وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

امریکی سینیٹ میں پاکستان کے ساتھ لالچ اور دباؤ کی دہری پالیسی کی تجویز

بدھ 02 اگست 2017 امریکی سینیٹ میں پاکستان کے ساتھ لالچ اور دباؤ کی دہری پالیسی کی تجویز

امریکی سینیٹ میں پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھانے کے لیے لالچ اور دھمکی کی دہری حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلقات میں پابندیوں کی دھمکیوں اور طویل المدت شراکت داری کی پیشکش دونوں کا ایک ساتھ استعمال کرکے افغان باغیوں کی حمایت روکنے کے لیے پاکستان پردبائو بڑھائے۔امریکی ذرائع سے ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ میں نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ 2018 میں مجوزہ ترمیم کے لیے تجویز پیش کی گئی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی، معاشی اور گورننس سے متعلق پروگراموں کو مزید بہتر کیا جائے تاکہ امریکی امداد سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جاسکیں۔
امریکی سینیٹ میںترمیم کی یہ تجویز سینیٹر جان مک کین نے پیش کی جو طاقتور سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ہیں اور ان کی پیش کردہ قانونی تجاویز کانگریس سے منظوری حاصل کرتی ہیں۔اس ترمیم میں پاکستان کے حوالے سے شامل حصے میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسی ‘مجموعی سول عسکری حکمت عملی’ اختیار کی جائے جو واشنگٹن کے اسٹریٹیجک عزائم پورے کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ترمیم میں تجویز دی گئی ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی پاک-امریکا شراکت داری کے اْن ممکنہ فوائد کو سامنے لایا جائے اوراس کی تشہیر کی جائے جو دہشت گرد اور باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنے کے نتیجے میں پاکستان کو حاصل ہوں گے۔
امریکی سینیٹ میں قانون سازی کے لیے پیشکی گئی مجوزہ تجویز میں کہاگیاہے کہ امریکی حکومت کو سفارتی کوششیں بہتر کرنے، افغانستان، پاکستان، چین، بھارت، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔جمعہ28 جولائی کو پیش ہونے والی ترمیم، جس کا متن ہفتے کو سامنے آیا، میں کہا گیا ہے کہ یہ کوششیں افغانستان میں سیاسی بحالی کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔ترمیم کے تحت امریکی حکومت کو غلط فہمیوں کو کم کرنے اور اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے جنوبی ایشیا کی دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کامشورہ دیاگیا ہے ۔
سینیٹ کی اس ترمیم میں انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی امریکا، امریکی اتحادیوں اور ان کے مفادات کے خلاف حملوں کی کوشش ناکام بنائے جبکہ طالبان کو افغان حکومت پر دباؤ ڈالنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ افغان آبادی کے علاقوں میں ان کا کنٹرول کم کرے۔قانون سازی میں افغان سیکورٹی فورسز کی طاقت بڑھانے اور امریکی فورسز کو حقانی نیٹ ورک، طالبان و دیگر کے خلاف کارروائی کا مزید اختیار فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ 14 جولائی کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے قانون سازی میں 3 ترامیم منظور کی تھیں جن کا تعلق پاکستان کو فراہم کی جانے والی دفاعی فنڈنگ کی شرائط سے تھا۔ان 3 ترامیم میں پاکستان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ امریکی امداد کی وصولی جاری رکھنا چاہتا ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اطمینان بخش پیش رفت کا مظاہرہ کرے۔اس سے قبل بارک اوباما انتظامیہ نے پاکستان کو 80 کروڑ ڈالر فوجی امداد دینے کی تجویز دی تھی، تاہم سینیٹ نے 30 کروڑ ڈالر حقانی نیٹ ورک کے خلاف عملی کارروائی سے مشروط کردیے۔ ایک امریکی عہدے دار نے بتایا تھاکہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد نہیں دے گا کیوں کہ وزیر دفاع ایش کارٹر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کانگریس میں اس بات کی تائید نہیں کریں گے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائیاں کررہا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک دہائی سے تنائو کا شکار ہیں اور امریکی حکام کا موقف ہے کہ پاکستان دہشتگرد گروپوں جن میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک شامل ہیں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کررہا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ نے بتایا تھاکہ حکومت پاکستان کو امدادی رقم جاری نہیں کی جاسکتی کیوں کہ وزیر دفاع ایش کارٹر نے اب تک اس بات کی تائید نہیں کی ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی کررہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اتحادی ممالک میں دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ پر آنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے کولیشن سپورٹ کے نام سے پروگرام شروع کررکھا ہے اور پاکستان اس کا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔اگرچہ پینٹاگون کے ترجمان اسٹمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی امداد جاری نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستانی فوج نے جو قربانیاں دی ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں لیکن پاکستان کے ساتھ امریکا کا رویہ اس دعوے کی نفی کرتاہے اور اس سے امریکی رہنمائوں کی روایتی بے وفاعی کااظہار ہوتاہے۔پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے اب تک پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 14 ارب ڈالر جاری کیے جاچکے ہیں۔اب پینٹاگون کی جانب سے امداد جاری نہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پینٹاگون شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائیوں میں پیش رفت کو دیکھ رہا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ امریکی سینیٹ میں اس بل کی منظوری کے بعداب امریکی وزارت دفاع کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستانی کارروائیوں سے کانگریس کو مطمئن کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ ان ترامیم کو پیش کرنے والے دونوں اراکین کانگریس نے اْس قرارداد کی بھی حمایت کی تھی جس میں پاکستان کو دہشت گردی کی کفیل ریاست قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب ایک علیحدہ قرارداد کے ذریعے یہ اراکین، پاکستان کا نام نان نیٹو اتحادیوں کی فہرست سے بھی ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہیں، پاکستان 2004 میں نان نیٹو اتحاد کا حصہ بنا تھا۔
پینٹاگون کے ترجمان ایڈَم اسٹمپ کا کہنا تھا کہ ’وزیر دفاع جم میٹس نے کانگریس کی دفاعی کمیٹیوں کو بتایا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ پاکستان نے، 2016 کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں اس ادائیگی کے لیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاطر خواہ اقدامات اٹھائے۔واضح رہے کہ امریکا نے خصوصی فنڈ کے ذریعے پاکستان کی فوجی امدادکے لیے 90 کروڑ ڈالر مختص کیے تھے جس میں سے پاکستان 55 کروڑ ڈالر حاصل کر چکا ہے، لیکن جیم میٹس کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کو 5 کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک دی گئی ہے، جبکہ کانگریس پہلے ہی فوجی امداد میں 30 کروڑ ڈالر کی کمی کرچکی ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ مالی سال 2017 میں سیکریٹری دفاع کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کے لیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکا پاکستان سے جس حقانی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کرنے کامطالبہ کررہاہے وہ حقانی نیٹ ورک قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں سے گھبرا کر افغانستان منتقل ہوچکے ہیں اور افغانستان میںبیٹھ کر نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے لیے بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور پاک فوج اور حکومت افغان حکومت اور امریکی عمائدین کو اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کامطالبہ کرتی رہی ہے لیکن امریکی حکام نے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں، ان کی قربانیوں اورافغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں انتباہات کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کافیصلہ کیاہے، حکومت کو امریکا کے اس طرح کے فیصلوں کے خلاف ڈٹ کر اس کاجواب دیناچاہئے،اور امریکی حکام پر یہ واضح کردیناچاہئے کہ اگر وہ پاکستان کی امداد کو مشروط کرنے پر مصر ہیں تو پھر پاکستان سے بھی پہلے جیسے تعاون کی امید نہ رکھیں ۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان