وجود

... loading ...

وجود

45 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ‘پاکستان کو بیرونی منڈیوں میں سخت مشکلات کاسامنا

پیر 24 جولائی 2017 45 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ‘پاکستان کو بیرونی منڈیوں میں سخت مشکلات کاسامنا

پاکستان کے پاس اس وقت 45 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا فاضل ذخیرہ موجود ہے لیکن اس میں سے15 لاکھ ٹن گندم فروخت کرنے کیلئے پاکستان کو بیرونی منڈیوں میں سخت مشکلات کاسامنا ہے، اطلاعات کے مطابق پاکستان کو اپنی فاضل گندم کی فروخت کیلئے دو محاذوں پر مشکلات کاسامنا ہے۔ اول گندم کامیعار دوم اس کی قیمت ،وزارت تجارت کے اندرونی ذرائع کے مطابق پاکستان کی ذخیرہ کردہ گندم کی خریداری اور اس کے ذخیرہ کیے جانے کے مرحلوں میں گندم کے معیار پر توجہ نہ دیے جانے کی وجہ سے اس کے معیار پر سوال پیداہوگئے ہیں اور بیرونی منڈیوں میں اسے خریداروں کیلئے قابل قبول بنانا مشکل ثابت ہورہاہے۔ دوسری جانب پاکستان میں گندم کے کاشتکاروں کو دی جانے والی سبسڈی کی وجہ سے پاکستان کی گندم دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً مہنگی ہے جس کی وجہ سے فاضل گندم کے لیے خریدار کی تلاش اور بھی زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔
وزارت کے اندرونی ذرائع کاکہناہے کہ اگر پاکستان اپنی فاضل گندم بیرونی منڈیوں میں فروخت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکاتو خدشہ ہے کہ یہ فاضل گندم گوداموں میں پڑے پڑے خراب اور ناقابل استعمال ہوجائیگی اور اس طرح پاکستان بھاری قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہوجائیگا۔
فاضل گندم کے حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق پنجاب میں اس فصل کے دوران مارکیٹ سے 40 لاکھ ٹن گندم خریدی گئی تھی جبکہ سندھ سے 12 لاکھ ٹن گندم خریدی گئی جبکہ پاکستان ایگریکلچر ل اسٹوریج اور سروسز ڈیپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 2لاکھ ٹن گندم خریدی جبکہ پنجاب کے پاس 25 لاکھ ٹن اور سندھ کے پاس 3 لاکھ ٹن گندم پہلے ہی سے موجود تھی۔ اس طرح ذرائع کے مطابق اس وقت پنجاب کے پاس 65 لاکھ ٹن اور سندھ کے پاس 12 لاکھ ٹن ،پاسکو کے پاس 20 لاکھ ٹن اور خیبر پختونخوا کے پاس 3 لاکھ ٹن فاضل گندم موجود ہے۔اس میں سے پنجاب فلور ملز کو 30 لاکھ ٹن ، سندھ 10 لاکھ ٹن اور پاسکو 4 ٹن گندم فراہم کریں گے،جس کے بعد بھی حکومت کے پاس گندم کا کم وبیش 45 لاکھ ٹن کا فاضل ذخیرہ موجود ہوگا۔
گندم کے فاضل ذخیرے کو دیکھتے ہوئے پنجاب کی حکومت نے15 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔لیکن ملک میں گندم کی بہت زیادہ قیمت کی وجہ سے گندم کے تاجر یہ ذخیرہ اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ بیرونی منڈی کے خریدار اعلیٰ معیار کے متقاضی ہیں جبکہ اتنی زیادہ قیمت پر کوئی گندم کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں ہے،اس وقت عالمی منڈی میں گندم کی قیمت 140 سے 180 ڈالر فی ٹن چل رہی ہے جبکہ پاکستان میں گندم کی قیمت اس سے دگنی سے بھی زیادہ یعنی کم وبیش 320 ڈالر بتائی جاتی ہے ، گزشتہ 2 سال کے دوران پاکستان نے اپنے گندم کاکم وبیش 10 لاکھ ٹن کا فاضل ذخیرہ افغانستان کے پاکستان کے قریب واقع صوبوں کو فروخت کیا تھا ،لیکن پنجاب کی حکومت نے یہ گندم برآمد کرنیوالے تاجروں کو 5 ارب روپے کا زر تلافی یعنی ریبیٹ ابھی تک ادا نہیں کیاہے۔ اس حوالے سے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے صدر عاصم رضا کاکہناہے کہ پنجاب حکومت نے 15 لاکھ ٹن گندم 170 ڈالر کی شرح سے برآمد کرنے کی منظوری دیدی ہے اور کہاہے کہ قیمت کابقیہ فرق پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت مل کر برداشت کرلیں گے۔فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت گندم کی برآمد پر زرتلافی صرف زمینی راستے سے گندم کی برآمد پر دینے کے بجائے بحری اور فضائی راستے سے گندم کی برآمد پر بھی اسی شرح سے زرتلافی ادا کرے۔فلور ملز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ اگرچہ افغانستان پاکستان کی گندم کا روایتی خریدار ہے اور اسے سالانہ کم وبیش18 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اسے 15 لاکھ ٹن گندم برآمد کی جاسکتی ہے لیکن قازقستان نے افغانستان کو سستے داموں گندم کی فراہم شروع کردی ہے اور خیال کیاجاتاہے کہ وہ افغانستان کو اس سال 9 سے12 لاکھ ٹن تک گندم برآمد کرے گا۔ اس طرح افغانستان میں پاکستانی گندم کے لیے صرف 6 ٹن کی گنجائش موجود ہوگی۔ اس طرح گندم کے تاجروں کو گندم کی فروخت کے لیے دوسری منڈیاں بھی تلاش کرنا پڑے گی اور زرتلافی کے بغیر پاکستانی گندم برآمد کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
فلور ملز کے برآمدات سے متعلق شعبے کے ذمہ دار ملک طارق سرور اعوان کاکہناہے کہ پاکستان کی گندم صاف شدہ نہیں ہوتی اور اس میں بھوسہ اور مٹی وغیرہ بھی شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسے دوبارہ صاف کرنا ضروری ہوتاہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں اس کی قیمت دوسرے ملکوں کی صاف گندم کے مقابلے میں کم وبیش 3 فیصد کم ہوجاتی ہے،اُن کاکہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس فاضل گندم کا تین سال کا یعنی 2015-2016 اور2017 کا ذخیرہ موجود ہے جسے آپس میں ملادیاگیاہے اور مقامی فلور ملوں کو ایک ہی قیمت پر فروخت کیاجارہاہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے گندم کے فاضل ذخیرے کیلئے بینکوں سے قرض لے رکھے ہیں اس لیے اس کی برآمد اور فروخت میں تاخیر کی وجہ سے ایک طرف گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے اور دوسری طرف اس میں جتنی زیادہ تاخیر ہوگی بینکوں کے سود میں اتناہی زیادہ اضافہ ہوتاجائیگا جو بالآخر سرکاری خزانے کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ حکومت کو فاضل گندم کی برآمد کے لیے ایک مستقل پالیسی تیار کرنی چاہئے تاکہ اس حوالے سے اس طرح کی رکاوٹیں کھڑی نہ ہوں اور حکومت کو بلاوجہ زیر بار نہ ہونا پڑے، ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی اگلی فصل بھی بہت اچھی ہونے کی توقع ہے اس لیے حکومت کو نئی فصل کی فاضل گندم برآمد کرنے کی بھی ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہئے،کیونکہ ہمیں اپنے ملک کی ضرورت پوری کرنے کیلئے مجموعی طورپر 25لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے اور بقیہ فاضل گندم کو فوری برآمد کردینا ہی ملک کے مفاد میں ہے۔
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

انسانیت کا سوال وجود هفته 14 مارچ 2026
انسانیت کا سوال

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے وجود هفته 14 مارچ 2026
امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر