... loading ...
وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی واضح ہدایات کے باوجود اسٹیٹ بینک روپے کی قدر میں اچانک کمی کے معاملے پر 10 روز میں تحقیقات مکمل کرنے میں ناکام ہوگیا۔ترجمان اسٹیٹ بینک نے روپے کے مقابلے میں ڈالر مہنگا ہونے کی انکوائری تاحال مکمل نہ ہونے کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی اِن ہاؤس انکوائری ابھی چل رہی ہے، جیسے ہی تحقیقات مکمل ہوں گی رپورٹ وزیر خزانہ کو بھجوا دی جائے گی۔وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اچانک کمی کے معاملے پر باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کے لیے 9 جولائی کو گورنر اسٹیٹ بینک کو احکامات جاری کیے تھے اور دس روز میں رپورٹ طلب کی تھی۔
وزیر خزانہ نے بطور چیئرمین مانیٹری اینڈ فِسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ، گورنر اسٹیٹ بینک کو تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق 5 جولائی کو ایک ڈالر اچانک ساڑھے تین روپے مہنگا ہوگیا تھا، جس کا وزیر خزانہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے 6 جولائی کو تمام بینکوں کے صدور کو طلب کیا تھا۔اجلاس کے بعد اسحٰق ڈار نے روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات جاننے کے لیے شفاف تحقیقات کا اعلان کیا اور 7 جولائی کو سابق سیکریٹری خزانہ طارق باجوہ کو مستقل گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کردیا گیا اور انہیں معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔
روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شرحِ مبادلہ میں یہ کمی بیرونی کھاتوں میں اُبھرتے ہوئے عدم توازن کا تدارک اور ملک میں ترقی کے امکانات کو مستحکم کرے گی۔ اسٹیٹ بینک سمجھتا ہے کہ موجودہ شرحِ مبادلہ معاشی حقیقت سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہے اور یہ کہ اسٹیٹ بینک زر مبادلہ منڈیوں کے حالات کا بغور جائزہ لیتا رہے گا اور مالی منڈیوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف جون کے وسط میں ہی پاکستان کو مشورہ دے چکا تھا۔آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے پاکستانی معیشت کے بارے میںجاری کیے گئے جائزے میں عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستانی حکام کو مشورہ دیا تھاکہ وہ شرحِ مبادلہ کو انتظامی طریقے سے کنٹرول کرنے کے بجائے اس کو بتدریج کم ہونے دیں۔اپنے اس جائزے میںآئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے جس سے ایکسچینج مارکیٹ پر دباؤ آئے گا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے سے بیرونی کھاتوں کے خسارے میں کمی ہوگی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو بنیادی شرح سودمیں اضافہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
جہاں تک روپے کی قدر میں کمی یا اضافہ سے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کاتعلق ہے تو اس حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ روپے کی قدر مصنوعی طورپر مستحکم رکھنے کی کوششوں سے ملکی برآمدات متاثرہوتی ہیں اور برآمدکنندگان کیلئے بیرونی منڈیوں میں دوسرے ملکوں کامقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھتاہے جس سے ملک کے زرمبادلے کے ذخائر دبائو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد 2013 میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی تھی اور ایک ڈالر110روپے کی سطح تک پہنچ گیاتھا، جس پر شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا کہ حکومت اگر ڈالر کو واپس100روپے سے کم کی سطح پر لے آئی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ اس کے بعد حکومت کی جانب سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر پر سخت نگرانی کی گئی اور بیرونی وسائل کی آمد کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 102 روپے سے لے کر 104 روپے کے درمیان ہی رہی۔
کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر میں اگر استحکام ہوتا ہے، یا اس کی قدر میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے، تو اس کے ملکی معیشت پر اثرات مختلف طریقے سے مرتب ہوتے ہیں۔ اور اس بات کا فیصلہ ملک کے پالیسی سازوں کو کرنا ہوتا ہے کہ انہیں کرنسی کو مستحکم رکھنا ہے، مضبوط رکھنا ہے، یا کمزور رکھنا ہے، اور اس سے انھیں کون سے اہداف حاصل کرنے ہیں۔جب مصنوعات، خدمات، اور سرمائے کی عالمی سرحدوں میں آزادنہ نقل و حرکت ہو تو متحرک اور لچکدار شرح مبادلہ کے ذریعے ہر ملک کی کرنسی کی طلب و رسد کو مارکیٹ میں رواں رکھا جاتا ہے۔ مگر اس فلوٹنگ شرحِ مبادلہ یا متحرک شرح مبادلہ کے نظام میں کرنسی کی قدر میں اضافہ اور کمی ہوتی رہتی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق کسی بھی ملک کی کرنسی میں طویل مدتی استحکام اس پر مثبت اور منفی دونوں طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ کرنسی کی قدر میں طویل مدت تک استحکام اس ملک میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے بہت اہم ہے۔ کیونکہ وہ اس ملک میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ایک خاص مدت تک اپنا منافع ایک خاص سطح پر حاصل کرسکتے ہیں۔ مگر طویل مدت میں کرنسی کے استحکام سے ملک میں افراط زر کے بڑھنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔مگر شرح مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے افراط زر کو بھی کم ترین سطح پر مستحکم رکھنا ضروری ہوتا ہے، بصورتِ دیگر ملک میں موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور ان میں کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں دیکھا جائے تو گزشتہ چند سال سے افراط زر کم ترین اور بنیادی شرح سود بھی کم ترین سطح پر ہے۔ جس کی وجہ سے حکومت اس قابل ہوئی ہے کہ شرح مبادلہ کو ایک محدود دائرے میں متحرک اور مستحکم رکھ سکے لیکن حکومت کی جانب سے روپے کی قدر مستحکم رکھنے کی کوششوں کی وجہ سے ملکی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں جس کااندازہ تجارتی خسارے کی موجودہ شرح سے لگایاجاسکتاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت جو خود ہی ایک بڑے بحران سے دوچار ہے، اور وزیر خزانہ کو خود منی لانڈرنگ سمیت مختلف الزامات کاسامنا ہے، روپنے کی کم ہوتی ہوئی قدر کومستحکم کرنے اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ تاہم خیال اغلب یہی ہے کہ سپریم کورٹ سے پاناما کا فیصلہ آنے سے قبل حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایاجاسکے گا اوراگر سپریم کورٹ کافیصلہ آنے میں کچھ تاخیر ہوئی تو ڈالر کی قیمت 116روپے سے بھی آئی ایم ایف جس کی سفارش کرچکاہے تجاوز کرجائے گا ، اگر ایسا ہوتاہے تو اس کافوری فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستانی برآمد کنندگان نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کی توقع پر اپنی جو رقم بیرون ملک روک رکھی ہے، ڈالر کی قیمت میں اضافے کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے پاکستان منتقل کریں گے جس سے پاکستان کے زرمبادلے کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور جب زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا تو کرنسی خود بخود مستحکم ہوجائے گی۔
ایچ اے نقوی
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...
تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...
ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...
دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...
پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...
بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...
سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...
وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...