وجود

... loading ...

وجود

قصہ 62 ٹریکٹرز کو روکنے کا ‘انور مجید کی طاقت سندھ ہائی کورٹ کے سامنے ختم ہوگئی ؟

بدھ 09 اگست 2017 قصہ 62 ٹریکٹرز کو روکنے کا ‘انور مجید کی طاقت سندھ ہائی کورٹ کے سامنے ختم ہوگئی ؟

سندھ میں انور مجید کے بارے میں پہلی مرتبہ عوام اور میڈیا کو اس وقت پتہ چلا جب ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے دھواں دار پریس کانفرنس کی سیریز کی تھی۔ انور مجید کون ہے؟ اس بارے میں عوام اور میڈیا تاحال تفصیلی طور پر نہیں جان سکے ہیں ۔ صرف عمومی طور پر یہ خبریں آئی ہیں کہ انور مجید ایک کشمیری ہے جو اومنی گروپ کا سربراہ ہے اور اس گروپ کا اصل مالک آصف علی زرداری ہے انور مجید ہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سے حکومت، پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کے آئی جی سندھ پولیس سے اختلاف ہوئے ہیں ۔
انور مجید ٹھٹھہ سے لے کر نواب شاہ تک تمام شوگر ملز کے مالک بن جانا چاہتے ہیں وہ پولیس اور انتظامیہ کی طاقت سے شوگر ملز مالکان کو گرفتار کرکے تمام شوگر ملز خریدنا چاہتا ہے اور وہ کسی حد تک اس فارمولے میں کامیاب بھی ہوا۔ دلپچسپ بات یہ ہے کہ اس نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے پاس موجودشوگرمل بھی چھین لی ۔ انور مجید کی خواہش ہے کہ وہ پورے سندھ میں موجود تمام شوگر ملز خریدکریاکسی بھی طریقے سے ہتھیاکر ان کامالک بن جائے ، اس سارے معماملے درپردہ حکومت سندھ اورکھلے عام پولیس اور انتظامی افسران اس کابھرپورساتھ نبھارہے ہیں اوروہ اپنی پوسٹنگ اسی جگہ کرالیتے ہیں جہاں انور مجید کا مفادوابستہ ہوتاا ہے۔ انور مجید کی طاقت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ جہاں اسے کوئی شوگر ملز خریدنی ہوتی ہے وہاں وہ اپنی مرضی کا ڈی سی اور ایس ایس پی لگوالیتے ہیں ۔ اور پھر وہی ایس ایس پی اورڈی سی ذاتی ملازم کی طرح انور مجید کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ۔ پھر انور مجید کاکھیل شروع ہوتاہے اس کا کام کاشتکاروں سے گنا کم قیمت پر خریدنے کی کوشش ہوتاہے اور جب کاشتکاروں نے کم قیمت پرگنافروخت کرنے سے انکارکرتے ہیں تو ان پردباؤڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اورانھیں گرفتارکرالیاجاتا ہے ۔ اس حوالے سے جب خبریں عام ہوئیں اورآئی جی سندھ اے ڈی خواجہ تک پہنچیں توانھوں فوری طورپرایکشن لے کران مظلوم کاشتکاروں کورہائی دلائی۔ بس یہی بات انور مجید کومشتعل کرگئی اوراس نے پیپلزپارٹی کی اعلی ترین قیادت کوانھیں ہٹانے پرمجبورکرنا شروع کردیاباقی کے احوال سے قارئین بخوبی آگاہ ہیں ۔
انور مجید نے حال ہی میں محکمہ خوراک کو لاکھوں خالی یوریاں فروخت کیں ۔ گندم کی بوریاں جوٹ کی بنی ہوئی ہوتی ہیں جن کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک بوری کی قیمت 500 روپے سے زائد ہوتی ہے لیکن انور مجید نے محکمہ خوراک کو جوٹ کے بجائے پلاسٹک کی بوریاں فراہم کیں جس کی قیمت 100 روپے یا 150 روپے ہوتی ہے اور اپنے ناقص معیارکی وجہ سے پلاسٹک کی بوری شدید دھوپ میں اگر کھلے آسمان تلے پڑی رہے تو وہ پھٹ جاتی ہے جس سے گندم کو نقصان پہنچتا ہے ۔ لیکن انور مجید کو گندم تباہ ہونے کی کوئی فکر نہیں ہے ان کو تو اپنے اومنی گروپ سے بنائی گئی پلاسٹک کی بوریوں کی فروخت میں دلچسپی ہے اس لیے شدید تنقید کے باوجود حکومت سندھ نے مجبور ہو کر یہ پلاسٹک کی بوریاں خرید لیں ہیں اور اب گندم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
پچھلے دنوں حکومت سندھ نے بیرون ممالک سے ٹریکٹر درآمد کرنے والے تاجر شہزاد کو حکومت سندھ نے تنگ کر دیااس حوالے سے قصہ کچھ اس طرح ہے کہ شہزاد بیلا روس سے ٹریکٹر خرید کرکے یہاں 17 لاکھ روپے میں فروخت کرتے ہیں جو مضبوط ٹریکٹر ہوتا ہے لیکن انور مجید بلوچستان کے شہر حب میں اپنی فیکٹری میں ٹریکٹر بناتے ہیں جس کی قیمت 18 لاکھ روپے مقررکی گئی ہے۔ جو بیلا روس کے ٹریکٹر سے زیادہ مضبوط اور پائیدار بھی نہیں ہے جب کسی بھی کسان کو غیر ملکی پائیدار اور کم قیمت میں ٹریکٹر ملے گا تو وہ کمزور اور مہنگا ٹریکٹر کیوں خریدیں گے؟ یہی وہ بات ہے جس نے انور مجید کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں ۔ حکومت سندھ نے شہزاد سے ٹریکٹر خرید کرکے زمینداروں کو دیئے تھے اس ٹریکٹر پر سبسڈی حکومت سندھ ادا کرتی ہے۔ اور پھر اچانک حکومت سندھ نے شہزاد کے دفتر اور گھر پر چھاپے لگوائے شہزاد کے رشتے داروں کو اغوا کیا گیا اور ان کو انور مجید کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انور مجید نے ان کو حکم دیا کہ وہ ٹریکٹر سازی کا کام بند کر دیں جو ٹریکٹر بیلا روس سے درآمد کیے ہیں وہ بھی میرے حوالے کیے جائیں ۔ لیکن شہزاد کے رشتے داروں نے قطعی انکار کر دیا۔ جب یہ پوری کہانی ڈی جی رینجرزکے علم میں آئی تو انہوں نے فوری طور پر شہزاد کے قریبی رشتے دار کو رہا کرا دیا۔ اس پر بھی انور مجید خاموش نہیں بیٹھے ۔ اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں ۔ حال ہی میں شہزاد نے بیلا روس سے 62 ٹریکٹر درآمد کیے یہ ٹریکٹر پنجاب میں فروخت کر دیئے جب یہ ٹریکٹر پنجاب جانے لگے تو انور مجید نے سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولا کو حکم دیا کہ یہ ٹریکٹر پنجاب نہ جانے پائیں مکیش کمار چاؤلا نے حکم پر عمل کیا اور گھوٹکی، نوشہرو فیروز میں 62 ٹریکٹر رکوا دیئے اس پر شہزاد نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے جب فریقین کا مؤقف سنا تو محکمہ ایکسائز کو حکم جاری کیا کہ فوری طور پر تمام ٹریکٹر چھوڑ دیئے جائیں ۔ اس دوران شہزاد نے مقتدرہ حلقوں سے بھی رابطہ کیا۔ جہاں سے حکومت سندھ اور انور مجید کو پیغام دیا گیا کہ خوامخواہ شہزاد کو تنگ نہ کیا جائے کیونکہ وہ تاجر ہے اگر ان کے ساتھ مقابلہ بازی کرنی ہے تو ان کے ٹریکٹرز کے مقابلے میں اچھے ٹریکٹر لائے جائیں پھر یہ کسانوں پر چھوڑا جائے کہ وہ جس کو چاہیں خریدلیں ، اس سخت پیغام کے بعد حکومت سندھ اور انور مجید نرم پڑ گئے فوری طور پر یہ ٹریکٹر چھوڑ دیئے گئے اور پھر یہ ٹریکٹر پنجاب پہنچا دیئے گئے۔ شہزاد کا کہنا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ انور مجید کے سامنے نہیں جھکیں گے اس بات نے انور مجید کو مزید مشتعل کردیا ہے آگے کیاہونے والاہے یہ تووقت ہی بتائے گا۔


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر