وجود

... loading ...

وجود

بھارت سی پیک کواتھل پتھل کرنے کی سازشوں میں مصروف !

اتوار 02 جولائی 2017 بھارت سی پیک کواتھل پتھل کرنے کی سازشوں میں مصروف !


چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے خطے میں تجارتی روابط قائم کرنے کی بھارتی کوششوں کو ’جغرافیائی سیاسی ضد‘ قرار دیتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو مکمل طور پر بائی پاس کرنے کے بجائے اس سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بحال کرے۔ گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک کالم میں کہا گیا کہ بھارت، افغانستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک سے افغانستان۔ بھارت فضائی راہداری اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے پاکستان کو ہر صورت بائی پاس کرے گا۔کالم میں خبردار کیا گیا کہ بھارت کی یہ کوششیں پاک چین اقتصادی راہداری کو عدم توازن سے دوچار کرنے کی حکمت عملی کے طور پر ہوسکتی ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت بھارت نے گزشتہ دنوں ایئر کوریڈور کے ذریعے افغانستان کے لیے کارگو پروازوں کاسلسلہ شروع کیاتھا ۔ اور اس کی پہلی کارگو پرواز رواں ماہ کے شروع میں 50 لاکھ ڈالر کا سامان لے کر روانہ ہوئی تھی۔اس کے علاوہ بھارت، ایران اور افغانستان نے گزشتہ سال چا ہ بہار سے متعلق ٹرانزٹ معاہدے پر دستخط کیے تھے اور بھارت کا کہنا تھا کہ وہ اس بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرے گا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک موقع پر کہنا تھا کہ ’ہم دنیا سے جڑنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے اپنے درمیان رابطے بھی ہماری ترجیح ہے۔‘گلوبل ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ ’روابط قائم کرنے کی یہ کوششیں ناصرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی خواہش ہے کہ وہ علاقائی اقتصادی ترقی میں زیادہ متحرک ہو کر شریک ہو، بلکہ یہ بھارت کی ضدپر مبنی جغرافیائی سیاسی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔اگرچہ اس نئے روٹ سے بھارت اور افغانستان کے تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا، لیکن کالم میں سوال اٹھایا گیا کہ ’آیا یہ فضائی روٹ تجارتی طور پر قابل عمل اور پائیدار ہے بھی یا نہیں۔‘ساتھ ہی بھارت کو تنبیہہ کی گئی کہ وہ پاکستان کو بائی پاس نہ کرے جس کے پاس لاگت کے حوالے سے سب سے زیادہ موثر زمینی روٹ موجود ہے۔اخبار کے مضمون میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’بھارت ہمیشہ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کے خلاف رہا ہے، جبکہ اس کا اپنا روابط کا نیٹ ورک بنانے کا ارادہ دراصل سی پیک کو عدم توازن سے دوچار کرنے کی حکمت عملی ہے۔‘اخبار کے مطابق ’ون بیلٹ، ون روڈ منصوبے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تعاون کا موقع اور پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔‘کالم میں کہا گیا کہ بھارت کے لیے بہتر ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم کرے کیونکہ علاقائی روابط تب تک دیرپا اور موثر نہیں ہوسکتے جب تک دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی فضا قائم نہ ہو۔
دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے حکم پر( جو خود کو ایک بڑا ماہر اقتصادیات و تجارت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں) بھارت کی 20 کھرب ڈالرز کی معیشت اور ایک ارب 20 کروڑ لوگوں کو مشترکہ منڈی میں ضم کرنے کے لیے نئی ٹیکس اصلاحات کااعلان کیا گیاہے ،لیکن بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی ان مجوزہ اصلاحات نے بھارتی تاجروںکوپریشان کردیا ہے، پنکج جین کاشمار بھارت کے چھوٹے تاجروں میں ہوتاہے لیکن وہ بھارت میں عنقریب نافذ ہونے والے نئے سیلز ٹیکس کے حوالے سے پریشان ہیں، وہ اپنی چھوٹی سے ٹیکسٹائل کے کارخانے کو ایک ماہ کے لیے بند کرنے پر غور کر رہے ہیں تا کہ انہیں خود کو سنبھالنے کے لیے کچھ وقت مل جائے۔پنکج بھارت کے ان لاکھوں چھوٹے تاجروں میں سے ایک ہیں جنہیں آزادی کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹیکس اصلاحات کے تحت پیدا ہونے والی تلخ تبدیلی کا سامنا ہے۔ بھارتی حکومت کے دعوے کے مطابق یہ اصلاحات ملک کی 20 کھرب ڈالرز کی معیشت اور ایک ارب 20 کروڑ لوگوں کو مشترکہ منڈی میں ضم کر دیں گی۔مگر وہ حکومت کی جانب سے پہلی بار یکم جولائی سے نافذ کردہ ٹیکس دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے، جس کے تحت انہیں اپنے کارخانے میں بننے والی بیڈ کی چادروں کا ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، جسے اس کے 10 مزدور تیار کرتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ انہیں ہر ماہ آن لائن ٹیکسز ادا کرنے ہوں گے۔
دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ مختلف وفاقی اور صوبائی ٹیکس کے بجائے نئے گڈز اور سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) سے کاروبار میں کافی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔بھارت کے 29 صوبوں کے درمیان رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے جی ایس ٹی سے بڑی کاروباری سرگرمیوں کو فائدہ ہو گا۔ ایچ ایس بی سی کے ایک اندازے کے مطابق اصلاحات سے معاشی ترقی میں 0.4 فیصد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔جبکہ مقامی سطح کی انڈین انڈسٹریز ایسوسی ایشن، جس میں 6 ہزار 500 کمپنیاں شامل ہیں، میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے باتیں ہو رہی ہیں۔جی ایس ٹی کے حوالے سے معاملات سنبھالنے والے ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری افسر، ریونیو سیکریٹری ہنس مکھ آدھیہ نے سرمایہ داروں کی جانب سے ٹیکس پیچیدہ ہونے اور بے تحاشا مہنگے آئی ٹی بیک اینڈ جس کے تحت وصولی ہوگی، کے حوالے سے شکایات کو مسترد کر دیا ہے۔تاہم حکومت نے جولائی اور اگست کی ادائیاں سادہ انداز میں کرنے کی اجازت دی ہے۔ مگر ستمبر سے انہیں سالانہ 37 آن لائن ادائیاں ہر ماہ تین اور سال کے آخر میں ایک اپنے اپنے صوبے کو کرنی ہوں گی۔جی ایس ٹی ٹیکس کے عنقریب نفاذ کی صورتحال کا موازنہ گزشتہ نومبر میں بڑے نوٹوں کو ختم کرنے کے مودی کے فیصلے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے کیا جا رہا ہے اور یہ خیال ظاہر کیاجارہاہے کہ اگر تاجروں نے ان اصلاحات کے خلاف تحریک چلانے کافیصلہ کرلیا تو بھارتی حکومت کو مشکل صورتحال کاسامناکرنا پڑ سکتاہے۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر