وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حکومت بجلی صارفین کی دشمن بن گئی ۔ 30 کروڑ ڈالر قرض کا نیا بوجھ ڈالنے کافیصلہ

جمعرات 13 جولائی 2017 حکومت بجلی صارفین کی دشمن بن گئی ۔ 30 کروڑ ڈالر قرض کا نیا بوجھ ڈالنے کافیصلہ

حکومت کی جانب سے نجی کمپنیوں کو واجبات کی ادائی میں تاخیر کے باعث بڑھنے والی رقم کا بدلہ بھی صارفین سے لینے کا فیصلہ
حکومت تیل کی قیمتوںمیں کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت میں آنے والی کمی کا فائدہ بھی صارفین کودینے سے گریزاں
وفاقی حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 30 کروڑ ڈالرکا نیا قرض حاصل کرنے کے لیے بجلی کے صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کافیصلہ کرلیاہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو اس بات کی تحریری یقین دہانی کرادی ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کرنے میں ناکامی کی صورت میں حکومت بجلی کے صارفین پر نیا سرچارج عاید کردے گی۔اس طرح حکومت مالیاتی اور انتظامی شعبوں میں اپنی ناکامیوں کی قیمت بجلی کے غریب صارفین اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما کردینے والے صنعت کاروں سے وصول کرے گی۔
باوثوق ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ٹاکے ہیکو ناکائو کے نام9 مئی کو لکھے گئے اپنے خط میںیہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی یا حکومت کو ان کمپنیوں کامناسب خریدار دستیاب نہ ہوا تو حکومت ایشیائی ترقیاتی بینک کا 30 کروڑ ڈالر کاقرض ادا کرنے کے لیے بجلی کے صارفین پر ایک نیا سرچارج عاید کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم سے ایشیائی ترقیاتی بینک کاقرض ادا کردے گی۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجلی پر نئے سرچارج کے ذریعے ایشیائی ترقیاتی بینک کے جس قرض کی ادائی کا وعدہ کیاہے حکومت نے وہ قرض ادائیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حاصل کیاہے اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے وزیر خزانہ کی اس یقین دہانی کے بعد گزشتہ ماہ اس قرض کی منظوری دیدی ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ حکومت بجلی کے صارفین کو تیل کی قیمتوںمیں کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت میں آنے والی کمی کا فائدہ بجلی کے صارفین کومنتقل کرنے سے مسلسل گریزاں ہے اور بجلی کے صارفین کو تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں کچھ ریلیف دینے کے بجائے بجلی پر بجلی کے ٹیرف کو مساوی بنانے کا سرچارج اور نیلم جہلم سرچارج پہلے ہی عاید کرکے صارفین کو زیر بار کرچکی ہے لیکن بجلی کے صارفین پر اتنے سرچارج عاید کرنے کے باوجود وہ سرکلر قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جو حکومت کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ایک دفعہ پھر 400 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔
بجلی کے صارفین پرسرچارج کے ذریعے بوجھ لادنے کی حکومت کی اس پالیسی کی وجہ سے جہاں ملک میں غریب گھریلو صارفین پریشان ہیں، وہیں کاروباری طبقہ بھی اس بھاری بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر نظر آتاہے جس کا اندازا ملک کے مختلف تجارتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج سے لگایاجاسکتاہے،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ٹیکسٹائل کا شعبہ عالمی منڈی میں مقابلے سے باہرہوتا جارہاہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی بیرون ملک طلب کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی کا رجحان نمایاں نظر آرہاہے، ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کاکہناہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے اب انھیں بیرونی منڈیوں میں بنگلہ دیش جیسے ملک سے مقابلے میں بھی مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاہے جس کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کا دارومدار درآمد شدہ کپاس پر ہے ۔
پاکستان میں نافذ العمل نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو بجلی کے صارفین پر اس طرح کے سرچارج نافذ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، اسی بنیاد پر حکومت کی جانب سے بجلی پر اس طرح کے سرچارج کے نفاذ کے خلاف عدالت میں مقدمات دائر کیے جاچکے ہیں لیکن ہمارے وزیر خزانہ عدالت میں زیر سماعت ان مقدمات کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے غیرملکی مالیاتی اداروں سے قرض کے حصول کے لیے بجلی پر مزید سرچارج عاید کر کے صارفین کو مزید زیر بار کرنے کی یقین دہانیاں کرانے میں مصروف ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کو کرائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور بجلی پر مزید سرچارج کے نفاذ پر عدالتی بندشوں سے بچنے کے لیے حکومت نے نیپرا کے قوانین میں ترمیم کرنے کافیصلہ کیاہے تاکہ حکومت کو اپنی مرضی کے مطابق سرچارج عاید کرنے کااختیار حاصل ہوسکے۔ تاہم لاہور ہائیکورٹ نے ایک حکم کے ذریعے گزشتہ روز وفاقی کابینہ کی جانب سے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کرنے کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیاہے۔لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ حکم پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر جاری کیاہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کاکہناہے کہ بجلی پرلگائے جانے والے سرچار ج سے جس کا اطلاق 2019 سے کیاجائے گا سرکلر قرضوں میں 2سال کے اندر 130 ارب کی کمی ہوجائے گی اور اس طرح سرکلر قرض کی رقم 340 ارب روپے سے کم ہوکر 240 ارب روپے رہ جائے گی اور ٹیرف اور سرچارج کی مکمل وصولی کی صورت میں 2021 تک سرکلر قرض کی رقم 65ارب روپے رہ جائے گی۔
آئی ایم ایف سے 6.2 بلین ڈالر کے قرض کی شرائط کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوںکی نجکاری میں ناکامی کے بعد اب حکومت نے ان کمپنیوں کے شیئرز اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے فروخت کرنے کا فیصلہ کیاہے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو یقین دلایاہے کہ حکومت فیصل آباد، اسلام آباد اور گوجرانوالہ کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے شیئرز فروخت کردے گی۔اب وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کے نام خط میں انھیں یقین دلایاہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ان کے شیئر ز کی فروخت میں تاخیر کی وجہ سے سرکلر قرضوں میں ہونے والے اضافے کو بجلی پر نیا سرچارج لگا کر پورا کرلیاجائے گا۔اطلاعات کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کافیصلہ خود حکومت کے اندرونی حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی وجہ سے تبدیل کیاگیاہے۔
اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کے نام اپنے خط میں لکھاہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں تاخیر کی وجہ سے سرکلر قرض کی رقم میں اضافہ ہواہے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری نہ کیے جاسکنے کاسبب قوانین میں موجود رکاوٹیں اور ابہام اور مختلف حلقوں کی جانب سے نیپرا کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج کیاجاناہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے 300 ملین ڈالر کے نئے قرض کی منظوری کے وقت اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ بجلی کے استعمال اور بلز کی وصولی کے درمیان موجودہ تفاوت کو دور کرنے اور توانائی کے شعبے کے قانونی اور ریگولیٹری ماحول میں اور ادارہ جاتی معلومات کی فراہمی کے نظام میں دور رس اصلاحات کی ضرورت ہے۔
وزیرخزانہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نام خط میں بینک کو یہ بھی یقین دلایاہے کہ بڑے پیمانے پر لائن لاسز اوربلوں کی عدم وصولی سے ہونے والا نقصان بھی بجلی کے صارفین سے سرچار ج کے ذریعے وصول کیاجائے گااور ٹیرف کے فرق کو بھی صارف ہی کو منتقل کردیاجائے گا۔حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ انڈیپنڈنٹ پاور جنریشن کمپنیوں یعنی بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کوحکومت کی جانب سے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اس میں ہونے والے اضافے کی رقم بھی صارفین سے وصول کی جائے ۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان