... loading ...
پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعدعمومی طور پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں5رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی خبر عوام تک پہنچی تو ان کا پہلا رد عمل وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہمدردی اور دوسرا سپریم کورٹ پر تحفظات کا اظہار تھا۔ اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بھی کہا جارہا ہے مگر پنجاب کے عوام کی نظر میں یہ ایسا فیصلہ نہیں ہے جس کی مثال دی جاسکے ۔اس حوالے سے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنمائوں کے علاوہ پنجاب کے دیگر سیاسی رہنما(جن میں ن لیگ کے مخالف بھی شامل ہیں) اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ جو عدالتی نظیر قائم کی گئی ہے، یہ بہت زیادہ خوف زدہ کرنے والی ہے ۔ آج تحریک انصاف جس فیصلے کی وجہ سے مٹھائیاں بانٹ رہی ہے وہ کل کو اس کے گلے کی ہڈی بھی بن سکتا ہے ۔
لاہور کے سیاسی حلقوں میں نوا زشریف کو ہمیشہ سے ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے، اس فیصلے نے انہیں ’’مظلوم‘‘ بنا دیا ہے ۔ مگر دوسری طرف سپریم کورٹ نے لاڑکانہ اور لاہور کے فاصلے مٹا دیئے ہیں ۔کل تک پاکستان پیپلز پارٹی ن لیگ کو اس بات کا طعنہ دیتی رہی ہے کہ ان کے خلاف کو ئی فیصلہ نہیں آتا، تمام فیصلے پیپلز پارٹی کے خلاف ہوتے رہے ہیں ،چاہے وہ سابق وزیر اعظم پاکستان اور ملک کو پہلا متفقہ آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو یاانصاف کے لیے ترستی اور دربدر کی ٹھوکریں کھاتی بے نظیر بھٹو ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے لاہور کے ماتھے پر لگے داغ دھو دیے ہیں ۔آج لاہور کا وزیر اعظم بھی اسی طرح اپنے گھر کو رخصت ہوا جس طرح لاڑکانہ کی پارٹی کا ملتانی وزیر اعظم گھر بھجوایا گیا تھا ۔ جب اس کیس کا فیصلہ آیا تو ن لیگ کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور سڑکیں بند کرکے اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کیا ، ان کارکنوں نے کچھ دیر احتجاج کے بعد اس فیصلے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ان کی زبان پر سوال اور ذہن میں پائے جانے والے خدشات نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مقام کو تاریخ کے حوالے کردیا ہے۔
پاکستان کی سیاست کے بھی عجب ڈھنگ ہیں کل تک جو نوا زشریف کا نام سننے کے روادار نہیں تھے آج ان سے اظہار ہمدردی کے لئے جوق در جوق امڈتے چلے آرہے ہیں ،وزیر اعظم کی رہائش گاہ رائیونڈ کی جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں اس بات کی گواہ ہیں کہ پنجاب نے اس فیصلے پر سر تسلیم خم کیا مگر دل سے تسلیم نہیں کیا ، جب فیصلہ سنایا گیا تب وزیر اعظم کے آبائی علاقے گوالمنڈی کے اکثر گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ، جن کے پاس جو سواری تھی وہ اس پر سوار ہوکر جاتی عمرہ رائیونڈ کی جانب روانہ ہوگیا ، میڈیا میں فوری طور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کا نام نئے مستقل وزیر اعظم کے طور پر لیا جانے لگا تو وزیر اعلیٰ کے قریبی حلقوں نے سختی سے اس بات کی تردید کی کہ وہ اس عہدے کے امیدوار نہیں، میاں شہباز شریف نے فیصلے سے بہت پہلے ہی ایک مشاورتی اجلاس میں اس امکان کو رد کردیا تھا ان کا خیال ہے کہ وہ بقیہ مدت کے لیے کسی کو وزیر اعلیٰ لانے کی بجائے صوبے میں رہ کر زیادہ بہتر خدمت سر انجام دے سکتے ہیں ، ان کی تجویز سے وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اتفاق کیا تھا۔ بدلتے ہوئے حالات میں شہباز شریف کو قیادت کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرنا پڑا ہے ۔اس فیصلے نے شریف فیملی کے باہمی اختلافات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ ایک جانب جہاں شہباز شریف کی فیملی کے گلے شکوے کم ہوئے ہیں تو دوسری جانب میاں نواز شریف کے وہ کزن جن کے ساتھ طویل عرصہ سے ان کے تعلقات کشیدہ ہیں، وہ بھی اس مرحلے پر شریف فیملی سے اظہار ہمدردی کررہے ہیں ۔اس فیصلے کے فوراََ بعد جاتی عمرہ کوقرار دیے گئے وزیر اعظم سیکرٹریٹ سب کیمپس کا درجہ ختم ہوا تو وہاں موجود عملے نے بوریا بستر لپیٹ لیا۔ دوسری جانب شریف فیملی کے قریبی دوستوں اور دیرینہ کارکنوں کی کثیر تعداد جاتی عمرہ کی جانب رواں دواں دکھائی دی۔ پنجاب کے عوام ہمیشہ سے ہی مظلوم کے ساتھ رہے ہیں وہ کل کی بے نظیر بھٹو ہو یاآج کا نواز شریف ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے یقیناََ فیصلہ حقائق کی بنیاد پر دیا ہوگا تاہم پنجاب کے لو گ اس سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے ۔ سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور حکمران فیملی کے تحفظات کو نہ سننے پر شکوک و شبہات موجود ہیں ۔ اس فیصلے کے بعد جو بڑا مسئلہ ن لیگ کے لیے درد سر ہے وہ ہے نئے وزیر اعظم کا انتخاب ۔
ن لیگ میں ابھی تک کوئی قابل ذکر دھڑے بندی تو سامنے نہیں آئی البتہ اس کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو اس بات کے امکانات موجود ہیں ۔یہ دھڑا کب سامنے آتا ہے اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ،ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جب نئے وزیر اعظم کا اعلان ہوگا تب اس کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ ابھی تک ن لیگ کے اہم رہنما اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ وہی وزیر اعظم ہوگا جس کا نام میاں نواز شریف لیں گے ، اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوگی اگرا سپیکر سردار ایاز صادق کو وزیر اعظم بنایا گیا تو پارٹی کی مضبوط لابی انہیں قبول کرنے سے انکار کرسکتی ہے ۔چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس میں وزارت عظمیٰ لینے سے انکار کردیا ہے لیکن ن لیگ کے کئی اہم رہنما یقین سے کہہ رہے ہیں کہ اس ساری گیم میں کہیں نہ کہیں چودھری نثار علی خان کا ہاتھ ہے۔ اگر انہیں وزیر اعظم بنایا گیا تو شاید اکثر ارکان پارٹی سے بغاوت کردیں ۔ مسلم لیگ ن کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ حکومت مسائل کا شکار رہی مگر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کو ترجیح دی ، فیصلے کے خلاف پہلا مظاہرہ ملتان اور بہاول پور میں کیا گیا جبکہ لاہور ، گوجرانوالہ ، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں اس کے بعد مظاہرے شروع ہوئے ۔ ن لیگ نے جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ عوام کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔برخاست ہونے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف بہت جلد عوامی جلسے جلوسوں کی قیادت اور کارکنوں سے خطاب کریں گے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...