وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

گورنمنٹ کالج ابراہیم حیدری جہاں آج تک کسی طالب علم کا داخلہ نہیں ہوسکا!

منگل 25 جولائی 2017 گورنمنٹ کالج ابراہیم حیدری  جہاں آج تک کسی طالب علم کا داخلہ نہیں ہوسکا!

اعلیٰ تعلیم کو ترقی کی کلید تصور کیاجاتاہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم ہی کسی قوم کے جوہر پوشیدہ کو تراش خراش کر کندن بناتی ہے اور اس طرح قوم ترقی کی منازل طے کرنے کے قابل ہوجاتی ہے ، تعلیم کی اسی اہمیت اور خاص طورپر پسماندہ علاقوں میں رہنے والے کم وسیلہ اور غریب لوگوں کے بچوںکی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے سندھ کی حکومت نے شہر کے نواحی علاقے ابراہیم حیدری اور اس کے گرد ونواح کی پسماندہ بستیوں کے مکینوں کے بچوں کوا ن کے گھروں کے قریب تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ابراہیم حیدری میںایک سرکاری کالج قائم کیاتھا ، اس کالج کاافتتاح 2012 میں کیاگیاتھا اورافتتاحی تقریب میں بڑے فخر سے اعلان کیاگیاتھا کہ یہ کالج اس پسماندہ علاقے کے بچوں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا ،لیکن اس کالج کی عمارت کے افتتاح کے بعد محکمہ تعلیم نے اس کے لیے غالباً اساتذہ کی تقرری کو ضروری خیال نہیں کیا یا پھر اس کالج کے لیے مقرر کیے گئے اساتذہ نے کبھی کالج آنے کی زحمت ہی نہیں کی اور گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرنے کو ہی ترجیح دی،اس طرح کالج کے افتتاح کے بعد گزشتہ 5 سال کے دوران اس کالج نے کسی استاد یا کسی اور ملازم کی شکل نہیں دیکھی ،غالباً یہی وجہ ہے کالج کے قیام کو 5 سال مکمل ہونے کے باوجود آج تک اس کالج میں کسی طالب علم نے داخلہ نہیں لیاہے،علاقہ مکینوں کاکہناہے کہ انھوں نے کالج کی شاندار عمارت کے افتتاح کے بعد اب تک یہاں کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا ،عمارت کی عدم دیکھ بھال کی وجہ سے اب یہ عمارت بھوتوں کاڈیرہ معلوم ہونے لگی ہے جس کے چاروں طرف گٹر کاپانی اور علاقے کا کچرہ جمع رہتا ہے ،کالج کی عمارت کی دیکھ بھال کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اب اس عمارت کی کھڑکیاں اور دروازے بھی غائب ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ کالج کے لیے خریدا گیا بیشترنیا فرنیچر پہلے ہی لوگوں کے گھروں اور ارد گرد قائم کوچنگ سینٹرز کی زینت بن چکاہے۔اس طرح اب علاقے کے ہونہار نوجوانوں کو تعلیم کی دولت سے آراستہ کرنے کے لیے تعمیر کی جانے والی کالج کی یہ عمارت علاقے کی کچرا کنڈی بن چکی ہے، عمارت کی چار دیواری منہدم ہوچکی ہے یا منہدم کردی گئی ہے ،جس کی وجہ سے اب اس علاقے کے منشیات کے عادی افراد یہاں پڑے رہتے ہیں یا پھر آوارہ کتوں کایہاں بسیر ا رہتاہے۔ طویل عرصے سے صفائی نہ ہونے اور علاقے کے لوگوں کی جانب سے یہاں کچرا جمع کیے جانے کی وجہ سے عمارت کے اردگرد کاپورا علاقہ تعفن کی لپیٹ میں ہے اور کوئی بھی ناک پر رومال رکھے بغیر یہاں ایک منٹ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔
علاقے کے ایک سماجی کارکن نے بتایاکہ اس کالج کی عمارت کی تعمیر کاکام1994 میں شروع کیاگیاتھا۔ علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ جب اس کالج کے قیام کامنصوبہ بنایاگیاتھا تو علاقے کے لوگوں نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ اس علاقے میں ارد گرد پولٹری فیڈ کے کارخانوں کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید بدبو پھیلی رہتی ہے۔ اس لئے یہاں کالج قائم کرنا مناسب نہیں ہوگالیکن علاقے کے لوگوں کے اعتراض کو نظر انداز کرتے ہوئے کالج کی تعمیر کاکام شروع کرادیاگیا،کم وبیش 10 ایکڑ رقبے پر محیط کالج کی اس عمارت میں 25-30 کلاس رومز تعمیر کیے گئے تھے جبکہ ٹیچرز روم اور دیگر کمرے علیحدہ تھے ۔پاکستان فش فوک فورم کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ منصوبہ اس علاقے سے منتخب ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی مظفر علی شجرا کی تجویز پر شروع کیاگیااور اس کو مکمل ہونے میں16سال لگ گئے ،2010 میں اس وقت کے صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے کالج کی عمارت کاافتتاح کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس کالج کو ایک مثالی کالج بنادیاجائے گا اور علاقے کے باہر کے نوجوان بھی اس میں تعلیم حاصل کرنے کی آرزو کریں گے ۔لیکن چونکہ علاقے کے بااثر لوگ اس علاقے میں نجی تعلیمی ادارے چلارہے ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے کہ یہاں کوئی سرکاری کالج ہو جہاں علاقے کے بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت حاصل ہوسکے ۔ علاقے کے لوگوں کے مطابق اس کالج کے لیے پرنسپل اور دیگر اساتذہ کاباقاعدہ تقرر کیاگیاتھا لیکن کالج کی عمارت کے افتتاح کے بعد سے آج تک کوئی اس کالج میں نہیں آیا ۔جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کی دلچسپی بھی اس میں نہیں رہی اور لاکھوں روپے کے خرچ سے تعمیر ہونے والی یہ عمارت کچرا کنڈی میں تبدیل ہوکر رہ گئی ہے۔
علاقے کے لوگوں کاکہنا ہے کہ اس کالج کی عمارت کی جانب سے حکومت کی عدم توجہی کے خلاف علاقے کے لوگ احتجاج اور مظاہرے کرتے رہے ہیں لیکن محکمہ تعلیم کے افسران بالا اس طرف توجہ دینے کو تیار نظر نہیں آتے۔علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ اب جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کااعلان کیاہے انھیں خود یہاں آکر اس کالج کی عمارت اور اس کی حالت کا جائزہ لینا چاہئے اور اس علاقے کے محکمہ تعلیم کے افسران اور اس کالج میں تقرری کے بعد سے سرکاری خزانے سے تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کرنے والے عملے کااحتساب کرنا چاہئے۔ لاکھوں روپے مالیت سے تعمیر ہونے والی کالج کی اس عمارت کی بحالی کے لیے اقدامات کرتے ہوئے اس میں درس وتدریس کاسلسلہ شروع کرانے پر توجہ دینی چاہئے ۔
اس حوالے سے جب کچھ صحافیوں نے اس کالج کے قیام کی تجویز پیش کرنے والے پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی مظفر علی شجرا سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس حوالے سے انتہائی بے بسی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس حوالے سے کئی مرتبہ آواز اٹھاچکاہوں لیکن محکمہ تعلیم کے افسران میری بات پر توجہ دینے کوتیار نہیں ہیں۔انھوں نے بتایا کہ 1996 میں سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہوتے ہی اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس کالج کی تعمیر کے منصوبے پر کام روک دیاتھا،2008 میں دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد ہم نے اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرایااور اس کومکمل کراکے اس کاافتتاح کرایا لیکن اب چونکہ میں اس علاقے کانمائندہ نہیں رہااس لیے اس علاقے کے حوالے سے میری آواز کی اہمیت نہیں رہی اوردوسرا کوئی اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے پر تیار نہیں ہے۔اس سوال پر کہ کالج کے قیام کے لیے ایسا علاقہ کیوں منتخب کیاگیا جہاں پولٹری فیڈ کے کارخانوں کی بدبو پھیلی رہتی ہے تو انھوں نے کہا کہ جب اس کالج کے لیے جگہ کاانتخاب کیاگیاتو علاقے میں کوئی ایسا کارخانہ موجود نہیںتھااور علاقہ بہت صاف ستھرا اور پرفضا ماحول تھا۔انھوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے اس کے لیے چوکیدار کاتقرر نہ کیے جانے کی وجہ سے اس کافرنیچر چوری ہوگیا انھوں نے کہا کہ اگر چہ اب میں اس علاقے کانمائندہ نہیںہوں لیکن اس کے باوجود میںمحکمہ تعلیم کے افسران کو اس مسئلے پر توجہ دینے کوکہتارہاہوں اورمیری درخواست پر وزیر تعلیم نے بھی علاقے کادورہ کیاتھا لیکن اب تک اس کے کوئی نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔انھوںنے بتایا کہ کالج کے افتتاح کے وقت اس کے لیے ایک پرنسپل کاتقرر کیاجاچکاتھا دیگر عملے کے بارے میں مجھے کچھ نہیں معلوم اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کالج کے لیے مقرر کیاگیا عملہ تنخواہ لے رہاہے یا اپنا تبادلہ کہیں اور کراچکا ہے، علاقے کے موجودہ رکن سندھ اسمبلی شفیع محمد جاموٹ نے اس صورت حال کومحکمہ تعلیم کے افسران کی عدم توجہی اور غفلت قرار دیااور کہاکہ میں نے خود محکمہ تعلیم کے دیگر افسران کے علاوہ سیکریٹری تعلیم کو بھی اس حوالے سے خطوط لکھے ہیں لیکن میری تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں۔اس حوالے سے جب وزیر تعلیم جام مہتاب حسین ڈاہر سے رابطے کی کوشش کی گئی تو متعدد کوششوں کے باوجود ان سے یاسیکریٹری تعلیم پرویز سحر سے رابطہ نہیں ہوسکا تاہم محکمہ تعلیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ محکمہ تعلیم اس معاملے پر غور کررہاہے۔


متعلقہ خبریں


ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہ ایسا کچھ طے ہوا ، امریکی صدر وجود - پیر 23 ستمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بہت لچکدار رویہ رکھتے ہیں لیکن ایرانی حکام سے ابھی ملاقات کا نہ ارادہ ہے اور نہ ایسا کچھ طے ہوا ہے ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایرانی حکام سے ملاقات کے سوال پر انہوںنے کہا کہ کسی بھی بات کا امکان مکمل ختم نہیںہوتا لیکن ان کا ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ بہت لچکدار رویہ کے حامل شخص ہیں اگر ایرانی حکام چاہتے تو ان سے...

ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہ ایسا کچھ طے ہوا ، امریکی صدر

چین نے دو سیٹلائٹس کو زمین کے گردکو مدار میں بھیج دیا وجود - پیر 23 ستمبر 2019

چین نے بے دوئے ۔ 3 سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کے مزید دو سیٹلائٹس کو زمین کے گرد مدار میں بھیج دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو سیٹلائٹس کو صبح 5 بج کر 10 منٹ پر چین کے شی چھانگ لانچنگ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ زمین کے گرد مدار میں چھوڑا گیا۔ تین گھنٹوں کے سفر کے بعد یہ دو سیٹلائٹس مقررہ مدار میں پہنچ گئے ۔ یہ دونوں سیٹلائٹس بعد میں سسٹم میں شامل ہو کر مواصلاتی خدمات فراہم کریں گے ۔

چین نے دو سیٹلائٹس کو زمین کے گردکو مدار میں بھیج دیا

سری لنکن صدر کی ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم وجود - پیر 23 ستمبر 2019

سری لنکا کے صدر مائی تریپالا سری سینا نے کیتھولک گرجا گھر کے حکام کی جانب سے تحقیقات پر خدشات کا اظہار کیے جانے پر ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیتھولک گرجا گھر کے حکام نے گذشتہ تحقیقات پر خدشات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد صدر متھری پالا سری سینا نے ججوں پر مشتمل 5 رکنی پینل قائم کیا جسے 3 ماہ کے اندر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ۔واضح رہے کہ رواں سال ایسٹر کے موقع پر 21 اپریل کو سری لنکا میں 3 گرجا گھروں ،3 ہوٹلوں پر دھماک...

سری لنکن صدر کی ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم

بانی وکی لیکس کے ساتھ د ہشتگردوں سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا گیا ، کرسٹین وجود - پیر 23 ستمبر 2019

وکی لیکس کے ایڈیٹر ان چیف کرسٹین ہرافنسن نے الزام لگایا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ برطانیہ کے افسران دہشت گردوں سے بھی برا سلوک کر رہے ہیں اور انہیں عدالتی کارروائی کی تیاری کرنے سے روک رہے ہیں۔ہرافنسن نے کہا کہ جولین اسانج کو عدالت کی کارروائی سے متعلق تیاری کرنے کے لئے کوئی بھی سہولت مہیا نہیں کی جا رہی اور انہیں 24 گھنٹے صرف جیل میں ہی رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے برطانیا کے حکام پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جولین کو صرف کچھ دنوں پہلے عدالتی کارروائی کی تی...

بانی وکی لیکس کے ساتھ د ہشتگردوں سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا گیا ، کرسٹین

لمبی،صحت مند زندگی کا راز، مایوسی کی جگہ امید پیدا کرلیں،نئی تحقیق وجود - جمعه 30 اگست 2019

امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی میں کی گئی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان اگر لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو مایوسی کی جگہ امید کو اپنے اندر پیدا کرلیں۔درحقیقت مثبت سوچ رکھنے والے افراد میں لمبی زندگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو 85 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ ذہنی تناؤ کو زیادہ اچھے طریقے سے قابو کرلیتے ہیں، ان کی جسمانی صحت بھی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ایسے افراد زندگی کے مقصد کا تعین ب...

لمبی،صحت مند زندگی کا راز، مایوسی کی جگہ امید پیدا کرلیں،نئی تحقیق

پیرو میں دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھائے گئے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت وجود - جمعه 30 اگست 2019

جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں چیموز دیوتاؤں کے لیے بھینٹ چڑھائے جانے والے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت ہوگئیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پیرو کے دارالحکومت لیما کے ساحلی علاقے ہونیچوکو میں 227 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی عمریں 5 سے 14 برس تھیں۔آثار قدیمہ ماہرین کے مطابق دریافت کی گئی قبریں کم از کم 500 سال پرانی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس پیرو کے دو مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 200 بچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔ماہرین نے بتایا تھا کہ جب کھدائی کی گئی تو بعض بچ...

پیرو میں دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھائے گئے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت

مقبول اینڈرائیڈ ایپ کیم اسکینر میں میل وئیر کی موجودگی کا انکشاف وجود - جمعه 30 اگست 2019

گوگل نے اینڈرائیڈ فونز میں استعمال ہونے والی ایک مقبول ایپ کیم اسکینر کو پلے اسٹور سے نکال دیا ہے۔یہ ایپ پی ڈی ایف دستاویزات اسکین کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اب میل وئیر پھیلا رہی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق2010 سے یہ ایپ موجود ہے اور اسے 10 کروڑ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور حالیہ دنوں میں اینٹی وائرس کمپنی کاس پیرسکے نے دریافت کیا تھا کہ اس پلیکشن نے اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں میل وئیر پھیلانا شروع کردیا ہے۔اس رپورٹ کے بعد گوگل نے پلے اسٹور سے کیم اسکینر کو نکال دیا ہے...

مقبول اینڈرائیڈ ایپ کیم اسکینر میں میل وئیر کی موجودگی کا انکشاف

اسرائیل نے ایرانی شہریوں کیلئے فارسی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کردیے وجود - جمعه 30 اگست 2019

اسرائیل نے ایرانی شہریوں تک رسائی کے لیے فارسی زبان میں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کر دیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے فارسی زبان میں متعدد سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کھولنے کا انکشاف کیا گیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق ٹوئٹر، انسٹاگرام، ٹیلی گرام پر فارسی زبان میں متعدد اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں، جس کے تحت ایرانی شہریوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ خود کے دشمن نہیں ہیں بلکہ جابرانہ ایرانی حکومت ان کی دشمن ہے۔اس حوالے سے اسرائیل کے عسکری ٹوئٹر اکاؤنٹ میں کہا گیا ک...

اسرائیل نے ایرانی شہریوں کیلئے فارسی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کردیے

بریگزٹ معاملے پر ملکہ برطانیانے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی وجود - جمعه 30 اگست 2019

برطانیا کی ملکہ ایلزبتھ دوم نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر وزیراعظم بورس جونسن کی درخواست پر پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملکہ برطانیہ کی منظوری کے بعد ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پارلیمنٹ معطل کردی جائے گی اور 5 ہفتوں بعد ملکہ ایلزبتھ دوم 14 اکتوبر کو تقریر کریں گی۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن نے پارلیمنٹ سے متعلق کہا کہ معطلی کا فیصلہ ضروری تھا کیونکہ ان کی حکومت کو آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔اس ضمن میں بتایا...

بریگزٹ معاملے پر ملکہ برطانیانے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی

ویٹی کن سٹی سے معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ چینی پادری کا تقرر وجود - جمعه 30 اگست 2019

چین اور ویٹی کن سٹی کے درمیان مفاہمت کو بڑھانے کی غرض سے ایک معاہدے کے تحت پوپ اور بیجنگ کی مشترکہ منظوری کے بعد پہلی مرتبہ چینی کیتھولک پادری کا تقرر کردیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں ایک کروڑ 20 لاکھ کیتھولک افراد حکومت کے تحت چلنے والی ایسوسی ایشن اور ویٹی کن سٹی سے ہمدردی رکھنے والے انڈر گراؤنڈ چرچ میں تقسیم ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی سرپرستی میں ایسوسی ایشن پادری کا انتخاب حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کرتی تھی۔چین اور ویٹی کن کے درمیان طے پانے والی شرائط کے...

ویٹی کن سٹی سے معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ چینی پادری کا تقرر

آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر امریکا کو تشویش وجود - جمعه 30 اگست 2019

امریکی حکومت کے ایک مشاورتی بورڈ نے بھارتی ریاست آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن کے دوران ممکنہ زیادتیوں کے حوالے سے انہیں تحفظات ہیں،واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے آسام میں رہنے والوں سے کہا ہے کہ بھارتی شہریت کے حصول کے لیے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ سن1971سے قبل ان کے والدین یا ان سے بھی پہلے کی نسل اس ریاست میں رہائش پزیر تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بورڈ کے سربراہ ٹونی پیرکنز نے کہاکہ آسام میں شہریوں کی رجس...

آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر امریکا کو تشویش

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی