وجود

... loading ...

وجود

برہان وانی کی شہادت ۔تحریک آزادیٔ کشمیر کا سنگ میل بن گئی

هفته 08 جولائی 2017 برہان وانی کی شہادت ۔تحریک آزادیٔ کشمیر کا سنگ میل بن گئی

اکتوبر2015ء میں جب کشمیر میں تاریخی معرکے لڑنے والے ابوالقاسم عبدالرحمن شہادت کی خلعت فاخرہ سے سرفراز ہوئے توابوالقاسم شہیدکے قافلہ جہاد سے متاثر برہان مظفروانی نامی ایک چمکتا دمکتاستارہ جہادی افق پرنمودارہوا۔اس نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی رُوح پھونک دی۔ برہان وانی ایک تو بالکل کشمیرکی نوخیز نئی نسل کانمائندہ بنا’دوسرے اس نے تحریک کی تاریخ میں پہلی بار سوشل میڈیا کو اپنا نیا ہتھیار بنایا۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی پرچم لہرانے کی تحریک بھی برہان کے دورمیں ہی عروج پر پہنچی۔ اگرچہ اس کی بنیاد رکھنے والا عظیم کشمیری مجاہد مسرت عالم بٹ تھا جو آج کل بھارتی دہشت گردوں کی جیل میں ہے۔ 21سالہ برہان وانی 15سال کی عمرکابڑاہی خوبصورت نوجوان تھا جس نے جہادکی راہ اپنائی۔6سال تک اس نے سوشل میڈیا کواستعمال کرکے بھارتی ایوانوں میں وہ تھرتھلی مچائی کہ کشمیرکے ہر درودیوار پربرہان وانی ‘برہان وانی ہونے لگی۔ برہان نے اپناایک گروپ بنایا۔پہلی باراس نے گوریلاجنگ کے بھی نئے اصول متعارف کروائے۔ چہروں سے نقاب اتاردیے۔فوجی وردی،بکتر بند گول کیپ’ ہاتھوں میں کلاشن اٹھائے یہ نوجوان اچانک نمودار ہوکرکم وقت میں وادی اور اس سے باہر شہرت حاصل کرنے لگے۔ برہان وانی کے ابھرنے سے بھارت کایہ پروپیگنڈا بھی خاک میں مل گیاکہ کشمیری نوجوان نسل تحریک آزادی سے لاتعلق ہے۔وہ تحریک جو پہلے زیادہ تربزرگوں کی تحریک سمجھی جاتی تھی’برہان وانی نے اسے کشمیری نوجوانوں کی مقبول ترین تحریک بنا دیا بلکہ میرواعظ جیسے سینئررہنما خود یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ تحریک آزادی کشمیراب ہمارے ہاتھوں سے نکل کر نوجوانوں میں منتقل ہوگئی ہے اور اب ہمارے لیے بھی اسے کنٹرول کرناممکن نہیں رہا۔
برہان وانی کے نوجوان ایک شہر’کبھی دوسرے شہر سے اچانک نمودار ہوکر بھارتی فوج کے لیے دہشت کی علامت بن گئے۔ سوشل میڈیا نے ان کی کارروائیوں میں آندھی اور برق کی سی تیزی پیداکردی۔ برہان وانی کے سرپر دس لاکھ(پاکستانی اٹھارہ لاکھ)کاانعام تھا۔دسویں جماعت کے امتحان میں شامل ہونے کے فوری بعد ترال کا یہ 15سالہ نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا۔
2015ء میں برہان کے بڑے بھائی خالدمظفروانی کومحض برہان کا بھائی ہونے پربھارتی فوج نے زیرحراست رکھ کربے دردی سے شہید کردیا۔ اب برہان کاکردار بھارتی فوج کے لیے پہلے سے زیادہ خطرناک رخ اختیار کرگیا۔اس نے سوشل میڈیاکوہتھیار بنایا تو اس کی اپیل پرسینکڑوں نوجوان مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگئے۔وہ جب ان مسلح کشمیری نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پرچڑھاتا تو یہ سب سے زیادہ وائرل ہوتیں اور یوں برہان بھارت کے لیے ناقابل برداشت حیثیت اختیارکرگیا۔ بھارتی فوج کواب برہان کو اپنے راستے سے ہٹاناضروری ہوگیا۔
9جولائی2016ء کو ککرناگ کے معرکے میں برہان اپنے دو ساتھیوں سمیت خلعت شہادت سے سرفراز ہوا۔ بھارت نے سمجھاکہ وہ برہان کوشہید کرکے تحریک آزادی کو نوجوانوں میں مقبول ہونے سے روک لے گا لیکن یہ اس کی پہلے کی طرح ایک اوربڑی بھول ثابت ہوئی۔برہان کی شہادت سے تحریک نے کمزور تو کیا ہوناتھا،یہ پہلے سے زیادہ موج مارتے سمندر کی طرح اپنے کناروں سے بھی باہرہونے لگی۔
برہان کے بعد اس کی قیادت برہان کے قریبی دوست سبزاربھٹ نے سنبھالی۔اب یہ تحریک نوجوان لڑکوں سے ا سکولوں اور کالجوںکی لڑکیوں تک پھیل گئی۔یہ لڑکیاں بھی جب پتھرلے کر بھارتی فوج کے سامنے آگئیں تواس سے پوری دنیا میں بھارت منہ دکھانے کے قابل نہ رہا اور نہ اب وہ یہ بات کرنے کی پوزیشن میں رہا کہ تحریک آزادی کشمیرمیں کشمیریوں کی کوئی زیادہ دلچسپی نہیں اوریہ صرف بیرونی دراندازی ہے یاپروفیسرحافظ محمدسعیدحفظہ اللہ اس کے ذمہ دار ہیں۔پروفیسرحافظ محمدسعید کشمیرمیں بھارتی مظالم کو دنیامیں بے نقاب کرتے اور پاکستانی عوام اور حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر پربیدار رکھنے کے یقینا ذمہ دار ہیں لیکن یہ کوئی جرم نہیں جس کی سزا آج انہیں اور ان کے رفقاء کو نظربندکرکے دی جارہی ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے کشمیرمسلمہ طورپر ایک متنازع اورقابل حل مسئلہ ہے۔ اس وجہ سے پاکستان یاحافظ محمدسعید کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت ان کاایک قانونی اوراخلاقی فریضہ ہے۔ تاہم یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کشمیری عوام کی خالص اپنی تحریک ہے۔
ابھی مقبوضہ جموں کشمیرکے ضمنی الیکشن میں بھی 98 فیصد کشمیریوں نے الیکشن کابائیکاٹ کیااورصرف 2فیصد ووٹنگ ہوسکی جوبھارت کے لیے پوری دنیامیں زبردست بدنامی کا سبب بنی۔ دنیا کومعلوم ہوگیا کہ کشمیریوں کی حمایت حاصل ہونے کابھارتی دعویٰ 100فیصد جھوٹ ہے کیونکہ 2 فیصد ووٹنگ بھی صرف ان کشمیریوں کی ہے جو بھارتی سرکاری ملازم اور فوج وپولیس کے اہلکار ہیں۔ سرکاری ملازم نہ ہوتے تووہ بھی بھارت کوایک ووٹ نہ دیتے۔
تحریک کی اس قدر مقبولیت سے گھبرا کر ہی اب بھارت نے برہان وانی کے جانشین سبزاربھٹ کوبھی ایک معرکہ میں شہید کردیاہے لیکن یہ بات وہ باربار بھول جاتاہے کہ یہ شہادتیں جس قدر بڑھ رہی ہیں’بھارت کا بوریابستر کشمیر سے اسی قدر جلد گول ہورہاہے۔اب توکشمیری ماؤں نے اپنے بیٹوں کی شہادتوں پر رونا بھی چھوڑ دیاہے۔ سبزاربھٹ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے کہ میری شہادت پررونانہیں’ ایک آنسونہ بہایا۔اس قوم کو کون شکست دے سکتاہے جہاں ایسی بہادرمائیں ہوں۔آج ہر کشمیری سبزار ہے اورپوری وادی لالہ زار ہے۔برہان وانی سے اب تک تادم تحریر یہ کشمیری ایک سال میں 140جانوں کانذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ پیلٹ گنوں سے نابینا ہونے والے 7760اور دیگر16840 زخمی ہوچکے ہیں۔1994ء سے اب تک 94,697 کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں لیکن اس قدرقربانیوں سے بھی تحریک کمزورنہیں ہوئی بلکہ اس کی رفتاردشمن کی
سوچوں کی رفتارسے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے ،کشمیری عوام دنیا کی چوتھی بڑی فوج کے ساتھ صرف پتھروں سے مقابلہ کر رھے ہیں،وہ رمضان میں روزے کی حالت میں بھی بدر کی تاریخ دہرا رہے ہیں،اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں رہا جب کشمیری عوام کی تحریک آزادی کایہ سونامی پورے بھارت کو ڈبو کررکھ دے گا۔
اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں
قاضی رفیق عالم


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر