... loading ...
حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے غلام حیدر جمالی جیسے کمائوپوت تو قبول ہیں۔ لیکن اقبال محمود اور اے ڈی خواجہ اس وجہ سے قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اقبال محمود اور اے ڈی خواجہ جیسے لوگ نہ خود کھاتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کھانے دیتے ہیں وہ خود بھی چوری نہیں کرتے اور حکمرانوں کو بھی چوری نہیں کرنے دیتے بس یہی بات آصف علی زرداری، فریال تالپر، انور مجید جیسے لوگوں کو پسند نہیں ہے کہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ ڈالی جائے۔ اور وہ اس صورتحال میں طیش میں آجاتے ہیں بس یہی وہ باتیں ہیں جس سے عوام میں ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔ 19 دسمبر 2016ء اور 3 اپریل 2017 ء وہ سیاہ دن ہیں جب سندھ کے موجودہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے خلاف حکومت سندھ نے آخری تیر چلا دیئے مگر اللہ جس کو چاہے عزت دے اورجس کو چاہے ذلیل کرے کے مصداق اللہ تعالیٰ نے ان کو دونوں مرتبہ سرخرو کیا۔ 19 دسمبر کو آئی جی سندھ پولیس کو جبری چھٹی پر بھیج دیاگیا۔ مگر ایک ہفتے میں سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ کو ہٹانے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا۔ دوسری مرتبہ 3 اپریل کو آئی جی سندھ کو ہٹاکر ایڈیشنل آئی جی عبدالمجید دستی کو خود ہی قائم مقام آئی جی سندھ پولیس مقرر کر دیا مگر 5 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے پھر حکم امتناعی دے دیا اور تاحال یہ حکم امتناعی جاری ہے ان دونوں معاملات کے باعث حکومت سندھ میں پشیمانی تو دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ ڈھٹائی ضرور نظر آتی ہے۔ ان ناکامیوں پر سبق سیکھنے کے بجائے مزید غلطیاں کی جا رہی ہیں۔ پھر آئی جی سندھ کے اختیارات کم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ ان کو ایس ایس پیز کے تبادلے کرنے سے روکا گیا۔ ان کو کراچی سے باہر جانے سے قبل چیف سیکریٹری سندھ سے پیشگی اجازت لینے کا پابند بنایا گیا۔ مگر بات نہ بن سکی پھر اس حکم نامہ کو واپس لے لیا گیا۔ اب آئی جی سندھ پولیس کی تین سال کی پوسٹ کا قانون ختم کرنے کی تیاری کی گئی اور یہ قانون بنانے کی کوشش کی گئی کہ آئی جی سندھ کو چیف سیکریٹری مقرر کریں گے اور جس وقت چاہیں گے ان کو ہٹا دیں گے اس مقصد کے لیے سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل سندھ کا بینہ کا اجلاس بلایا گیا لیکن عین موقع پر یہ نکتہ ایجنڈے سے نکال دیا گیا۔ اب پتہ چلاہے کہ حکومت سندھ کو کسی خیر خواہ نے مشورہ دیا ہے کہ ایسا قانون نہ بنائو کیونکہ کل اگر پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت بنالی تو دیگر صوبے ایسے قوانین بناکر وفاقی حکومت کو تنگ کریں گے۔ آئی جی سندھ پولیس کو جس قدر تنگ کیا جا رہا ہے ان کے قریبی اسٹاف افسر ڈی آئی جی منیر شیخ کو چارج چھڑا دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی فنانس عمران یعقوب منہاس کو ہٹا دیا گیا۔ اے آئی جی آپریشن شیراز نذیر کو ہٹاکر وزیر داخلہ کا پی ایس او بنا دیا گیا ہے ان کے قریب ترین قابل اعتماد ساتھی ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس مشتاق مہر کو ہٹایا گیا اس کی جگہ غلام قادر تھیبو کو پولیس چیف لگا دیا گیا ہے۔ اور سردار عبدالمجید دستی کو ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس مقرر کیا گیا۔ اس طرح آئی جی سندھ پولیس کو تنگ کیا جا رہا ہے جب سینئر پولیس افسران نے دیکھا کہ آئی جی سندھ پولیس کمزور پڑ رہے ہیں تو انھوں نے بھی آئی جی سندھ کوساتھ چھوڑناشروع کردیااطلاع ہے متعدداہم اعلی پولیس افسران نے آئی جی کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں ان میں سرفہرست ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر منیر احمد شیخ اپنے عہدے کا چارج چھور کر گھر چلے گئے اطلاع ہیں ان کا وزیر داخلہ سہیل انور سیال سے رابطہ ہوا تو اس کے بعد منیر شیخ نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑا اس کے بعد ڈی آئی جی (آئی ٹی) سلطان خواجہ نے بھی اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ سلطان خواجہ موجودہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے فرسٹ کزن ہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مشکل وقت میں سلطان خواجہ نے اپنے فرسٹ کزن اے ڈی خواجہ کا ساتھ نہیں دیا مگر شاباش ہے مشتاق مہر کو جنہوں نے گہری دوستی اور ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود بھی چٹان کی طرح جم کر کھڑے ہوگئے اور آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے کندھے سے کندھا ملا کر چلے ہیں ان کا مثالی ساتھ نبھایا ہے۔ مشتاق مہر نے افواہوں کی بھی پرواہ نہیں کی اور بدکردار لوگوں کی جھوٹی خبروں پر بھی توجہ نہیں دی تو حکومت سندھ کی ناراضگی یا لالچ کو پس پشت ڈال دیا ہے باقی پولیس افسران نے تو ڈبل گیم کی ہے اور آئی جی کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ سے بھی اچھے تعلقات برقرار رکھے۔
تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...
انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...
شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...
حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...
پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...
عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...
حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...
خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...
وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...
متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...
کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...