وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کا اپنے خاندان اور خود کومعاف کرنے پر غور !!!

جمعرات 03 اگست 2017 ٹرمپ کا اپنے خاندان اور خود کومعاف کرنے پر غور !!!


امریکا کے موقر اخبارات نے جن میں واشنگٹن پوسٹ اورنیویارک ٹائمز شامل ہیں حال ہی میں ایسی اطلاعات شائع کی ہیں جن سے ظاہرہوتاہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے اپنے اور اپنے بیٹے داماد اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف ایف بی آئی کی جانب سے جاری تفتیشی رپورٹ سامنے آنے سے قبل ہی خود اپنے آپ کو اور اپنے تمام اہل خانہ کومعاف کرنے پر غور کرسکتے ہیں، اس حوالے سے گزشتہ دنوں انھوںنے ایک بیان میں واضح طورپر کہاتھا کہ انھیں کسی کو بھی بڑے سے بڑے جرم پر بھی معاف کرنے کامکمل اختیار حاصل ہے،واضح رہے کہ امریکی قانون کے مطابق صدر مملکت کو کسی بھی مجرم کو جرم ثابت ہونے سے قبل یہاں تک کہ کسی جرم کی تفتیش شروع ہونے سے قبل بھی معاف کرنے کامکمل اختیار ہے۔
امریکی میڈیا میںصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ذاتی طور پر وہ بیان لکھوایا تھا جو ان کے بیٹے نے روسی وکیل کے ساتھ ملاقات کے بارے میں دیا تھا۔بیان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر روسی وکیل نے جون 2016 میں زیادہ تر روسی بچوں کو گود میں لینے کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے بعد میں انکشاف کیا کہ وہ روسی وکیل کے ساتھ ملاقات کیلئے اس وقت راضی ہوئے جب انھیں بتایا گیا کہ وہ ان سے ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچانے والا مواد حاصل کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کی امریکا کے صدارتی انتخاب میں مبینہ مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔امریکی سینیٹ، ایوانِ نمائنیدگان اور ایک خاص کونسل امریکا کے صدارتی انتخاب کی مہم میں مبینہ روسی مداخلت کی تفتیش کر رہے ہیں جس کی کریملن تردید کرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کا بیان آنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں مزید افراتفری دیکھنے میں آئی اور وائٹ ہاؤس کے افسرِ رابطہ این تھنی سکاراموچی کو اپنے عہدے پر تعینات ہونے کے صرف10 دن کے اندر اندر برطرف کر دیا گیا ہے۔سکاراموچی وال ا سٹریٹ کے سابق ماہرِ مالیات ہیں۔ انھیں اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا جب انھوں نے ایک رپورٹر سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے بارے میں گالیوں بھری زبان استعمال کی۔اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر وہ بیان لکھوایا تھا جو ان کے بیٹے نے روسی وکیل کے ساتھ ملاقات کے بارے میں دیا۔صدر ٹرمپ کے چیف آف ا سٹاف رائنس پر یبس اور ترجمان شان ا سپائسر دونوں نے سکاراموچی کی تعیناتی کے بعد اپنے عہدے چھوڑ دیے تھے۔وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ بھی سکاراموچی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ٹرمپ کی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا کہ صدر کے خیال میں سکاراموچی نے رپورٹر کے ساتھ ‘جو زبان استعمال کی وہ اس عہدے پر کام کرنے والے کسی شخص کے شایانِ شان نہیں تھی۔’
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، ان کے بہنوئی جیرڈ کشنر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سربراہ پال مینفرٹ نے روسی وکیل نٹالیا ویسلنی تسکایا سے نیویارک میں واقع ٹرمپ ٹاور میں جون 2016 میں ملاقات کی تھی۔ٹرمپ جونیئر کو برطانوی پبلسسٹ راب گولڈ اسٹون کی جانب سے ایک ای میل آئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ بعض ایسے روسی دستاویزات ہیں جو کہ ہلیری کلنٹن کو مجرم ثابت کر دیں گے۔لیکن ٹرمپ جونیئر کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے انھیں کام کی کوئی چیز نہیں دی اور یہ کہ میٹنگ صرف 20 منٹ جاری رہی۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیٹے کی حمایت میں ایک مختصر بیان جاری کیا جس میں انھیں ‘اعلیٰ صلاحیت کا حامل شخص قرار دیا اور ان کی شفافیت کی تعریف کی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ماسکو کے ساتھ بات چیت کی خفیہ لائن قائم کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے مبینہ طور پر گذشتہ برس دسمبر میں ایک میٹنگ کے دوران ایک چینل یا راہداری قائم کرنے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار جیرڈ کشنر نے تازہ رپورٹ پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔امریکا کا وفاقی تحقیقی ادارہ ایف بی آئی 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ممکنہ روسی مداخلت اور ٹرمپ کی انتخابی مہم سے روس کے روابط کے بارے میں تفتیش کر رہا ہے۔خیال رہے کہ ایف بی آئی کی جانب سے روس کے ساتھ تعلقات کی وسیع تفتیش میں جیرڈ کشنر بھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ جیرڈ کشنر کے پاس اہم معلومات ہیں، تاہم لازمی نہیں ہے کہ انھوں نے کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو۔تازہ ترین رپورٹس میں امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جیرڈ کشنر نے امریکا میں روسی سفیر کی سفارتی سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے بیک چینل قائم کرنے کے سلسلے میں موسکو کے سفیر سرگئی کسل یاک سے بات چیت کی تھی۔امریکی اہلکارں کے مطابق اس بیک چینل کو شام کے معاملات اور دوسری پالیسیوں پر بات چیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کے قومی سلامتی کے پہلے مشیر مائیکل فلن نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں منعقدہ میٹنگ میں موجود تھے۔نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ بیک چینل کبھی قائم نہیں کیا جا سکا۔واشنگٹن پوسٹ نے پہلے ہی یہ بتا رکھا ہے کہ اس معاملے میں ایف بی آئی کے تفتیش کار جیرڈ کشنر کی کسل یاک اور ماسکو کے ایک بینکر سرگیئی گورکوف کے ساتھ گذشتہ سال ہونی والی ملاقات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔جیرڈ کشنر اور جنرل فلن کا نام روس کے ساتھ زیر تفتیش ملاقات میں آیا ہے۔خیال رہے کہ جنرل فلن کو رواں برس فروری میں اس وقت مستعفی ہونا پڑا جب یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے انتظامیہ کے دوسرے اہلکاروں کو کسل یاک کے ساتھ اپنے تعلقات کی سطح کے بارے میں گمراہ کیا تھا۔امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ ماسکو نے گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو ری پبلکن رہنما ٹرمپ کے حق میں کرنے کی کوشش کی تھی۔صدر ٹرمپ نے روس کے متعلق جانچ کو ‘امریکا کی تاریخ میں کسی سیاستدان کے خلاف ہونے والی سب سے بڑی واحد وچ ہنٹ’ قرار دیا ہے۔
امریکا میں روسی سفیر سرگی کسلی یک نے ماسکو میں اپنے اعلیٰ افسران کو بتایا ہے کہ اْنہوں نے گزشتہ برس امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز سے امریکا کی صدارتی مہم کے دوران مہم سے متعلقہ اْمور کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ روسی سفیر کا یہ بیان اْس بیان سے یکسر مختلف ہے جو اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اس بارے میں دیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے موجودہ اور سابقہ امریکی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے روسی سفیر سرگی کسلی یک کی ماسکو میں اپنے اعلیٰ افسران سے ان ملاقاتوں کے بارے میں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت ریکارڈ کی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی صبح ایک ٹویٹ کے ذریعے اس انتہائی حساس اور خفیہ خبر کے لیک ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبروں کا لیک ہونا فوراً بند ہونا چاہئے۔اس سال فروری میں سیشنز نے اپنی تقرری کے حوالے سے کانگریس میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ اْنہیں گزشتہ برس صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران خارجہ پالیسی کیلئے اْن کی مشیر کی حیثیت سے روسی اہلکاروں سے ہونے والے مبینہ رابطوں کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے۔گزشتہ مارچ میں اخباری اطلاعات کے مطابق جیف سیشنز نے کم از کم دو مرتبہ سرگی کسلی یک سے ملاقات کی تھی۔ پہلی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ کے ری پبلکن پارٹی کیلئے صدارتی اْمیدوار کی حیثیت سے خارجہ پالیسی پر تقریر سے قبل اپریل 2016 میں ہوئی تھی جبکہ دوسری ملاقات اسی سال جولائی میں رپبلکن پارٹی کے کنونشن کے موقع پر ہوئی تھی۔اْس وقت سیشنز نے اعتراف کیا تھا کہ روسی سفیر سے اْن کی ملاقات ضرور ہوئی تھی لیکن اس ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔واشنگٹن پوسٹ نے ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سیشنز نے دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور اس کی تصدیق دیگر شہادتوں سے نہیں ہوتی۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے پوسٹ کو بتایا کہ سیشنز اور روسی سفیر کے درمیان جامع بات چیت ہوئی تھی جس میں روس سے متعلقہ اْمور کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف اور اْن کے صدر بننے کی صورت میں امریکا روس تعلقات کی نوعیت کے بارے میں گفتگو بھی شامل تھی۔اخبار نے لکھا ہے کہ موجودہ اور سابق امریکی اہلکاروں کے مطابق ان ملاقاتوں کے بارے میں سیشنز کے بیانات اور روسی سفیر کی ماسکو میں اپنے اعلیٰ افسران سے ہونے والی بات چیت میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔
روسی سفیر امریکا کے قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کی برخواستگی کا باعث بھی بنے تھے۔ مائیکل فلن کو گزشتہ فروری میں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا جب یہ انکشاف ہوا کہ اْنہوں نے روس کے بارے میں امریکی پالیسی سے متعلق بات چیت کی تھی۔ اْنہوں نے اْس وقت بیان دیا تھا کہ روسی سفیر سے اْن کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ تاہم امریکا کی خفیہ ایجنسیوں نے روسی سفیر سے اْن کی بات چیت ریکارڈ کر لی تھی جس کے افشا ہونے پر اْنہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔


متعلقہ خبریں


ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں وجود - هفته 07 مارچ 2026

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ وجود - هفته 07 مارچ 2026

قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم وجود - هفته 07 مارچ 2026

آبنائے ہرمز کی بندش:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری، دفاتر کیلئے کام کے دنوں میں کمی پر غور توانائی بحران کے سبب دفاتر و تعلیمی اداروں کیلئے کوڈ 19 والی تعطیلات اپنانے، ورک فراہم ہوم کی تجاویز سامنے آئی ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی بحران کے خدش...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

مضامین
نئے حاکم ۔۔۔ وجود هفته 07 مارچ 2026
نئے حاکم ۔۔۔

ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے! وجود هفته 07 مارچ 2026
ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے!

بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک وجود هفته 07 مارچ 2026
بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک

غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر