وجود

... loading ...

وجود

ڈونلڈ ٹرمپ انسانیت کے مجرم

هفته 05 اگست 2017 ڈونلڈ ٹرمپ انسانیت کے مجرم

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ماحول میں آلودگی پھیلانے والے انسانیت دشمنوں کے ساتھ ہیں ۔اپنے اس عمل کے ذریعے انھوں نے تاریخ میں اپنا نام سائنس اور انسانیت کے مخالفین کی فہرست میں درج کرالیاہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی جانب سے ماحول میں آلودگی پر کنٹرول کے حوالے سے پیرس معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد پوری دنیا میں آلودگی کے خلاف کوششیں ترک نہیں کردی جائیں گی بلکہ پوری دنیا اس کرہ ارض کو زیادہ صاف ستھرا اور انسانی زندگی کے لیے زیادہ حسین اور پرکشش بنانے کے لیے آلودگی کم کرکے اسے زیادہ سرسبز بنانے کی مہم نہ صرف یہ کہ جاری رکھے گی بلکہ اس مہم میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی اور شدت پیدا ہوگی۔
دنیا کو زیادہ صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک کرنے کی اس مہم کے نتیجے میں شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی ، بیٹریوں سے توانائی کے حصول اور توانائی کے حصول کے لیے دیگر ٹیکنالوجیز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ دنیا میں آلودگی میں کمی ہورہی ہے بلکہ توانائی کے متبادل طریقوں سے متعلق صنعتیں اور کاروبار عروج حاصل کررہاہے جس کے نتیجے میں اس شعبے میں روزگار کے وسیع تر نئے مواقع پیداہورہے ہیں اور اس طرح توانائی کے روایتی طریقوں کے مقابلے میں اب پہلے سے بہت زیادہ لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آرہے ہیں ۔توانائی کے متبادل ذرائع میں روزگار کے مواقع کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ اس وقت کم وبیش 30 لاکھ امریکی توانائی کے متبادل طریقوں سے متعلق صنعتوں اور شعبوں سے وابستہ ہیں یہ تعداد امریکا میں توانائی کے روایتی طریقوں سے متعلق شعبوں یعنی تیل ، گیس اور کوئلے کی صنعتوں سے روزگار حاصل کرنے والے امریکی باشندوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔کیلی فورنیا کے گورنر جرمی برائون جودنیا کی چھٹی بڑی معیشت کی قیادت کررہے ہیں اور گرین انرجی کے اہم مرکز کے سربراہ ہیں کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آلودگی میں کمی کے خلاف کوششیں ناکام ہوں گی اور پوری دنیا میں آلودگی کے خلاف موجودہ مہم بالآخر کامیاب ہوکر رہے گی ۔جرمی برائون کاکہناہے کہ اب ہوا کا رخ تبدیل ہوچکاہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آ لودگی میں کی کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں اور اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کی مخالفت بالآکر ناکام ہوکر رہے گی۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ایسا نہیں ہوسکتاکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے مالک ملک کے سربراہ کی جانب سے آلودگی کے خلاف ایسے معاہدے کی تنسیخ یا اس معاہدے سے علیحدگی جس کو پوری دنیا کی زبردست حمایت حاصل ہے کا کوئی منفی اثر رونما نہ ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان قواعد وضوابط کی منسوخی سے جن کے تحت آلودگی پھیلانے والوں کو آلودگی میں کمی کرنے کاپابند کیاگیاتھا دنیا بھر میں آلودگی میں اضافہ کی شرح کم کرنے کی کوششیں ضرور متاثر ہوں گی اور آلودگی میں کمی کی رفتار سست ہوجائے گی جبکہ اس مسئلے کی سنگینی کی وجہ سے ضرورت اس بات کی ہے کہ آلودگی میں کمی کی رفتار کو تیز تر کیاجائے اور آلودگی میں اضافے کے عوامل کو سست کرکے ختم کرنے کی کوشش جائے ۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیرس معاہدے سے علیحدگی کے نتیجے میں آلودگی میں کمی کی رفتار سست پڑنا ایک قدرتی بات ہے جبکہ اس وقت پورے بنی نوع انسان کو آلودگی کی شرح میں تیزی سے کی لانے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ انسانیت کے خلاف جرم ایک ایسی اصطلاح ہے جس کو بہت سوچ سمجھ کر اور احتیاط کے ساتھ استعمال کیاجانا چاہئے لیکن ماحول میں آلودگی میں اضافے کوروکنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنا ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے انسانیت کے خلاف جرم سے چھوٹا کوئی اور لفظ یا اصطلاح موجود ہی نہیں ہے۔
بل کلنٹن دور میں ماحول کی آلودگی پر کنٹرول کرکے اسے محدود کرنے کے حوالے سے کیوٹو معاہدہ کرانے والے امریکی نائب وزیر خارجہ ٹموتی ورتھ کاکہناہے کہ جولوگ ماحول میں آلودگی سے متعلق سائنس کے مسلمہ اصولوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں مقدمہ چلایاجانا چاہئے۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیرس معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد بھی سابق نائب امریکی وزیر خارجہ ٹموتھی ورتھ کاکہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے اس خیال پر قائم ہیں کہ ماحول کی آلودگی کے خلاف معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے اور اس طرح پوری دنیا کے عوام کو ماحول کی آلودگی کے خطرات کے حوالے کردینا والے لوگوں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرم کرنے والوں جیسا سلوک کیاجانا چاہئے۔ ٹموتھی کاکہناہے کہ صدر ڈونلڈ کا یہ فیصلہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ذمہ داریوں سے فرار کے مترادف ہے۔ان کاکہنا ہے کہ ماحول کی آلودگی میں کمی سے متعلق معاہدے سے ٓعلیحدگی کے اس فیصلے کی دنیا بھر کے کروڑوں افراد مرتے دم تک مخالفت اور مذمت کرتے رہیں گے کیونکہ اس سے موجودہ اور مستقبل کے کروڑہا لوگ متاثر ہوں گے۔یہ لوگوں کے قتل عام کے مترادف ہے انھوں نے کہا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماحول کی آلودگی کے سبب لوگوں کوپہنچنے والے نقصانات کو دیکھنے اور محسوس کرنے کو تیار نہیں تو تاریخ تو یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے اور یہ سب کچھ تاریخ میں محفو ظ ہورہاہے اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا نام رہتی دنیا تک لعنت کی علامت بن جائے گاکیونکہ تاریخ اندھی نہیں ہوتی ۔
یہ درست ہے کہ پیرس معاہدہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ نہیں تھا لیکن اس سے پوری دنیامیں آلودگی میں کی کرنے میں مدد مل رہی تھی اور دنیا بھر میں آلودگی کی شرح میں نمایاں کمی اور صورتحال میں نمایاں بہتری آئی تھی۔اس معاہدے کے تحت پوری دنیا کی حکومت کو اس صدی کے وسط تک توانائی کی تیاری میں تیل،گیس اور کوئلے کے استعمال کر ترک کردیں کیونکہ ان کے استعمال سے دنیا بھر میں موسم تبدیل ہورہے ہیں اوردنیا بھر کے درجہ حرارت میں اوسطاً 2 درجہ فارن ہیٹ کی شرح سے اضافہ ہورہاہے جو کہ سائنسدانوں کے مطابق پورے بنی نوع انسا کے وجودکے لئے زبرست خطرہ ہے۔امریکا کے صدر ماحول میں تبدیلی کے حوالے سے چین پر یہ الزام عاید کرتے رہے ہیں کہ چین ماحول میں تبدیلی کی روک تھام کے لیے کچھ نہیں کررہاہے لیکن امریکا کی جانب سے پیرس معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ چین جسے امریکی صدر آلودگی پھیلانے والے ممالک میں سرفہرست قرار دیتے تھے اب ماحول میں تبدیلی کے حوالے سے عالمی رہنمائوں کی قیادت کررہاہے ۔ماحول کی آلودی پر کنٹرول کے لیے کوششوں میں مصروف یورپی یونین کی جانب سے ماحول کی آلودگی کے خلاف مہم میں چین کو اپنا قائد بنانے کے اعلان سے یقینی طورپر امریکا کو دھچکا لگے گاکیونکہ اس طرح چین بتدریج تمام یورپی ممالک میں اپنا اسر ورسوخ بڑھانے میں کامیاب ہوجائے گا جو امریکا کے لیے زیادہ آسان نہیں ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس صورت حال کو بہتر بنانے اور دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں ۔
مارک ہرٹس گارڈ


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون وجود - جمعه 09 جنوری 2026

کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل وجود - جمعه 09 جنوری 2026

قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس، چیف آف ڈیفنس فورسز کا ملک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ،لاہور گیریژن کا دورہ ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا،آئی ایس پی آر پاک فوج ہرچیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے ت...

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف وجود - جمعه 09 جنوری 2026

بلوچستان میں دہشت گردی سے بے پناہ مشکلات ،کابینہ عوامی خدمت میں مصروف ہے این ایف سی ایورڈ میں پنجاب نے اپنے حصے کے11 ارب دیے،سیاسی قیادت سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف ...

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی وجود - جمعه 09 جنوری 2026

ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ذرائع پی ٹی آئی عوامی اجتماع کیلئے متبادل آپشنز پر غور،مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے موقع پر جلسہ کی اجازت دینے...

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

سلمان اکرم راجاکا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، واٹس ایپ گروپس میں شدید تنقید،ذرائع سیکریٹری جنرل نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، اراکین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پ...

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگ...

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 07 جنوری 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف وجود - بدھ 07 جنوری 2026

اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

مضامین
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت وجود جمعه 09 جنوری 2026
اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات وجود جمعه 09 جنوری 2026
اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر