وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف کی نااہلی عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ

هفته 29 جولائی 2017 نوازشریف کی نااہلی  عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعدعمومی طور پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں5رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی خبر عوام تک پہنچی تو ان کا پہلا رد عمل وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہمدردی اور دوسرا سپریم کورٹ پر تحفظات کا اظہار تھا۔ اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بھی کہا جارہا ہے مگر پنجاب کے عوام کی نظر میں یہ ایسا فیصلہ نہیں ہے جس کی مثال دی جاسکے ۔اس حوالے سے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنمائوں کے علاوہ پنجاب کے دیگر سیاسی رہنما(جن میں ن لیگ کے مخالف بھی شامل ہیں) اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ جو عدالتی نظیر قائم کی گئی ہے، یہ بہت زیادہ خوف زدہ کرنے والی ہے ۔ آج تحریک انصاف جس فیصلے کی وجہ سے مٹھائیاں بانٹ رہی ہے وہ کل کو اس کے گلے کی ہڈی بھی بن سکتا ہے ۔
لاہور کے سیاسی حلقوں میں نوا زشریف کو ہمیشہ سے ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے، اس فیصلے نے انہیں ’’مظلوم‘‘ بنا دیا ہے ۔ مگر دوسری طرف سپریم کورٹ نے لاڑکانہ اور لاہور کے فاصلے مٹا دیئے ہیں ۔کل تک پاکستان پیپلز پارٹی ن لیگ کو اس بات کا طعنہ دیتی رہی ہے کہ ان کے خلاف کو ئی فیصلہ نہیں آتا، تمام فیصلے پیپلز پارٹی کے خلاف ہوتے رہے ہیں ،چاہے وہ سابق وزیر اعظم پاکستان اور ملک کو پہلا متفقہ آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو یاانصاف کے لیے ترستی اور دربدر کی ٹھوکریں کھاتی بے نظیر بھٹو ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے لاہور کے ماتھے پر لگے داغ دھو دیے ہیں ۔آج لاہور کا وزیر اعظم بھی اسی طرح اپنے گھر کو رخصت ہوا جس طرح لاڑکانہ کی پارٹی کا ملتانی وزیر اعظم گھر بھجوایا گیا تھا ۔ جب اس کیس کا فیصلہ آیا تو ن لیگ کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور سڑکیں بند کرکے اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کیا ، ان کارکنوں نے کچھ دیر احتجاج کے بعد اس فیصلے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ان کی زبان پر سوال اور ذہن میں پائے جانے والے خدشات نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مقام کو تاریخ کے حوالے کردیا ہے۔
پاکستان کی سیاست کے بھی عجب ڈھنگ ہیں کل تک جو نوا زشریف کا نام سننے کے روادار نہیں تھے آج ان سے اظہار ہمدردی کے لئے جوق در جوق امڈتے چلے آرہے ہیں ،وزیر اعظم کی رہائش گاہ رائیونڈ کی جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں اس بات کی گواہ ہیں کہ پنجاب نے اس فیصلے پر سر تسلیم خم کیا مگر دل سے تسلیم نہیں کیا ، جب فیصلہ سنایا گیا تب وزیر اعظم کے آبائی علاقے گوالمنڈی کے اکثر گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ، جن کے پاس جو سواری تھی وہ اس پر سوار ہوکر جاتی عمرہ رائیونڈ کی جانب روانہ ہوگیا ، میڈیا میں فوری طور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کا نام نئے مستقل وزیر اعظم کے طور پر لیا جانے لگا تو وزیر اعلیٰ کے قریبی حلقوں نے سختی سے اس بات کی تردید کی کہ وہ اس عہدے کے امیدوار نہیں، میاں شہباز شریف نے فیصلے سے بہت پہلے ہی ایک مشاورتی اجلاس میں اس امکان کو رد کردیا تھا ان کا خیال ہے کہ وہ بقیہ مدت کے لیے کسی کو وزیر اعلیٰ لانے کی بجائے صوبے میں رہ کر زیادہ بہتر خدمت سر انجام دے سکتے ہیں ، ان کی تجویز سے وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اتفاق کیا تھا۔ بدلتے ہوئے حالات میں شہباز شریف کو قیادت کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرنا پڑا ہے ۔اس فیصلے نے شریف فیملی کے باہمی اختلافات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ ایک جانب جہاں شہباز شریف کی فیملی کے گلے شکوے کم ہوئے ہیں تو دوسری جانب میاں نواز شریف کے وہ کزن جن کے ساتھ طویل عرصہ سے ان کے تعلقات کشیدہ ہیں، وہ بھی اس مرحلے پر شریف فیملی سے اظہار ہمدردی کررہے ہیں ۔اس فیصلے کے فوراََ بعد جاتی عمرہ کوقرار دیے گئے وزیر اعظم سیکرٹریٹ سب کیمپس کا درجہ ختم ہوا تو وہاں موجود عملے نے بوریا بستر لپیٹ لیا۔ دوسری جانب شریف فیملی کے قریبی دوستوں اور دیرینہ کارکنوں کی کثیر تعداد جاتی عمرہ کی جانب رواں دواں دکھائی دی۔ پنجاب کے عوام ہمیشہ سے ہی مظلوم کے ساتھ رہے ہیں وہ کل کی بے نظیر بھٹو ہو یاآج کا نواز شریف ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے یقیناََ فیصلہ حقائق کی بنیاد پر دیا ہوگا تاہم پنجاب کے لو گ اس سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے ۔ سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور حکمران فیملی کے تحفظات کو نہ سننے پر شکوک و شبہات موجود ہیں ۔ اس فیصلے کے بعد جو بڑا مسئلہ ن لیگ کے لیے درد سر ہے وہ ہے نئے وزیر اعظم کا انتخاب ۔
ن لیگ میں ابھی تک کوئی قابل ذکر دھڑے بندی تو سامنے نہیں آئی البتہ اس کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو اس بات کے امکانات موجود ہیں ۔یہ دھڑا کب سامنے آتا ہے اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ،ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جب نئے وزیر اعظم کا اعلان ہوگا تب اس کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔ ابھی تک ن لیگ کے اہم رہنما اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ وہی وزیر اعظم ہوگا جس کا نام میاں نواز شریف لیں گے ، اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوگی اگرا سپیکر سردار ایاز صادق کو وزیر اعظم بنایا گیا تو پارٹی کی مضبوط لابی انہیں قبول کرنے سے انکار کرسکتی ہے ۔چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس میں وزارت عظمیٰ لینے سے انکار کردیا ہے لیکن ن لیگ کے کئی اہم رہنما یقین سے کہہ رہے ہیں کہ اس ساری گیم میں کہیں نہ کہیں چودھری نثار علی خان کا ہاتھ ہے۔ اگر انہیں وزیر اعظم بنایا گیا تو شاید اکثر ارکان پارٹی سے بغاوت کردیں ۔ مسلم لیگ ن کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ حکومت مسائل کا شکار رہی مگر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کو ترجیح دی ، فیصلے کے خلاف پہلا مظاہرہ ملتان اور بہاول پور میں کیا گیا جبکہ لاہور ، گوجرانوالہ ، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں اس کے بعد مظاہرے شروع ہوئے ۔ ن لیگ نے جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ عوام کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔برخاست ہونے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف بہت جلد عوامی جلسے جلوسوں کی قیادت اور کارکنوں سے خطاب کریں گے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر