وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ڈالر کی قیمت میں اضافہ ‘اسٹیٹ بینک تحقیقات میں تاحال ناکام

پیر 24 جولائی 2017 ڈالر کی قیمت میں اضافہ ‘اسٹیٹ بینک تحقیقات میں تاحال ناکام

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی واضح ہدایات کے باوجود اسٹیٹ بینک روپے کی قدر میں اچانک کمی کے معاملے پر 10 روز میں تحقیقات مکمل کرنے میں ناکام ہوگیا۔ترجمان اسٹیٹ بینک نے روپے کے مقابلے میں ڈالر مہنگا ہونے کی انکوائری تاحال مکمل نہ ہونے کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی اِن ہاؤس انکوائری ابھی چل رہی ہے، جیسے ہی تحقیقات مکمل ہوں گی رپورٹ وزیر خزانہ کو بھجوا دی جائے گی۔وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اچانک کمی کے معاملے پر باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کے لیے 9 جولائی کو گورنر اسٹیٹ بینک کو احکامات جاری کیے تھے اور دس روز میں رپورٹ طلب کی تھی۔
وزیر خزانہ نے بطور چیئرمین مانیٹری اینڈ فِسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ، گورنر اسٹیٹ بینک کو تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق 5 جولائی کو ایک ڈالر اچانک ساڑھے تین روپے مہنگا ہوگیا تھا، جس کا وزیر خزانہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے 6 جولائی کو تمام بینکوں کے صدور کو طلب کیا تھا۔اجلاس کے بعد اسحٰق ڈار نے روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات جاننے کے لیے شفاف تحقیقات کا اعلان کیا اور 7 جولائی کو سابق سیکریٹری خزانہ طارق باجوہ کو مستقل گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کردیا گیا اور انہیں معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔
روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شرحِ مبادلہ میں یہ کمی بیرونی کھاتوں میں اُبھرتے ہوئے عدم توازن کا تدارک اور ملک میں ترقی کے امکانات کو مستحکم کرے گی۔ اسٹیٹ بینک سمجھتا ہے کہ موجودہ شرحِ مبادلہ معاشی حقیقت سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہے اور یہ کہ اسٹیٹ بینک زر مبادلہ منڈیوں کے حالات کا بغور جائزہ لیتا رہے گا اور مالی منڈیوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف جون کے وسط میں ہی پاکستان کو مشورہ دے چکا تھا۔آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے پاکستانی معیشت کے بارے میںجاری کیے گئے جائزے میں عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستانی حکام کو مشورہ دیا تھاکہ وہ شرحِ مبادلہ کو انتظامی طریقے سے کنٹرول کرنے کے بجائے اس کو بتدریج کم ہونے دیں۔اپنے اس جائزے میںآئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے جس سے ایکسچینج مارکیٹ پر دباؤ آئے گا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے سے بیرونی کھاتوں کے خسارے میں کمی ہوگی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو بنیادی شرح سودمیں اضافہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
جہاں تک روپے کی قدر میں کمی یا اضافہ سے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کاتعلق ہے تو اس حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ روپے کی قدر مصنوعی طورپر مستحکم رکھنے کی کوششوں سے ملکی برآمدات متاثرہوتی ہیں اور برآمدکنندگان کیلئے بیرونی منڈیوں میں دوسرے ملکوں کامقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھتاہے جس سے ملک کے زرمبادلے کے ذخائر دبائو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد 2013 میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی تھی اور ایک ڈالر110روپے کی سطح تک پہنچ گیاتھا، جس پر شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا کہ حکومت اگر ڈالر کو واپس100روپے سے کم کی سطح پر لے آئی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ اس کے بعد حکومت کی جانب سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر پر سخت نگرانی کی گئی اور بیرونی وسائل کی آمد کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 102 روپے سے لے کر 104 روپے کے درمیان ہی رہی۔
کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر میں اگر استحکام ہوتا ہے، یا اس کی قدر میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے، تو اس کے ملکی معیشت پر اثرات مختلف طریقے سے مرتب ہوتے ہیں۔ اور اس بات کا فیصلہ ملک کے پالیسی سازوں کو کرنا ہوتا ہے کہ انہیں کرنسی کو مستحکم رکھنا ہے، مضبوط رکھنا ہے، یا کمزور رکھنا ہے، اور اس سے انھیں کون سے اہداف حاصل کرنے ہیں۔جب مصنوعات، خدمات، اور سرمائے کی عالمی سرحدوں میں آزادنہ نقل و حرکت ہو تو متحرک اور لچکدار شرح مبادلہ کے ذریعے ہر ملک کی کرنسی کی طلب و رسد کو مارکیٹ میں رواں رکھا جاتا ہے۔ مگر اس فلوٹنگ شرحِ مبادلہ یا متحرک شرح مبادلہ کے نظام میں کرنسی کی قدر میں اضافہ اور کمی ہوتی رہتی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق کسی بھی ملک کی کرنسی میں طویل مدتی استحکام اس پر مثبت اور منفی دونوں طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ کرنسی کی قدر میں طویل مدت تک استحکام اس ملک میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے بہت اہم ہے۔ کیونکہ وہ اس ملک میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ایک خاص مدت تک اپنا منافع ایک خاص سطح پر حاصل کرسکتے ہیں۔ مگر طویل مدت میں کرنسی کے استحکام سے ملک میں افراط زر کے بڑھنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔مگر شرح مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے افراط زر کو بھی کم ترین سطح پر مستحکم رکھنا ضروری ہوتا ہے، بصورتِ دیگر ملک میں موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور ان میں کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں دیکھا جائے تو گزشتہ چند سال سے افراط زر کم ترین اور بنیادی شرح سود بھی کم ترین سطح پر ہے۔ جس کی وجہ سے حکومت اس قابل ہوئی ہے کہ شرح مبادلہ کو ایک محدود دائرے میں متحرک اور مستحکم رکھ سکے لیکن حکومت کی جانب سے روپے کی قدر مستحکم رکھنے کی کوششوں کی وجہ سے ملکی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں جس کااندازہ تجارتی خسارے کی موجودہ شرح سے لگایاجاسکتاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت جو خود ہی ایک بڑے بحران سے دوچار ہے، اور وزیر خزانہ کو خود منی لانڈرنگ سمیت مختلف الزامات کاسامنا ہے، روپنے کی کم ہوتی ہوئی قدر کومستحکم کرنے اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ تاہم خیال اغلب یہی ہے کہ سپریم کورٹ سے پاناما کا فیصلہ آنے سے قبل حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایاجاسکے گا اوراگر سپریم کورٹ کافیصلہ آنے میں کچھ تاخیر ہوئی تو ڈالر کی قیمت 116روپے سے بھی آئی ایم ایف جس کی سفارش کرچکاہے تجاوز کرجائے گا ، اگر ایسا ہوتاہے تو اس کافوری فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستانی برآمد کنندگان نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کی توقع پر اپنی جو رقم بیرون ملک روک رکھی ہے، ڈالر کی قیمت میں اضافے کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے پاکستان منتقل کریں گے جس سے پاکستان کے زرمبادلے کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور جب زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا تو کرنسی خود بخود مستحکم ہوجائے گی۔
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

ترجمان دفتر خاجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی حکومت کی تازہ ترین غیرقانونی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتا ہے ۔ جموں وکشمیر تشکیل نو آرڈر2020ایک اور غیرقانونی بھارتی اقدام ہے جس کا مقصد بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے ڈومیسائل قوانین کو تبدیل کرنا ہے ۔ یہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جینیوا کنونشن کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔ انہوںنے جاری بیان میں کہا کہ تازہ ترین بھارتی قدام بھی 5 اگست 2019کے بھارت کے ...

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئو پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے سب کو ملکر کوشش کرنا ہوگی۔ڈبلیو ایچ او کے ڈی جی تیدروس ادھا نوم نے جنیوا میں پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ پچھلے ہفتے کورونا کے پھیلا میں تیزی دیکھی گئی جو ایک تشویشناک صورتحال ہے ۔اس مہلک وبا کو فوری طور پر سب کو مل کر روکنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر بڑا جانی نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مہلک وبا کے باعث ایک ہ...

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

کا خصوصی طیارہ چین سے امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچ گیا۔پی آئی اے کی پرواز پی کے 8552 چین سے کورونا وائرس سے متعلق امدادی سامان لے کر اسلام آباد پہنچا۔ جہاز میں 20 کنٹینرز پر مشتمل امدادی سامان لایا گیا جس میں ٹیسٹنگ کٹس، گلوز اور ماسک شامل ہیں۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کے بعد سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )حکام کے حوالے کر دیا گیا۔واضح رہے کہ پی آئی اے کا خصوصی طیارہ گذشتہ روز امدادی سامان لینے چین گیا تھا۔

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم وجود - بدھ 01 اپریل 2020

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرا اعلی کو حاصل خصوصی مراعات والے قانون کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت اختیارات کے ذریعے منسوخ کر دیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی حکومت نے سٹیٹ لیجسلیٹر ممبرز پنشن ایکٹ 1984 کے سیکشن 3 کو منسوخ کر دیا ہے جس سے اب سابق وزرا اعلی کو ملنے والی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔اس سیکشن کے تحت سابق وزرا اعلی کو بغیر کرایہ سرکاری رہائش گاہ، مفت ٹیلیفون سروس، مفت بجلی، گاڑی، پٹرول اور طبی سہولیات ملتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کو سرکار...

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی وجود - بدھ 01 اپریل 2020

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ،کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے جدید ترین ممالک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں سپرپاور امریکا کی فوج بھی اس وائرس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔کورونا وائرس کے باعث اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد کیسز امریکا سے سامنے آ چکے ہیں جب کہ امریکا میں اموات بھی چین اور اسپین سے زیادہ ہو گئی ہیں جہاں اب تک 4 ہزار سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں وبا سے دو لاکھ...

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق وجود - بدھ 01 اپریل 2020

امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس میں مبتلا دو پاکستانی جان کی بازی ہار گئے ۔ یک میڈیا رپورٹ کے مطابق انتقال ہونے والے سید عطاالرحمان کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تھے جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ان کے علاوہ کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی امریکن روحیل خان بھی نیویارک میں دم توڑ گئے ۔ ریاست ٹیکساس میں بھی ایک پاکستانی ڈاکٹر اور تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص میں بھی کورونا کی علامات پائی گئی ہیں اور دونوں کا تعلق بھی کراچی سے ہے ۔واضح رہے کہ امریکی ریاست نیو یارک کورونا...

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں طبی آلات کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، وہیں طبی عملہ بھی کم پڑ گیا ہے جب کہ ہسپتالوں سمیت کئی دیگر جگہوں کو عارضی آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس باوجود کئی ممالک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ۔عام ہسپتالوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے اور وہاں پر دیگر مریضوں کے علاوہ زیادہ تر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض پریشانیوں کا شکار ہیں، یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے مما...

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس نے 202ممالک میں پنجے گاڑ لئے ، دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہزار 156 ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی مہلک وبا نے 202ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اٹلی میں صورتحال سب سے خوفناک ہے جہاں 12448 افراد ہلاک اور 1 لاکھ 5 ہزار 7 سو92 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔اسپین میں کورونا سے 8 ہزار چار سو چونسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ۔ چین میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 3 ہزار تین سو پانچ ہے ۔ جرمنی میں کورونا سے سات سو پچھتر افراد ہلاک، فرانس میں...

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دے دیا۔ترجمان اقوام متحدہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے دنیا کے ہر ملک کو عدم استحکام، بدامنی اور تنازعات کھڑے ہونے کا خطرہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کے ثرات سے دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد بیروزگار ہو جائیں گے ۔ا نہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک غریب ملکوں کی مدد کریں ورنہ وبا جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا

کورونا وائرس، ایتھوپیا میں عام انتخابات ملتوی وجود - بدھ 01 اپریل 2020

افریقی ملک ایتھوپیا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے عام انتخابات ملتوی کر دیے گئے ۔ایتھوپیا کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ملک میں رواں سال اگست میں ہونے والے انتخابات کا انعقاد کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے پیدا ہونے والے حالات میں ممکن نہیں رہا،عام انتخابات کے انعقاد کے لئے نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ایتھوپیا میں نوبل امن انعام یافتہ ابہی احمد وزیر اعظم ہیں جو ایکبار پھر وزیر اعظم بننے کے امیدوار ہیں۔ایتھوپین الیکشن کمیشن کے مطابق انت...

کورونا وائرس، ایتھوپیا میں عام انتخابات ملتوی

بھارت میں ریاستی مشینری کورونا وباسے بڑا خطرہ بن چکی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ وجود - پیر 30 مارچ 2020

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھارت پر کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے دوران ضبط و تحمل سے کام لینے پر زوردیتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی مشینری کورونا وائر کی وباسے کہیں بڑا خطرہ بن چکی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے لاکھوں افراد پھنسے ہوئے ہیں جو خوراک اور پانی کی تلاش میں جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے ان افراد کیلئے ریاستی م...

بھارت میں ریاستی مشینری کورونا وباسے بڑا خطرہ بن چکی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ

کرونا وائرس کی ماسکو پر یلغار، دارالحکومت سے لوگوں کی نقل مکانی وجود - پیر 30 مارچ 2020

روس کے دارالحکومت ماسکو میں کرونا وائرس نے ایک نیا حملہ کیا ہے جس کے بعد حکومت کی طرف سے گھروں میں رہنے کے احکامات کے برخلاف لوگوں کی بڑی تعداد کو وہاں سے نکلتے دیکھا گیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت ماسکو کے میئر سیرگی سوبیانین نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ کرونا کی وبا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔ دارالحکومت میں کرونا کے متاثرین کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ۔ حکومت کی طرف سے شہریوں سے گھروں کے اندر رہنے کو کہا گیا مگر اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ پارکوں...

کرونا وائرس کی ماسکو پر یلغار، دارالحکومت سے لوگوں کی نقل مکانی