... loading ...
اکتوبر2015ء میں جب کشمیر میں تاریخی معرکے لڑنے والے ابوالقاسم عبدالرحمن شہادت کی خلعت فاخرہ سے سرفراز ہوئے توابوالقاسم شہیدکے قافلہ جہاد سے متاثر برہان مظفروانی نامی ایک چمکتا دمکتاستارہ جہادی افق پرنمودارہوا۔اس نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی رُوح پھونک دی۔ برہان وانی ایک تو بالکل کشمیرکی نوخیز نئی نسل کانمائندہ بنا’دوسرے اس نے تحریک کی تاریخ میں پہلی بار سوشل میڈیا کو اپنا نیا ہتھیار بنایا۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی پرچم لہرانے کی تحریک بھی برہان کے دورمیں ہی عروج پر پہنچی۔ اگرچہ اس کی بنیاد رکھنے والا عظیم کشمیری مجاہد مسرت عالم بٹ تھا جو آج کل بھارتی دہشت گردوں کی جیل میں ہے۔ 21سالہ برہان وانی 15سال کی عمرکابڑاہی خوبصورت نوجوان تھا جس نے جہادکی راہ اپنائی۔6سال تک اس نے سوشل میڈیا کواستعمال کرکے بھارتی ایوانوں میں وہ تھرتھلی مچائی کہ کشمیرکے ہر درودیوار پربرہان وانی ‘برہان وانی ہونے لگی۔ برہان نے اپناایک گروپ بنایا۔پہلی باراس نے گوریلاجنگ کے بھی نئے اصول متعارف کروائے۔ چہروں سے نقاب اتاردیے۔فوجی وردی،بکتر بند گول کیپ’ ہاتھوں میں کلاشن اٹھائے یہ نوجوان اچانک نمودار ہوکرکم وقت میں وادی اور اس سے باہر شہرت حاصل کرنے لگے۔ برہان وانی کے ابھرنے سے بھارت کایہ پروپیگنڈا بھی خاک میں مل گیاکہ کشمیری نوجوان نسل تحریک آزادی سے لاتعلق ہے۔وہ تحریک جو پہلے زیادہ تربزرگوں کی تحریک سمجھی جاتی تھی’برہان وانی نے اسے کشمیری نوجوانوں کی مقبول ترین تحریک بنا دیا بلکہ میرواعظ جیسے سینئررہنما خود یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ تحریک آزادی کشمیراب ہمارے ہاتھوں سے نکل کر نوجوانوں میں منتقل ہوگئی ہے اور اب ہمارے لیے بھی اسے کنٹرول کرناممکن نہیں رہا۔
برہان وانی کے نوجوان ایک شہر’کبھی دوسرے شہر سے اچانک نمودار ہوکر بھارتی فوج کے لیے دہشت کی علامت بن گئے۔ سوشل میڈیا نے ان کی کارروائیوں میں آندھی اور برق کی سی تیزی پیداکردی۔ برہان وانی کے سرپر دس لاکھ(پاکستانی اٹھارہ لاکھ)کاانعام تھا۔دسویں جماعت کے امتحان میں شامل ہونے کے فوری بعد ترال کا یہ 15سالہ نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا۔
2015ء میں برہان کے بڑے بھائی خالدمظفروانی کومحض برہان کا بھائی ہونے پربھارتی فوج نے زیرحراست رکھ کربے دردی سے شہید کردیا۔ اب برہان کاکردار بھارتی فوج کے لیے پہلے سے زیادہ خطرناک رخ اختیار کرگیا۔اس نے سوشل میڈیاکوہتھیار بنایا تو اس کی اپیل پرسینکڑوں نوجوان مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگئے۔وہ جب ان مسلح کشمیری نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پرچڑھاتا تو یہ سب سے زیادہ وائرل ہوتیں اور یوں برہان بھارت کے لیے ناقابل برداشت حیثیت اختیارکرگیا۔ بھارتی فوج کواب برہان کو اپنے راستے سے ہٹاناضروری ہوگیا۔
9جولائی2016ء کو ککرناگ کے معرکے میں برہان اپنے دو ساتھیوں سمیت خلعت شہادت سے سرفراز ہوا۔ بھارت نے سمجھاکہ وہ برہان کوشہید کرکے تحریک آزادی کو نوجوانوں میں مقبول ہونے سے روک لے گا لیکن یہ اس کی پہلے کی طرح ایک اوربڑی بھول ثابت ہوئی۔برہان کی شہادت سے تحریک نے کمزور تو کیا ہوناتھا،یہ پہلے سے زیادہ موج مارتے سمندر کی طرح اپنے کناروں سے بھی باہرہونے لگی۔
برہان کے بعد اس کی قیادت برہان کے قریبی دوست سبزاربھٹ نے سنبھالی۔اب یہ تحریک نوجوان لڑکوں سے ا سکولوں اور کالجوںکی لڑکیوں تک پھیل گئی۔یہ لڑکیاں بھی جب پتھرلے کر بھارتی فوج کے سامنے آگئیں تواس سے پوری دنیا میں بھارت منہ دکھانے کے قابل نہ رہا اور نہ اب وہ یہ بات کرنے کی پوزیشن میں رہا کہ تحریک آزادی کشمیرمیں کشمیریوں کی کوئی زیادہ دلچسپی نہیں اوریہ صرف بیرونی دراندازی ہے یاپروفیسرحافظ محمدسعیدحفظہ اللہ اس کے ذمہ دار ہیں۔پروفیسرحافظ محمدسعید کشمیرمیں بھارتی مظالم کو دنیامیں بے نقاب کرتے اور پاکستانی عوام اور حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر پربیدار رکھنے کے یقینا ذمہ دار ہیں لیکن یہ کوئی جرم نہیں جس کی سزا آج انہیں اور ان کے رفقاء کو نظربندکرکے دی جارہی ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے کشمیرمسلمہ طورپر ایک متنازع اورقابل حل مسئلہ ہے۔ اس وجہ سے پاکستان یاحافظ محمدسعید کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت ان کاایک قانونی اوراخلاقی فریضہ ہے۔ تاہم یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کشمیری عوام کی خالص اپنی تحریک ہے۔
ابھی مقبوضہ جموں کشمیرکے ضمنی الیکشن میں بھی 98 فیصد کشمیریوں نے الیکشن کابائیکاٹ کیااورصرف 2فیصد ووٹنگ ہوسکی جوبھارت کے لیے پوری دنیامیں زبردست بدنامی کا سبب بنی۔ دنیا کومعلوم ہوگیا کہ کشمیریوں کی حمایت حاصل ہونے کابھارتی دعویٰ 100فیصد جھوٹ ہے کیونکہ 2 فیصد ووٹنگ بھی صرف ان کشمیریوں کی ہے جو بھارتی سرکاری ملازم اور فوج وپولیس کے اہلکار ہیں۔ سرکاری ملازم نہ ہوتے تووہ بھی بھارت کوایک ووٹ نہ دیتے۔
تحریک کی اس قدر مقبولیت سے گھبرا کر ہی اب بھارت نے برہان وانی کے جانشین سبزاربھٹ کوبھی ایک معرکہ میں شہید کردیاہے لیکن یہ بات وہ باربار بھول جاتاہے کہ یہ شہادتیں جس قدر بڑھ رہی ہیں’بھارت کا بوریابستر کشمیر سے اسی قدر جلد گول ہورہاہے۔اب توکشمیری ماؤں نے اپنے بیٹوں کی شہادتوں پر رونا بھی چھوڑ دیاہے۔ سبزاربھٹ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے کہ میری شہادت پررونانہیں’ ایک آنسونہ بہایا۔اس قوم کو کون شکست دے سکتاہے جہاں ایسی بہادرمائیں ہوں۔آج ہر کشمیری سبزار ہے اورپوری وادی لالہ زار ہے۔برہان وانی سے اب تک تادم تحریر یہ کشمیری ایک سال میں 140جانوں کانذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ پیلٹ گنوں سے نابینا ہونے والے 7760اور دیگر16840 زخمی ہوچکے ہیں۔1994ء سے اب تک 94,697 کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں لیکن اس قدرقربانیوں سے بھی تحریک کمزورنہیں ہوئی بلکہ اس کی رفتاردشمن کی
سوچوں کی رفتارسے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے ،کشمیری عوام دنیا کی چوتھی بڑی فوج کے ساتھ صرف پتھروں سے مقابلہ کر رھے ہیں،وہ رمضان میں روزے کی حالت میں بھی بدر کی تاریخ دہرا رہے ہیں،اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں رہا جب کشمیری عوام کی تحریک آزادی کایہ سونامی پورے بھارت کو ڈبو کررکھ دے گا۔
اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں
قاضی رفیق عالم
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...
غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...
جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...
تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...
ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...
بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...
عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...
تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...
پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...
نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...
متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...