وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

امریکی سینیٹ میں پاکستان کے ساتھ لالچ اور دباؤ کی دہری پالیسی کی تجویز

بدھ 02 اگست 2017 امریکی سینیٹ میں پاکستان کے ساتھ لالچ اور دباؤ کی دہری پالیسی کی تجویز

امریکی سینیٹ میں پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھانے کے لیے لالچ اور دھمکی کی دہری حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلقات میں پابندیوں کی دھمکیوں اور طویل المدت شراکت داری کی پیشکش دونوں کا ایک ساتھ استعمال کرکے افغان باغیوں کی حمایت روکنے کے لیے پاکستان پردبائو بڑھائے۔امریکی ذرائع سے ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ میں نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ 2018 میں مجوزہ ترمیم کے لیے تجویز پیش کی گئی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی، معاشی اور گورننس سے متعلق پروگراموں کو مزید بہتر کیا جائے تاکہ امریکی امداد سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جاسکیں۔
امریکی سینیٹ میںترمیم کی یہ تجویز سینیٹر جان مک کین نے پیش کی جو طاقتور سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ہیں اور ان کی پیش کردہ قانونی تجاویز کانگریس سے منظوری حاصل کرتی ہیں۔اس ترمیم میں پاکستان کے حوالے سے شامل حصے میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسی ‘مجموعی سول عسکری حکمت عملی’ اختیار کی جائے جو واشنگٹن کے اسٹریٹیجک عزائم پورے کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ترمیم میں تجویز دی گئی ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی پاک-امریکا شراکت داری کے اْن ممکنہ فوائد کو سامنے لایا جائے اوراس کی تشہیر کی جائے جو دہشت گرد اور باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنے کے نتیجے میں پاکستان کو حاصل ہوں گے۔
امریکی سینیٹ میں قانون سازی کے لیے پیشکی گئی مجوزہ تجویز میں کہاگیاہے کہ امریکی حکومت کو سفارتی کوششیں بہتر کرنے، افغانستان، پاکستان، چین، بھارت، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔جمعہ28 جولائی کو پیش ہونے والی ترمیم، جس کا متن ہفتے کو سامنے آیا، میں کہا گیا ہے کہ یہ کوششیں افغانستان میں سیاسی بحالی کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔ترمیم کے تحت امریکی حکومت کو غلط فہمیوں کو کم کرنے اور اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے جنوبی ایشیا کی دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کامشورہ دیاگیا ہے ۔
سینیٹ کی اس ترمیم میں انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی امریکا، امریکی اتحادیوں اور ان کے مفادات کے خلاف حملوں کی کوشش ناکام بنائے جبکہ طالبان کو افغان حکومت پر دباؤ ڈالنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ افغان آبادی کے علاقوں میں ان کا کنٹرول کم کرے۔قانون سازی میں افغان سیکورٹی فورسز کی طاقت بڑھانے اور امریکی فورسز کو حقانی نیٹ ورک، طالبان و دیگر کے خلاف کارروائی کا مزید اختیار فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ 14 جولائی کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے قانون سازی میں 3 ترامیم منظور کی تھیں جن کا تعلق پاکستان کو فراہم کی جانے والی دفاعی فنڈنگ کی شرائط سے تھا۔ان 3 ترامیم میں پاکستان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ امریکی امداد کی وصولی جاری رکھنا چاہتا ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اطمینان بخش پیش رفت کا مظاہرہ کرے۔اس سے قبل بارک اوباما انتظامیہ نے پاکستان کو 80 کروڑ ڈالر فوجی امداد دینے کی تجویز دی تھی، تاہم سینیٹ نے 30 کروڑ ڈالر حقانی نیٹ ورک کے خلاف عملی کارروائی سے مشروط کردیے۔ ایک امریکی عہدے دار نے بتایا تھاکہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد نہیں دے گا کیوں کہ وزیر دفاع ایش کارٹر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کانگریس میں اس بات کی تائید نہیں کریں گے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائیاں کررہا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک دہائی سے تنائو کا شکار ہیں اور امریکی حکام کا موقف ہے کہ پاکستان دہشتگرد گروپوں جن میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک شامل ہیں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کررہا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ نے بتایا تھاکہ حکومت پاکستان کو امدادی رقم جاری نہیں کی جاسکتی کیوں کہ وزیر دفاع ایش کارٹر نے اب تک اس بات کی تائید نہیں کی ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی کررہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اتحادی ممالک میں دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ پر آنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے کولیشن سپورٹ کے نام سے پروگرام شروع کررکھا ہے اور پاکستان اس کا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔اگرچہ پینٹاگون کے ترجمان اسٹمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی امداد جاری نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستانی فوج نے جو قربانیاں دی ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں لیکن پاکستان کے ساتھ امریکا کا رویہ اس دعوے کی نفی کرتاہے اور اس سے امریکی رہنمائوں کی روایتی بے وفاعی کااظہار ہوتاہے۔پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے اب تک پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 14 ارب ڈالر جاری کیے جاچکے ہیں۔اب پینٹاگون کی جانب سے امداد جاری نہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پینٹاگون شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائیوں میں پیش رفت کو دیکھ رہا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ امریکی سینیٹ میں اس بل کی منظوری کے بعداب امریکی وزارت دفاع کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستانی کارروائیوں سے کانگریس کو مطمئن کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ ان ترامیم کو پیش کرنے والے دونوں اراکین کانگریس نے اْس قرارداد کی بھی حمایت کی تھی جس میں پاکستان کو دہشت گردی کی کفیل ریاست قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب ایک علیحدہ قرارداد کے ذریعے یہ اراکین، پاکستان کا نام نان نیٹو اتحادیوں کی فہرست سے بھی ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہیں، پاکستان 2004 میں نان نیٹو اتحاد کا حصہ بنا تھا۔
پینٹاگون کے ترجمان ایڈَم اسٹمپ کا کہنا تھا کہ ’وزیر دفاع جم میٹس نے کانگریس کی دفاعی کمیٹیوں کو بتایا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ پاکستان نے، 2016 کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں اس ادائیگی کے لیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاطر خواہ اقدامات اٹھائے۔واضح رہے کہ امریکا نے خصوصی فنڈ کے ذریعے پاکستان کی فوجی امدادکے لیے 90 کروڑ ڈالر مختص کیے تھے جس میں سے پاکستان 55 کروڑ ڈالر حاصل کر چکا ہے، لیکن جیم میٹس کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کو 5 کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک دی گئی ہے، جبکہ کانگریس پہلے ہی فوجی امداد میں 30 کروڑ ڈالر کی کمی کرچکی ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ مالی سال 2017 میں سیکریٹری دفاع کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کے لیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکا پاکستان سے جس حقانی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کرنے کامطالبہ کررہاہے وہ حقانی نیٹ ورک قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں سے گھبرا کر افغانستان منتقل ہوچکے ہیں اور افغانستان میںبیٹھ کر نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے لیے بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور پاک فوج اور حکومت افغان حکومت اور امریکی عمائدین کو اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کامطالبہ کرتی رہی ہے لیکن امریکی حکام نے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں، ان کی قربانیوں اورافغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں انتباہات کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کافیصلہ کیاہے، حکومت کو امریکا کے اس طرح کے فیصلوں کے خلاف ڈٹ کر اس کاجواب دیناچاہئے،اور امریکی حکام پر یہ واضح کردیناچاہئے کہ اگر وہ پاکستان کی امداد کو مشروط کرنے پر مصر ہیں تو پھر پاکستان سے بھی پہلے جیسے تعاون کی امید نہ رکھیں ۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

امریکا نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طورپر دست بردار ہونے کیلئے نوٹس سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کو پہنچا دیا جس کی تصدیق وائٹ ہاوس نے کردی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ دست برداری کے لئے ایک سال پہلے نوٹس دیا جاتا ہے ۔ اس لئے امریکا 6 جولائی 2021 تک ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل میں الزام لگایا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کے پھیلاو سے متعلق بروقت اور شفاف معلومات دینے م...

امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

سعودی عرب کی مشرقی گورنری الاحسا کو مملکت میں پھلوں اور سبزیوں کی ٹوکری قرار دے دیاگیا۔عرب ٹی وی کے مطابق الاحسا کی زرعی پیداوار پورے ملک میں پسند کی جاتی ہے ۔ شدید گرمی کے باوجود الاحسا میں انواع واقسام کے پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں زرد تربوزم سیاہ توت، کھجور، انجیر، سبز لیمن اور ان گنت سبزیاں کاشت کی جاتی اور پورے ملک میں سپلائی کی جاتی ہیں۔الاحسا گورنری میں کاشت کی جانے والی سبزیاں اور پھل اپنے اعلی معیار کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ مقامی بازاروں میں الاحسا میں ک...

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

اقوام متحدہ کی تفتیش کار اگنس کالامارڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم سے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق کالا مارڈ نے کہا کہ گذشتہ جنوری میں عراق میں امریکی فوج کی کارروائی کے دوران ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور نو دیگر افراد کی ہلاکت ایک غیرقانونی اقدام اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔کالامارڈ نے مزید کہا کہ امریکا بغداد ہوائی اڈے سے نکلنے والے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قافلے پر حملے جواز پ...

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

ملائیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ وہ الجزیرہ نیوز چینل کے صحافیوں کو غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاری سے متعلق ایک دستاویزی فلم تیار کرنے کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کریں گے ۔ حکام نے الجزیرہ ٹی وی کی اس دستاویزی فلم کو ملائشیا کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔مہاتیر محمد کے وزارت عظمی کے عہدے سے استعفے کے بعد ملائیشیا اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے ۔خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الجزیرہ کہ متنازع دستاویزی فلم غیر قانونی تارکین وطن کی کوالالمپور می...

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار