وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے، معیشت مسلسل روبہ زوال

منگل 25 جولائی 2017 حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے، معیشت مسلسل روبہ زوال

پاکستان میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مقامی نمائندے نے خبردار کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر اقتصادی استحکام گزشتہ 3 برس کی معاشی اصلاحات کے نتیجے میں حاصل ہوا، لیکن ان فوائد کو مستقل کرنے کے لیے اسی معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے توخیر مرزو نے متنبہ کیاہے کہ ملک کے مستقبل میں بہتری سخت محنت کے ذریعے مستحکم منصوبوں کی وجہ سے ممکن ہوئی اور اگر موجودہ معاشی اصلاحات جاری نہیں رہتیں تو وسیع پیمانے پر اقتصادی استحکام بھی کمزور ہوجائے گا۔انہوں نے کرنٹ اکاؤنٹ کے بڑھتے ہوئے خسارے اور کمزور مالیاتی نظام کو بڑے مسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ کا بڑھتا ہوا خسارہ باعث تشویش ہیں جبکہ بجٹ آمدنی کو بڑھانے کے لیے معنی خیز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف نمائندے نے پاکستانی حکام کو یہ بھی بتادیاہے کہ پاکستان کی معیشت صرف ایک انجن پر چل رہی جو درآمدات ہیں جبکہ دوسرا انجن یعنی برآمدات ابھی مشکلات کا شکاراور مفلوج ہے، آئی ایم ایف نے برآمدات کے شعبے کوزیادہ فعال بنانے کے لیے زرمبادلہ کی شرح میں زیادہ سے زیادہ نرمی کرنے کی تجویز دی ہے اور واضح کیا ہے کہ صرف اسی طریقے پر عمل سے اس صورت حال سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ سے حکومت کو زبردست تجارتی خسارے کا سامنا ہے ،اور حکومت پاکستان کو برآمدی شعبے کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کاروباری برادری سے پہلے سے زیادہ عملی طریقے سے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ برآمدکنندگان کو درپیش مسائل سے آگہی حاصل کی جا سکتی ہے اوران مسائل کوحل کرنے اور رکاوٹیں دور کرنے کی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے تاکہ برآمدات کو بڑھایا جاسکے۔ آئی ایم ایف کے نمائندے توخیر مرزو نے پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری کے بارے میں حکومت کے دعووں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے نظام میں شدید نوعیت کے نقائص موجود ہیںاور بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے لیکن بجلی کی فراہمی کے کمزور نظام میں اصلاحات کیے بغیر مزید بجلی پیدا کرنے سے ملک کے جاری قرضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ ملک کو توانائی کے منصوبوں میں طویل المدتی استحکام پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔اس حوالے سے انھوں نے خیال ظاہر کیاہے کہ مستقبل میں توانائی کے شعبے کے مستقل حل کے لیے اقدامات اہمیت کے حامل ہیں۔آئی ایم ایف کے نمائندے نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کو دوبارہ توازن میں لانے کی ضرورت پر زوردیا۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ نیشنل فائننشل کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں وسائل اور ذمہ داریوں کی منتقلی میں فرق تھا، جس کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مراعات میں بھی واضح فرق ہے، انہوں نے صوبائی حکومتوں کو بھی مستحکم کی ضرورت پربھی زور دیا۔آئی ایم ایف نمائندے نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے اس فرق کا نتیجہ مالیاتی نظام کی لچک میں کمی، بڑے دھچکے سنبھالنے کی طاقت میں کمی اور غیر متوازن نظام کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ سال ایم ایف نے پاکستان کی معیشت پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان مشکل حالات سے نکل کر بہتری کی جانب گامزن ہے لیکن اب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے میکرو اکنامک معاملات میں تنزلی شروع ہوگئی ہے اور اس سے معاشی معاملات پرمنفی اثرات پڑسکتے ہیں۔گزشتہ سال رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا تخمینہ 2016-17 میں 5.3 تھا اور وسط میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سرمایہ کاری، توانائی میں بہتری اسٹرکچر کی بحالی سے 6 فی صد سے تجاوز کیا جو معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ہے۔تاہم اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ میکرواکنامک کی صورت حال میں تنزلی کا آغاز ہوا ہے اور یہ معاشی سرگرمیوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے 2013 میں تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد معیشت کی بہتری پر زور دیتے ہوئے موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی۔پاکستان نے 2016-17 میں معاشی ترقی کا ہدف 5.7 فی صد رکھا تھا جبکہ عالمی بینک نے 2018 میں جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 5.4 فی صد ہونے کی پیشگوئی کی تھی۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے بھی گزشتہ روز نئی مانیٹری پالیسی کااعلان کرتے ہوئے معیشت کو درپیش چیلنجز اور مشکلات کااعتراف کیا تھا، گورنراسٹیٹ بینک نے اگلے 2 ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود 5.75 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیاتھا۔ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے مانیٹری پالیسی سے متعلق میڈیا بریفنگ کے دوران کہاتھا کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی بورڈ نے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود 5.75 فیصد پرمستحکم رکھی جائے گی۔طارق باجوہ کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے قرضوں کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، معیشت کو ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ کے خطرات درپیش ہیں، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ سروسز سیکٹرمیں رواں مالی سال میں بھی بہتری جاری رہنے کی توقع ہے۔گورنراسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ برآمدات اورترسیلاتِ زرمیں کمی اوردرآمدات میں اضافے کا رجحان ہے جب کہ سی پیک منصوبوں کی وجہ سے معیشت میں بہتری کے امکانات روشن ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 61 کروڑ ڈالر کی کمی ہو چکی ہے جس کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب 83 کروڑ ڈالر ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 71 کروڑ ڈالر کم ہوئے۔ شیڈول بینکوں کے ذخائر میں 10 کروڑ ڈالر اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15 ارب 47 کروڑ ڈالر ہو گئے۔
ا سٹیٹ بینک کا کہنا ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ 148 اعشاریہ 5 فیصد سے تجاوز کرکے 12 ارب 9 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ایس بی پی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 17-2016 کے دوران یہ خسارہ 4 ارب 86 کروڑ ڈالر تھا جبکہ تجارتی اشیامیں توازن کا خسارہ مالی سال 16-2015 کے 19 ارب 30 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 26 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میںبھی اعتراف کیا گیاہے کہ حکومت نہ صرف یہ کہ برآمدات بڑھانے میں ناکام رہی ہے بلکہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران برآمدات بڑھنے کے بجائے تنزلی کا شکار رہی جس کی وجہ سے حکومت کے لیے تیزی سے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر کو متوازن رکھنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران گڈز اینڈ سروسز میں توازن کا خسارہ گزشتہ مالی سال 16-2015 کے 22 ارب 70 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 30 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، بڑھتے ہوئے کرنٹ اکائونٹ خسارے نے عملی طور پر بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے 19 ارب روپے کی ترسیلات زر کو بھی بے اثر کردیا ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کی ترسیلات زر میں سالانہ بنیاد پر کمی واقع ہورہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق وہ درآمدات جن کی نگرانی نہیں ہوتی، پاکستانی معیشت کے بیرونی سیکٹر کے لیے خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ موجودہ خسارے سے بین الاقوامی منڈیوں میں ملک کی بانڈ کی فروخت متاثر ہوئی۔ حکومت یورو بانڈ کی فروخت کی منصوبہ بندی کرتی رہی تاہم بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کی کمزوری کرنٹ اکائونٹ میں 12 ارب 10 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو مناسب منافع حاصل نہیں ہوگا۔ جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا تسلسل اور اتار چڑھائو کے سبب سرمایہ کاری کی مالیت میں مزید45 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد کی کمی ہوچکی ہے۔ اس صورت حال سے ظاہرہوتاہے کہ ہماری وزارت خزانہ کے ارباب اختیار ملک کو معاشی ترقی کے ٹریک پر لانے کے بلند بانگ دعووں کے باوجود ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے میں نہ صرف بری طرح ناکام رہے ہیں بلکہ معیشت کوروبہ زوال کرنے کاسبب بنے ہیں،اور معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے مثبت اقدام کرنے کے بجائے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھا کر ملک کے زرمبادلے کے ذخائر میں اضافے کاڈھونگ رچاتے رہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی معیشت کی بنیادوں کوکھوکھلا کرنے والے ان ارباب اختیار کا بھی سختی سے احتساب کیاجائے اور ملک کی معیشت کومستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے تاجر اور صنعتی برادری کے سرکردہ افراد او ر منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر قابل عمل پالیسیاں تیار کرنی چاہئیں جب تک ایسا نہیں کیاجائے گا ملکی معیشت اسی طرح ڈانواڈول رہے گی اورجب تک ملک کی معیشت مستحکم نہیں ہوگی پاکستان کو قوموں کی برادری میں باعزت مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔


متعلقہ خبریں


بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بحرین میں ایک دوا کی خریداری کے لیے 400 سے زائد جعلی نسخے دینے پر تین افراد کو 5 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے جن میں سے دو ایشیائی شہری ہیں جنہیں سزا مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی نیشنل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی نے میڈیکل اسٹورز کی معمول کی چیکنگ کے دوران محسوس کیا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی دوا حیران کن طور پر وافر مقدار میں موجود ہے ۔تحقیقات سے پتا چلا کہ اعصابی درد میں استعمال ہونے والی اس دوا کے نسخے چند ڈاکٹرز کی جانب سے مسلسل...

بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

مسجد اقصی کے باہر گذشتہ روز ہزاروں افراد نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے والے ممالک کے خلاف شدید نعرے بازے کی اور انہیں خائن اور غدارقرار دیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصی کے باہر مظاہرے کا اہتمام اسلامک ایکشن محاذ کی طرف سے کیا گیا ۔نماز ظہر کے بعد ہزاروں افراد نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا کر متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف مظاہرے کیے ۔ مظاہرین نے امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل کے سات...

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

خلیجی ریاست بحرین میں حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان اور صہیونی ریاست کیساتھ معاہدے کرنے کے خلاف عوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے شرو ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق منامہ میں حکومت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ منامہ میں ایک مظاہرہ کیاگیا جس میں مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی شدید مذمت کی۔ادھر سماجی کارکنوں نے منامہ میں اسرائیل ۔ عرب دوستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی تفص...

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا امریکی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والا مجوزہ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں خوشی ہوگی کہ وہ چینی ایپلی کیشنز اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو منظور کریں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے مطابق تینوں ادارے مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نیا ادارہ تشکیل دیں گ...

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بھارت میں ہفتے کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کے ایک بیان میں کہاگیاکہ القاعدہ بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی۔ بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق ان گرفتاریوں کے لیے مختلف ریاستوں میں بیک وقت چھاپے مارے گئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ گروہ بھارت میں متعدد اہم مقامات پر دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا، جب کہ ان حملوں کا ممکنہ مقصد عام افراد کو ہلاک...

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک میں بادشاہ کے خلاف سڑکوں پر آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مظاہرین نے ''تھائی لینڈ عوام کا ہے '' کے نعرے کے ساتھ دارالحکومت میں مارچ کیا اور ملک میں بادشاہت کے وجود پر سوال اٹھا ئے ۔ گزشتہ دو ماہ سے بنکاک میں قریب روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری ہے ، جس میں نوجوان طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ 2014 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی سربراہ اور موجودہ وزیراعظم پرایوت چن اوچا مستعفی ہوں۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہی خاندان ملکی سیا...

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریبا نصف امریکی ویکسین استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں پیو ریسرچ سینٹرکے رواں ماہ کیے گئے جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے کی صورت میں 49 فی صد امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ۔ جب کہ 51 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین ضرور لیں گے ۔ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں ویکسین کے منفی اثرات سے متعلق خدشات ہیں۔ویکسین سے متعلق تحفظات کی وجہ یہ ہے ک...

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء امریکہ میںاندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسے شواہد کو دریافت کیا گیا جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس امریکا میں دسمبر کے آخر میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 22 دسمبر سے امریکا کے مختلف طبی مراکز اور ہسپتالوں میں نظام تنفس کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس یکم ستمبر کو سامنے آیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ...

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

گوگل میٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس میں صارفین ویڈیو کال کے دوران پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل نے نئے بلاگ میں بتایا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے ، اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔شور کو فلٹر آوٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔گوگل کا کہ...

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈان کی وجہ سے برطانیہ کی سرکاری ائیرلائن برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار ہوگئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق غیر ملکی میڈیا کے مطابق برٹش ائیرویز کے سی ای او نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس کے دوران پراوزیں اڑانے سے ڈرنے کی وجہ سے حالات فوری معمول پر آنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں لیکن ائیرلائن کی جانب سے موسم سرما کا سیزن گزارنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔برٹش ائیرویز کے سی ای او کا کہنا ت...

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اکتوبر اور نومبر میں یورپ کرونا وبا سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر یورپ کے کئی ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول کرونا وبا سے یورپ میں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے 55 ممالک میں جمعے کو کرونا کے 51 ہزار کے لگ بھگ کیس...

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے وجود - منگل 15 ستمبر 2020

دنیا کے بڑے اورترقی یافتہ ممالک میں اس وقت کورونا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ یہ دوڑ علامتی طور پر ایک نئے طاقت کے اُبھار اور عالمی سطح پر نئے رجحانات کی تشکیل کا سبب بھی یقینی طور بنے گی۔ اس ضمن میں عالمی ذرائع ابلاغ پر روزانہ کی بنیاد پر اندازے ظاہر کیے جاتے ہیںاور اس دوڑ میں شامل ملکوں میں جاری تحقیقات کو جگہ دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے اب یہ بات زیادہ زور دے کر دہرائی جارہی ہے کہ چین دنیا میں کورونا ویکسین متعارف کرانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے ۔ برطانوی ...

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے