وجود

... loading ...

وجود

سرکاری کالجوں میں امتحانی فیس کی دھڑلّے سے وصولی، طلبہ پریشانی کاشکار

پیر 17 جولائی 2017 سرکاری کالجوں میں امتحانی فیس کی دھڑلّے سے وصولی، طلبہ پریشانی کاشکار


2010میں آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعدسندھ حکومت نے تعلیمی شعبے میں بہتری لانے کے لیے 2014 میں ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت 2018 تک صوبے میں تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا گیاتھا ، اس منصوبے کے تحت یہ طے کیاگیاتھا کہ سرکاری اسکولوں تک طلباء کی رسائی میں اضافہ کیاجائے گا اور اسکول کی تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی۔ اساتذہ کی بھرتی کے طریقہ کار کو زیادہ شفاف بناکر صرف میرٹ کی بنیاد پربھرتیوں کویقینی بنایاجائے گا،اساتذہ کی تربیت کامناسب انتظام کیاجائے گا اور ان کے لیے باقاعدہ تربیتی سیشنز کا اہتمام کیاجائے گا۔اسکول نہ آنے والے بچوں کے اسکولوں میں داخلے کو یقینی بنایاجائے گا،میٹر ک اور انٹر میں تعلیم کے لیے طلباء سے کوئی رجسٹریشن اور امتحانی فیس نہیں لی جائے گی اور یہ خرچ حکومت خود برداشت کرے گی تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ ممکنہ بجٹ فراہم کیاجائے گا اور ہر سال اس بجٹ میں مناسب حدتک اضافہ کیاجائے گا۔اسکولوں کے لیے نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی اور موجودہ مرمت طلب عمارتوں کی مرمت اور تزئین وآرائش کی جائے گی۔
آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے اپنی نوعیت کا یہ پہلامنصوبہ بنایاتھا اور جیسا کہ اس میں درج مقاصد دیکھ کر محسوس ہوتاتھا کہ سندھ کی حکومت واقعی تعلیمی شعبے میں انقلابی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوجائے گی اور اس صوبے کے غریب عوام کے بچے بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوسکیں گے۔سندھ میں تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کا یہ منصوبہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 25 سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ آئین کی دفعہ 25 میںمفت تعلیم کاحصول ملک کے 5سال سے16 سال تک ہر بچے کابنیادی حق اور حکومت وقت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے، اس حوالے سے گزشتہ سال اپریل میں محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیاگیاتھا جس میں کہاگیاتھا کہ اب میٹرک اور انٹر میں تعلیم کے لیے طلباء سے کوئی رجسٹریشن اور امتحانی فیس نہیں لی جائے گی، یہ نوٹیفکیشن اطلاعا ت کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری سے جاری کیاگیاتھا اور اس کی تجویز وزیر تعلیم سندھ جام مہتاب حسین ڈاہر نے محکمہ تعلیم کی جانب سے کالجوں کے پرنسپلز کے لیے منعقدہ ورکشاپ کے دوران دی تھی ،اس کامقصد فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو خیر باد کہنے پر مجبور ہونے والے طلباء کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور اسکولوں اور کالجوں میں طلباء کی کم ہوتی ہوئی شرح کو روکنا تھا ،لیکن اب تک صورت حال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے جس کااندازا اس سے لگایاجاسکتاہے کہ دیہی علاقے تو کجا کراچی جیسے بڑے شہر اور سندھ کے دارالحکومت میں بھی طلباء سے میٹرک اور انٹر کی رجسٹریشن اور امتحانی فیس نہ صرف یہ کہ کھلے عام وصول کی جارہی ہے بلکہ مقررہ تاریخ کے اندر فیس جمع نہ کرانے والے طلباء کو امتحان میں شامل نہ ہونے دینے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ،طلباء سے صرف رجسٹریشن اور امتحانی فیس ہی وصول نہیں کی جارہی ہے بلکہ فیس جمع کرانے کے لیے فارم کی بھی کم از کم 60 روپے قیمت وصول کی جارہی ہے۔ کالج کے ہر طالب علم کو فارم میں درج رقم کے مطابق بینک میں 540 روپے جمع کرانا ہوتے ہیں۔ اس طرح ہر طالب علم کے والدین کو کم از کم 600 روپے کا زیر بار ہونا پڑتا ہے،600 روپے کی یہ رقم محکمہ تعلیم کے افسران اور کالج کے اساتذہ کے لیے معمولی رقم ہوسکتی ہے لیکن جو غریب لوگ روزانہ محنت مزدوری کرکے بمشکل 200 روپے کماتے ہیں، ان کے دل سے پوچھئے کہ انھیں اپنے بچے کو تعلیم دلانے کے لیے یہ 600 روپے کتنا بڑا بوجھ معلوم ہوتاہوگا اور نہ معلوم کتنے لوگوں کے پاس یہ 600 روپے ادا کرنے کی استعداد نہ رکھنے کے باعث اپنے بچے کو اس کی خواہش اور امنگوں کے برعکس تعلیم ترک کرنے پر مجبور کرنے کامشورہ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔اطلاعات کے مطابق کالج کے طلباء کو یہ فیس جمع کرانے کے لیے20 جولائی تک کی مہلت دی گئی ہے۔
اس صورت حال سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تعلیم عام کرنے اور صوبے کے ہر بچے کی تعلیم تک رسائی کا وعدہ پورا کرنے اور خود اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عملدر آمد کرانے کے حوالے سے اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ،یہاں یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ حکومت سندھ کے قول اور فعل میں اس فرق کی وجہ سے صوبے میںآج بھی کم وبیش 50 فیصدبچے اسکول جانے سے محروم ہیں ،اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیاں ایک خواب ہیں، جس کااندازہ وقتاً فوقتاً ظاہرہونے والے اسکینڈلز سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے جب بعض صحافیوں نے سیکریٹری تعلیم کالجز سے رابطہ قائم کیا اور انھیں اس صورت حال سے آگاہ کیا توانھوں نے محکمہ تعلیم کی جانب سے طلباء سے کسی طرح کی امتحانی اور رجسٹریشن فیس کی وصولی سے متعلق کسی ہدایت سے قطعی لاتعلقی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی اور طلباء سے فیس طلب کرنے والے کالجوں کے پرنسپلز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے اس حوالے سے ریجنل ڈائریکٹر کالجز کو فیس وصولی کی شکایات کا نوٹس لینے اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخر محکمہ تعلیم نے خود اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پر جو وزیرتعلیم سندھ کی سفارش پر وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری سے جاری ہواتھا، پوری طرح عملدرآمد کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے اور ایسی نوبت کیوں آنے دی کہ بعض کالجوں کے اساتذہ کو طالب علموں کو فیس جمع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈائریکٹر کالجز طلباء سے ناجائز طورپر فیس وصول کرنے والے پرنسپلز اور اساتذہ کے خلاف کیاکارروائی کرتے ہیں اور جن طلباء نے مجبوری کے عالم میں فیس جمع کرادی ہے، ان کی جمع کرائی گئی فیس کی واپسی کاکیا انتظام کیاجاتاہے۔


متعلقہ خبریں


عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط وجود - هفته 10 جنوری 2026

بحریہ ٹاؤن اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کیخلاف تحقیقات ایکبار پھر بحال کر دی ،چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، ذرائع کارروائی کے دوران کسی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ، ضبط شدہ...

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم وجود - هفته 10 جنوری 2026

پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے نمائندگان کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی پی ایس ایل کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گی، محسن نقوی،عطاء تارڑ موجود تھے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی بڈنگ جیتنے والی فرمز کے نمائندگان نے ملاقات کی ہے۔تفصیل...

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون وجود - جمعه 09 جنوری 2026

کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون

مضامین
لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں وجود پیر 12 جنوری 2026
شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں

انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر