وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال:ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چشم کشا رپورٹ

اتوار 30 جولائی 2017 مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال:ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چشم کشا رپورٹ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی پوری طرح عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین دشمنی کی مثال قائم کررہا ہے،رپورٹ میں یہ چشم کشا انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ بھارتی فوجی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کی مدد سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے اور بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاراستعمال کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری نوجوان لیڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوجی اب تک سیکڑوں کشمیریوں کو شہید کرچکے ہیں اور کشمیری نوجوانوں کے خلاف ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی میں اسرائیل بھارت کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ5 برس کے دوران اسرائیل نے بھارت کو اوسطاً ایک ارب ڈالر سالانہ کے حساب سے ہتھیار فروخت کئے ہیں اور اسرائیل سے حاصل کردہ یہ ہتھیار مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری نوجوانوں کی آواز خاموش کرنے کے لیے استعمال کئے جارہے ہیں۔
اقوام عالم اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت نے 1948میں خودمختار ریاست کشمیر کے غالب حصے پر اپنا تسلط جمانے کے بعد حق خودارادیت کے لیے آواز اٹھانے والے کشمیری عوام پر مظالم کا جوسلسلہ شروع کیاتھا وہ آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ 69 برس کے دوران بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر سے بچوں اور خواتین سمیت لاکھوں کشمیری عوام جام شہادت نوش کرچکے ہیں‘ ہزاروں عفت مآب خواتین اپنی عصمتوں کی قربانی دے چکی ہیں اور کشمیریوں کی املاک کے نقصانات تو بے حد و حساب ہیں۔ اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام کو ان کی آزادی کی جدوجہد کے راستے سے نہیں ہٹا سکا اور نہ ہی ان کی آواز خاموش کراسکا ہے اور کشمیریوں پر بھارت کی ترغیب و تخویف کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ سابق حکمران کانگرس آئی کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کشمیریوں کو رام کرنے کے لیے کشمیری لیڈروں کو گول میز کانفرنس میں مدعو کرکے انہیں خودمختار کشمیر کا دانہ ڈالا مگر انہوں نے بھارتی حکومت کی یہ پیشکش بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے حق خودارادیت کا تقاضا برقرار ر کھا جو ان کے بے پایاں عزم کا ٹھوس ثبوت ہے۔
یہ حقیقت بھی یقیناً کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت نے پاکستان کی بقا و سلامتی کیخلاف اپنے سازشی ذہن کو بروئے کار لا کر کشمیر پر تسلط جمایا تاکہ کشمیر کے راستے پاکستان آنیوالے دریائوں کا پانی روک کر پاکستان کی زرخیز دھرتی کو ریگستان میں تبدیل کیا جائے۔ اس طرح بھارت پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں سے جارحیت کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ آبی دہشت گردی کے ذریعے بھی اسے بے دست و پا کرکے مارنے کی گھنائونی منصوبہ بندی پربھی عمل پیرا بھی ہے اور اس معاملہ میں وہ سندھ طاس معاہدے کو خاطر میں لاتا ہے نہ اس معاہدے کے ضامن عالمی بینک کی کوئی بات سننے پر آمادہ ہے۔ کشمیر کو بھی اس نے خود ہی متنازعہ بنایا اور اس طرح بھارت نے تقسیم ہند کے فارمولے کی نفی کی جبکہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی متقاضی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو بھی اس نے جوتے کی نوک پر رکھا اور اپنے آئین میں ترمیم کرکے جبراً کشمیر کو اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔
توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والی بھارتی انتہا پسند قیادت نے کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان سے ملحق آزاد کشمیر کو بھی اپنا مقبوضہ بنانے کی گھنائونی سازشیں شروع کر دیں اور اسی بنیاد پر آج بھارت کی انتہاپسند مودی حکومت آزاد کشمیر پر بھی نگاہیں جمائے بیٹھی ہے اور اسی تناظر میں کنٹرول لائن پر گزشتہ2 سال سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کی چیک پوسٹوں اور ان سے ملحقہ شہری آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں اب تک بیسیوں شہری اور پاک فوج کے درجنوں جوان و افسران جام شہادت نوش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ بھارت کے یہ تمام مظالم اورجارحانہ ہتھکنڈے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں اور عالمی قیادتوں کی نگاہوں میں ہیں اس کے باوجود عالمی برادری خاص طور پرخود کو حقوق انسانی کاعلمبردار ظاہر کرنے والے امریکہ ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ارکان میں سے کسی نے بھی بھارت کے جنونی ہاتھ روکنے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیںاٹھایا جبکہ حقوق انسانی کا انتہائی شفاف ریکارڈ رکھنے والے پاکستان کے خلاف قرار داد منظور کرنے میں ذرا تامل نہیں کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک وفد نے کچھ عرصہ قبل بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے وہاں کشمیری عوام پر بھارتی فوجوں کے مظالم کا خود مشاہدہ کیا تھا ،اور ایمنسٹی کے وفد نے مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کا بھی پتہ لگایا تھا جن میں بھارتی فوجوں کے مظالم سے شہید ہونیوالے سیکڑوں کشمیریوں کو اجتماعی طور پر دفن کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے وفد نے بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی جو رپورٹ مرتب کی اس کی بنیاد پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) اور یورپی یونین نے بھارت کے ساتھ تجارتی مراسم معطل کردیئے اور بھارتی حکومت کو باور کرایا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں روکی جائیںگی‘ یورپی ممالک کی بھارت کے ساتھ تجارت معطل رہے گی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے فوجی مبصر بھی متعدد مواقع پر کنٹرول لائن کا دورہ کرکے وہاں بھارتی فوجوں کی بلااشتعال کارروائیوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں جن کی رپورٹ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کے کردار کی پیشکش کی گئی مگر بھارت نے یہ پیشکش بھی رعونت کے ساتھ ٹھکرادی۔
اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے کہ کشمیریوں کی تیسری نسل بھارتی فوجوں کے آگے سینہ تان کر اپنے آباکا بلند کیا ہوا حق خودارادیت کا پرچم تھامے کھڑی ہے اور بھارت کے مظالم کا ہر ہتھکنڈہ برداشت کرکے جام شہادت نوش کررہے ہیں اور اسی طرح اقوام عالم کو بھارتی مظالم کے ہر ہتھکنڈے سے باخبر رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال نوجوان کشمیری لیڈر برہان مظفروانی کی بھارتی فوجوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد کشمیری نوجوانوں میں اپنی منزل کے حصول کا نیا جذبہ پیدا ہوا جنہوں نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعہ بھارتی فوجوں کو زچ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو بھارتی فوجوں نے ان پر پیلٹ گن کے ذریعے بے دریغ فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں کشمیری نوجوان اور دوسرے شہری بصارت سے مستقل طورپرمحروم اور اپاہج ہوچکے ہیں اور سیکڑوں کشمیری عوام اس ایک سال کے دوران جام شہادت بھی نوش کرچکے ہیں۔ ان بھارتی مظالم کیخلاف بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور بھارتی قیادت کو بھی غالباً یہ محسوس ہونے لگاہے کہ بھارتی فوج کے ان مظالم کے بعد اب کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
اب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دوسری رپورٹ میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تصدیق کی گئی ہے جس کے لیے بھارت کو اسرائیل کی معاونت حاصل ہے اس صورت حال میں عالمی قیادتوں اور اداروں کافرض ہے کہ وہ بھارت کی اس سفاکی کا اسی طرح سختی سے نوٹس لیںجس طرح دو ماہ قبل شام کے صدر بشارالاسد کی جانب سے اپنی مخالف شام کی شہری آبادیوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی خبروں کا نوٹس لیا گیا تھا اور امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے بشارالاسد کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی ایسی ہی سفاکی کا مرتکب ہورہا ہے تو انسانی حقوق کے چمپئن ہونے کے دعوے دار امریکہ کو بھارتی رہنمائوں کی پیٹھ ٹھونکنے کے بجائے ان کے جنونی ہاتھ روکنے کے لیے بھارت پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے چاہئیں۔
عالمی برادری کو بھارتی مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اقوام متحدہ میں پیش کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہی بھارتی رہنمائوںکو سلامتی کونسل قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔امید کی جاتی ہے کہ عالمی برادری اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور مظلوم کشمیری عوام کوان کاحق خود اختیاری دلانے میںمزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر