وجود

... loading ...

وجود

جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

اتوار 16 جولائی 2017 جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ سندھ کی جیلیں تو جہنم ہیں لیکن اب ایسا نہیں۔پاکستانی جیلوں کی ا نوکھی تاریخ میں حال ہی میں شاندار باب اس وقت لکھا گیا جب رینجرز کے چھاپے کے دوران موبائل فونز سے لے کر ریفریجریٹر تک بر آمد ہوئے۔جیلوں میں اب قانون شکن عناصر کی عملداری ہے جو جیلر سمیت پورے پورے عملے کو خرید لیتے ہیں اور جیل پر خود حکمرانی کرتے ہیں ۔ ملک میں کچھ جیلیں واقعی ایسی جیلیں ہیں جن کی سختیوں کی کئی داستانیں ہیں ۔جن میں مچ جیل‘ ساہیوال جیل‘ اڈیالہ جیل ‘بنوں جیل‘ خیرپورجیل‘ سکھر سینٹرل جیل شامل ہیں ،جن کے نام سن کر ہی مجرموں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے لیکن عملی طور پر اب سندھ میں جیلیں دُکان کی طرح بن گئی ہیں ،جہاں جو چیز چاہیں خریدلیں جو کچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں،پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت سندھ بھر کی جیلیں بااثر قیدیوں کے ہاتھ میں آگئی ہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ جس طرح بااثر قیدی چاہتے ہیں جیل کا نظام ایسے ہی چلتا ہے۔ جیل اہلکار صرف پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں۔
سینٹرل جیل کراچی کی ایک طویل داستان ہے۔ یہاں صولت مرزا‘ منہاج قاضی جیسے بااثر قیدیوں کو انٹرنیٹ‘ موبائل فون‘ ایئرکنڈیشن‘ ریفریجریٹر‘ ٹی وی‘ سی ڈی‘ وی سی ڈی کی مکمل سہولت حاصل رہی مگر اب تو معاملہ وسیع ہوگیا ہے اب تو سینٹرل جیل حکام نے سہولت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ ریٹ مقرر کردیے ہیں جو قیدی جتنے پیسے دے گا وہ اتنی ہی سہولتیں بھی حاصل کرسکے گا۔ جیل حکام کی اسی نااہلی اور رشوت خوری نے سینٹرل جیل کو مکمل طور پر غیر محفوظ کردیا ہے ۔
محکمہ جیل خانہ جات نے گزشتہ دنوںایک فہرست تیار کی جس میں بتایاگیا ہے کہ 63قیدی ا یسے ہیں جن کو جیل میں اے کلاس‘بی کلاس اور سی کلاس دی گئی ہے یعنی جس نے جتنی رقم دی اس کو اتنی اچھی کلاس ملی۔ ان کو برداشتی (جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار) موبائل فون‘ ٹی ویریفریجریٹر‘ ڈسپنسر اور دیگر سہولتیں ملیں ۔ حد تو یہ ہے کہ منہاج قاضی‘ سہیل عرف سناٹا‘ حافظ قاسم رشید جیسے لوگ بھی جیل میں اے کلاس
اور بی کلاس میں رہتے ہیں جہاں ان کو جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار ملے ہوئے ہیں۔ جیل میں جن63قیدیوں کو سہولتیں ملی ہوئی ہیں ان میں سہیل طالب‘ سید زاہد علی‘ رفیق احمد راجپوت‘ شکیل احمد‘ سیدصلاح الدین‘ غلام محی الدین‘ عبداللطیف‘ شمشاد علی‘ محمد حسیب خان‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ نور محمد‘ شبیر احمد عرف فرحان ملا‘ حسن اختر‘ سید منظر عباس‘ فرید نسیم‘ سید راشد حسین رضوی‘ وسیم اقبال‘ شاہد عمر‘ شاہ رفیع الدین‘ فریداحمد یوسفانی‘ فریدالدین‘ ملک شاہد احمد خان‘ حمود الرحمان قاضی‘ مظفرعلی زبیری‘ محمدشکیل احمدخان‘ وقاص احمد خان‘ چودھری محمد اشرف‘ انجم جمیل صدیقی‘ محمد ناصر شیخ‘ عبدالمالک مظہر‘ محمد فاروق انصاری‘ طاہر جمیل درانی‘ مکرم عالم خان‘ سید طاہر حسن‘ رفیع الدین میمن‘ رسول بخش‘ محمد منہاج قاضی عرف اسد‘ سابق سیکریٹری ایکسائز اقبال احمد بابلانی‘ محمدفہدعلی خان آفریدی‘ رانا منیر احمد خان‘ سابق سیکریٹری بلدیات علی احمد لونڈ‘ عبدالعلیم خان‘ مظہر علی‘ محمدمکرم‘ شارق رضا (حرکت المجاہدین) تجمل شیراز اسلم (حرکت المجاہدین) عمر حسین صدیقی‘ مسرور احمد خان‘ طاہرحسین‘ عمران غنی‘ مرزا ابراربیگ‘ قمر محمود خان‘ شاہ عبدالرحیم‘ بابر علی سولنگی‘ فرحان کامرانی‘ مرزا ذیشان بیگ‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ واثق محمد یوسف‘ محمد مسعود‘ محمد شاکر‘ اعظم بروہی اور سہیل احمد عرف سناٹا (کالعدم تحریک طالبان) شامل ہیں۔
اس رپورٹ سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ جو قیدی جتناپیسہ خرچ کرے اسے اتنی سہولیات مل جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ جیل کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ کائونٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اس صورتِ حال پر ایک تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی ہے جس میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کالعدم لشکرجھنگوی کے حافظ قاسم رشید اور منہاج قاضی جیل کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں وہ جو بھی چاہتے ہیں وہ ہوجاتا ہے جیل کے بااثر قیدی جس طرح چاہیں نقل وحرکت کرسکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عدالت میں پیشی نہ ہونے کے باوجود عدالت جاسکتے ہیں ۔جوڈیشل کمپلیکس کاچکر لگاسکتے ہیں کسی اسپتال میں داخل ہوسکتے ہیں ۔جیل میں کوئی بھی منشیات لاسکتے ہیں۔ کئی قیدیوں کو خاموشی سے اپنے گھر جانے کی بھی اجازت ہے۔ ماضی میں ایسے سینکڑوں قیدیوں کی مثالیں موجود ہیں جو رات کو اپنے گھر چلے جاتے تھے اور علی الصبح جیل آجاتے تھے اور دن بھر وہ جیل میں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں یا پھر اپنے پر آسائش کمرے میں آرام کرتے رہتے تھے۔
سینٹرل جیل ایک عیش کدہ یا دُکان بن کر رہ گئی ہے جس میں خریدار جو چاہے خریدسکتا ہے اور عیش کر سکتا ہے ۔ جیل کا نااہل اورکرپٹ عملہ اس پر چوںبھی نہیںکرتا۔ جیل میں63بااثر قیدیوں کی یہ فہرست تو دکھاوے کی ہے۔ اصل میں تو150 سے زائد قیدی ایسے ہیں جن کو جیل میں وہ زندگی حاصل ہے جو انہیں شاید جیل سے باہر بھی نصیب نہ ہو۔ سینٹرل جیل کراچی سے ابھی تو صرف دو قیدی فرار ہوئے ہیں آنے والے دنوں میں درجنوں قیدی فرار ہوسکتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں دل کھول کر مال خرچ کرنا پڑے گا۔ ابھی تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ملازمت سے برطرف کیاگیاہے لیکن سینٹرل جیل کے حالات جس نہج پر چل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ آنے والے چند روز میں کچھ اہلکار برطرف یا معطل ہوں گے پھر وہ جیل سے کمایا ہوا مال خرچ کریں گے اور بحال ہوجائیں گے اور پھر اپنے پرانے دھندے میں لگ جائیں گے۔ جب تک حقیقی معنوں میں جیل کا آپریشن کلین اپ نہیں ہوتا تب تک قیدی جیل عملے کی مدد سے یونہی فرار ہوتے رہیں گے اور جیل کے قیدی عیش کے دن گزارتے رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر