وجود

... loading ...

وجود

بھارتی صدارتی انتخاب میں رام ناتھ کووند کی نامزدگی ہندو راشٹر کے قیام کی جانب پہلا قدم

اتوار 16 جولائی 2017 بھارتی صدارتی انتخاب میں رام ناتھ کووند کی نامزدگی ہندو راشٹر کے قیام کی جانب پہلا قدم


بھارت میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے گہماگہمی شروع ہوچکی ہے،حکمران بھاریہ جنتا پارٹی کی حزب اختلاف کی جماعتوں کو ساتھ ملانے اور متفقہ صدر لانے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں ۔ اس طرح اب پیر17جولائی کوبھارت کے نئے صدر کا انتخاب ہوگا۔بھارت کا یہ صدارتی انتخاب کئی اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ سب سے پہلے تو اس لحاظ سے کہ اس انتخابی معرکے میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزب مخالف کی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ، دونوں دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنا امیدوار اتر پردیش کے دلت رام ناتھ کووند کو نامزد کیا ہے جو کٹر ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS)سے تعلق رکھتے ہیں۔ رام ناتھ کووند اس وقت بہار کے گورنر ہیں۔ ان کی نامزدگی اس لحاظ سے منافقت کی مثال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آرایس ایس دونوں ہمیشہ سے دلتوں کے سخت خلاف رہی ہیںاور ا ن کے خفیہ لشکر اب بھی دلتوں سے بر سر پیکار رہتے ہیں۔
حزب مخالف کی طرف سے لوک سبھا کی پہلی خاتون اسپیکر میرا کمار کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بھی دلت طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ میرا کمار ، بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم جگ جیون رام کی صاحب زادی ہیں۔ جگ جیون رام بھارت کی تحریک آزادی کے ممتاز دلت رہنما رہے ہیں اور آزادی سے پہلے پنڈت نہرو کی عبوری کابینہ میں وزیر تھے۔ آزادی کے بعد وزیر دفاع رہے ہیں اور 71میں بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران وہ اسی عہدہ پر فائز تھے۔ اس زمانہ میں ان کے ساتھ نا انصافی صرف دلت ہونے کی بناپر ہوئی۔ کئی ایسے مواقع آئے تھے جب جگ جیون رام ، وزارت عظمیٰ پر متمکن ہو سکتے تھے لیکن محض دلت ہونے کی وجہ سے وہ یہ عہدہ حاصل کرنے سے محروم رہے تاہم 1992میںبھارت میں پہلی بار، ایک دلت کے نصیب جاگے جب کے آرنارائن نائب صدر کے عہدے پر منتخب ہوئے اور پھر 1997 میں وہ صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ اب دلت جگ جیون رام کی صاحب زادی میرا کمار ، صدر مملکت کے عہدہ کے لئے انتخاب لڑ رہی ہیں لیکن اس حقیقت کے باوجود کہ وہ 2009 سے2014تک لوک سبھا کی اسپیکر رہ چکی ہیںاور چار بار لوک سبھا کی رکن منتخب ہو چکی ہیں اور اس سے پہلے وزارت خارجہ میں اعلیٰ عہدہ پر فائز رہ چکی ہیں ، ان کی جیت کادور دور تک کوئی امکان نہیں ہے اور یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان کو بھی اپنے والد کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ صدر منتخب کرنے والے اداروں ،پارلیمنٹ کے 776 اور 29ریاستی اسمبلیوں کے 4120 اراکین میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھاری اکثریت ہے اس لیے رام ناتھ کووند کی جیت یقینی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ایک دلت ، رام ناتھ کو وند کو صدر کے انتخاب کے لئے نامزد کرنے کے پیچھے خالص سیاسی مقصد کار فرما ہے۔ ان کو امید ہے کہ ایک دلت کو اس عہدے کے لیے نامزد کر کے وہ بھارت کے 25 کروڑدلتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے اور ممکن ہے کہ 2019کے عام انتخابات میں وہ ان کی حمایت کے بل پر ایک دفعہ پھر میدان مارنے میں کامیاب ہوجائیں ۔ عام خیال تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے صدر کے عہدہ کے لیے لا ل کرشن ایڈوانی یا مرلی منوہر جوشی کو امیدوار نامزد کیا جائے گا لیکن چونکہ بابری مسجدکو شہید کیے جانے کے سلسلے میں ان دونوں کے خلاف اب بھی مقدمہ زیر سماعت ہے اس لیے انہیں نامزد نہیں کیا گیا۔ عام روایت ہے کہ نائب صدر کو صدر کے عہدہ کے لیے نامزد کیا جاتا ہے جیسے کہ ، صدر راجندر پرشاد کی میعاد کے خاتمہ پر نائب صدر رادھا کرشنن کو صدر نامزد کیا گیا تھا اور رادھا کرشنن کی میعاد کے خاتمہ کے بعدنائب صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کو صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کے انتقال کے بعد ان کے نائب صدر وی وی گری کو صدر کے عہدہ پر فائز کیا گیا تھا۔ اس وقت حامد انصاری گزشہ دو میعادوں سے نائب صدر کے عہدہ پر فائز ہیں ، روایت کے مطابق وہ صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کے حقدار تھے لیکن ، نریندر مودی نے ان کو مسترد کر دیا،وزیراعظم نریندرا مودی نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن ان کی اسلام دشمن روش پوری دنیا پر عیاں ہے۔ اس لیے سیاسی شعور رکھنے والوںکے لیے یہ کوئی انوکھا اور حیرت انگیز فیصلہ نہیں ہے۔
نریندر مودی اور آر ایس ایس کی مسلم دشمن حکمت عملی اب آہستہ آہستہ بے نقاب ہوتی جارہی ہے۔ 2014 کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو جو غیر معمولی فتح حاصل ہوئی اس کے بعد ان کی بڑی ہمت بندھی ہے اور اتر پردیش میںحالیہ انتخابات میں حیرت انگیزجیت کے بعد انہیں پورا یقین ہے کہ 2019 کے عام انتخابات میں تمام ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو فتح حاصل ہوگی۔ اسی کی بنیاد پر مودی نے پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے راج کانعرہ لگایا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اورآر ایس ایس کی حکمت
عملی ہے کہ اگلے عام انتخابات میں فتح کے ذریعہ لوک سبھا ، راجیہ سبھا اور تمام ریاستوں میں اپنااپنا تسلط جما یا جائے اور اس کے بعد آئین میںبڑے پیمانہ پر تبدیلی کی جائے اوربھارت کو ہندو راشٹر قرار دیا جائے۔ یوں 1925میں کیشو بالی رام ہیگواڑ نے آر ایس ایس کے قیام کے وقت ہندو راشٹر کا جو خواب دیکھا تھا اس کی تکمیل کی جائے گی اور گول والکر، مدھو کر دیورس ، سدرشن اور بھاگوت کی کوششوں کو کامیابی سے ہم کنار کیا جائے گا۔ نومبر1949میں بھارت کے آئین کی منظوری کے وقت آر ایس ایس نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اسے ہندوئوں کے قانون”مانو اسمرتی ”کے خلاف قرار دیا تھا۔ آر ایس ایس نے بھارت کے قومی پرچم ترنگے کو بھی مسترد کردیا تھا اور اس کی جگہ شیوا جی کازعفرانی پرچم ”بھا گوا دواج” لہرایا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کا ارادہ آئین میں تبدیلی اور ہندو راشٹر اور ہندوتوا کے قیام کے بعد ترنگے کی جگہ شیوا جی کے پرچم کو اپنانے کا ہے اور اسی کے ساتھ ملک میں پارلیمانی نظام ترک کر کے صدارتی راج رائج کر دیا جائے گا۔ یہ تو ظاہری علامتی تبدیلی ہوگی لیکن ہندو راشٹر کے قیام کے بعد جومعاشرتی اور سیاسی انقلابی تبدیلیاں ہوں گی ان کے دلتوں ، مسلمانوں ،عیسائیوںاور دوسری مذہبی اقلیتوں پر ظلم کے جو دروازے کھلیں گے ان کا آج کے حالات کے پیش نظراندازہ لگانا مشکل نہیں۔اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آر ایس ایس کے رنگ میں رنگے ، رام ناتھ کووند کی صدارتی انتخاب میں کامیابی اس حکمت عملی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔


متعلقہ خبریں


قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی،موبائل سگنل بحال رکھنے کا فیصلہ وجود - منگل 23 جون 2026

وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...

9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی،موبائل سگنل بحال رکھنے کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، وزیراعظم وجود - منگل 23 جون 2026

اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، وزیراعظم

عمران خان سے مشاورت کے بغیروفاق کو پیسے نہیں دینگے،اسد قیصر وجود - منگل 23 جون 2026

حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...

عمران خان سے مشاورت کے بغیروفاق کو پیسے نہیں دینگے،اسد قیصر

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

مضامین
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ وجود منگل 23 جون 2026
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران وجود منگل 23 جون 2026
خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران

سب سے مہنگا آدمی کون؟ وجود منگل 23 جون 2026
سب سے مہنگا آدمی کون؟

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو وجود منگل 23 جون 2026
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو

موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر