... loading ...
جب کبھی ہندوستان کے شاہی باورچی خانوں اور ان میں تیار کیے گئے شاہی پکوانوں کا ذکر ہوتا ہے تو لکھنؤ، حیدرآباد اور رام پور ہی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ ہندوستان کے جنوبی حصوں کے شاہی باورچی خانوں کا ذکر شاذ و نادر ہی سننے یا پڑھنے میں آتا ہے۔جنوبی ہند کے راجا مہاراجہ بھی شمالی ہند کے نوابوں کی طرح ہی ذائقہ دار کھانوں کے دلدادہ تھے اور ان کے شاہی باورچی خانے بھی لذیذ اور متنوع کھانوں کی تیاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ شاہی سرپرستی اور بے تحاشا مالی وسائل نے باورچیوں کے ہنر اور مہارت کو آگے بڑھایا۔ میسور، ارکاٹ، ٹراونکور اور تنجور کے شاہی باورچی خانوں کی کہانیاں بڑی دلچسپ اور مزیدار ہیں۔
حکایت ہے کہ میسور کے شاہی محل کے خزانچی نے ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا۔ باورچی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی کام میں مصروف ہوگئے۔ کھانا شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل خزانچی نے باورچی خانے کا دورہ کیا۔ اس نے دیکھا ایک بڑی سی ٹوکری میں سبزیوں کے تراشے کے کچھ حصے باورچی خانے کے ایک کونے میں رکھے ہیں۔ پوچھنے پر پتہ لگا کہ سبزیوں کے یہ حصے استعمال سے خارج ہیں اور کسی مصرف کے نہیں ہیں۔ خزانچی نے باورچی سے کہا میاں عقل دوڑاؤ اور ان کے استعمال کی کوئی انوکھی ترکیب نکالو۔
باورچی نے بڑے غور و فکر کے بعد ناریل کے تراشے اور دہی کے امتزاج سے گاڑھا شوربا بنایا۔ سبزیوں کے قابل استعمال حصوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں کاٹ کر ہلکے مسالے میں ملا کر ناریل کے شوربے میں ڈال دیا۔ مرکب ہلکی آنچ پر پکنے دیا اور شام کے وقت ضیافت میں ایک نئے پکوان کے طور پر پیش کیا۔ضیافت میں موجود مہمانوں نے بڑے شوق سے نئے پکوان کا لطف اٹھایا اور نام دریافت کیا۔ باورچی نے بلا تامل کہا ‘ایول’۔ اسی دن سے ایول شاہی دسترخوان کی زینت بنا اور آج تک جنوبی ہند کے لذیذ پکوانوں میں اس کا شمار ہوتاہے۔ ایک ہنر مند اور عقل مند باورچی کا انوکھا تجربہ۔
ٹراونکور جنوبی ہند کی مشہور ریاست ہے۔ دولت کی ریل پیل اورشوقین مزاج راجا مہاراجاؤں کی سرپرستی نے اس کے شاہی باورچی خانے کو بھی بڑی شہرت کا مالک بنا دیا۔ ٹراونکور کے شاہی پکوان مہارانی سیتوپاروتی بائی کے شوق اور لگن کا نتیجہ تھے۔مہارانی سیتو پاورتی بائی راجا پال رام ورما کی والدہ تھیں۔ مہارانی نہ صرف عمدہ کھانوں کی شوقین تھیں بلکہ ان کی نگرانی میں پکائے گئے پکوان ہر خاص و عام سے داد و تحسین حاصل کرتے تھے۔ مہارانی کے کھانوں سے بہت سی پرانی حکایتیں بھی وابستہ تھیں اور شاہی محل کے لوگ اس سے بڑا لطف اٹھاتے تھے۔ ’وا اماں‘ مہارانی کے نام سے مشہور تھیں۔
اماں مہارانی بذات خود باورچیوں کو ہدایات دیتی تھیں اور شاہی باورچی خانے میں تیار ہونے والے ہر پکوان کی نگرانی کرتی تھیں۔ دودھ سے بنی ہر چیز شاہی باورچی خانے میں تیار ہوتی تھی۔ ان کی نگرانی میں جمائے گئے دہی کا مزا ہی کچھ اور تھا۔ ان کی مہمان نوازی بھی بے مثال تھی۔
بیسویں صدی کے موسیقار، مصور، سائنسدان، مختلف صوبوں کے سربراہ الغرض کوئی فرد ایسا نہ تھا جس نے اماں مہارانی کی ضیافتوں کا لطف نہ اٹھایا ہو۔ جس نے ان کے زیر نگرانی میں بنے کھانوں کو کھایا، اس نے بار بار اس کھانے کی تمنا کی۔ ہر مہمان کے ساتھ ان کا رویہ یکساں ہوتا تھا، چاہے اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی حصے سے ہو۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اماں مہارانی خود سبزی خور تھیں، گوشت، مچھلی اور مرغ سے اجتناب تھا لیکن ضیافت کی میز متنوع کھانوں سے سجی رہتی تھی۔ گوشت، مرغ اور مچھلی کے پکوان ایک الگ باورچی خانے میں تیار ہوتے تھے۔ مہمانوں کی خاطر مدارت بہترین قسم کی شراب سے کی جاتی تھی۔ بلور کے بیش قیمت جاموں میں چھلکتی شراب، قابوں میں سجے خوشبودار پکوان ٹراونکور کی ضیافتوں کی جان تھے۔
شاہی خاندان کے لوگ سبزی خور تھے اور شراب کے بجائے صرف پانی پر اکتفا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پرانی روایتوں کے مد نظر اور اماں مہارانی کے بنائے اصولوں کے مطابق ٹراونکور میں آج بھی دو قسم کے باورچی خانے موجود ہیں۔ ایک میں جنوبی ہند کے روایتی سبزیوں کے پکوان اور دوسرے باورچی خانے میں مغربی طرز پر گوشت مچھلی اور مرغ کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔
ٹراونکور کے 65 سالہ پرانے تجربہ کار باورچی کا ایک سادہ سا پکوان۔
گاجر کو بیچ سے چاک کرلیں اور تازہ تراشے ناریل سے بھر دیں۔ گاجر کے اوپر کے حصے کو بریڈ کرمب سے بند کر دیں۔ تیل میں فرائی کرکے میز پر پیش کریں۔ سادہ آسان اور مزیدار۔
سلمیٰ حسین/ماہر طباخ، دہلی
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...