... loading ...
عدالت ِ عظمیٰ کے لارجر بنچ کی جانب سے میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے فیصلے نے پاکستان تحریک انصاف اور اُس کی قیادت کی اُس جدو جہد کو ثمر بار کیا ہے جو 2013 ء کے عام انتخابات کے فوری بعد سے چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی۔ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو اُن کے مخالفین نے ر وایتی قرار دے کر حصول انصاف کی جدو جہد کو لا حاصل اور لکیر پیٹنے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو اپنے قائد کی استقامت پر اعتماد تھا ۔ 2013 ء کے عام انتخابات سے پہلے فہمیدہ حلقے اس پر متفق تھے کہ اقتدار کا ہما عمران خان کے سر پر بیٹھے یا نہ بیٹھے وہ ایک خطرناک اپوزیشن لیڈر ضرور ثابت ہوں گے ۔ انتخابات کے فوری بعد عمران خان پاکستانی عوام کو جلد ہی یہ باورکروانے میں کامیاب ہو گئے کہ ملک کی موجودہ حزب اختلاف کنٹرولڈ اور جعلی ہے ۔ جس پر پوری قوم نے انہیں حقیقی قائد حزب اختلاف تسلیم کیا اور تمام عرصے میں اپوزیشن کا حقیقی چہرہ عمران خان اور ان کی پارٹی بنی رہی ۔
ڈی چوک کے ایک طویل اور صبر آزما دھرنے کے بعد عمران خان کو تمام روایتی سیاسی جماعتوں اور کنٹرولڈ میڈیا کے گٹھ جوڑ کا سامنا رہا۔ دھرنے کے دنوں میں پارلیمنٹ کے ایک طویل اور بے مقصد اجلاس کو ہماری پارلیمانی تاریخ میں ہمیشہ تحفظات کا سامنا رہے گا ۔ صدر ممنون حسین اور عمران خان کے بقول پاناما لیکس اللہ کی طرف سے آئی ہیں ۔ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے شریف خاندان کی سیاست کو اپنے انجام کے قریب پہنچا دیا ہے ۔ عمران خان اور ان کی پارٹی اس سیاسی اور قانونی جنگ کی فاتح ہے۔ فیصلے کے بعد جہاں حکمران جماعت اپنی حکمت عملی طے کر رہی ہے وہاں تحریک انصاف کی قیادت بھی اپنے لائحہ عمل کو تشکیل دینے میں مصروف ہے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے کے کافی دیر بعد تک عمران خان کی جانب سے براہ راست کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ بنی گالہ کے ذرائع کے مطابق عمران خان جو اس فیصلے کے حوالے سے ہمیشہ پر امید دکھائی دیتے تھے انہوں نے فیصلہ سننے کے فورا بعد شکرانے نوافل ادا کیے اور بنی گالہ میں موجود مرکزی قیادت سے مشاورت کا عمل شرو ع کر دیا ۔ سپریم کورٹ سے پارٹی قائدین کی بنی گالہ واپسی پر عمران خان نے اپنے ساتھیوں پر مستقبل کی پالیسی کے کچھ خد وخال واضح کیے ۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں عمران خان کی جانب سے جب بھی کسی فیصلے یا لائحہ عمل کا اظہار کیا جاتا ہے تو وہ ان کی پارٹی کی کورکمیٹی اور دیگر قیادت کے لیے چونکا دینے والا اور حیران کن ہوتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق 2016 ء میں جب پاناما پیپرز کا انکشاف ہوا تو عمران خان نے لاہور میں اپنے گھر واقع زمان پار ک کی چھت پر پاناما پیپرز کو اپنی سیاسی جدو جہد میں کلیدی پوزیشن دینے کا اعلان کیا تو ان کی پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ حیرت سے عمران خان کا منہ تکنے لگے۔ بعد ازاں بعض یہ کہتے بھی سُنے گئے تھے کہ ’’ خان صاحب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں ‘‘۔۔۔۔ اس سے پہلے ڈی چوک کے دھرنے اور پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے کے معاملے پر بھی عمران خان کو اپنے ساتھیوں خصوصاً اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے بے دلی کے اظہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان کے لیے منزل نہیں ، وہ کرپشن کے خلاف مہم کو جاری رکھ کر اُس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک طرف تو نیب سمیت تمام متعلقہ پلیٹ فارموں پر شریف خاندان کے خلاف قانونی کارروائی کی پیروی کرے گی ۔ بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں خصوصاً سابق حکومتوں کا حصہ رہنے والوں کا تعاقب بھی کرے گی ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی کابینہ کے بعض مزید ارکان کو بھی تحریک انصاف کی جانب سے احتسابی شکنجے میں جکڑنے کے لیے کارروائی کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سابقہ حکومت کے دور میں وزارت گیس و پٹرولیم میں ایل این جی کے مشہور زمانہ کیس کو بھی احتسابی اور عدالتی دائرہ کار میں لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے برادران کے مالی معاملات کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کی پیش بندی آخری مراحل میں ہے ۔ پاناما پیپرز کی تحقیقات کے دوران میں عمران خان متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ گو نواز گو کے بعد گو زرداری گو بھی ہو گا۔
پاکستان تحریک انصاف کی کلیدی قیادت سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اپنی حکمت عملی ترتیب دے چُکی ہے ۔ پارٹی میں فوری طور پر ہونے والے مشاورت میں صدرمملکت کی جانب سے معافی کے آپشن کو بھی مختصر وقت کے لیے زیر بحث لایا گیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخابات کے دوران اپنے کردار کو بھر پور طریقے سے ادا کرے گی۔ اس سلسلہ میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو فوری طور پر شروع کیا جا رہا ہے ۔ پاناما فیصلے کی آمد سے پہلے ہی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے رابطوں میں ہے۔ اس سلسلہ میں جہانگیر خان ترین اور شاہ محمود قریشی کوا ہم ذمہ داریاں سونپی جا چُکی ہیں ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ٹاسک سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی کو دیا گیا ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے اپنے رابطوں کو خاصی وسعت دے چُکے ہیں ۔ مسلم لیگ ق کی قیادت خصوصاً چوہدری شجاعت حسین بھی پی ٹی آئی سے موثر رابطے میں ہیں ۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کے سیاسی میدان کو اپنے لیے کشادہ اور وسیع بنا چُکی ہے ۔ میاں نواز شریف کا خاندان جس طرح سے اس فیصلے سے متاثر ہوا ہے، اُس سے یقینا ان کی اپنی پارٹی پر گرفت کمزور ہوئی ہے جس کا سیاسی فائدہ اُٹھانے کے لیے جہانگیر خان ترین اور شاہ محمود قریشی اپنے اپنے انداز میں بھر پور انداز میں سر گرم عمل ہے ۔ آئین پاکستان میں جنرل ضیاء الحق مرحو م کے دور میں شامل کی جانے والی دفعات نے ان کی معنوی اولاد میاں نواز شریف کو اپنا شکار بنا لیا ہے۔ شاید اسی دن کے لیے جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اپنی عمر میاں نواز شریف کو لگ جانے کی دعا کی تھی ۔ سیاست کے میدان میں عمران خان کو برتری اور گیند پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے ان کے یارکر اور باؤنسرز کا اگلا شکار کون ہوگا ؟
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...
اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...
یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...
قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...
مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...
اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...
(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...
سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...
فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...
ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...
، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...