وجود

... loading ...

وجود

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تیزی سے اضافہ،وزارت خزانہ کیلئے لمحہ فکریہ

جمعه 21 جولائی 2017 کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تیزی سے اضافہ،وزارت خزانہ کیلئے لمحہ فکریہ

اسٹیٹ بینک کے ذرائع سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال یعنی 2016-17 کے دوران پاکستان کے کرنٹ اکائونٹ خسارے میں ہولناک حد تک اضافہ ہواہے اور یہ خسارہ 149 فیصد تک پہنچ گیاہے جس کے نتیجے میں کرنٹ اکائونٹ خسارے کی مالیت 12.09 بلین یعنی 12 ارب 9 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافے کی ہولناکی کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ 2015-16 کے دوران اس خسارے کی مالیت صرف4.86 بلین یعنی 4 ارب 86 کروڑ ڈالر تھی۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق کرنٹ اکائونٹ خسارے میں تیزی سے اضافے کابنیادی سبب برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہے،گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جس میں سی پیک کے حوالے سے مشینری اور سازوسامان کی درآمدات بھی شامل تھیں،وزارت خزانہ کے ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات میں اضافہ کرنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرسکی اسی طرح غیر ضروری اشیا کی درآمد پر بھی کوئی روک ٹوک نہیں لگائی گئی،ذرائع کاکہناہے کہ ملک میں درآمد کی جانے والی غیر ضروری اشیا جن میں اشیائے تعیش کا بڑا حصہ شامل ہے کی درآمد پر سختی سے پابندی عاید کرکے درآمدی بل میں خاطر خواہ کمی کی جاسکتی ہے جس سے کرنٹ اکائونٹ خسارے میں بھی نمایاں کمی ہوسکتی ہے ۔جبکہ کرنٹ اکائونٹ کی پوزیشن سے ہی یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ آیا کون سا ملک صرف قرض پر گزارا کرنے والا ملک ہے اور کون سا ملک قرض دینے کی بھی صلاحیت رکھتاہے۔
کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اس تیزی سے اضافے سے یہ ثابت ہوتاہے کہ حکومت ادائیگیوںکا توازن قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ثابت ہورہی ہے جس کی وجہ سے ملک کو بار بار غیر ملکی مالیاتی اداروں کے سامنے کشکول پھیلانے پر مجبور ہونا پڑرہاہے۔
کرنٹ اکائونٹ خسارے کی موجودہ مالیت حکومت کے انتہائی شدید نقادوں کے اندازوں سے بھی زیادہ ثابت ہوئے ہیںکیونکہ حکومت کے نقادوں کاخیال تھا کہ اس سال حکومت کو قرضوں پر بھاری سود کی ادائیگی پر آنے والے اخراجات کی وجہ سے کرنٹ اکائونٹ خسارے کی مالیت جون2017 کے آخر تک 8 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی لیکن خسارے نقادوں کے اس اندازے سے بھی بہت آگے نکل گیا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کاکہناہے کہ قرضوں پر بھاری سود کی ادائیگی ،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ٹھہرائو کی وجہ سے قیمتوں میں نسبتاً اضافے اور برآمدات میں توقع سے زیادہ کمی کی وجہ سے کرنٹ اکائونٹ میں تیزی سے اضافہ ہواہے۔
مجموعی ملکی پیداوار گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ کے اعتبار سے 2016-17 کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارے کی شرح 4 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ 2015-16 کے دوران یہ شرح صرف1.7 فیصد تھی۔2016-17 کے دوران پاکستان نے مجموعی طورپر 21.66 بلین ڈالر یعنی 21 ارب 66 کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں جبکہ 2015-16 کے دوران برآمدی آمدنی کی مالیت21 ارب 97 کروڑ ڈالر تھی یعنی عالمی منڈی میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی سطح پرجاری افراط زر کے باوجود ہماری برآمدی آمدنی اپنی سابقہ سطح بھی برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکی اوراس میں 1.4 فیصد کے مساوی کمی ریکارڈ کی گئی۔اس کے برعکس پاکستان کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور درآمدی اخراجات پہلے سے لگائے گئے تخمینے سے بھی زیادہ رہے، اعدادوشمار کے مطابق 2016-17 کے دوران ہماری مجموعی درآمدات کی مالیت 48.54 بلین ڈالر یعنی 48ارب54 کروڑ ڈالر رہی جبکہ 2015-16 کے دوران ہماری درآمدات کی مالیت 41.25 بلین ڈالر یعنی 41 ارب 25 کروڑ ڈالر تھی اس سے ظاہرہوتاہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ہماری درآمدات کی مالیت میں 17.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔
جہاں تک تجارتی توازن کاتعلق ہے تو 2016-17 کے دوران ہماری اشیا اورخدمات دونوں اعتبار سے تجارتی توازن منفی رہا اورہماری برآمدات اور درآمدات کے درمیان 2016-17 کے دوران30.45 بلین ڈالر یعنی30 ارب 45 کروڑ ڈالر کا فرق ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2015-16 کے دوران یہ فرق 22.68 بلین ڈالر یعنی 22 ارب 68 کروڑ ڈالر تھا۔2016-17 کے دوران بیرون ملک ملازم پاکستانیوں کی جانب سے 19.30 بلین ڈالر یعنی 19 ارب 30 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے جبکہ 2015-16 کے دوران ان کی جانب سے 19.91 بلین ڈالر بھیجے گئے تھے اس طرح اس مد میں بھی حکومت کو 3 فیصد کمی کاسامنا کرنا پڑا۔
یہاں یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ بیرون ملک ملازم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی رقم سے ملک کا کم وبیش نصف درآمدی خرچ پوراہوجاتاہے جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑی حد تک کم ہوجاتاہے۔ماہرین اقتصادیات کاکہنا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیل زر میں یہ کمی تشویشناک ہے اور حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔ہمارے ملک میں کرنٹ اکائونٹ خسارے می تیزی سے اضافے کی ایک اور وجہ 2016-17 کے دوران ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی بھی ہے۔2016-17 کے دوران ریکارڈ کے مطابق ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں صرف 5فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا اور اس طرح اس مد میں صرف 2.41 بلین ڈالر یعنی 2 ارب41 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ 2015-16 کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 2.30 بلین ڈالر یعنی 2ارب 30 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔
پاکستان سرمایہ کاری بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری2008 کے دوران کی گئی تھی جب اس کی مالیت 5.4 بلین ڈالر یعنی 5ارب 40 کروڑ ڈالر تھی لیکن اس کے بعد سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی شرح اس کے 50 فیصد تک بھی نہیں پہنچ سکی۔
ماہرین کا کہناہے کہ موجود ہ صورت حال سے نمٹنے کیلئے اب حکومت کوملکی کرنسی کی قیمت میں کمی کو روکنے کیلئے سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی اوراس کے ساتھ برآمدات میں اضافے کیلئے ملک کی روایتی برآمدات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ہی غیر روایتی اشیا اور خدمات کی برآمدات کیلئے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر