وجود

... loading ...

وجود

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی سنسنی خیز آپ بیتی نے حکمرانوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

پیر 03 جولائی 2017 امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی سنسنی خیز آپ بیتی نے حکمرانوں کا بھانڈا پھوڑ دیا


امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے آپ بیتی لکھی ہے جس میں انھوں نے لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلی روداد بیان کی ہے جس میں امریکا اور پاکستان کے درمیان سفارتی بحران اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ریمنڈ ڈیوس اور ان کے شریک مصنف سٹارمز ریبیک نے بڑے ڈرامائی انداز میں جیل روڈ اور فیروز پور روڈ کے سنگم پر پیش آنے والے واقعے کی منظر کشی کی ہے، جس میں انھوں نے دو پاکستانی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ چوک میں ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو ان کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد میں سے ایک نے پستول نکال کر ان پر تان لیا۔
ریمنڈ ڈیوس انتہائی تربیت یافتہ سکیورٹی کنٹریکٹر تھے اور انھوں نے ایسی ہی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی بارہا مشق کی تھی۔ انھوں نے فوراً اپنا پستول نکال کر اس کے میگزین میں موجود 17 میں سے دس گولیاں گاڑی کی ونڈ سکرین سے فائر کر کے ان دونوں موٹر سائیکل سواروں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو جان سے مار ڈالا۔
ریمنڈ ڈیوس کو ان دونوں کی ہلاکت کا ذرہ بھر افسوس نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فیصلہ میں نے نہیں بلکہ محمد فہیم نے پستول نکال کر کیا تھا: ‘اگر کوئی مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو (انھیں مار کر) میرا ضمیر صاف رہے گا کیوں کہ میرا اولین مقصد اپنے خاندان میں واپس آنا ہے۔’
ریمنڈ ڈیوس کو اسی دن گرفتار کر کے ان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ اسی وقت لاہور میں امریکی قونصل خانے سے ایک گاڑی انھیں چھڑوانے کے لیے آئی تو اس نے سڑک کے غلط طرف گاڑی چلاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی اور یوں اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی۔
امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے اپنی نئی کتاب میں اپنی پاکستان میں گرفتاری سے لے کر رہائی تک کی سنسنی خیز داستان بیان کردی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے مطابق اسے کوٹ لکھپت جیل سے رہا کرانے میں جان کیری، نواز شریف، آصف زرداری، جنرل پاشا اور حسین حقانی نے مل کر مدد کی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ بھی خفیہ ایجنسی کے کئی اہلکار اس کی رہائی کے وقت عدالت میں موجود تھے، اخبارات میں اس حوالے سے شائع ہونے والے اقتباسات کے مطابق ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیاہے پاکستان سے رہائی کے لیے جنرل پاشا نے جتنی مدد کی شاید ہی کسی نے کی ہو، رہائی کے وقت جنرل پاشا لاہور کی سیشن عدالت میں موجود تھے، جنرل پاشا کے ہاتھ میں موبائل فون تھا جس کے ذریعے وہ عدالت کی سماعت سے متعلق امریکی سفیر کیمرون منٹر کو اپ ڈیٹ کررہے تھے ۔جان کیری کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد رہائی کے راستے ہموار ہونا شروع ہوئے،اس کی رہائی کے بعد جنرل پاشا کو مدت ملازمت میں توسیع بھی مل گئی تھی۔The contrator :How I landed in a pakistani prison and Ignited a diplomatic crisis.نامی یادداشت میں امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی اAئی اے) کے سابق ملازم ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انھیں گرفتارکر کے پہلے ایک فوجی چھاؤنی اور بعد میں لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب امریکی سفارت خانے کو پتہ چلا تو انھوں نے ڈیوس کو رہائی دلوانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دیں۔یہ وہی زمانہ ہے جب امریکی حکام کو پاکستان میں اساما بن لادن کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا اور انھوں نے اسامہ کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا۔
امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اگر اُساما کے خلاف آپریشن ہوا اور اس دوران میں ڈیوس پاکستانی حراست میں رہے تو انھیں مار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے صدر براک اوباما نے 15 فروری کو خود ریمنڈ ڈیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘ہمارا سفارت کار ہے’ اور انھیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔کتاب کے مطابق ریمنڈ ڈیوس پر تشدد نہیں کیا گیا، تاہم وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہانے کے لیے ٹھنڈا پانی دیا جاتا تھا اور اس دوران آنکھیں انھیں گھورتی رہتی تھیں۔ رات کو ان کے کمرے میں تیز بلب روشن رہتے تھے اور تیز موسیقی بجائی جاتی تھی تاکہ وہ سو نہ سکیں۔اس دوران اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر حکومت منجدھار میں پھنسی ہوئی ہے، ‘اگر عوام کی سنی جاتی ہے تو دنیا ناراض ہو جاتی ہے اور اگر دنیا کے سنی جاتی ہے تو پھر عوام ناراض ہو جاتے ہیں۔’حسبِ توقع پاکستانی حکومت دباؤ میں آ گئی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مقدمہ عدالت میں تھا اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ اس لیے تیز اذہان سر جوڑ کر بیٹھے اور یہ تدبیر سوچی گئی کہ دیت اور خون بہا کے شرعی قانون کو حرکت میں لایا جائے۔چنانچہ مقتولین کے ورثا کو منوا کر انھیں 24 لاکھ ڈالر خون بہا دیا گیا اور یوں 49 دن پاکستانی حراست میں رہنے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو آزاد کر دیا گیا۔اس وقت پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق نے انکشاف کیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے کردار ادا کیا ہے۔
اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ ایک طرف ریمنڈ ڈیوس کے نقطۂ نظر سے ان سے کی جانے والی تفتیش اور مختلف عدالتوں میں پیشیوں کا احوال بیان ہوتا ہے، پھر اگلے باب میں امریکا میں موجود ان کی بیوی کی زبانی ان پر گزرنے والے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بیچ میں امریکی سفارت خانے کی سرتوڑ کوششیں دکھائی جاتی ہیں، اور پھر ہم دوبارہ جیل پہنچ جاتے ہیں۔
اس کتاب کی اشاعت کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے اس کے بعض حصوں پر اعتراض کیا تھا جس کی وجہ سے یہ کتاب تقریباً ایک سال کی تاخیر کے بعد اب کہیں جا کر شائع ہوئی ہے۔ریمنڈ ڈیوس کے خلاف ملک بھر میں درجنوں مظاہرے ہوئے تھے جن میں انھیں سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔
‘دا کنٹریکٹر’ کے مطالعے سے پاکستانی تاریخ کے ایک خجالت آمیز موڑ کے مختلف پہلوؤں پر اس کے مرکزی کردار کے نقطۂ نظر سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔اس کتاب میں سنسنی خیز جاسوسی ناولوں کی مخصوص تکنیک استعمال کرتے ہوئے قاری کے تجسس کو بار بار ہوا دی جاتی ہے۔ اس لیے توقع ہے کہ کتاب خوب بکے گی اور اگر اس پر ہالی وڈ نے فلم بنائی، جس کا عین امکان ہے، تو مار دھاڑ سے بھرپور یہ فلم بھی باکس آفس پر خاصی کامیاب ثابت ہو گی۔
پاکستان کے معروف اخبارات میں ریمنڈ ڈیوس کی اس کتاب کے بارے میں اقتباسات کی اشاعت کے باوجود حکومت کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کسی طرح کاکوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے اور معمولی معمولی باتوںپر پریس کانفرنس کرنے والی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب سمیت سب ہی نے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے جس کی وجہ سے اس کتاب کے حوالے سے سامنے آنے والے بعض چشم کشاانکشافات نے حکمرانوں کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں مختلف طرح کے سوالات پیدا کرنا شروع کردیے ہیں، اربابِ حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے اس حوالے سے فوری وضاحت کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں حکمرانوں کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کاتدارک ہوسکے۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

انسانیت کا سوال وجود هفته 14 مارچ 2026
انسانیت کا سوال

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے وجود هفته 14 مارچ 2026
امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر