... loading ...
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی پوری طرح عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین دشمنی کی مثال قائم کررہا ہے،رپورٹ میں یہ چشم کشا انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ بھارتی فوجی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کی مدد سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے اور بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاراستعمال کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری نوجوان لیڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوجی اب تک سیکڑوں کشمیریوں کو شہید کرچکے ہیں اور کشمیری نوجوانوں کے خلاف ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی میں اسرائیل بھارت کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ5 برس کے دوران اسرائیل نے بھارت کو اوسطاً ایک ارب ڈالر سالانہ کے حساب سے ہتھیار فروخت کئے ہیں اور اسرائیل سے حاصل کردہ یہ ہتھیار مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری نوجوانوں کی آواز خاموش کرنے کے لیے استعمال کئے جارہے ہیں۔
اقوام عالم اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت نے 1948میں خودمختار ریاست کشمیر کے غالب حصے پر اپنا تسلط جمانے کے بعد حق خودارادیت کے لیے آواز اٹھانے والے کشمیری عوام پر مظالم کا جوسلسلہ شروع کیاتھا وہ آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ 69 برس کے دوران بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر سے بچوں اور خواتین سمیت لاکھوں کشمیری عوام جام شہادت نوش کرچکے ہیں‘ ہزاروں عفت مآب خواتین اپنی عصمتوں کی قربانی دے چکی ہیں اور کشمیریوں کی املاک کے نقصانات تو بے حد و حساب ہیں۔ اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام کو ان کی آزادی کی جدوجہد کے راستے سے نہیں ہٹا سکا اور نہ ہی ان کی آواز خاموش کراسکا ہے اور کشمیریوں پر بھارت کی ترغیب و تخویف کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ سابق حکمران کانگرس آئی کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کشمیریوں کو رام کرنے کے لیے کشمیری لیڈروں کو گول میز کانفرنس میں مدعو کرکے انہیں خودمختار کشمیر کا دانہ ڈالا مگر انہوں نے بھارتی حکومت کی یہ پیشکش بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے حق خودارادیت کا تقاضا برقرار ر کھا جو ان کے بے پایاں عزم کا ٹھوس ثبوت ہے۔
یہ حقیقت بھی یقیناً کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت نے پاکستان کی بقا و سلامتی کیخلاف اپنے سازشی ذہن کو بروئے کار لا کر کشمیر پر تسلط جمایا تاکہ کشمیر کے راستے پاکستان آنیوالے دریائوں کا پانی روک کر پاکستان کی زرخیز دھرتی کو ریگستان میں تبدیل کیا جائے۔ اس طرح بھارت پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں سے جارحیت کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ آبی دہشت گردی کے ذریعے بھی اسے بے دست و پا کرکے مارنے کی گھنائونی منصوبہ بندی پربھی عمل پیرا بھی ہے اور اس معاملہ میں وہ سندھ طاس معاہدے کو خاطر میں لاتا ہے نہ اس معاہدے کے ضامن عالمی بینک کی کوئی بات سننے پر آمادہ ہے۔ کشمیر کو بھی اس نے خود ہی متنازعہ بنایا اور اس طرح بھارت نے تقسیم ہند کے فارمولے کی نفی کی جبکہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی متقاضی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو بھی اس نے جوتے کی نوک پر رکھا اور اپنے آئین میں ترمیم کرکے جبراً کشمیر کو اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔
توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والی بھارتی انتہا پسند قیادت نے کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان سے ملحق آزاد کشمیر کو بھی اپنا مقبوضہ بنانے کی گھنائونی سازشیں شروع کر دیں اور اسی بنیاد پر آج بھارت کی انتہاپسند مودی حکومت آزاد کشمیر پر بھی نگاہیں جمائے بیٹھی ہے اور اسی تناظر میں کنٹرول لائن پر گزشتہ2 سال سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کی چیک پوسٹوں اور ان سے ملحقہ شہری آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں اب تک بیسیوں شہری اور پاک فوج کے درجنوں جوان و افسران جام شہادت نوش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ بھارت کے یہ تمام مظالم اورجارحانہ ہتھکنڈے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں اور عالمی قیادتوں کی نگاہوں میں ہیں اس کے باوجود عالمی برادری خاص طور پرخود کو حقوق انسانی کاعلمبردار ظاہر کرنے والے امریکہ ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ارکان میں سے کسی نے بھی بھارت کے جنونی ہاتھ روکنے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیںاٹھایا جبکہ حقوق انسانی کا انتہائی شفاف ریکارڈ رکھنے والے پاکستان کے خلاف قرار داد منظور کرنے میں ذرا تامل نہیں کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک وفد نے کچھ عرصہ قبل بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے وہاں کشمیری عوام پر بھارتی فوجوں کے مظالم کا خود مشاہدہ کیا تھا ،اور ایمنسٹی کے وفد نے مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کا بھی پتہ لگایا تھا جن میں بھارتی فوجوں کے مظالم سے شہید ہونیوالے سیکڑوں کشمیریوں کو اجتماعی طور پر دفن کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے وفد نے بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی جو رپورٹ مرتب کی اس کی بنیاد پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) اور یورپی یونین نے بھارت کے ساتھ تجارتی مراسم معطل کردیئے اور بھارتی حکومت کو باور کرایا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں روکی جائیںگی‘ یورپی ممالک کی بھارت کے ساتھ تجارت معطل رہے گی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے فوجی مبصر بھی متعدد مواقع پر کنٹرول لائن کا دورہ کرکے وہاں بھارتی فوجوں کی بلااشتعال کارروائیوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں جن کی رپورٹ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کے کردار کی پیشکش کی گئی مگر بھارت نے یہ پیشکش بھی رعونت کے ساتھ ٹھکرادی۔
اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے کہ کشمیریوں کی تیسری نسل بھارتی فوجوں کے آگے سینہ تان کر اپنے آباکا بلند کیا ہوا حق خودارادیت کا پرچم تھامے کھڑی ہے اور بھارت کے مظالم کا ہر ہتھکنڈہ برداشت کرکے جام شہادت نوش کررہے ہیں اور اسی طرح اقوام عالم کو بھارتی مظالم کے ہر ہتھکنڈے سے باخبر رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال نوجوان کشمیری لیڈر برہان مظفروانی کی بھارتی فوجوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد کشمیری نوجوانوں میں اپنی منزل کے حصول کا نیا جذبہ پیدا ہوا جنہوں نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعہ بھارتی فوجوں کو زچ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو بھارتی فوجوں نے ان پر پیلٹ گن کے ذریعے بے دریغ فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں کشمیری نوجوان اور دوسرے شہری بصارت سے مستقل طورپرمحروم اور اپاہج ہوچکے ہیں اور سیکڑوں کشمیری عوام اس ایک سال کے دوران جام شہادت بھی نوش کرچکے ہیں۔ ان بھارتی مظالم کیخلاف بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور بھارتی قیادت کو بھی غالباً یہ محسوس ہونے لگاہے کہ بھارتی فوج کے ان مظالم کے بعد اب کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
اب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دوسری رپورٹ میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تصدیق کی گئی ہے جس کے لیے بھارت کو اسرائیل کی معاونت حاصل ہے اس صورت حال میں عالمی قیادتوں اور اداروں کافرض ہے کہ وہ بھارت کی اس سفاکی کا اسی طرح سختی سے نوٹس لیںجس طرح دو ماہ قبل شام کے صدر بشارالاسد کی جانب سے اپنی مخالف شام کی شہری آبادیوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی خبروں کا نوٹس لیا گیا تھا اور امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے بشارالاسد کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی ایسی ہی سفاکی کا مرتکب ہورہا ہے تو انسانی حقوق کے چمپئن ہونے کے دعوے دار امریکہ کو بھارتی رہنمائوں کی پیٹھ ٹھونکنے کے بجائے ان کے جنونی ہاتھ روکنے کے لیے بھارت پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے چاہئیں۔
عالمی برادری کو بھارتی مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اقوام متحدہ میں پیش کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہی بھارتی رہنمائوںکو سلامتی کونسل قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔امید کی جاتی ہے کہ عالمی برادری اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور مظلوم کشمیری عوام کوان کاحق خود اختیاری دلانے میںمزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...