وجود

... loading ...

وجود

جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

اتوار 16 جولائی 2017 جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ سندھ کی جیلیں تو جہنم ہیں لیکن اب ایسا نہیں۔پاکستانی جیلوں کی ا نوکھی تاریخ میں حال ہی میں شاندار باب اس وقت لکھا گیا جب رینجرز کے چھاپے کے دوران موبائل فونز سے لے کر ریفریجریٹر تک بر آمد ہوئے۔جیلوں میں اب قانون شکن عناصر کی عملداری ہے جو جیلر سمیت پورے پورے عملے کو خرید لیتے ہیں اور جیل پر خود حکمرانی کرتے ہیں ۔ ملک میں کچھ جیلیں واقعی ایسی جیلیں ہیں جن کی سختیوں کی کئی داستانیں ہیں ۔جن میں مچ جیل‘ ساہیوال جیل‘ اڈیالہ جیل ‘بنوں جیل‘ خیرپورجیل‘ سکھر سینٹرل جیل شامل ہیں ،جن کے نام سن کر ہی مجرموں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے لیکن عملی طور پر اب سندھ میں جیلیں دُکان کی طرح بن گئی ہیں ،جہاں جو چیز چاہیں خریدلیں جو کچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں،پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت سندھ بھر کی جیلیں بااثر قیدیوں کے ہاتھ میں آگئی ہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ جس طرح بااثر قیدی چاہتے ہیں جیل کا نظام ایسے ہی چلتا ہے۔ جیل اہلکار صرف پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں۔
سینٹرل جیل کراچی کی ایک طویل داستان ہے۔ یہاں صولت مرزا‘ منہاج قاضی جیسے بااثر قیدیوں کو انٹرنیٹ‘ موبائل فون‘ ایئرکنڈیشن‘ ریفریجریٹر‘ ٹی وی‘ سی ڈی‘ وی سی ڈی کی مکمل سہولت حاصل رہی مگر اب تو معاملہ وسیع ہوگیا ہے اب تو سینٹرل جیل حکام نے سہولت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ ریٹ مقرر کردیے ہیں جو قیدی جتنے پیسے دے گا وہ اتنی ہی سہولتیں بھی حاصل کرسکے گا۔ جیل حکام کی اسی نااہلی اور رشوت خوری نے سینٹرل جیل کو مکمل طور پر غیر محفوظ کردیا ہے ۔
محکمہ جیل خانہ جات نے گزشتہ دنوںایک فہرست تیار کی جس میں بتایاگیا ہے کہ 63قیدی ا یسے ہیں جن کو جیل میں اے کلاس‘بی کلاس اور سی کلاس دی گئی ہے یعنی جس نے جتنی رقم دی اس کو اتنی اچھی کلاس ملی۔ ان کو برداشتی (جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار) موبائل فون‘ ٹی ویریفریجریٹر‘ ڈسپنسر اور دیگر سہولتیں ملیں ۔ حد تو یہ ہے کہ منہاج قاضی‘ سہیل عرف سناٹا‘ حافظ قاسم رشید جیسے لوگ بھی جیل میں اے کلاس
اور بی کلاس میں رہتے ہیں جہاں ان کو جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار ملے ہوئے ہیں۔ جیل میں جن63قیدیوں کو سہولتیں ملی ہوئی ہیں ان میں سہیل طالب‘ سید زاہد علی‘ رفیق احمد راجپوت‘ شکیل احمد‘ سیدصلاح الدین‘ غلام محی الدین‘ عبداللطیف‘ شمشاد علی‘ محمد حسیب خان‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ نور محمد‘ شبیر احمد عرف فرحان ملا‘ حسن اختر‘ سید منظر عباس‘ فرید نسیم‘ سید راشد حسین رضوی‘ وسیم اقبال‘ شاہد عمر‘ شاہ رفیع الدین‘ فریداحمد یوسفانی‘ فریدالدین‘ ملک شاہد احمد خان‘ حمود الرحمان قاضی‘ مظفرعلی زبیری‘ محمدشکیل احمدخان‘ وقاص احمد خان‘ چودھری محمد اشرف‘ انجم جمیل صدیقی‘ محمد ناصر شیخ‘ عبدالمالک مظہر‘ محمد فاروق انصاری‘ طاہر جمیل درانی‘ مکرم عالم خان‘ سید طاہر حسن‘ رفیع الدین میمن‘ رسول بخش‘ محمد منہاج قاضی عرف اسد‘ سابق سیکریٹری ایکسائز اقبال احمد بابلانی‘ محمدفہدعلی خان آفریدی‘ رانا منیر احمد خان‘ سابق سیکریٹری بلدیات علی احمد لونڈ‘ عبدالعلیم خان‘ مظہر علی‘ محمدمکرم‘ شارق رضا (حرکت المجاہدین) تجمل شیراز اسلم (حرکت المجاہدین) عمر حسین صدیقی‘ مسرور احمد خان‘ طاہرحسین‘ عمران غنی‘ مرزا ابراربیگ‘ قمر محمود خان‘ شاہ عبدالرحیم‘ بابر علی سولنگی‘ فرحان کامرانی‘ مرزا ذیشان بیگ‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ واثق محمد یوسف‘ محمد مسعود‘ محمد شاکر‘ اعظم بروہی اور سہیل احمد عرف سناٹا (کالعدم تحریک طالبان) شامل ہیں۔
اس رپورٹ سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ جو قیدی جتناپیسہ خرچ کرے اسے اتنی سہولیات مل جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ جیل کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ کائونٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اس صورتِ حال پر ایک تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی ہے جس میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کالعدم لشکرجھنگوی کے حافظ قاسم رشید اور منہاج قاضی جیل کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں وہ جو بھی چاہتے ہیں وہ ہوجاتا ہے جیل کے بااثر قیدی جس طرح چاہیں نقل وحرکت کرسکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عدالت میں پیشی نہ ہونے کے باوجود عدالت جاسکتے ہیں ۔جوڈیشل کمپلیکس کاچکر لگاسکتے ہیں کسی اسپتال میں داخل ہوسکتے ہیں ۔جیل میں کوئی بھی منشیات لاسکتے ہیں۔ کئی قیدیوں کو خاموشی سے اپنے گھر جانے کی بھی اجازت ہے۔ ماضی میں ایسے سینکڑوں قیدیوں کی مثالیں موجود ہیں جو رات کو اپنے گھر چلے جاتے تھے اور علی الصبح جیل آجاتے تھے اور دن بھر وہ جیل میں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں یا پھر اپنے پر آسائش کمرے میں آرام کرتے رہتے تھے۔
سینٹرل جیل ایک عیش کدہ یا دُکان بن کر رہ گئی ہے جس میں خریدار جو چاہے خریدسکتا ہے اور عیش کر سکتا ہے ۔ جیل کا نااہل اورکرپٹ عملہ اس پر چوںبھی نہیںکرتا۔ جیل میں63بااثر قیدیوں کی یہ فہرست تو دکھاوے کی ہے۔ اصل میں تو150 سے زائد قیدی ایسے ہیں جن کو جیل میں وہ زندگی حاصل ہے جو انہیں شاید جیل سے باہر بھی نصیب نہ ہو۔ سینٹرل جیل کراچی سے ابھی تو صرف دو قیدی فرار ہوئے ہیں آنے والے دنوں میں درجنوں قیدی فرار ہوسکتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں دل کھول کر مال خرچ کرنا پڑے گا۔ ابھی تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ملازمت سے برطرف کیاگیاہے لیکن سینٹرل جیل کے حالات جس نہج پر چل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ آنے والے چند روز میں کچھ اہلکار برطرف یا معطل ہوں گے پھر وہ جیل سے کمایا ہوا مال خرچ کریں گے اور بحال ہوجائیں گے اور پھر اپنے پرانے دھندے میں لگ جائیں گے۔ جب تک حقیقی معنوں میں جیل کا آپریشن کلین اپ نہیں ہوتا تب تک قیدی جیل عملے کی مدد سے یونہی فرار ہوتے رہیں گے اور جیل کے قیدی عیش کے دن گزارتے رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

مضامین
شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر