وجود

... loading ...

وجود

جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

اتوار 16 جولائی 2017 جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ سندھ کی جیلیں تو جہنم ہیں لیکن اب ایسا نہیں۔پاکستانی جیلوں کی ا نوکھی تاریخ میں حال ہی میں شاندار باب اس وقت لکھا گیا جب رینجرز کے چھاپے کے دوران موبائل فونز سے لے کر ریفریجریٹر تک بر آمد ہوئے۔جیلوں میں اب قانون شکن عناصر کی عملداری ہے جو جیلر سمیت پورے پورے عملے کو خرید لیتے ہیں اور جیل پر خود حکمرانی کرتے ہیں ۔ ملک میں کچھ جیلیں واقعی ایسی جیلیں ہیں جن کی سختیوں کی کئی داستانیں ہیں ۔جن میں مچ جیل‘ ساہیوال جیل‘ اڈیالہ جیل ‘بنوں جیل‘ خیرپورجیل‘ سکھر سینٹرل جیل شامل ہیں ،جن کے نام سن کر ہی مجرموں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے لیکن عملی طور پر اب سندھ میں جیلیں دُکان کی طرح بن گئی ہیں ،جہاں جو چیز چاہیں خریدلیں جو کچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں،پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت سندھ بھر کی جیلیں بااثر قیدیوں کے ہاتھ میں آگئی ہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ جس طرح بااثر قیدی چاہتے ہیں جیل کا نظام ایسے ہی چلتا ہے۔ جیل اہلکار صرف پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں۔
سینٹرل جیل کراچی کی ایک طویل داستان ہے۔ یہاں صولت مرزا‘ منہاج قاضی جیسے بااثر قیدیوں کو انٹرنیٹ‘ موبائل فون‘ ایئرکنڈیشن‘ ریفریجریٹر‘ ٹی وی‘ سی ڈی‘ وی سی ڈی کی مکمل سہولت حاصل رہی مگر اب تو معاملہ وسیع ہوگیا ہے اب تو سینٹرل جیل حکام نے سہولت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ ریٹ مقرر کردیے ہیں جو قیدی جتنے پیسے دے گا وہ اتنی ہی سہولتیں بھی حاصل کرسکے گا۔ جیل حکام کی اسی نااہلی اور رشوت خوری نے سینٹرل جیل کو مکمل طور پر غیر محفوظ کردیا ہے ۔
محکمہ جیل خانہ جات نے گزشتہ دنوںایک فہرست تیار کی جس میں بتایاگیا ہے کہ 63قیدی ا یسے ہیں جن کو جیل میں اے کلاس‘بی کلاس اور سی کلاس دی گئی ہے یعنی جس نے جتنی رقم دی اس کو اتنی اچھی کلاس ملی۔ ان کو برداشتی (جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار) موبائل فون‘ ٹی ویریفریجریٹر‘ ڈسپنسر اور دیگر سہولتیں ملیں ۔ حد تو یہ ہے کہ منہاج قاضی‘ سہیل عرف سناٹا‘ حافظ قاسم رشید جیسے لوگ بھی جیل میں اے کلاس
اور بی کلاس میں رہتے ہیں جہاں ان کو جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار ملے ہوئے ہیں۔ جیل میں جن63قیدیوں کو سہولتیں ملی ہوئی ہیں ان میں سہیل طالب‘ سید زاہد علی‘ رفیق احمد راجپوت‘ شکیل احمد‘ سیدصلاح الدین‘ غلام محی الدین‘ عبداللطیف‘ شمشاد علی‘ محمد حسیب خان‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ نور محمد‘ شبیر احمد عرف فرحان ملا‘ حسن اختر‘ سید منظر عباس‘ فرید نسیم‘ سید راشد حسین رضوی‘ وسیم اقبال‘ شاہد عمر‘ شاہ رفیع الدین‘ فریداحمد یوسفانی‘ فریدالدین‘ ملک شاہد احمد خان‘ حمود الرحمان قاضی‘ مظفرعلی زبیری‘ محمدشکیل احمدخان‘ وقاص احمد خان‘ چودھری محمد اشرف‘ انجم جمیل صدیقی‘ محمد ناصر شیخ‘ عبدالمالک مظہر‘ محمد فاروق انصاری‘ طاہر جمیل درانی‘ مکرم عالم خان‘ سید طاہر حسن‘ رفیع الدین میمن‘ رسول بخش‘ محمد منہاج قاضی عرف اسد‘ سابق سیکریٹری ایکسائز اقبال احمد بابلانی‘ محمدفہدعلی خان آفریدی‘ رانا منیر احمد خان‘ سابق سیکریٹری بلدیات علی احمد لونڈ‘ عبدالعلیم خان‘ مظہر علی‘ محمدمکرم‘ شارق رضا (حرکت المجاہدین) تجمل شیراز اسلم (حرکت المجاہدین) عمر حسین صدیقی‘ مسرور احمد خان‘ طاہرحسین‘ عمران غنی‘ مرزا ابراربیگ‘ قمر محمود خان‘ شاہ عبدالرحیم‘ بابر علی سولنگی‘ فرحان کامرانی‘ مرزا ذیشان بیگ‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ واثق محمد یوسف‘ محمد مسعود‘ محمد شاکر‘ اعظم بروہی اور سہیل احمد عرف سناٹا (کالعدم تحریک طالبان) شامل ہیں۔
اس رپورٹ سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ جو قیدی جتناپیسہ خرچ کرے اسے اتنی سہولیات مل جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ جیل کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ کائونٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اس صورتِ حال پر ایک تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی ہے جس میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کالعدم لشکرجھنگوی کے حافظ قاسم رشید اور منہاج قاضی جیل کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں وہ جو بھی چاہتے ہیں وہ ہوجاتا ہے جیل کے بااثر قیدی جس طرح چاہیں نقل وحرکت کرسکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عدالت میں پیشی نہ ہونے کے باوجود عدالت جاسکتے ہیں ۔جوڈیشل کمپلیکس کاچکر لگاسکتے ہیں کسی اسپتال میں داخل ہوسکتے ہیں ۔جیل میں کوئی بھی منشیات لاسکتے ہیں۔ کئی قیدیوں کو خاموشی سے اپنے گھر جانے کی بھی اجازت ہے۔ ماضی میں ایسے سینکڑوں قیدیوں کی مثالیں موجود ہیں جو رات کو اپنے گھر چلے جاتے تھے اور علی الصبح جیل آجاتے تھے اور دن بھر وہ جیل میں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں یا پھر اپنے پر آسائش کمرے میں آرام کرتے رہتے تھے۔
سینٹرل جیل ایک عیش کدہ یا دُکان بن کر رہ گئی ہے جس میں خریدار جو چاہے خریدسکتا ہے اور عیش کر سکتا ہے ۔ جیل کا نااہل اورکرپٹ عملہ اس پر چوںبھی نہیںکرتا۔ جیل میں63بااثر قیدیوں کی یہ فہرست تو دکھاوے کی ہے۔ اصل میں تو150 سے زائد قیدی ایسے ہیں جن کو جیل میں وہ زندگی حاصل ہے جو انہیں شاید جیل سے باہر بھی نصیب نہ ہو۔ سینٹرل جیل کراچی سے ابھی تو صرف دو قیدی فرار ہوئے ہیں آنے والے دنوں میں درجنوں قیدی فرار ہوسکتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں دل کھول کر مال خرچ کرنا پڑے گا۔ ابھی تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ملازمت سے برطرف کیاگیاہے لیکن سینٹرل جیل کے حالات جس نہج پر چل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ آنے والے چند روز میں کچھ اہلکار برطرف یا معطل ہوں گے پھر وہ جیل سے کمایا ہوا مال خرچ کریں گے اور بحال ہوجائیں گے اور پھر اپنے پرانے دھندے میں لگ جائیں گے۔ جب تک حقیقی معنوں میں جیل کا آپریشن کلین اپ نہیں ہوتا تب تک قیدی جیل عملے کی مدد سے یونہی فرار ہوتے رہیں گے اور جیل کے قیدی عیش کے دن گزارتے رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آنے والے مہمان پرندوں نے سی ویو، ہاکس بے اور رشین بیچ سمیت سندھ کی جھیلوں کا رخ کرلیا سرد ترین علاقے سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے مہمان پرندوں کی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے ساحلی علاقوں اور آبی ذخائر کی رو...

سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ملک میں ہر سال 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں، پی آئی ڈی ای ملک میں نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کا حصول سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے 31 سے 33 فیصد تک ب...

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

واقعہ راجن پور میں انڈس ہائی وے بنگلہ ہدایت کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، ریسکیووزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار،زخمی مسافروں کے بہترین علاج کا حکم راجن پور میں صبح سویرے سویرے انڈس ہائی وے پر س...

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سندھ ہائی کورٹ نے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے خورد برد کے مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست پر تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 2 نومبر تک جواب طل...

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایرانی حکومت کے خاتمے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی، اسرائیلی وزیراعظم اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایک فوجی مشق کے دوران ایران کی جانب پرواز کی ہے۔ امریکی میڈیا فوکس نیوز کے چیف فارن کوریسپونڈنٹ ٹری ینگسٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے رات گئے فوجی مشق کی، ج...

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

دہشت گردی کے خلاف ہیں،،ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے، گفتگو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نش...

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سلمان اکر م راجہ کے ریمارکس وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، بیرسٹر گوہر ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا او...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے، ایرانی حکام پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران دورے پر پہنچے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے کا تعلق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے بھی ہے...

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

مضامین
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں! وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں!

جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی

عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت

افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ

مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر