہ بہار کے انتہاپسند ہندوؤں کاگاؤں تصور کیاجاتاہے جہاں مسلمانوں کیلئے نماز کی ادائیگی کیلئے کوئی ایک مسجد بھی نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ گنتی کے چند گھروں کے علاوہ اس گاؤں میں کوئی مسلمان ہی آباد نہیں ، درحقیقت وہاں کے رہنے والے ایک قبائلی گروپ سانتھل سے تعلق رکھتے ہیں ۔تقسیم ہند کے وقت یہ بنگال کے ضلع اسلام پور کا حصہ تھا جسے پاکستان کا نام ان مسلم رہائشیوں کی یاد میں دیا گیا جو یہاں سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) چلے گئے، روانگی سے قبل ان مسلمانوں نے اپنی جائیدادیں پڑوسی علاقوں کے ہندوؤں کے حوالے کردی تھیں ۔اب چھ دہائیوں بعد بھی اس گاؤں کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور یہاں کے رہائشی بدستور غریب ہیں جبکہ گاؤں میں شرح تعلیم 31.51 فیصد ہے۔سڑکیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہی حال بجلی، صاف پانی، ایک طبی مرکز اور اسکولوں کا ہے۔یہاں کے باسیوں نے 2014 کے عام انتخابات میں نریندرا مودی کو ووٹ دیا تھا اور ان کا خیال تھا کہ وہ یہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں تبدیلی لائیں گے اور وہ ایسا وزیراعظم چاہتے تھے جو ‘ دشمن پاکستان’ کو آڑے ہاتھوں لے سکے۔ لیکن گاؤں کے ایک 67 سالہ رہائشی گیوتر مرمر نے بتایا کہ وہ اب زیادہ خوش نہیں ہیں اور اب جب الیکشن لڑنے والے ہمارے گاؤں آکر ہمارے مسائل کو سنے اور ان کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائیں گے جب ہی ہم انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کریں گے وگرنہ ہم پولنگ کا بائیکاٹ کریں گے، آخر
ہمیں پولنگ بوتھوں میں جاکر کیا فائدہ ہوتا ہے؟15سالہ ڈسیکا ہسدا نے پانچویں جماعت تک پڑھا ہے اور وہ اس گاؤں کی واحد تعلیم یافتہ ہستی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب قصبے، ریاست اور ملک میں کچھ بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ اخبار خرید کر لاتے ہیں اور اسے ڈسیکا کے پاس لاتے ہیں جو پڑھ کر سناتی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ اگر کوئی رات کو بیمار ہوجائے تو ہمیں اسے ہسپتال لے جانے کے لیے صبح تک انتظار کرنا ہوتا ہے اور سڑک نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔یہاں روزگار کا بنیادی ذریعہ کاشتکاری ہے اور اس حوالے سے حکومتی امداد نہ ملنے پر بھی مقامی رہائشی کچھ زیادہ خوش نہیں ۔ اب اس گاؤں کے لوگوں نے بھارت کایوم آزادی منانے سے صاف انکار کردیا ہے گاؤں کے لوگوں کاکہنا ہے کہ جب ہمیں آزادی کے بعد زندگی کی کوئی سہولت اورنعمت ہی میسر نہیں تو ہم ایسا یوم آزادی کیوں منائیں ۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت وجود - اتوار 08 نومبر 2026

حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کینیسٹ کو توڑ دیا جائے گا اور دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے، صدر اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیدی۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران جنگ چھیڑنے والے نیتن یاہو حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ اسرائیلی ا...

نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر