وجود

... loading ...

وجود

بینکوں کے 30فیصد قرضوں پر 20 کاروباری اداروں کی اجارہ داری ،چھوٹے سرمایہ کار محروم

بدھ 02 اگست 2017 بینکوں کے 30فیصد قرضوں پر 20 کاروباری اداروں کی اجارہ داری ،چھوٹے سرمایہ کار محروم

اسٹیٹ بینک پاکستان نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں بینکوں کے 30 فیصدقرضوں پر ملک کے صرف 20 کاروباری گروپس کا قبضہ ہے یعنی پاکستانی بینکوں کے 30فی صد کاروباری معاملات صرف ملک کے 20 کاروباری گروپوں کے ساتھ جاری ہیں۔رواں ہفتے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بینکوں کے قرضوں میں اضافے کا انحصار کافی حد تک کارپوریٹ سیکٹر پر ہی ہے جو اس وقت ملک کے بینکوں سے 70 فیصد قرضہ لے رہے ہیں۔گزشتہ ہفتہ کے اوائل میں مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جاری کردہ تنقیدی جائزے میں نجی شعبے کی جانب سے لئے جانے اور بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کودئے جانے والے قرضوں کی صورت حال کا بھی تنقیدی نظر سے جائزہ لیاگیاتھا۔
اس تنقیدی جائزہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ خطے کے دیگر ممالک اور دیگر ریاستوں کی معیشت کے مقابلے میں پاکستانی معیشت میں بینکوں کے قرضوں کاعمل دخل بہت ہی کم ہے،اور اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس تناسب اور تفاوت میں کمی آنے کے بجائے اس میں اضافہ ہوتاجارہاہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گذشتہ 25 برس میں نجی شعبے میں جی ڈی پی کے اعتبار سے بینکوں کے قرضوں کی شرح کم ہوئی۔رپورٹ کے مطابق اگر صرف کارپوریٹ سیکٹر پر توجہ مرکوز کی جائے تو یہ ظاہر ہوتاہے کہ پاکستانی بینکوں نے خصوصی طور پر کارپوریٹ سیکٹر پر توجہ مرکوز رکھی ہے اور چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں (ایس ایم ای)، زراعت اور گھریلو صنعت کو کم وبیش نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بینکوں کی جانب سے صرف چند کمپنیوں پر انحصار کئے جانے کی وجہ سے پورے بینکنگ کے نظام کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں بینکوں کی توجہ چند بڑے اداروں تک محدود ہوجانے کے سبب بینکوں کی جانب سے دئے جانے والے قرضوں کی مجموعی مالیت میںاضافہ کی شرح اب بھی کم ہے ،اور بینکوں کی جانب سے توجہ ملک کے چند بڑے اداروں پر مرکوز ہوجانے کی وجہ سے اب ملک کی دیگر بڑی کمپنیاںجن کے پاس وافر وسائل موجود ہیں بینکوں سے قرضوں کے حصول کیلئے خانہ پری کے معاملات میں الجھنے سے بچنے کیلئے بینکوں سے قرضے لینے کے بجائے اپنے ہی وسائل استعمال کرتے ہوئے فنڈز جمع کر لیتی ہیںاور اس طرح قرضوں کے حصول کیلئے بینکوں سے رجوع ہی نہیں کرتے۔رپورٹ کے مطابق نجی شعبے کیلئے حکومت کی جانب سے دئے جانے والے قرضوں کی مجموعی صورتحال کافی عرصے سے خراب ہے اور اس حوالے سے بینک بھی لوگوں کو بچتوں پر راغب کرنے اور اپنے کھاتے داروںکی رقوم کو موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے قرض لینے والے کاروباری اورتجارتی اداروں اور افراد کو قرض مہیا کرنے کیلئے اپنا کردار موثر طورپر انجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس صورت حال کانتیجہ بجا طورپر ملک کی معیشت پر نظر آتاہے اس کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کی صورت حال مایوس کن ہے،اور ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ مالیاتی اورسماجی تنہائی کاشکار ہوکر رہ گیاہے۔جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مالیاتی نظام کاکوئی بھی غیر منظم نتیجہ ملکی معیشت پر زبردست اثر انداز ہوسکتا ہے جس میں نجی سرمایہ کاری کی مایوس کن حالت سرفہرت ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 2008 کے بعد سے مائیکرواکنامک کی مجموعی زبوں حالی اور سرمایہ کے مایوس کن حالات کی وجہ سے پاکستان میں اقتصادیات اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آنا شروع ہوئی، اس صورت حال میں بلاشبہ عالمی معاشی بحران کے اثرات بھی نمایاں ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں عالمی معاشی بحران نے بھی اپنے اثرات دکھائے ہیں، لیکن ملک میں جاری امن و امان کی ابتر صورتحال اور توانائی کے بحران نے پاکستان کے مقامی کاروبار کو زبردست نقصان پہنچایا۔رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ قرضوں کی ادائیگیوں کے توازن میں رکاوٹیں بھی مالی نظام پر بڑے پیمانے پر اثر انداز ہوئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا 2006 سے 2015 تک ملک کے خالص اثاثوں میں جی ڈی پی کی شرح صرف 5 فیصد رہی جبکہ اس دوران تھائی لینڈ میں یہ شرح 42 فیصد، ملیشیا میں 36 فیصد، بھارت میں 18 فیصداور بنگلہ دیش میں 8 فیصد رہی اس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ سرمایہ میں جی ڈی پی کی شرح کے اعتبار سے ہم بنگلہ دیش سے بھی بہت پیچھے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت، سری لنکا، مصر، ترکی اور
ملائیشیا گذشتہ 15 برس سے مسلسل خسارے میں ہیں لیکن پھر بھی ان ممالک میں اس عرصے کے دوران بینک کے قرضوں میں کمی نہیں آئی خاص طور پر بھارت، برازیل اور مصر میں بینکوں کے سرکاری اداروں میں قرضے موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ بینک نجی شعبے کی ترقی میں احسن طریقے سے کام انجام دے رہے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کا پاکستان کی جی ڈی پی میں 30 سے 40 فیصد حصہ ہے جبکہ یہ صنعتیں بینک کے قرضوں کا صرف 6 فیصد ہی حاصل کر پاتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نجی سیکٹر میں قرضوں کو بڑھانا حتمی مقصد نہیں لیکن ملک کی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے اور ملک میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کیلئے مالی معاونت سے محروم چھوٹی صنعتوں کو منصفانہ اصلاحات پر قرضوں کی فراہی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے ، اس مقصد کیلئے بینکاری کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی اور قرضوں کی فراہمی کی فرسودہ شرائط کو دور حاضر کی ضروریات کے مطابق بنایاجانا ضروری ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا گورنر اسٹیٹ بینک اس رپورٹ کاسنجیدگی سے جائزہ لے کر بینکوں سے قرضوں کی فراہمی کے موجودہ نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے اور چھوٹے سرمایہ کاروں کو بینکوں کے قرض سے استفادہ کرنے کی ترغیب دینے کیلئے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کریں گے اور کیا موجودہ کمرشیل بینک لوگوں کوزیادہ سے زیادہ بچتوں پر راغب کرنے کے ساتھ ہی بچت کھاتوں میں رکھی گئی رقوم کو چھوٹے سرمایہ کاروں اورتاجروں کو فراہم کرکے بینکوں میں منجمد ان رقوم کو معیشت کاپہیہ تیز گھمانے کے لئے استعمال کرنے پر توجہ دینے پر تیار ہوں گے۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر