وجود

... loading ...

وجود

چھوٹا سا شمالی کوریا امریکا کے لیے درد سر بن گیا

اتوار 16 جولائی 2017 چھوٹا سا شمالی کوریا امریکا کے لیے درد سر بن گیا

امریکا کے بار بار کے انتباہ اور ہولناک دھمکیوں کے باوجود شمالی کوریا کی جانب سے میزائل اور ایٹمی تجربات کا تسلسل جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابقہ چند تجربات ناکامی کا شکار ضرور ہوئے لیکن اس کے بعد شمالی کوریا نے اپنی ان خامیوں پر فوری طورپر کنٹرول کرلیااور بعد میں شمالی کوریا نے جو میزائل تجربات کیے وہ ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگے اور اس طرح شمالی کوریا نے یہ ثابت کردیا کہ وہ امریکا سمیت کسی بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے کہ جس نے امریکا کو پریشان کردیاہے اور امریکی رہنما شمالی کوریاکو دبانے کے لیے مختلف ذرائع تلاش کررہے ہیں۔اس صورت حال سے ظاہر ہوتاہے کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کئی عشروں سے جاری کشیدگی اب اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔یوں تو امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا سلسلہ کئی برس سے جاری تھا۔ اس دوران گاہے بگاہے شمالی کوریا میزائل اور اٹیمی تجربات بھی کرتا رہا لیکن گزشتہ دنوں کم جونگ اْن کی سربراہی میں شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا جوکام یاب تجربہ کیا،اس نے پوری امریکی انتظامیہ ہی کو نہیں بلکہ امریکا کے پورے فوجی نظام کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔شمالی کوریا کے اس تجربے کے بعدان دونوں ممالک کے مابین کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور اب پختہ ارادے کے ساتھ جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس نوع کے بیانات ماضی میں بھی امریکی حکمرانوں اور فوج کے کمانڈروں کی جانب سے دیے جاتے رہے ہیں مگر عملی طور پر شمالی کوریا کے خلاف کوئی عسکری کارروائی ہنوز عمل میں نہیں لائی گئی۔
شمالی کوریا کا پڑوسی جنوبی کوریا ، امریکا کااتحادی ہے۔ اسے اس سپرپاور کی بھرپور مالی اور عسکری معاونت حاصل رہی ہے۔ شمالی کوریا کے میزائلوں سے بچانے کے لیے امریکا جنوبی کوریا کی درخواست پر وہاں میزائل شکن نظام ’’ تھاڈ ‘‘ (THAAD ) نصب کرنے کے لیے تیار تھا مگر عوامی احتجاج کے بعد جنوبی کوریا نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ شمالی امریکا کے پاس مختلف فاصلوں تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیںاور اب اس نے بین البراعظمی میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جو امریکی ریاست الاسکا تک مار کرسکتا ہے۔ یہ میزائل ایٹمی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
امریکا کے پاس ’’ تھاڈ‘‘ کی صورت میں حملہ آور میزائلوں کو دور ہی سے نشانا بنانے والا دفاعی نظام موجود ہے مگر شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے بعد دفاعی امور کے ماہرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے کہ کیا امریکا بین البراعظمی ایٹمی میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ تین دہائیوں کے دوران امریکا نے بین البراعظمی میزائلوں کو فضا میں تباہ کردینے والے نظام کی تیاری پر سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کرڈالے۔ اس کے باوجود پینٹاگون اور اس کی ٹھیکیدار کمپنیاں سو فی صد نتائج دینے والا ایٹمی میزائل شکن نظام تیار نہیں کرسکے۔ الاسکا اور کیلی فورنیا میں ایک اینٹی نیوکلیئر میزائل سسٹم کے پانچ تجربات کیے گئے تھے۔ ان میں سے تین ناکام رہے تھے۔ ان تجربات کی ناکامی کا اعتراف اعلیٰ عسکری حکام بھی کرچکے ہیں۔ جو دو تجربات کامیاب کہلائے گئے ان کی کام یابی بھی مشکوک تھی۔
کیلی فورنیا میں قائم جوہری عدم پھیلاؤ کے مطالعے کے مرکز ( جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن اسٹڈیز) میں ایسٹ ایشیا نان پرولیفریشن پروگرام کے ڈائریکٹر جیفری لیوس کہتے ہیں کہ اگر شمالی کوریا اور امریکا اپنے اپنے تمام میزائل ایک دوسرے کی جانب فائر کریں تو امریکی سرزمین پر گرنے والے میزائلوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ اس بیان سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ دشمن میزائلوں کے آگے امریکی دفاع کتنا بے بس ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے شمالی کوریا کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے توڑ کے طور پر مڈکورس ڈیفنس سسٹم کو پیش کیا جارہا ہے۔ بوئنگ اور کئی دوسری کمپنیوں کا مشترکہ طور پر تیارکردہ یہ زمینی نظام فضا میں پْرشور آواز کے ساتھ سفر کرنے والے میزائل کو تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر سابق اعلیٰ فوجی اہل کار اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اچانک یا شارٹ نوٹس پر کیے گئے بین البراعظمی میزائل کے حملے کی صورت میں بچاؤ کے امکانات محدودتر ہوں گے۔ گذشتہ ماہ پینٹاگون کے میزائل ڈیفنس پروگرام کے انچارج وائس ایڈمرل جیمز سرنج نے بھی کانگریس کو بتایاکہ انھیں اس سسٹم پر تحفظات ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق1985 سے لے کر اب تک کانگریس میزائل ڈیفنس پروگراموں کے لیے189.7 ارب ڈالر فراہم کرچکی ہے۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں وجود پانے والے کچھ پروگرام ضرورکامیاب ثابت ہوئے ہیں جیسے پیٹریاٹ میزائل سسٹم امریکا اور اس کے اتحادی ممالک میں استعمال ہورہا ہے۔ پیٹریاٹ کے علاوہ بھی خشکی اور پانی میں کام کرنے والے درمیانی فاصلے کے میزائلوں کو نشانا بنانے کی صلاحیت کے حامل اینٹی میزائل سسٹم کام یاب ثابت ہوئے ہیں تاہم بین البراعظمی بیلسٹک میزائل، اور خلا سے آنے والے انتہائی تیزرفتار میزائل کو نشانا بنانے کے لیے کوئی قابل بھروسا نظام ہنوز تشکیل نہیں دیا جاسکا ہے۔
اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے پینٹاگون کے سابق چیف ویپن ٹیسٹر فل کوئلی نے ایک جریدے سے بات چیت میں کہا،’’ اس ناکامی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ مشکل ترین کام ہے جو پینٹاگون نے کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں کم فاصلے اوردرمیانہ درجے کے میزائل شکن نظام میں زیادہ کام یابی ملی ہے مگر یہ میزائل سست رفتار ہوتے ہیں۔ اگر ایک میزائل 15 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آرہا ہے تو اسے نشانا بنانے کے لیے انتہائی مختصر وقت ملے گا۔ بدقسمتی سے اس میں ہمیں اب تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ اس میزائل شکن نظام کے پانچ تجربات کیے گئے جن میں سے3 ناکام رہے او رامریکا کا دعویٰ ہے کہ 2 میں بھی اس کی کام یابی کی شرح محض 40 فی صد رہی جو نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ غیر جانبدار فوجی ماہرین نے اگلے دو تجربات کو مکمل طورپر کامیاب قرار دیاہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بلندیوں کو چْھورہی ہے تاہم شمالی کوریا پر امریکی حملے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ امریکی صدر اور اعلیٰ عسکری حکام کی جانب سے ’ بدمعاش ریاست‘ کو سبق سکھانے کی باتیں ہورہی ہیں مگر یہ خالی خولی دھمکیاں ہیں۔ شمالی کوریا کے پاس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی صورت میں تباہ کْن ہتھیار موجود ہے جس کا امریکاکے پاس کوئی توڑ نہیںچنانچہ برتر ہونے کے باوجود امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف کسی عسکری کارروائی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔


متعلقہ خبریں


ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

مضامین
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی وجود جمعرات 05 مارچ 2026
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

Crime and Punishment وجود جمعرات 05 مارچ 2026
Crime and Punishment

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ وجود جمعرات 05 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر