وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں نلکوں سے پانی کی فراہمی کانظام ناکارہ‘شہری بوند بوند کو ترس گئے

بدھ 05 جولائی 2017 سندھ میں نلکوں سے پانی کی فراہمی کانظام ناکارہ‘شہری بوند بوند کو ترس گئے

قیام پاکستان سے بہت قبل سے ہی سندھ کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں عام لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے سرکاری ذخیرہ آب سے نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کانظام رائج تھا ،اس مقصد کیلئے جہاں لوگوں کو گھروں میں پانی کی فراہمی کی لائنیں فراہم کی جاتی تھیں وہیں عام مقامات پر سرکاری نلکے لگائے جاتے تھے جہاں سے ضرورت مند پانی بھر کر گھروں کو لے جاتے تھے،لیکن گزشتہ کئی برسوں سے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کانظام ناکارہ بنادیاگیا ہے، اب کراچی سمیت سندھ کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سرکاری نلکے بھی لگے نظر آتے ہیں اور گھروں میں بھی پانی کی لائنیں تو موجود ہیں لیکن ان میں پانی شاذہی آتاہے،کراچی میں تو واٹر بورڈ کے کرتا دھرتائوں نے ٹینکر مافیا کے ساتھ ملی بھگت کے بعد شہریوں کو سرکاری نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کا سلسلہ کم وبیش ختم ہی کردیاہے ا ور محض خانہ پری کیلئے بعض علاقوں میں ہفتہ میں دو دن بعض میں ایک دن اور بعض علاقوں میں ہفتوں بلکہ مہینوں بعد ایک آدھ دن گھنٹے دو گھنٹے کیلئے پانی فراہم کرکے پانی کے بل وصول کرنے کا جواز پیدا کرلیاجاتاہے۔
واٹر بورڈ کے حکام اس حوالے سے یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ شہر کو پانی کی فراہمی کم ہے اور بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے پوری مقدار میں پانی حاصل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حصول میں دشواریوں کاسامنا کرنا پڑرہاہے ، تاہم وہ اس بات کاکوئی مدلل اور تسلی بخش جواب دینے سے قاصر ہیں کہ اگر شہر کو کم مقدار میں پانی فراہم کیاجارہاہے تو سرکاری ہائیڈرنٹس پر صبح سے رات گئے تک اور رات گئے سے صبح تک واٹر ٹینکرز کو پانی کس طرح مل رہاہے اور ان کو پانی کی فراہمی میں کسی طرح کی کوئی کمی کیوں واقع نہیں ہوتی اورعام آدمی ہی اس کاشکار کیوں بنایاجاتاہے اور شہروں میں گھریلو خواتین اور بچے پانی کی تلاش میں پانی کے کین اوربالٹیاں اٹھائے پانی کی تلاش میں سرگرداں رہنے اور واٹر بورڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی ٹینکر سروس کے ٹینکروں کے انتظار میں گھنٹوں میں قطار میں بیٹھ کر انتظار کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟
ایک اطلاع کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں واٹر بورڈ اور دیگر شہروں میں پانی کی فراہمی کے اداروں کے ارباب اختیار کی جانب سے پانی کی زیر زمین لائنوں کی دیکھ بھال نہ کئے جانے کے سبب بیشتر علاقوںمیں پائپ لائنیں ٹوٹ پھوٹ اور رسائو کاشکار ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو فراہم کئے جانے والے پانی کاایک بڑا حصہ رسائو کی وجہ سے شہر یوں تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں ہی جذب ہوجاتاہے۔جبکہ اس رسائو کی وجہ سے زیر زمین موجود جراثیم پانی میں داخل ہوکر شہریوں کوہیپاٹائٹس سمیت مختلف مہلک بیماریوں کاشکار بنارہے ہیں۔
سندھ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا صوبہ ہے اس صوبے کی آبادی کانصف سے زیادہ حصہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، نوابشاہ، سکھر میر پور خاص ، ٹنڈو آدم، ٹنڈو الہٰ یار، ہالہ اور عمر کوٹ میں رہتاہے لیکن سندھ کے ان تمام شہروں کے عوام کو یہ شکایت ہے کہ ان کو پائپ لائنوں کے ذریعے پانی مناسب مقدار میں فراہم نہیں کیاجاتا اور بعض اوقات ان پائپ لائنوں سے فراہم کیاجانے والا پانی قطعی ناقابل استعمال ہوتاہے۔
سندھ میں شہریوں کو صاف پانی کی عدم فراہمی کی اسی صورت حال کے پیش نظر گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے سندھ میں شہریوں کو فراہم کئے جانے والے پینے کے پانی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کیلئے ایک کمیشن تشکیل دیاتھا ، اطلاعات کے مطابق اس کمیشن کے ارکان نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں شہریوں کو پانی کی فراہمی کی صورت حال کاجائزہ لینے کے بعد اپنی جو رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے اس میں صوبے کے کم از کم 414 ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں نالیوں اور نالوں کاگندہ پانی دریائے سندھ یا اس سے نکلنے والی نہروںمیں شامل ہوتاہے۔ کمیشن نے اطلاعات کے مطابق اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاہے کہ کراچی سمیت صوبے کے کسی بھی علاقے میں شہریوں کو پینے کاصاف اورعالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار کے مطابق پانی فراہم نہیں کیاجارہاہے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کے حوالے سے کراچی سمیت پورے صوبے میں موجود خوفناک صورت حال کی نشاندہی کرتے ہوئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور دیگر شہروں کے متعلقہ اداروں کے افسران کی نااہلی اور بد انتظامی اور چشم پوشی کی بھی نشاندہی کی ہے۔
کراچی میں واٹر بورڈ اور دیگر شہروں میں واسا اور بلدیاتی ادارے اس حوالے سے پانی کی کم فراہمی ،پانی صاف کرنے کے ناکافی اور فرسودہ نظام ،شہروںمیں قائم ہوجانے والی غیر منظم کچی آبادیوں اور شہریوں کی جانب سے پانی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے سبب وسائل کی شدید قلت کی شکایت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وسائل کی کمی کارونا رونے والے واٹر بورڈ ،واسا اور دیگر شہروں کے بلدیاتی اداروں کے ارباب اختیار کی عیاشیوں میں کسی طرح کی کمی نظر نہیں آتی اوران اداروں میں وسائل کے ناجائز استعمال بلکہ انھیں ضائع کئے جانے کے مناظر عام نظر آتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے وسائل کی کمی کا رونا رونے والے واٹر بورڈ سمیت ان تما م ہی اداروں میں گھوسٹ ملازمین کی ایک فوج بھی موجود ہے جو کوئی کام کئے بغیر گھر بیٹھے تنخواہوں کے علاوہ بھارتی مراعات حاصل کررہے ہیں، کراچی واٹر بورڈ کی یونین کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واٹر بورڈ کے گھوسٹ ملازمین سے ہرماہ ایک معقول رقم جمع کرکے اعلیٰ افسران تک پہنچائی جاتی ہے جس کی وجہ سے سب نے ہی اس طرح سے آنکھیں بند کررکھی ہیں سال میں ایک آدھ مرتبہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے گھوسٹ ملازمین کے خلاف ایک مہم چلائی جاتی ہے اور اس دوران باقاعدگی سے افسران کو ہر ماہ رقم نہ پہنچانے والے گھوسٹ ملازمین کو فارغ کرکے گھوسٹ ملازمین کو بلاچوں وچرا رقم ادا کرتے رہنے کاپیغام دے دیاجاتاہے۔ یونین کے اس عہدیدار کاکہناہے کہ اگر کراچی اینڈ سیوریج بورڈ سے گھوسٹ ملازمین اوراعلیٰ افسران کی کرپشن کاخاتمہ کردیاجائے تو اس ادارے کو لاحق وسائل کی تمام کمی دور ہوسکتی ہے اور اس ادارے کی کارکردگی کہیں بہتر بنائی جاسکتی ہے،ذرائع کاکہناہے کہ کراچی واٹر بورڈ کے افسران بالا شہر کے بعض بڑے اخبارات کے صحافیوں کو بھی واٹر بورڈ میں جاری کرپشن اور اس ادارے کی بدعملیوں کی جانب سے آنکھیں بندکئے رکھنے اور اس حوالے سے کوئی خبر شائع نہ کرنے کیلئے باقاعدہ ماہانہ رقم فراہم کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر