وجود

... loading ...

وجود

امریکا اورچین تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لیے اقدامات پر متفق ہوگئے

بدھ 09 اگست 2017 امریکا اورچین تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لیے اقدامات پر متفق ہوگئے

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد گزشتہ دنوں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی جب امریکا اور عوامی جمہوریہ چین نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے کااعلان کیا، دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عدم توازن دور کرنے اور تجارتی خسارہ دور کرنے پر یہ اتفاق رائے واشنگٹن میں چین کے نائب وزیر اعظم وانگ یانگ کی زیر قیادت وفد کی امریکی وزیر تجارت ولبر راس اور وزیر خزانہ اسٹیون منچن کے درمیان طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد گزشتہ دنوں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی جب امریکا اور عوامی جمہوریہ چین نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے کااعلان کیا، دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عدم توازن دور کرنے اور تجارتی خسارہ دور کرنے پر یہ اتفاق رائے واشنگٹن میں چین کے نائب وزیر اعظم وانگ یانگ کی زیر قیادت وفد کی امریکی وزیر تجارت ولبر راس اور وزیر خزانہ اسٹیون منچن کے درمیان طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکا چین پر اپنے دروازے امریکی تاجروں کے لیے بند کرکے تجارتی عدم توازن پیدا کرنے کاالزام عاید کررہاتھا ،امریکا کا الزام تھا کہ چین کی غیر معمولی پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے دوران امریکا کو چین کے ساتھ تجارت میں 309 بلین ڈالر کاخسارہ برداشت کرنا پڑا ،لیکن چین کے نائب وزیر اعظم نے امریکا کو جواب دیا کہ چین نے امریکی تاجروں کے لیے اپنے دروازے کبھی بند نہیں کئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت اعلیٰ ٹیکنالوجی کی فراہمی پر پابندی اوراسی طرح کی دوسری پابندیاں عاید کرکے اپنے تاجروں اورصنعت کاروں کو بیرونی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے سے روک رہی ہے امریکا جدید ٹیکنالوجی برآمد کرنے پر غیر ضروری پابندیاں ختم کرکے اس تجارتی خسارے پر بآسانی قابو پاسکتاہے اور اس سے امریکا کو اپنی صنعتوں کاپہیہ چلتا رکھنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی عوام کو روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعدواشنگٹن میں ہونے والے اپنی نوعیت کے ان پہلے مذاکرات میں چین کے نائب وزیر اعظم وانگ یانگ نے امریکا پر واضح کیا کہ چین کی ابتدا ہی سے خواہش ہے کہ وہ جس ملک کے ساتھ تجارت کرے اس میں اس طرح توازن پیدا کیاجائے کہ متعلقہ ملک کے لیے چین کے ساتھ تجارت بوجھ ثابت نہ ہو لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ملک بھی اپنی تجارتی اور برآمدی پالیسی میں اس طرح لچک پیدا کریں کہ چین کو ان کے ساتھ تجارت میں دشواری پیش نہ آئے۔ واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے مذاکرات کاروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان توازن ،شفافیت اورباہمی تعاون کاجذبہ اب امریکی پالیسی کی بنیاد ہوگا تاکہ ہم اپنے ورکرز کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرسکیں اور ہمارے صنعت کار اپنی صنعتیں پوری گنجائش اور استعداد کے ساتھ چلاسکیں اور اس طرح چین اور امریکا دونوں کو کاروبار اور درآمد وبرآمد کے یکساں مواقع میسر آسکیں اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کامقابلہ کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہوسکیں ۔ واشنگٹن میں مذاکرات کے آغاز ہی میں امریکا کے وزیر تجارت ولبر راس نے یہ واضح کردیاتھا کہ گزشتہ 15 سال کے دوران امریکا کے لیے چین کی برآمدات میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن امریکا اس حوالے سے بہت پیچھے ہے جس کا اندازہ گزشتہ مالی سال کے دوران چین کے ساتھ تجارت میں امریکا کو ہونے والا 309 ملین ڈالر کے مساوی خسارے سے لگایا جاسکتاہے لیکن اب یہ صورت حال تبدیل ہونی چاہئے۔راس نے کہاتھا کہ اگر یہ صورت حال فری مارکیٹ یعنی آزاد منڈی کے نتیجے میں ہوتی تو بات سمجھ میں آنے والی تھی لیکن ایسا نہیں ہے۔اس لئے اب ہمیں ایک دوسرے کے ملکوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو زیادہ شفاف بنانا ہوگا اور اس حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ قریبی تعاون کاماحول پیداکرنا ہوگا۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران بھی چین پر غیر منصفانہ تجارتی حربے اختیار کرنے کے الزامات عاید کرتے رہے تھے لیکن بعد میں فلوریڈا میں چین کے صدر ژی جن پنگ سے ملاقات اور مذاکرات کے بعد چین کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا لہجہ تبدیل ہوگیاتھا۔فلوریڈا میں چین کے صدر سے ملاقات اور مذاکرات کے بعد امریکا نے چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کا ایک100 روزہ پروگرام شروع کرنے کااعلان کیاتھا۔اس 100 روزہ پروگرام کے بہت زیادہ حوصلہ افزا نتائج تو سامنے نہیں آئے لیکن اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا منظر کسی حد تک تبدیل کرنے میں مدد ملی تھی،اس سے امریکی برآمدات کے لیے چین کی منڈیاں کھول دی گئی تھی اور چین کے لئے امریکی برآمدات میں کسی حد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیاتھا۔اس دوران ہی امریکی کریڈٹ کارڈ کی چین میں فروخت پر پابندی نرم کرنے کابھی فیصلہ کیاگیاتھا اور دونوں ملکوں کے کریڈٹ ریٹنگ اور دوسری مالیاتی سروسز کی راہ میں رکاوٹیں ختم یاکم کرنے پر اتفاق ہوگیاتھا۔ واشنگٹن میں چین کے ساتھ ہونے والے یہ مذاکرات اگرچہ چین اور امریکا کے درمیان سابقہ حکومتوں کے دور میں ہونے والے مذاکرات کاتسلسل تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ان مذاکرات کو چین امریکا جامع اقتصادی مذاکرات کانام دیاہے۔مذاکرات کے بعدامریکی وزیرتجارت ولبر راس نے کہا کہ چین امریکا کے ساتھ تجارتی عدم توازن نصف تک کی سطح پر لانے پر رضامند ہوگیاہے جبکہ وزیر خزانہ منچن نے کہا کہ چین کو امریکا کے ساتھ تجارتی عدم توازن دور کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔منچن نے کہا کہ چین کے ساتھ مذاکرات میں امریکا کے لیے چینی منڈیوں تک آسانی کے ساتھ رسائی اور امریکی کمپنیوں کوتجارت کے مساوی مواقع فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تجارتی روابط میں اضافے سے امریکا اور چین دونوں ہی کافائدہ ہوگا۔تاہم چینی ماہرین کاخیال ہے کہ مستقبل میں امریکا اور چین کے درمیان مذاکرات میں زیادہ پیش رفت کی کوئی بڑی امید نہیں کی جاسکتی چینی ماہرین کاکہناہے کہ امریکا کے قائم کردہ اہداف حقیقت سے بہت زیادہ بڑے ہیں جن کاحصول ممکن نہیں ہوسکتا۔اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے دوران چین کے نائب وزیراعظم نے امریکی مذاکرات کاروں پر یہ واضح کردیاتھا کہ وہ اپنے موقف پر بہت زیادہ زور نہ دیں انھوں نے امریکی مذاکرات کاروں پر واضح کیاتھا کہ وہ یہ حقیقت مد نظر رکھیں کہ ہم یہاں مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں کوئی جنگ لڑنے کے لیے نہیں ہم یہاں ایک دوسرے کو شکست دینے یا ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بیٹھے ہیں اور دونوں ملکوں کو محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور افہام وتفہیم پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔مذاکرات شروع ہونے سے ایک دن قبل ہی امریکی سرمایہ کاروں اور تاجروں کے ایک نمائندہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چین کے نائب وزیر اعظم نے واضح طورپر یہ کہا تھا کہ چین کے ساتھ امریکا کو ہونے والے تجارتی خسارے کی ذمہ داری چین پر عاید نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ خسارہ خود امریکی حکومت کی غیر متوازن پالیسیوں کانتیجہ ہے۔انھوں نے کہاتھا کہ چین میں امریکا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ،کلیدی اکوئپنٹس اور ضروری فاضل پرزوں کی برآمد کی وسیع مارکیٹ موجود ہے جس سے امریکا تاجر اور صنعت کار فائدہ اٹھا کر تجارتی عدم توازن اور خسارے کو کم ہی نہیں بلکہ ختم کرسکتے ہیں لیکن اس راہ میں امریکی پالیسیاں آڑے آرہی ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس تجارتی عدم توازن کا ذمہ دار چین نہیں بلکہ خود امریکا کی حکومت ہے اورامریکی حکومت کی فرسودہ تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے امریکی تاجر اور صنعت کار وسرمایہ کار چین سے تجارت کا حقیقی فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن میں امریکا اورچین کے درمیان ہونے والے مذاکرات دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلنے کی بنیاد بنتے ہیں یا صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پیداہونے والی تلخی کومزید فروغ ملتاہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر