وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

برہان وانی کی شہادت ۔تحریک آزادیٔ کشمیر کا سنگ میل بن گئی

هفته 08 جولائی 2017 برہان وانی کی شہادت ۔تحریک آزادیٔ کشمیر کا سنگ میل بن گئی

اکتوبر2015ء میں جب کشمیر میں تاریخی معرکے لڑنے والے ابوالقاسم عبدالرحمن شہادت کی خلعت فاخرہ سے سرفراز ہوئے توابوالقاسم شہیدکے قافلہ جہاد سے متاثر برہان مظفروانی نامی ایک چمکتا دمکتاستارہ جہادی افق پرنمودارہوا۔اس نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی رُوح پھونک دی۔ برہان وانی ایک تو بالکل کشمیرکی نوخیز نئی نسل کانمائندہ بنا’دوسرے اس نے تحریک کی تاریخ میں پہلی بار سوشل میڈیا کو اپنا نیا ہتھیار بنایا۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی پرچم لہرانے کی تحریک بھی برہان کے دورمیں ہی عروج پر پہنچی۔ اگرچہ اس کی بنیاد رکھنے والا عظیم کشمیری مجاہد مسرت عالم بٹ تھا جو آج کل بھارتی دہشت گردوں کی جیل میں ہے۔ 21سالہ برہان وانی 15سال کی عمرکابڑاہی خوبصورت نوجوان تھا جس نے جہادکی راہ اپنائی۔6سال تک اس نے سوشل میڈیا کواستعمال کرکے بھارتی ایوانوں میں وہ تھرتھلی مچائی کہ کشمیرکے ہر درودیوار پربرہان وانی ‘برہان وانی ہونے لگی۔ برہان نے اپناایک گروپ بنایا۔پہلی باراس نے گوریلاجنگ کے بھی نئے اصول متعارف کروائے۔ چہروں سے نقاب اتاردیے۔فوجی وردی،بکتر بند گول کیپ’ ہاتھوں میں کلاشن اٹھائے یہ نوجوان اچانک نمودار ہوکرکم وقت میں وادی اور اس سے باہر شہرت حاصل کرنے لگے۔ برہان وانی کے ابھرنے سے بھارت کایہ پروپیگنڈا بھی خاک میں مل گیاکہ کشمیری نوجوان نسل تحریک آزادی سے لاتعلق ہے۔وہ تحریک جو پہلے زیادہ تربزرگوں کی تحریک سمجھی جاتی تھی’برہان وانی نے اسے کشمیری نوجوانوں کی مقبول ترین تحریک بنا دیا بلکہ میرواعظ جیسے سینئررہنما خود یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ تحریک آزادی کشمیراب ہمارے ہاتھوں سے نکل کر نوجوانوں میں منتقل ہوگئی ہے اور اب ہمارے لیے بھی اسے کنٹرول کرناممکن نہیں رہا۔
برہان وانی کے نوجوان ایک شہر’کبھی دوسرے شہر سے اچانک نمودار ہوکر بھارتی فوج کے لیے دہشت کی علامت بن گئے۔ سوشل میڈیا نے ان کی کارروائیوں میں آندھی اور برق کی سی تیزی پیداکردی۔ برہان وانی کے سرپر دس لاکھ(پاکستانی اٹھارہ لاکھ)کاانعام تھا۔دسویں جماعت کے امتحان میں شامل ہونے کے فوری بعد ترال کا یہ 15سالہ نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا۔
2015ء میں برہان کے بڑے بھائی خالدمظفروانی کومحض برہان کا بھائی ہونے پربھارتی فوج نے زیرحراست رکھ کربے دردی سے شہید کردیا۔ اب برہان کاکردار بھارتی فوج کے لیے پہلے سے زیادہ خطرناک رخ اختیار کرگیا۔اس نے سوشل میڈیاکوہتھیار بنایا تو اس کی اپیل پرسینکڑوں نوجوان مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگئے۔وہ جب ان مسلح کشمیری نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پرچڑھاتا تو یہ سب سے زیادہ وائرل ہوتیں اور یوں برہان بھارت کے لیے ناقابل برداشت حیثیت اختیارکرگیا۔ بھارتی فوج کواب برہان کو اپنے راستے سے ہٹاناضروری ہوگیا۔
9جولائی2016ء کو ککرناگ کے معرکے میں برہان اپنے دو ساتھیوں سمیت خلعت شہادت سے سرفراز ہوا۔ بھارت نے سمجھاکہ وہ برہان کوشہید کرکے تحریک آزادی کو نوجوانوں میں مقبول ہونے سے روک لے گا لیکن یہ اس کی پہلے کی طرح ایک اوربڑی بھول ثابت ہوئی۔برہان کی شہادت سے تحریک نے کمزور تو کیا ہوناتھا،یہ پہلے سے زیادہ موج مارتے سمندر کی طرح اپنے کناروں سے بھی باہرہونے لگی۔
برہان کے بعد اس کی قیادت برہان کے قریبی دوست سبزاربھٹ نے سنبھالی۔اب یہ تحریک نوجوان لڑکوں سے ا سکولوں اور کالجوںکی لڑکیوں تک پھیل گئی۔یہ لڑکیاں بھی جب پتھرلے کر بھارتی فوج کے سامنے آگئیں تواس سے پوری دنیا میں بھارت منہ دکھانے کے قابل نہ رہا اور نہ اب وہ یہ بات کرنے کی پوزیشن میں رہا کہ تحریک آزادی کشمیرمیں کشمیریوں کی کوئی زیادہ دلچسپی نہیں اوریہ صرف بیرونی دراندازی ہے یاپروفیسرحافظ محمدسعیدحفظہ اللہ اس کے ذمہ دار ہیں۔پروفیسرحافظ محمدسعید کشمیرمیں بھارتی مظالم کو دنیامیں بے نقاب کرتے اور پاکستانی عوام اور حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر پربیدار رکھنے کے یقینا ذمہ دار ہیں لیکن یہ کوئی جرم نہیں جس کی سزا آج انہیں اور ان کے رفقاء کو نظربندکرکے دی جارہی ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے کشمیرمسلمہ طورپر ایک متنازع اورقابل حل مسئلہ ہے۔ اس وجہ سے پاکستان یاحافظ محمدسعید کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت ان کاایک قانونی اوراخلاقی فریضہ ہے۔ تاہم یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کشمیری عوام کی خالص اپنی تحریک ہے۔
ابھی مقبوضہ جموں کشمیرکے ضمنی الیکشن میں بھی 98 فیصد کشمیریوں نے الیکشن کابائیکاٹ کیااورصرف 2فیصد ووٹنگ ہوسکی جوبھارت کے لیے پوری دنیامیں زبردست بدنامی کا سبب بنی۔ دنیا کومعلوم ہوگیا کہ کشمیریوں کی حمایت حاصل ہونے کابھارتی دعویٰ 100فیصد جھوٹ ہے کیونکہ 2 فیصد ووٹنگ بھی صرف ان کشمیریوں کی ہے جو بھارتی سرکاری ملازم اور فوج وپولیس کے اہلکار ہیں۔ سرکاری ملازم نہ ہوتے تووہ بھی بھارت کوایک ووٹ نہ دیتے۔
تحریک کی اس قدر مقبولیت سے گھبرا کر ہی اب بھارت نے برہان وانی کے جانشین سبزاربھٹ کوبھی ایک معرکہ میں شہید کردیاہے لیکن یہ بات وہ باربار بھول جاتاہے کہ یہ شہادتیں جس قدر بڑھ رہی ہیں’بھارت کا بوریابستر کشمیر سے اسی قدر جلد گول ہورہاہے۔اب توکشمیری ماؤں نے اپنے بیٹوں کی شہادتوں پر رونا بھی چھوڑ دیاہے۔ سبزاربھٹ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے کہ میری شہادت پررونانہیں’ ایک آنسونہ بہایا۔اس قوم کو کون شکست دے سکتاہے جہاں ایسی بہادرمائیں ہوں۔آج ہر کشمیری سبزار ہے اورپوری وادی لالہ زار ہے۔برہان وانی سے اب تک تادم تحریر یہ کشمیری ایک سال میں 140جانوں کانذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ پیلٹ گنوں سے نابینا ہونے والے 7760اور دیگر16840 زخمی ہوچکے ہیں۔1994ء سے اب تک 94,697 کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں لیکن اس قدرقربانیوں سے بھی تحریک کمزورنہیں ہوئی بلکہ اس کی رفتاردشمن کی
سوچوں کی رفتارسے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے ،کشمیری عوام دنیا کی چوتھی بڑی فوج کے ساتھ صرف پتھروں سے مقابلہ کر رھے ہیں،وہ رمضان میں روزے کی حالت میں بھی بدر کی تاریخ دہرا رہے ہیں،اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں رہا جب کشمیری عوام کی تحریک آزادی کایہ سونامی پورے بھارت کو ڈبو کررکھ دے گا۔
اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں
قاضی رفیق عالم


متعلقہ خبریں


لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی