وجود

... loading ...

وجود

امریکا اورشمالی کوریا کاتنازع عالمی جنگ کانقطہ آغاز ثابت ہوسکتاہے

هفته 12 اگست 2017 امریکا اورشمالی کوریا کاتنازع عالمی جنگ کانقطہ آغاز ثابت ہوسکتاہے

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کو میزائل سے نشانہ بنانے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا میں یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد آیا کہ شمالی کوریا کو ‘آگ اور غصے’ کا سامنا کرنا ہوگا۔شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے نے کہا کہ وہ گوام پر درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ داغنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔بدھ کو نیوز ایجنسی نے کہا کہ شمالی کوریا گوام کے پاس کے علاقوں کو حصار میں لینے والی آگ کے منصوبے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تازہ ترین بیان میں منگل کو جاری ہونے والے ایک فوجی بیان کا ذکر تھا جو کہ بظاہر گوام میں امریکی فوجی مشق کے جواب میں آیا تھا۔شمالی کوریا نے یہ دھمکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد دی ہے جس میں انہوں نے پیانگ یانگ کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ کے خلاف اس کے کسی بھی اقدام کا “آگ اور غیض و غضب” سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔
امریکہ اورشمالی کوریا کاتنازعہ جس تیزی سے شدت اختیار کرتاجارہاہے اس سے ان خدشات کوتقویت مل رہی ہے کہ یہ تنازعہ عالمی جنگ کانقطہ آغاز ثابت ہوسکتاہے۔تاہم اس حوالے سے چین کے رہنمائوں نے قدرے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور چین نے گزشتہ روز واضح انداز میں شمالی کوریا کی حمایت سے دستکش ہونے کااعلان کردیاتھا۔
گوام، امریکہ کے زیرِ انتظام جزیرہ ہے جو امریکہ کی سرزمین کے مقابلے میں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے زیادہ قریب ہے۔گوام کی آبادی ایک لاکھ 63 ہزار ہے اور یہ ایک معروف سیاحتی مقام ہے جہاں بطورِ خاص جنوبی کوریا اور جاپانی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں ۔گوام میں امریکی فوج کی ایک بڑی چھائونی بھی واقع ہے جہاں آبدوزوں کا ایک اسکواڈرن، ایک ہوائی اڈہ اور کوسٹ گارڈز کے دفاتر موجود ہیں ۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کوریاکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حملے کا حتمی فیصلہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کریں گے جن کے فیصلے کے فوراً ہی بعد اس پر عمل درآمد کردیا جائے گا۔گوام کے گورنر ایڈی کالوو نے شمالی کوریا کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ایک ویڈیو پیغام میں گورنر کالوو نے کہا ہے کہ گوام صرف ایک فوجی تنصیب نہیں بلکہ امریکی سرزمین کا حصہ ہے جس کی حفاظت کیلئے وہ وہائٹ ہائوس سے مسلسل رابطے میں ہیں ۔
ایک دوسرے بیان میں شمالی کوریا نے امریکہ پر دفاعی جنگ کی تیاری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو شمالی کوریا “کھلی جنگ” چھیڑ دے گا اور امریکہ سمیت اپنے تمام دشمنوں کو صفحہ ہستی” سے مٹادے گا۔اس سے قبل نیوجرسی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے اسے امریکہ کو دھمکیاں دینے سے باز رہنے کا کہا تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا باز نہ آیا تو امریکہ اس کا “آگ اور غیض و غضب” سے بھرپور ایسا جواب دے گا جو “دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان اس زبانی جنگ اور دھمکیوں کے تبادلے نے حصص کی بین الاقوامی مارکیٹوں پر برا اثر ڈالا ہے اور بدھ کو ایشیا کی بیشتر اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان ہے۔ خیال رہے کہ گوام میں امریکہ کے جنگی بمبار طیارے تعینات ہیں اور حالیہ دنوں ان کے درمیان شدید قسم کی بیان بازیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا جس پر پیانگ یانگ نے اپنی ‘خود مختاری کی متشدد خلاف ورزی’ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کو اس کی ‘قیمت چکانے’ کی دھمکی دی تھی۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاتھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘ آگ اور غصے’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی صدر نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کے بارے میں کہا کہ ’کِم ایک معمولی ریاست سے زیادہ خطرناک کام رہے ہیں ‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیانگ یانگ کو اپنے ہتھیاروں کی وجہ سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والا بیان شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر امریکا کی جانب سے غصے کا اظہار ہے۔نیو جرسی میں اپنے گالف کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے لیے بہتر ہے کہ وہ اب امریکہ کو مزید دھمکیاں نہ دے ورنہ اسے ایسے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا جو آج تک دنیا نے نہیں دیکھا۔دوسری جانب امریکہ کی جانب سے موصول ہونے والی دھمکی کے جواب میں شمالی کوریا نے بھی امریکی جزیرے گاؤم میں موجود فوجی اڈے پر میزائل حملہ کرنے کی دھمکی دے دی۔
شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ نے امریکی جزیرے پر حملے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور ضرورت محسوس ہونے پر اس پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام نے بارہا کہا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن بھی امریکہ کے پاس ٹیبل پر موجود ہے۔رواں ہفتے شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کو ’آگ کا سمندر‘ بنانے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایس سی) کی جانب سے نئی پابندیوں کی منظوری کے بعد چین اور امریکہ کی جانب سے بھی شمالی کوریا پر جوہری میزائل کو ترک کرنے کیلئے شدید دباؤ بڑھ گیا تھا۔
نیو جرسی میں منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ‘شمالی کوریا امریکہ کے خلاف مزید دھمکیاں دینا بند کرے ورنہ اسے ایک ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا ہو گا جسے دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔’امریکی صدر کا یہ بیان واشنگٹن پوسٹ میں
شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پیانگ یانگ نے اپنے میزائلوں کے اندر فٹ ہونے والے چھوٹے کیمیائی وار ہیڈ تیار کر لیے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شمالی کوریا امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے کیمیائی ہتھیار تیار کر رہا ہے جو امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے گزشتہ روز متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی توثیق کی تھی۔چین شمالی کوریا کا واحد اتحادی ملک ہے، تاہم اس نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ماضی میں وہ شمالی کوریا کو ویٹو کے ذریعے ضرر رساں پابندیوں سے بچاتا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فیصلہ شمالی کوریا کی جانب سے بار بار میزائل تجربات کے بعد سامنے آیا تھا۔پیر کو سامنے آنے والے بیان میں شمالی کوریا نے کہا کہ وہ اپنے متنازع جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو جاری رکھے گا۔شمالی کوریا نے امریکہ کو متنبہ کیا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کرے گا اور امریکہ کو اس کی قیمت چکانی ہو گی۔
ایک امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس برادری گذشتہ ماہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ شمالی کوریا دنیا کی نویں جوہری طاقت بننے کے دعوے کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار لے جانے والا ’وارہیڈ‘ کامیابی سے تشکیل دیا ہے، جو کم جگہ گھیرتا ہے اور میزائل میں باآسانی نصب کیا جا سکتا ہے۔ اس ہتھیار کو تنہائی کے شکار اس کمیونسٹ ملک کی جانب سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع ابلاغ کے دو امریکی اداروں ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ اور ’این بی سی نیوز‘ نے بتایا ہے کہ ’ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی‘ کی جانب سے گذشتہ ماہ مکمل کردہ اِس نئے تجزیئے سے قبل ایک اور خفیہ رپورٹ بھی اسی نتیجے پر پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس برادری گذشتہ ماہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ شمالی کوریا دنیا کی نویں جوہری طاقت بننے کے دعوے کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ڈیفنس ایجنسی کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے, روزنامہ نے کہا ہے کہ ’’شمالی کوریا نے ’بیلسٹک میزائل ڈلیوری‘ کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرلیے ہیں ، جنھیں بین الاقوامی بیلسٹک میزائلوں (آئی سی بی ایم) کے ذریعے پہنچایا جا سکتا ہے۔حالیہ دِنوں شمالی کوریا نے کہا ہے کہ جس ’آئی سی بی ایم‘ کا گذشتہ ماہ تجربہ کیا گیا، وہ امریکہ کی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس پیش رفت کا اِس سے قبل، اْس نے دعویٰ نہیں کیا تھا۔ ابھی یہ بات واضح نہیں آیا شمالی کوریا چھوٹے ڈیزائن کے نیوکلیئر وارہیڈ کا تجربہ کر چکا ہے، حالانکہ گذشتہ سال اْس نے کہا تھا کہ اْس نے ایسا کیا ہے۔ جولائی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کے بعد، سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا ’’ایک فخریہ جوہری ملک‘‘بن چکا ہے، جس کے پاس ایک ’آئی سی بی ایم‘ راکٹ ہے، ’’جو دنیا کے کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے‘‘۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

مضامین
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اسے کہتے ہیں پاکستان !! وجود پیر 20 اپریل 2026
اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر